الحمدللہ - عظمیٰ ظفر

دوپہر کے سارے کاموں سے فارغ ہو کر جب نماز کا خیال آیا تو دیکھا وقت کافی ہوچکا تھا۔ اول وقت تو کب کا گزر چکا تھا اور میں اب فارغ ہوئی تھی نماز کے لیے، مگر بھوک بھی لگ رہی تھی۔

دماغ نے کہا اب جب دیر ہوگئی ہے تو پہلے تھوڑا سا ہی صحیح، کھانا کھا لو پھر سکون سے نماز پڑھنا، ابھی قضا تو نہیں ہورہی۔

دل نے کہا نہیں نہیں! پہلے نماز پڑھ لو بہت دیر ہو گئی ہے، تھوڑی برداشت کی عادت ہونی چاہیے۔ یوں میں نے دل کو شاباشی دی کہ اس نے صحیح مشورہ دیا۔

نماز کی نیت شروع کی ہی تھی کہ بھوک سے پیٹ مں بل پڑنا شروع ہو گئے ادھر جلدی کی ٹرین نے رفتار پکڑی، دوسری طرف بچوں نے آپس میں لڑنا شروع کردیا اب بس نماز تھی، نہ دل تھا نہ دماغ، ان دونوں کو ابھی ٹھیک کروں گی نماز پڑھ لوں فوراً سلاؤں گی۔ خود بھی کھانا کھا کر آرام کروں گی پھر رات کا کھانا بھی بنانا ہے۔ نہیں، ابھی ہی بنا لوں گی بعد میں لیٹوں گی، پلان بنایا۔

کام تھے کہ نماز کے دوران ایک کے بعد ایک یاد آتے جارہے تھے۔ نہیں یاد تھا تو نماز پڑھنے کا مقصد نہیں یاد تھا۔ اِدھر نماز ختم ہوئی اُدھر بچوں کی لڑائی بھی ختم۔ بھوک بھی لگ کر ختم ہوگئی تھی، بے دلی سے کھانا کھایا۔ سستی، آلکسی نے مجھے کسی کام کا یاد نہیں دلایا مگر بستر میں لیٹنے کے باوجود پھر مجھے نیند نہیں آئی۔ اتنی دیر میں بڑی بہن کا فون آگیا۔

"السلام عیلکم! باجی کیسی ہیں؟"

(مجھے یاد آیا کہ ان کی طبعیت خراب تھی، بلڈ پریشر بہت بڑھا ہوا تھا، مستقل چکر آرہے تھے مگر مجھے فون کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔ عیادت کرنے جانا تو دور کی بات۔ شرمندہ شرمندہ میں نے ان سے خیریت پوچھی۔

"وعلیکم السلام! ہاں اب ٹھیک ہے طبعیت الحمدُللہ۔ "

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی کو چھان پھٹک لیجئیے- رمانہ عمر ریاض

آج کتنے دنوں بعد کھڑے ہوکر نماز پڑھی ہے ورنہ تو بیٹھ کر ہی پڑھ رہی تھی۔ سر جھکاتے ہی ایسے چکر آنے لگتے کہ کیا بتاؤں؟ آج تو رو رو کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ سر سجدے کی حالت میں چلا گیا شکر ہے اللہ کا، صحت بہت بڑی نعمت ہے۔

"اور تم سناؤ بچے کیسے ہیں؟" وہ سب کا حال احوال پوچھنے لگیں۔

"جی باجی! میں بلکل ٹھیک ہوں الحمدُللہ"۔ مختصر باتوں کے بعد انھوں نے فون بند کردیا۔

*مگر میرا کہا ہوا "الحمدُللہ" کانٹے کی طرح میرے حلق میں چبھ گیا تھا۔

ایک باجی تھیں جو بیماری کی حالت میں بھی اپنی نمازوں کی حفاظت خشوع و خضوع کے ساتھ کر رہی تھیں۔ اور پھر بھی انہیں افسوس تھا کہ سر جھکایا نہیں جا رہا تھا اور ایک میں تھی۔ صحت مند اور چاق چوبند ہونے کے باوجود میری نماز انتہائی سستی اور جلدبازی کی ہوتی۔ معمولی تکلیف میں ساری پریشانی نماز ادا کرنے میں ہوتی۔ سارے کام یاد آنے لگتے تھے اور رکوع و سجود کی ادائیگی ٹھیک طرح سے نہیں ہو پاتی تھی۔

"الحمدُللہ" کہہ کر میں اسی سوچ میں تھی کہ صحت کی نعمت کو دن رات استعمال کرتی ہوں، ہزاروں کام لیتی ہوں اور تو اور اسے اپنی قابلیت و صلاحیت سمجھتی ہوں مگر میں نے ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کب کیا؟ گھنٹوں کھڑے ہوکر دنیا داری کے کام سمیٹنا آسان لگتا ہے، ہر کام دلجمعی سے ہوتا ہے، خراب نہ ہو، دوسروں کی مرضی کو، ان کی پسند کو مدنظر رکھ کر درست وقت پر کرتی ہوں۔

مگر نماز؟ نماز کے لیے کے لیے تھکن عود آتی ہے۔ گندے حلیے میں پسینے سے بھرے لباس میں اجڑی صورت میں بوجھل قدموں سے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے جاتی ہوں وہ بھی ایک کام سمجھ کر۔ جبکہ گھر سے باہر جانا ہو تو میری تیاری ہی الگ ہوتی ہے۔

ضمیر کے کٹہرے میں کھڑی اپنا تزکیہ نفس کرنے لگی تو مجھے سورۃ القلم کی آیت یاد آگئی۔

"اور جب وہ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو سجدہ نا کر سکیں گے۔ "* *ان کی آنکھیں جھکی ہونگی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی حالانکہ پہلے (اس وقت) جب وہ سجدے کے لیے بلائے جاتے تھے جبک وہ صحیح سالم تھے۔ (سورۃ القلم آیت 42 و 43)

آج اس آیت کا مطلب واضح طور پر میری کوتاہی کی نشاندہی کر رہا تھا کہ جب آج اللہ کے آگے کمر نہیں جھکتی، سر سجدے کی معراج کو نہیں پاتے، آج صحت کی بہترین حالت میں شکر ادا نہں کرتی، کتنے لوگ تو میرے ارد گرد ہیں جو کمر کے درد پیروں گٹھنوں کے درد مہروں کے مسئلے اور ناجانے کیسی کیسی تکلیفوں کے ساتھ جی رہے ہیں مگر وہ اللہ کی عبادت سے تھکتے نہیں۔

ایک میں ہوں؟ آج میرا یہ حال ہے تو ۔۔۔ تو کل میرا کیا حشر ہوگا؟

اگر کل میں بھی جھک نہ سکی میری کمر بھی تختہ ہوگئی، میری نمازیں خالص نہ نکلیں تو مجھے اپنے رب کے خوف وغضب سے کون بچائے گا؟ یہ اولاد جن کے لیے راتیں جاگ کر گزاریں مگر فجر چھوٹ گئی۔ دنیا کے کام، جن کی فکر میں عبادت میں دل نہ لگا سکی یا سیر سپاٹے، بازاروں کے چکر جن کی وجہ سے نماز قضا کرتی رہی۔ یہ سب تو دنیا میں ہی رہ جائیں گے، قبر کے اندھیروں، وحشتوں کا ساتھی تو نماز ہی ہوگی وہ بھی جو دل سے پڑھی گئی ہو۔

وقت تیزی سے گزرا اور مسجد سے عصر کی اذانیں بلند ہوئیں۔ اللھم لبیک کہہ کر میں نئے عزم سے اٹھ کھڑی ہوئی کہ اپنی صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جانوں اور شکِر ربّی بجا لاؤں۔

ٹیگز

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.