شیخ چلی…… مبشر علی زیدی

’’میچ جیتنے کے بعد میں پچ پر سجدہ کروں گا۔
تم میری تصویر کھینچ لینا۔
آفریدی کی طرح وکٹری کا نشان بناؤں گا۔
ایک فوٹو تب بنانا۔
پھر میں حریف ٹیم کے مایوس کپتان سے ہاتھ ملاؤں گا۔
ویل پلیڈ کہہ کر اس کی پیٹھ تھپتھپاؤں گا۔
میچ سیریمنی میں مہمان خصوصی سے ایوارڈ لوں گا۔
اسپورٹس چینل کو انٹرویو دوں گا۔
اس کے بعد میدان کا چکر لگاؤں گا۔
نعرے لگانے والے پرستاروں کو دیکھ کر ہاتھ ہلاؤں گا۔‘‘
میں نے اپنے ارادے تفصیل سے بیان کئے۔
منحوس ڈوڈو نے کہا،
’’ابے شیخ چلی! پہلے میچ تو جیت لے۔‘‘