حسد کی آگ - رومانہ گوندل

انسان کو معاشرتی حیوان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ا کیلا نہیں رہ سکتا اور ایک معاشرے میں رہتے ہوئے اس کے دوسروں سے تعلقات اور جذبات کا ہونا بھی فطری سی بات ہے۔ یہ تعلقات اور جذبات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے، ان میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ ان میں محبت، نفرت، غصہ، صبر شامل ہیں۔ انسان ایک دن میں بھی کئی بار ان کیفیات سے گزر جاتا ہے۔ جہاں ایک معاشرے میں رہنا انسان کی فطرت کا حصہ ہے وہی انسان فطرتاً خود غرض بھی واقع ہوا ہے اور خود کو دوسروں سے اوپر دیکھنے کی خواہش بھی اس میں ہوتی ہے۔ لیکن کوئی بھی چیز بذات خود اچھی یا بری نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کا استعمال اس کو اچھا یا بُرا بنا دیتا ہے۔ اسی طرح خود کو دوسروں سے آ گے دیکھنے کی خواہش بھی غلط نہیں ہوتی لیکن اگر یہ ایک حد سے بڑھ جائے تو یہ اپنے لیے بھی خطر ناک ہوجاتی ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔ انسان کی اس فطرت کی بدولت جہاں مختلف احساسات و جذبات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک جذبہ حسد بھی ہے۔ جس کے بارے میں ارشاد ہے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جا تا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔

انسان جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے کوئی اس سے اچھا ہوتا ہے تو کوئی برا۔ چونکہ انسان میں خود کو دوسروں سے بہتر دیکھنے کی خواہش پائی جاتی ہے۔ اس لیے جب دوسروں کی کامیابی اور انعامات دیکھتا ہے، دوسروں کو خود سے آ گے جاتا دیکھتا ہے تو اس کے اندر بھی دوسروں سے آگے بڑھنے کا احساس اور خواہش بھی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن یہ خواہش انسانوں میں دو صورتوں میں ڈھل جاتی ہے۔

اپنے آپ کو آ گے دیکھنے کی خواہش!

دوسرے کو پیچھے دیکھنے کی خواہش!

یہ بھی پڑھیں:   عبادت اور حسد - رومانہ گوندل

دونوں باتیں بظاہر ایک سی لگتی ہیں کیونکہ ہم دوسروں سے آ گے نکل جائیں یا دوسرے ہم سے پیچھے رہ جائیں، دونوں صورتوں میں جیت ہماری ہوگی۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ عملی طور پہ ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ انسان کی پوری شخصیت بدل جاتی ہے۔ ہیرو سے زیرو بن جاتا ہے۔ اگر خود کو دوسروں سے آگے دیکھنے کی خواہش ہوگی تو انسان دوسروں سے زیادہ خود پہ توجہ دے گا۔ اپنی شخصیت کو نکھارنے کی کوشش کرے گا۔ اپنے آپ کو آگے بڑھنے، ترقی کرنے کی طرف ابھارے گا۔ وہ چیزیں جو اس کی ذات کا منفی پہلو ہیں ان کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن دوسری سوچ میں اس کی ساری توجہ اپنی ذات سے ہٹ کے دوسروں پہ رہے گی کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ کوئی آ گے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے تو اس کی کیسے حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے؟ دوسروں کو کیسے نقصان دیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں جب اس کی سوچ ہی منفی ہوگی ہے تو وہ آگے بڑھ ہی نہیں سکتا اور دوسروں کو نقصان دینے کے چکر میں اس کی اپنی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے۔ وہ وقت اور صلاحیتیں جو اپنی ترقی میں لگا کے خوشی ملنی تھی ان کو دوسروں کے نقصان میں لگا کے بے سکونی ملتی ہے اور پھر ساری کوششوں کے باوجود کوئی آگے نکل جائے تو اس کو بلا وجہ اپنا دشمن بنا سمجھ لیتے ہیں۔ ہم سب غور کریں اور ایمانداری سے سوچیں تو سمجھ جائیں گئے کہ اپنی نا کامی سے زیادہ نہ بھی سہی لیکن بہت حد تک ہماری پریشانی کی وجہ دوسروں کی کامیابی ہوتی ہے۔

ایک فقرہ تو ہر انسان کے منہ سے کسی نہ کسی کے لیے نکل ہی جاتا ہے کہ وہ اس قابل تو نہیں تھا جو اس کو مل رہا ہے۔ جو جس کو مل رہا ہے وہ اس کے قابل ہے تو ہی مل رہا ہے وہ اس کا حق ہے اور اگر قابلیت یا حق نہیں ہے، پروردگار کی عطا ہے تو اس میں دخل دینے کی یا تنقید کرنے کی ہماری اوقات نہیں ہے۔ اس لیے دوسروں سے حسد کرنا چھوڑ دیں، جو جیسا ہے اسے ویسے ہی برداشت کریں۔ جو بھی ترقی کر رہا ہے اس کے اندر کوئی نہ کوئی خوبی ضرور ہوتی ہے اس لیے اپنی نظر میں وسعت پیدا کریں اور ان میں وہ خوبی ڈھونڈیں اور اسے اپنانے کی کوشش کریں۔ یہ آپ کو زندگی میں کامیاب کر دے گا۔ ورنہ دوسروں کے اندر منفی چیزیں ڈھونڈتے رہیں گئے تو نہ سکون ملے گا اور نہ کامیابی۔ بلکہ صرف ایک حسد کی آگ میں جلنا ہی ہوگا جو آ ہستہ آہستہ ہماری شخصیت کو بے کار راکھ میں بدل دیتی ہے لیکن ہمیں احساس نہیں ہوتا کیونکہ ہماری توجہ اپنی طرف تو ہوتی ہی نہیں۔ اس لیے اس کا اندازہ ہمیں خود تب ہوتا ہے جب ہم اتنے بے کار ہو چکے ہوتے ہیں کہ دوسروں کے پاؤں تلے روندے جا رہے ہوتے ہیں۔ ابلیس اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ کائنات کا سب سے پہلا حاسد اور اس کے حسد نے اسے قیامت تک کے لیے مردود بنا دیا۔

ٹیگز

Comments

رومانہ گوندل

رومانہ گوندل

اقتصادیات میں ایم فل کرنے والی رومانہ گوندل لیکچرر ہیں اور "دلیل" کے علاوہ جریدے "اسریٰ" کے لیے بھی لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.