سبیکا شیخ کی موت اور لبرلز کی خاموشی - محمد ایاز

سیموئیل پی ہنٹنگٹن نے اپنی کتاب "تہذیبوں کا تصادم" میں نوجوانوں کو مسلمان ممالک کے لیے قیمتی سرمایہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ان نوجوانوں نے جا کر مستقبل میں ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہے۔ اس اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترقی یافتہ اقوام خصوصاً امریکہ و برطانیہ نے ان نوجوانوں کی تربیت اپنے نہج پر کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلم معاشروں میں ان کی بالادستی اور اقدار کو فروغ ملے اور ان کی چودھراہٹ ان ممالک میں بھی قائم رہے۔

مسلم ممالک کے اندر مغربی اقدار کی ترویج، رائے عامہ کو مغرب کے حق میں ہمواری اور بنے بنائے لیڈر فراہم کرنے کے لیے یہ ممالک مختلف قسم کے پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں جس میں ان ممالک کے ہونہار طلباء کو اپنے ہاں مدعو کیا جاتا ہے۔ اس طرح کا ایک پروگرام Kennedy-Lugar Youth Exchange and Study Program امریکا نے اکتوبر 2002 میں شروع کیا۔ اس پروگرام کو امریکی محکمہ خارجہ فنڈ کرتی ہے۔ اس کو بیورو آف ایجوکیشنل اینڈ کلچرل افیرز نے اسپانسر کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مسلم ممالک کے ہائی اسکول لیول کے ذہین طلباء و طالبات کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ایک سال کے لیے امریکہ منتقل ہوکر وہاں میزبان خاندانوں کے ساتھ رہتے ہیں، ہائی سکولوں میں شرکت کرتے ہیں، امریکی معاشرے اور اقدار کے بارے میں جاننے کے لیے سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور قائدانہ مہارت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ممالک اور ثقافتوں کے بارے میں امریکیوں کو تعلیم دینے میں مدد کرتے ہیں۔ ان طلبہ کو 'نوجوان سفیر' کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اب تک اس پروگرام میں 45 ملکوں کے 15 سے 18 برس عمر کے دس ہزار سے زائد نوجوان امریکہ جا چکے ہیں۔ ہر ملک سے ہر سال سال 80 کے قریب طلبہ کو مدعو کیا جاتا اور پاکستان سے اس پروگرام کے تحت 1120 طلبہ کو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل چکا ہے۔

سبیکا شیخ بھی ان طلباء میں سے ایک تھی جو پچھلے سال اگست میں اس پروگرام سے مستفید ہونے کے لیے گئی تھی۔ سبیکا امریکہ میں ’’جیسن کوگبرن‘‘ کے گھرانے کے ساتھ ٹھہری ہوئی تھیں اور ایک ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ پروگرام کے خاتمے میں چند ہفتے ہی بچے تھے اور 9 جون کو سبیکا نے پاکستان واپس آنا تھا لیکن بد قسمتی سے وہ ایک شرپسند، غیر مسلم دہشت گرد کے ہاتھوں سپر پاور امریکہ کی گود ’’ٹیکساس‘‘ میں جام شہادت نوش کر گئیں۔ نہ صرف یہ کہ سبیکا شیخ اس دنیا سے چلی گئیں دیگر بھی 10 کے قریب طلباء و طالبات اس غم انگیز واقعے کا شکار بنے۔ ہمیں ان سب کے ساتھ یکساں ہمدردی ہے، کیونکہ بچے بچے ہی ہوتے ہیں چاہے وہ مشرق کے ہو ں یا مغرب کے۔ ان لبرلز کی طرح نہیں کہ جب افغان حکومت نے امریکی ایماء پر مدرسےکے طلباء، جو کہ فارغ التحصیل ہورہے تھے، پر بمباری کی تو بہت سارے لبرلز یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ انہوں نے مستقبل میں بھیڑیا بننا تھا اور کسی اور کا گھر ویران کرنے کا سبب بننا تھا لہذا ان کا مارا جانا ہی بہتر تھا۔

اس واقعے سے خوب ظاہر ہوتا ہے کہ لبرلز کے ہاں دہشت گردی کی تعریف مقام کی تبدیلی سے بدل جاتی ہے۔ ایک ہی واقعہ اگر پاکستان کے (خوشحال ماڈل اسکول) میں رونما ہو اور اس میں ایک بچی (ملالہ) شدید زخمی ہوجائے تو اس کا کرنے والا دہشت گرد، جبکہ ٹیکساس میں اس نوعیت کا واقعہ رونما ہو، جس میں 10 بچے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو مارنے والا محض نفسیاتی مریض۔ عالمی میڈیا پر یہ خبر چل رہی ہے کہ ٹیکساس واقعے کا مجرم نفسیاتی ہے اور کہیں بھی دہشت گردی کا نام نہیں لیا جا رہا ہے۔اس کی کچھ وجوہات بھی خوب واضح ہیں: یہ کہ یہ واقعہ کسی مسلم ملک میں رونما نہیں ہوا، کہ اس واقعہ کا مجرم مسلمان نہیں ہے، کہ اس واقعے کا مجرم مذہبی شناخت نہیں رکھتا۔

پاکستان میں لبرلز کی خاموشی کے اسباب بھی کم و بیش یہی ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ واقعہ ٹیکساس میں رونما ہوا ہے اور ایک امریکی سے سرزد ہوا ہے۔ ملالہ یوسفزئی کی خاموشی کی وجہ بھی یہی ہے حالانکہ وہ خود تعلیم ہی کے لیے نوبل پرائز کی حقدار ٹھہری اور خود بھی اس طرح کے واقعہ کا شکار ہوئی ہے۔ شرمین عبید چنائی ودیگر بھی اس صورت حال سے دو چار ہیں۔ ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ یہ واقعہ پاکستان میں رونما ہوا ہوتا اور سبیکا شیخ ایک امریکی بچی ہوتی تو عالمی میڈیا، سمیت پاکستانی لبرلز کے گھروں میں عید کا سماں ہوتا اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، مذہب کی توہین اور ایک طوفان بد تمیزی برپا ہوجاتا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن میں دو سوالات ہیں: کیا پاکستانی لبرلز اس واقعے کی اس قدر مذمت کر سکیں گے جس قدر پاکستان میں رونما ہونے کی صورت میں کرتے ہیں؟ نیز کیا امریکہ سبیکا شیخ کے بہیمانہ قتل پر آواز بلند کرنے والی کسی اور ملالہ کو نوبل پرائز کا حق دار ٹھہرائے گا؟ جو کہ بظاہر محال نظر آتاہے۔ اللہ تعالیٰ سبیکا شیخ کو مغفرت اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ آمین