مقدس اوراق کا تقدس اور ہماری بے حسی - ربیعہ فاطمہ بخاری

کل میرا بیٹا خوشی خوشی رمضان شریف کے سحر و افطار کا شیڈول جسے عرفِ عام میں کیلنڈر بھی کہتے ہیں، لے کر بھاگا بھاگا میرے پاس آیا امّاں! یہ رمضان المبارک کا کیلنڈر لیں اور ہمیشہ کی طرح میرا دل اسے دیکھ کے جل کے کباب ہو گیا۔ اس کیلنڈر پر بھی حسبِ روایت مقدس کلمات پرنٹ کیے گئے تھے۔ غالباً مسنون دعائیں تھیں یا چھ کلمے یا کوئی قرآنی آیات، جو بھی تھا بہر حال ایک عام سے کاغذ پر جس کے نچلے حصے پر رمضان المبارک کا شیڈول پرنٹ کیا گیا تھا اور اس کے بالائی حصے پر مقدس کلمات چھاپے گئے تھے اور سب سے نیچے حسبِ روایت دکاندار نے یا کسی اور سستی شہرت کے متمنی نے اپنا نام لکھوا رکھا تھا۔

مجھے ایسے اوراق دیکھ کر شدید قسم کا دکھ اور رنج ہوتا ہے، میرا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ایک ذرا سی شہرت کے لیے یا معمولی سے پیسے کمانے کے لیے ہم اپنے دین اور دینی شعائر کو بھی نہیں بخشتے؟ جو لوگ اس طرح کی چیزیں بنواتے ہیں کیا انہیں اس حقیقت کا ادراک نہیں ہوتا کہ اس معمولی سے، ہلکے سے کاغذ کو، جو رمضان المبارک کے بعد ویسے ہی اپنی افادیت کھو دیتا ہے، اس کو کوئی گھروں میں کہاں تک سنبھالتا ہوگا اور اگر کوئی نہیں سنبھالتا ہوگا تو کیا ان مقدس کلمات کی بے حرمتی کے جرم کے اصل مجرم وہ لوگ نہیں جو اس طرح کی چیزیں محض سستی شہرت کے لیے چھاپ لیتے ہیں؟ لیکن کیا کہیے کہ ہمارا پورا سال ہر دینی یا ملّی تہوار پہ یہی رویّہ ہے۔ ہم پیسہ کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، میلاد النبیؐ کے موقع پر ہمارا یہی رویہ اور پیسے کی خاطر یہی بے حسی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے گھٹیا کاغذوں پر مسجدِ نبویؐ کی تصویر، نعلینِ مبارک کا عکس، درود و سلام کے کلمات، چھوٹے چھوٹے انہی مقدس چیزوں پر مشتمل بیجز کی مارکیٹ میں اتنی بہتات ہوتی ہے کہ خریدار کم پڑ جاتے ہیں، لیکن کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ میلاد شریف گزرنے کے بعد ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ کیا آپ کے لیے 10،20 روپے کمانا اتنا ہی اہم ہے کہ اس کے لیے آپ اپنے جان سے پیارے نبیؐ کی ذاتِ بابرکات سے منسلک چیزوں کی بے ادبی تک گوارا کر لیں؟

میرے لیے ذاتی طور پر تو یہ بیجز اور یہ چھوٹے چھوٹے سٹکرز سوہانِ روح بن جاتے ہیں، کبھی گھر میں آ جائیں تو یہی فکر رہتی ہے کہ اب ان کا کیا کروں گی؟ اور اب تو خیر سے اہلِ سنت نے بھی میلاد شریف کے جلوسوں میں بہت سی نئی اور فضول قسم چیزوں کو شامل کر لیا ہے۔ کہیں مسجدِ نبویؐ کے ماڈلز بن رہے ہیں اور خانہ کعبہ کے، سوال پھر وہی ہے کہ ان ماڈلز کے ساتھ جلوسوں کے بعد کیا ہوتا ہے؟ اسی طرح محرم الحرام میں اہلِ تشیع حضرات نے تعزیےاور روضۂ امامِ حسینؑ کے ماڈلز اور پتہ نہیں کیا کیا جلوسوں میں اٹھایا ہوتا ہے، مجھے علم ہے کہ کسی بھی چیز کا ماڈل یا شبیہ اس حقیقی چیز جیسے تقدس کا حامل نہیں ہوتا لیکن میرے لیے ذاتی طور پر روضہ رسولؐ کی شبیہ یا بیج، نعلینِ پاک کا عکس یا روضۂ امامِ حسینؑ کے ماڈل کو خدا نخواستہ کہیں بھی ٹوٹی پھوٹی حالت میں دیکھنا سخت اذیت کا باعث بنتا ہے۔

اسی طرح اکثر گفٹ شاپس پر قرآنی آیات، خاص طور پر آیت الکرسی اکثر کتبوں پر کندہ کی گئی ہوتی ہے جو بلا شک و شبہ انتہائی دیدہ زیب اور خوبصورت لگتی ہیں لیکن مجھے ان کی خوبصورتی سے زیادہ یہ تصور تکلیف دیتا ہے کہ کل کو یہ کتبہ اگر کہیں ٹوٹ گیا تو اس کا تقدس کیسے برقرار رکھا جائے گا؟ خاص طور پر وہ کتبے جن میں آیاتِ مبارکہ براہِ راست شیشے پر لکھی گئی ہوتی ہیں ان کی ٹوٹی ہوئی کرچیوں کو discard کرنا یقیناً ایک کارِ دارد ہے۔

اسی طرح آج کل سیاسی میدان میں پینافلیکسز، بینرز اور چھوٹے چھوٹے سٹکرز سیاستدان اپنی پبلسٹی کے لیے بنواتے ہیں، لیکن الیکشن کے بعد یہ چیزیں کبھی کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہوتی ہیں تو کبھی کسی گندے نالے میں سے اور کبھی ایسے ہی سڑکوں اور بازاروں میں پیروں میں گری ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور چونکہ ہم نام کے سہی مگر مسلمان تو ہیں، تو محمد، احمد، حامد، علی، حسن اور حسین جیسے نام تقریباً ہر دوسرے نام کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان پھٹے ہوئے بینرز، شکستہ فلیکسوں اور بوسیدہ سٹکرز کے ساتھ یہ نام بھی زمین بوس ہوتے ہیں اور کچرے کی نظر ہوتے ہیں، کیا یہ ان مقدس اسماء کی توہین نہیں؟

قصئہ مختصر یہ کہ ہمارے ارد گرد، اپنے گھروں میں، ہمارے گلی محلے میں ان مقدس آیات اور دیگر اسماء و کلماتِ مقدسہ کی اس قدر بے ادبی اور توہین ہوتی ہے کہ اللہ ہی ہمیں معاف فرمائے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو یہ ادراک ہی نہیں ہوتا کہ ہم جانے انجانے میں کتنے گناہ اپنے نامۂ اعمال میں شامل کروا لیتے ہیں۔ خدارا آپ میں سے ہر ایک کم از کم اپنے گھر کی سطح پر اس طرح کی سب چیزوں کا جو کسی بھی طرح کسی بھی کلمۂ مقدس کی بے ادبی کا باعث بن سکتی ہیں اور جن سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے، ان سے تو بچیں، انہیں اپنے گھروں میں لانا چھوڑ دیں۔اور ایسی چیزیں جو ناگزیر ہیں جیسے اخبار، رسائل۔ بچوں کی درسی کتب وغیرہ ان میں حتی المقدور مقدس کلمات کا احترام ملحوظِ خاطر رکھیں اور اپنی اولاد کو اس معاملے کی سنگینی کا احساس دلاتے رہا کریں۔ اللہ پاک ہم سب کو راہِ ہدایت ادا فرمائے۔ آمین!

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.