رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (2) - یوسف ثانی

احادیث کی کتب میں موجود اوامر و نواہی کی موضوعاتی درجہ بندی کی دوسری قسط پیش ہے۔ پہلی قسط یہاں ملاحظہ کیجیے

13۔ پردہ پوشی، مصیبت:

جو شخص مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ حشر میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بندہ مومن جب اپنے گناہوں کا اقرار کرلے گاتو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں سے پردہ پوشی کی اور آج بھی تمہاری مغفرت کرتا ہوں۔ کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرنے پر اللہ روزِ حشر اس کی ایک مصیبت کو دور فرمائے گا ( بخاری)

14۔ پڑوسی کے حقوق:

کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے نہ روکے(بخاری) اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو تم کامل مومن ہوجا ؤگے(ترمذی) وہ جنت میں داخل نہ ہوسکے گا جس کی ایذاء رسانیوں سے اس کے پڑوسی مامون نہ ہوں (مسلم)

15۔ تجارت، خرید و فروخت، رہن:

اللہ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی اختیارکرے ۔ بیچنے والے اور خریدار دونوں کو جدا ہو نے سے قبل بیع کو ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر دونوں گروہ سچ بولیں، مال کاعیب و ہنرظاہر کردیں تو اس خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی۔ اگر جھوٹ بولیں گے اور عیب پوشی کریں گے تو ان کی تجارت میں سے برکت ختم کردی جائے گی۔ جھوٹی قسم مال کو کھوٹا کردیتی ہے اور برکت کو مٹا دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اجرت بھی دی۔ جب تم خرید و فروخت کیا کرو تو کہہ دیا کرو کہ دھوکہ کوئی نہ ہو۔ خریدے گئے اناج کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں لینے سے قبل اسے فروخت کرنا منع ہے۔ اپنے غلہ کو ناپ لیا کرو۔ تمہارے لےے اس میں برکت ہوگی۔ سونا، سونے کے عوض۔ گندم، گندم کے عوض کھجور، کھجور کے عوض اور جَو، جَو کے عوض فروخت کرنا سود ہے۔ مگر برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہو تو درست ہے۔ کوئی شہری کسی دیہاتی آدمی کا مال و اسباب فروخت نہ کرے یعنی اس کا دلال نہ بنے۔ کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع (بزنس ڈیل) میں مداخلت نہ کرے ۔ دَورِ جاہلیت کی بیع حبل الحبلہ منع ہے۔ یعنی کوئی شخص ایک اونٹنی خریدے اور قیمت دینے کی میعادیہ مقرر کر ے کہ یہ اونٹنی بچہ جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہوکر بچہ جنے، تب قیمت دوں گا۔ اونٹنی اور بکری وغیرہ کو فروخت کرنے کی غرض سے اس کا دودھ تھن میں روک کر رکھنا منع ہے۔ نبی ﷺ نے پھل کے پک جانے سے قبل ان کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ نبیﷺ نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ(مختلف اقسام کے خرید و فروخت ) سے منع فرمایا۔ قیامت کے دن میں اُس کا دشمن ہوں گا جو میرا نام لے کر عہد کرے مگر پھر اس کے خلاف کرے ۔ قیامت کے دن میں اُس کا دشمن ہوں گاجو کسی مزدورسے اجرت پر کام لے اور پھر مزدوری نہ دے۔ جو شخص کھجور میں سلم کرے اس کو چاہیے کہ ایک معین پیمانہ اور معین وزن کے حساب سے کرے ۔ معین پیمانہ میں اور مدتِ معین تک کے لےے سلم کی کرو(بخاری) ٭کوئی شخص کسی دوسرے کے بھا ؤپر بھا ؤ(بزنس ڈیل) نہ کرے( بخاری) رسول االلہ ﷺ نے باغ یا کھیت کو چند سالوں کے لیے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ ( مسلم) جو چیز پاس موجود نہ ہو، اس کی بیع فروخت کا کسی سے معاملہ کرنا منع ہے۔ (ترمذی) مہنگا کر کے بیچنے کے لےے غلہ وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والا تاجر گنہگار ہے۔ (مسلم) گھر یا جائداد بیچنے میں کوئی برکت یا فائدہ نہیں الّا یہ کہ یہ دام کسی جائداد میں لگادو۔ ( ابن ماجہ) رہن جب تک مرہون ہے اس پر ہونے والے اخراجات کے بدلہ میں سوار ہوا جاسکتا ہے۔ اسی طرح دودھ دینے والے جانور کا دودھ بھی اس پر ہونے والے اخراجات کے بدلے میں پیا جاسکتا ہے( بخاری)

16۔ تصویر کشی، مصور:

جاندار کی تصویریں بنانے والوں پر قیامت کے روز عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو صورتیں تم نے بنائی ہیں ان کو زندہ کرو(بخاری) نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں وہاں فرشتے نہیں جاتے (بخاری) نبی ﷺ نے مصور پر بھی لعنت فرمائی ہے( بخاری) رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جہاں کتا ہو یا جانداروں کی تصویریں ہوں (بخاری)

17۔ تقدیر، نصیب، قسمت

روح پھونکے جانے سے قبل بچہ کاعمل، اس کا رزق، اس کی عمر، اور خوش بختی یا بدبختی لکھ دی جاتی ہے (بخاری) نذر ابن آدم کے پاس وہ چیز نہیں لاتی ہے جو میں نے اس کی تقدیر میں نہ رکھی ہو(بخاری) تقدیر پر ایمان لانا بہت ضروری ہے۔ تقدیر پر ایمان لائے بغیر مرنے والا یقیناً دوزخی ہے(ترمذی) قضا و قدر کے مسئلہ میں ہرگز حجت اور بحث نہ کرنا (ترمذی) جو تمہاری قسمت میں لکھا ہے اُس پر راضی اور مطمئن ہوجا ؤ تو تم بڑے دولت مند ہوجا ؤ گے( ترمذی)

18۔ تقویٰ اور توبہ:

جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے اُس کے لیے مالداری میں کوئی مضائقہ نہیں(مسند احمد) صاحب تقویٰ کے لیے صحت مندی، دولت مندی سے بھی بہتر ہے(مسند احمد) اللہ تعالیٰ اُس متقی دولت مند بندہ سے محبت کرتا ہے جو غیرمعروف اور چھپا ہوا ہو (مسلم) جن کو اللہ نے مال اور زندگی کا علم دیا ہے۔ وہ اس مال کے استعمال میں اللہ سے ڈرتے ہیںاور اس کے ذریعہ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ ایسے بندے سب سے اعلیٰ و افضل مرتبہ پر فائز ہیں (ترمذی) خواہش نفس کی پیروی، بخل کی اطاعت اور خود پسندی کی عادت ہلاک کرنے والی چیزیں ہیں (بیہقی) خطا کاروں میں وہ بہت اچھے ہیں جو خطا کے بعد مخلصانہ تو بہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع ہوجائیں( ترمذی)

19۔ تکبر، دکھاوا، خود پسندی:

ہر جاندار کی خدمت میں ثواب ملتا ہے فخر و ریا کی غرض سے یا اہل اسلام سے دشمنی کے لیے گھوڑا پالنے والے پر وہی گھوڑا وبال ہوگا(بخاری) فخر اورتکبر گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتاہے(بخاری) ایک شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین سے گھسٹتا ہوا جارہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ( بخاری) غرورو تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا لٹکانے والے کو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا( بخاری) قتل بڑھ جائے گا، تمہارے پاس مال کی کثرت ہوجائے گی بلکہ بہہ پڑے گا۔ لوگ بڑی بڑی عمارتوں میں اکڑیں گے (بخاری) جو دکھاوے کے لیے کام کرے گا، اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کردے گا( بخاری)

20۔ جہالت، رشک اور غیبت:

لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا کر ان سے دینی مسائل پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔ ایسے لوگ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے (بخاری) رشک کرناصرف دو قسم کے افراد پر جائز ہے۔ ایک وہ مالدار جو اپنا مال راہِ حق میں صرف کرتا ہو اور دوسرا وہ صاحبِ علم و حکمت جولوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو(بخاری)

غیبت:

غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے (بیہقی)

21۔ جنت، دوزخ؛ جنتی اور دوزخی:

جو شخص نبی ﷺ جھوٹ بولے تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے( بخاری) کلمہ لاحول ولا قوة الا بااللہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے(بخاری) جو کوئی جان بوجھ کراپنے اصلی باپ کے سِوا کسی اور کا بیٹا بنے تو اس پر جنت حرام ہے(بخاری) جنتی دنیا والوں کی نظر میں حقیر و ذلیل ہے مگر وہ اللہ کے بھروسے پر کسی بات کی قسم کھالے تو اللہ اس کو پورا کرتا ہے( بخاری) دوزخی شریر، مغرور اور متکبر لوگ ہوتے ہیں( بخاری) اسی طرح کوئی بات اللہ کی ناراضگی کی کہہ کر اسے کوئی بڑا گناہ نہیں سمجھتا حالانکہ اس کی وجہ سے جہنم گر جاتا ہے۔ دوزخ نفسانی خواہشات سے اور جنت نفس کو بُری معلوم ہونے والی باتوں سے ڈھانک دی گئی ہے۔ جنت اور دوزخ انسان کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے (بخاری) جو اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں (بخاری) دوزخ میں عذاب پانے کے بعد جنت میں داخل ہو نے والوں کو اہل جنت جہنمی کہہ کر پکاریں گے (بخاری) جس نے جان بوجھ کر اپنے باپ دادا کے سِوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا تواس پر جنت حرام ہے۔ (بخاری) اگر کسی مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اور اسے اپنے اعمال کے سبب جہنم میں جانا ہوا تو آگ صرف قسم پوری کرنے کے لےے اسے چھوئے گی(بخاری) کنجوس شخص اللہ، انسان اور جنت سے دورجبکہ دوزخ سے قریب ہے (ترمذی)۔ چھ باتوں پر جنت کی گارنٹی:

ہمیشہ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی، حرام کاری سے شرمگاہوں کی حفاظت، منع کردہ چیزوں کی طرف نظر نہ کرنا، ہاتھ روک لیناجہاں حکم ہو(مسند احمد، بیہقی) اس کے لےے دوزخ واجب کردی گئی جس نے قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق ناجائز طور پر مار لیا (مسلم) بہادری کے چرچے کی خاطر مرنے والا جھوٹا شہید ہے، اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا (مسلم) نام و شہرت کے لیے علم دین حاصل کرنے والا عالم، قاری اور عابد بھی جہنمی ہے (مسلم) سخی مشہور ہو نے کے لیے فیاضی کرنے والا جھوٹا سخی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا(مسلم) اگرکوئی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اُس کی نہیں تو اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے (مسلم) دوآنکھیں ایسی ہیں جن کو دوزخ کی آگ چھو بھی نہیں سکے گی۔ ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی ہو اور دوسری وہ آنکھ جس نے جہاد میں جاگ کر پہرہ داری کی ہو (ترمذی) سابقہ امتوں میں ایک زخمی شخص نے چھری لے کر اپنا ہاتھ کاٹ ڈالااور مرگیا تو اللہ نے فرمایا کہ اس شخص نے جلدی کرکے جان دی۔ میں نے بھی جنت اس پر حرام کردی( بخاری)

22۔ جہاد اور شہادت کی اقسام

میں یقیناً اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں مارا جاﺅں پھر زندہ کیا جاﺅں، پھر مارا جاﺅں (بخاری) جو شخص اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے اور اسی کا بول بالا ہو تو وہی اللہ کی راہ میں لڑتا ہے(بخاری) جس کے دونوں پیر اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو جائیں تو اس کو اللہ نے دوزخ کی آگ پر حرام کردیا ہے ( بخاری) اگر دشمن زیادہ ہوں تو مسلمان سپاہی پیادہ اور سوار جس طرح ممکن ہو نماز پڑھ لیں (بخاری) جو کوئی جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا تو وہ جہاد کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا (بخاری) جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کردیا گیا، وہ شہید ہے۔ (بخاری) سب لوگوں میں افضل مومن وہ ہے جو اپنی جان سے اور اپنے مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتاہو۔ طاعون ہر مسلمان کی شہادت کا سبب ہے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان تیار کردے تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ نبی ﷺ کے پاس مشرکوں کا ایک جاسوس آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے پکڑلو اور اس کو قتل کردو۔ اللہ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دینا دنیا و ما فیہاسے بہتر ہے(بخاری) جس نے نہ تو کبھی جہاد کیا اور نہ ہی جہاد کی تمنا کی تو وہ نفاق کی ایک صفت میں مرا (مسلم) ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے۔ ( ترمذی، ابو داؤد، ابنِ ماجہ) جو راہِ خدا میں مارا گیا وہ شہید ہے۔ جس کا طاعون میں انتقال ہوا، وہ بھی شہید ہے اور جس کا پیٹ کے امراض ( ہیضہ، اسہال وغیرہ) میں مبتلا ہوکر انتقال ہوا، وہ بھی شہید ہے (مسلم)

23۔ جھاڑ پھونک اور وظائف:

اُجرت لے کر سانپ کے کاٹے کا علاج سورہ فاتحہ کی جھاڑ پھونک سے کیا گیا اور نبی ﷺ نے پسند کیا(بخاری)آیة الکرسی پڑھ کر سونے سے اللہ کی طرف سے ایک نگہبان صبح تک پاس رہتا ہے جو شیطان کو قریب نہیں آنے دیتا (بخاری)

24۔ حج اور ارکان حج:

٭دورانِ حج کسی نے بھولے سے قربانی سے پہلے سر منڈوالیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اب ذبح کرلے (بخاری) حج و عمرہ کے لیے مدینہ کے لوگ ذوالحلیفہ سے، شام کے لوگ حجفہ سے، نجد کے لوگ مقامِ قرن سے اوریمن کے لوگ یلملم سے احرام باندھیں(بخاری) حج یا عمرہ کرنے والا محرم نہ کرتا پہنے، نہ عمامہ۔ نہ پائجامہ پہنے، نہ ٹوپی اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران (خوشبو) لگی ہو۔ اگر چپلیں نہ ملیں تو موزے پہن کر انہیں کاٹ دے تاکہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں(بخاری) رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے دونوں یمانی رکنوں کے سوا اور کسی رکن کو مَس نہیں کیا (بخاری) کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی برہنہ ہوکر طواف کرے۔ نبی ﷺ مدینہ سے تشریف لائے تو سات مرتبہ کعبہ کا طواف کیا، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی۔ اور صفا و مروہ کے درمیان سعی فرمایا۔ نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تو اس کے تمام گوشوں میں دعا کی اور نماز نہیں پڑھی۔ اگر تم بیمار ہو تو سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرو۔ نبی ﷺ نے کعبہ کے اندر دونوں ستونوں کے درمیان میں نماز پڑھی(بخاری) سب سے افضل جہاد ”حجِ مقبول“ ہے۔ ضعیف والدین کی طرف سے حج بدل کیاجاسکتا ہے – حج کے دوران کوئی گناہ نہ کرے تو اس طرح واپس لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اسے بے گناہ جنم دیاہو۔ نبی ﷺ کو عقیق کی مبارک وادی میں نماز پڑھنے کا حکم ملا۔ خوشبو لگے احرام کو تین مرتبہ دھو نا ہی کافی ہے ۔ نبی ﷺ نے احرام باندھا اور مسجد ذوالحلیفہ کے قریب پہنچے تو تلبیہ پڑھی۔ صحابہ ؓ نے قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈالے۔ کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کریں، اس کے بعد اپنے بال کتروا ڈالیں اور احرام کھول دیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ جب حج کے لیے مکہ جانے کا ارادہ کرتے تو بغیر خوشبو والا تیل لگاتے۔ بعض لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا ۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حطیم بھی کعبہ کا حصہ ہے۔ رمضان میں روزہ فرض ہوا تونبی ﷺ نے فرمایا:عاشورے کا روزہ رکھنا چاہو تو رکھ لو اور نہ چاہو تو نہ رکھو۔ اگرنبی ﷺ کو حجر اَسود کوبوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی بوسہ نہ دیتا۔ حضرت عمر ؓ ۔ کوئی مشرک حج نہ کرے نیز کوئی برہنہ شخص بھی کعبہ کا طواف نہ کرے۔ رسول اللہﷺ نے زم زم کا پانی کھڑے ہوکر نوش فرمایا( بخاری) رسول اللہ ﷺ طوافِ کعبہ کرتے تو اس کے تین چکروں میں رمل یعنی دوڑ کر چلا کرتے تھے اور اگلے چار چکروں میں مشی یعنی معمولی چال سے چلا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ صفاومروہ کے درمیان سعی کرتے تو بطن المسیل میں تیزدوڑا کرتے تھے۔ عرفہ یعنی نویں ذوالحجہ کے دن نبی ﷺ روزہ سے نہیں ہی تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ حجةالوداع میں عرفات سے روانہ ہوئے تو ہجوم میں بھی تیز تیز چل رہے تھے۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاءکی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں۔ ہر نماز کے صرف فرض پڑھے۔ قربانی کے دن جمرةالعقبہ کو کنکریاں مار نے کے بعد تلبیہ پڑھناموقوف کردیا۔ سیدنا عمرؓ نے فجر کی نماز مزدلفہ میں پڑھی اور آفتاب کے نکلنے سے پہلے ہی کوچ کردیا۔ پوچھا:یہ تو قربانی کا جانور ہے اس پرکیسے سوار ہوسکتا ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ۔ جسے قربانی میسر نہ ہوتو تین روزے حج کے دنوں میں اور سات روزے گھر واپس لوٹ کر رکھے ۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نبی ﷺ نے قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے قربانی کے جانوروں کے لیے ہار بنائے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے جانوروں کے جھولوں اور ان کی کھالوں کو خیرات کر نے کا حکم دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے قربانی کے اونٹ کو نحر کرنے کے لیے کھڑا کرکے اس کا پیر باندھ دو پھر اس کو نحر کرو کیونکہ یہی سنت نبوی ﷺ ہے۔ قربانی کے جانوروں کی بنوائی کی اجرت میں قصاب کو گوشت یا کھال وغیرہ نہ دینے کا حکم ہے( بخاری) رسول اللہ ﷺنے دو مرتبہ فرمایا:اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر اپنی رحمت فرما۔ اور تیسری بار فرمایا کہ اے اللہ!بال کتروانے والوں پر بھی رحمت فرما۔ بڑے جمرے کے پاس کعبہ کو بائیں جانب اور منیٰ کو داہنی طرف کرکے سات کنکریوں سے رمی کی۔ پہلے جمرے کو سات کنکریاں مارتے تھے۔ ہر کنکری کے بعد تکبیر کہتے تھے۔ مکہ سے واپسی کے وقت کعبہ کا طواف کرکے جانا چاہئے۔ تاہم حائضہ عورت کو یہ معاف ہے ۔ نبی ﷺ نے مقامِ محصب میں ظہر، عصر، مغرب، اور عشاءکی نماز پڑھی اس کے بعد تھوڑی دیر تک نیند فرمائی۔ محصب میں اترنا حج کے ارکان میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی عبادت ہے۔ طوافِ زیارت کے بعد حائضہ ہونے والی کے لیے جائز ہے کہ وہ طوافِ وداع کیے بغیرمکہ سے چلی جائے ۔ نبی ﷺجب مکہ جاتے تو ذی طویٰ میں اترتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی پھر مکہ میں داخل ہوتے اور جب مکہ سے واپس ہوتے تب بھی ذی طویٰ میں اترتے اور رات پھر وہاں ٹھہرتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی( بخاری) مہاجر کو منیٰ سے لوٹنے کے بعد جب حج ختم ہوجائے توتین دن تک مکہ میں رہنا درست ہے (بخاری) حجة الوداع میں بعض اصحاب نے اپنا سر منڈوایا اوربعض نے قصر کیا یعنی سرکے کچھ بال کٹوائے (بخاری) جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان اور بیت اللہ تک پہنچنے کی سواری میسر ہو اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر(ترمذی) حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو کیونکہ حج اور عمرہ دونوں فقرو محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور رکردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کردیتی ہے (ترمذی، نسائی) حاجی کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو سلام و مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کی دعا کے لیے کہو۔ کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا فیصلہ ہوچکا ہے (مسند احمد)

منیٰ میں قیام:

منیٰ میں قیام کے تین دنوں ( 11، 12، 13 ذی الحجہ کوجمرات کی رمی کی جاتی ہے) میں اگر کوئی صرف دو دن یعنی11 اور 12 ذی الحجہ کو رمی کرکے منیٰ سے چل دے تو بھی کوئی گناہ نہیں ہے( ترمذی، نسائی)

وقوفِ عرفہ:

حج وقوف عرفہ ہے۔ جو حاجی مزدلفہ والی رات یعنی 9 اور10 ذی الحجہ کی درمیانی شب میں بھی صبح صادق سے پہلے عرفات میں پہنچ جائے تو اس نے حج پالیا اور اس کا حج ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سب سے زیادہ بندوں کے لیے جہنم سے آزادی کا فیصلہ کرتا ہو(مسلم)

طواف کعبہ:

بیت اللہ کا طواف نماز جیسی عبادت ہے البتہ طواف میں باتیں کرنے کی اجازت ہے۔ جو کوئی طواف کی حالت میں کسی سے بات کرے تو نیکی اور بھلائی کی بات کرے۔ (ترمذی، نسائی) حالتِ طواف میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَةً وَّفِی الا خِٰرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (ابوداؤد) حج یا عمرہ کرنے والے کی آخری حاضری بیت اللہ پر ہو اور آخری عمل طواف ہو۔ (مسند احمد) طواف زیارت کو دسویں ذی الحجہ کی رات تک موخر کرنے کی اجازت ہے(مسند احمد)

حجرہ اسود، رکن یمانی:

حجر اسود اور رکن یمانی ان دونوں پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کے کفار ہ کا ذریعہ ہے(ترمذی)

عمرہ:

ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان تمام گناہوں کے لیے کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان ہوگئے ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے حج سے پہلے عمرہ ادا فرمایا تھا۔ عمرہ کا ثواب تمہارے خرچ اور تمہاری مشقت کے مطابق ملے گا۔ نبی ﷺ جب جہاد یا عمرہ سے لوٹتے تو ہر بلند زمین پر تین مرتبہ تکبیر کہتے تھے۔ نبی ﷺ سفر سے واپسی پر رات کوگھر والوں کے پاس نہ جاتے۔ صبح کے وقت تشریف لاتے یا زوال کے بعد۔ سفر توایک طرح کا عذاب ہے۔ آدمی کو کھانے، پینے اور سونے کا آرام نہیں ملتا (بخاری)۔ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے (بخاری)

احرام:

احرام کی حالت میں موذی جانور جیسے بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا اور چھپکلی وغیرہ مارے جاسکتے ہیں۔ نبی ﷺ نے احرام کی حالت میں اپنے سر کے بیچ میں مقامِ لحی جمل میں پچھنا لگوایا تھا۔ نبی ﷺ نے حضرت میمونہؓ سے احرام میں نکاح کیا ( احرام میں صرف ہم بستری کرنامنع ہے) (بخاری) حالت احرام میں قمیض، پاجامہ، عمامہ اورموزے نہ پہنو۔ احرام میں خوشبو بھی نہ لگا ہو۔ (مسلم) عورتوں کو احرام کی حالت میں دستانے، نقاب اور خوشبو کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے علاوہ جو وہ چاہیں، پہن سکتی ہیں۔ وہ زیور، شلوار، قمیض اور موزے بھی پہن سکتی ہیں (ابو داؤ د)

25۔ حجاب:محرم اور نامحرم

کوئی عورت بغیر اپنے شوہر یا محرم کے دو دن تک کا سفر نہ کرے(بخاری) کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور نہ کوئی عورت بغیر اپنے محرم رشتہ دار کے سفر کرے (بخاری) نہ دی ہوئی چیز کا ظاہر کرنا ایسا ہے جیسے کوئی دو کپڑے مکر و فریب کے پہنے ہوئے ہو۔ غیرعورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے پرہیز کرو۔ کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی غیر عورت کی تعریف ایسے نہ کرے جیسے وہ اسے کھلم کھلا دیکھ رہا ہو۔ کوئی عورت شوہر کی مرضی کے بغیر کسی کو اپنے گھر میں آنے نہ دے(بخاری) عورت سترکی مانند ہے۔ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیاطین اس کو اپنی نظروں کا نشانہ بناتے ہیں (ترمذی)

ستر، برہنگی:

نہ خوداپنی ران کھولو اور نہ کسی زندہ یا مردہ آدمی کی ران کی طرف نظر کرو۔ (ابو داؤ د ,ابن ماجہ) مر د دوسرے مرد کے ستر کی طرف اور عورت دوسری عورت کے ستر کی طرف نظر نہ کرے (مسلم)۔ رفع حاجت اور میاں بیوی کی صحبت کے علاوہ تنہائی میں بھی برہنگی سے پرہیز کرو۔ فرشتے تمہارے ساتھ برابر رہتے ہیں لہٰذا ان سے شرم کرو اور ان کا احترام کرو۔ (ترمذی)

غیر عورت:

کسی نامحرم پر پہلی بلا ارادہ نظرتو جائز ہے لیکن دوسری نظر جائز نہیں (مسند احمد‘ ترمذی‘ابو داؤ د) مومن مرد کی کسی عورت کے حسن و جمال پر نظر پڑجائے پھر وہ اپنی نگاہ نیچی کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی عبادت نصیب فرمائے گا جس کی وہ لذت و حلاوت وہ محسوس کرے گا (مسند احمد) غیر عورت اچھی لگے تو آدمی کو چاہئے کہ اپنی بیوی کے پاس جاکر اپنی نفسانی خواہش پوری کرے (مسلم) اُن خواتین کے گھروں میں نہ جایا کرو جن کے شوہر کہیں باہرگئے ہوئے ہوں۔ کیونکہ شیطان سب میں اس طرح جاری ساری رہتے ہیں جس طرح رَگوں میں خون رَواں دَواں رہتا ہے( ترمذی)

26۔ حدود اللہ؛ تہمت، چوری، قتل:

حدود اللہ میں سے کسی حد کے علاوہ کسی اور جرم کی سزا میں مجرم کودس کوڑے سے زیادہ نہ مارے جائیں(بخاری) جس نے اپنے غلام پر جھوٹی تہمت لگائی تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگا ئے جائیں گے(بخاری) قاتل، شادی شدہ زانی اورمرتد کے علاوہ کسی اور مسلمان کا خون حلال نہیں ہے( بخاری) کسی کے گھر میں بلا اجازت جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی جائے تو اس کی کوئی سزا نہیں ہے (بخاری) بنی اسرائیل کا کوئی بااثر شخص چوری کرتا تو چھوڑ دیتے اور کوئی عام شخص چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے (بخاری) چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری پر ہاتھ کاٹ لیا جائے (بخاری)

سنگسار کرنا:

تیرے بیٹے پر سودُرے اور ایک سال کی جلاوطنی کا حکم دیا جائے گااور اے انیس تم اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کرلے تو اسے سنگسار کردینا (بخاری)

(جاری ہے)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.