غم ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے - امجد طفیل بھٹی

گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے کلی الماس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کرنل سہیل عابد کی شہادت پورے پاکستان کی فضا سوگوار کر گئی اور پاکستان کے سپاہی کے جذبہ شہادت پر مہر ثبت کر گئی کہ ہمارے جوان چاہے سپاہی ہوں یا افسر سب ہی ملک کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ سہیل عابد شہید کی نمازِ جنازہ پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ اس موقع پر جاری کردہ تصاویر میں شہید آفیسر کے بیٹے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے چہروں کے تاثرات سے غم والم کے آثار نمایاں تھے۔ اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی جوان شہید ہوتا ہے تو انہیں لگتا ہے کہ ان کے جسم کو کوئی حصہ جدا ہوگیا ہے اور ساری رات وہ سو نہیں سکتے، جبکہ شہید کے والد کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بیٹے پر فخر ہے، شہید آفیسر کرنل سہیل عابد کے بھائی کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی نے ان کے ملک، ان کے شہر اور ان کے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

پچھلے پندرہ بیس سالوں میں ہم نے ہزاروں کرنل سہیل عابد کی طرح دھرتی کے سپوت اپنے وطن پہ قربان ہوتے ہوئے دیکھے ہیں۔ نام گننا شروع کر دیے جائیں تو صفحات ختم ہو سکتے ہیں مگر قربانیوں کی لازوال داستانیں ختم نہ ہو سکیں گی۔ آج اگر پاکستان قائم و دائم ہے تو انہی قربانیوں کے سبب قائم ہے لیکن پھر بھی ہمارے کچھ لوگ فوج کو گالیاں دینا اور تنقید کرنا فرض سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں مگر “ میں نہ مانوں “ والی پالیسی کے تحت انہوں نے کبھی بھی ملک کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو سراہنا نہیں ہے۔ آج اگر ہم لوگ اپنے اپنے گھروں میں آرام سے سوتے ہیں اور اپنی نجی محفلیں انجوائے کرتے ہیں تو یہ سب بھی ان غیور سپاہیوں کے دم سے ہے ورنہ ہمارا دشمن ہر وقت اس تاک میں رہتا ہے کہ کب کہاں سے قوم کو ضرب لگا کر دہشت زدہ کیا جائے، چاہے وہ ہزارہ برادری کا قتلِ عام ہو، کسی درگاہ پر خودکش حملہ ہو، کسی مسجد یا امام بارگاہ پر کوئی فائرنگ کا واقعہ ہو یا پھر کسی سکول میں نہتے بچوں کا قتل عام ہو دشمن کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دشمن اپنا وار کرتے وقت صرف یہ ذہن میں رکھتا ہے کہ اس سے پاکستان کو کس طرح نقصان پہنچے گا۔ جبکہ دوسری طرف ہم لوگ اس بحث میں پڑے ہوئے ہیں کہ سیاست میں فوج کا کیا کردار ہے؟ فوج ملک کا کتنا بجٹ کھا رہی ہے؟ فوج کس سیاسی جماعت کی حامی ہے؟

یہ سب باتیں دشمن کے لیے حوصلہ افزاء ہیں کہ ہم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی فوج کی کردار کشی کر رہے ہیں۔ شہید ہونے والے فوجیوں کے گھر جا کر کبھی کسی نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کے اہلِ خانہ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں؟ ان کے بال بچوں کے لیے ایک ایک دن گزارنا کس قدر اذیت ناک ہے؟ ایک ایک جوان اور ایک ایک افسر ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہے۔ ہمارے لیڈروں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے فقط تعزیت کا اظہار کافی نہیں ہے کہ وقتی طور پہ خانہ پُری کے لیے دو الفاظ کا اظہارِ ہمدردی کردیا جائے اور بعد میں اس فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی جائے، اسی فوج کو خلائی مخلوق اور نادیدہ طاقت قرار دیا جائے، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی فوج کو جو کہ ملک کی خاطر جانوں کا نظریہ پیش کررہی ہے کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

ہمارے ملک کا کلچر ہے کہ پاک فوج کو بے جا تنقید کا نشانہ بنا کر اپنے گناہوں پر پردہ ڈالا جا سکے، یہی لوگ کہتے ہیں فوج ملک کا 70 فیصد بجٹ کھا جاتی ہے، لیکن وہ لوگ شاید اس حقیقت سے واقف نہیں ہوں گے کہ جان سے بڑھ کر دنیا کی کوئی قیمتی چیز نہیں ہے، جب جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کی حفاظت کرنے کی قسم اٹھائی جائے تو دنیا کی کوئی دولت اور طاقت جذبہ شہادت کو شکست نہیں دے سکتی مگر وہ لوگ کیا جانیں جو کہ صرف اور صرف اپنی دولت بنانے اور بچانے کے لیے اپنے حلف سے ہی رُوگردانی کر جائیں۔ کبھی بھی فوج کے کسی سپاہی کا تو بیرون ملک بزنس یا کمپنی کا انکشاف نہیں ہوا، کبھی بھی کسی سپاہی یا آفیسر کی تو دُہری شہریت ثابت نہیں ہوئی، کبھی بھی کسی آفیسر یا سپاہی کی ملک کے اندر پھیلا ہوا کاروبار اور فیکٹریاں دریافت نہیں ہوئیں۔ کبھی بھی کسی فوجی نے کمیشن اور کرپشن سے ناجائز دولت نہیں بنائی۔

جب ہمارے سیاستدان اور ان کے اہلِ خانہ اپنے اقتدار کے نشے میں ڈوبے دونوں ہاتھوں سے ملکی خزانے پہ ہاتھ صاف کرنے میں لگے ہوتے ہیں تو اسی وقت ہمارے جوان ملک کی خاطر شہید اور ان کے اہلِ خانہ یتیم اور بے آسرا ہو رہے ہوتے ہیں۔ شہادت کے بعد فقط چند لاکھ روپے اور زمین کا ایک ٹکڑا متاثرہ خاندان کے غم کا مداوا نہیں کرسکتا بلکہ یہ غم تاحیات شہید کے ماں باپ اور بیوی بچوں کے ساتھ چپکا رہتا ہے۔

آخر کب تک کرنل سہیل عابد، میجر اسحاق اور کیپٹن اسفند یار جیسے خوبرو جوانوں کا خون ناحق بہتا رہے گا؟ کب تک ہمارے بھٹکے ہوئے لوگ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہمارے بے گناہ عوام دشمن کی بے رحم گولیوں کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ اور کب ہمارے ملک پر سے دہشت گردی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے؟

یہ سب تب ہی ممکن ہے جب ہم سب لوگ چاہے سندھی ہوں، پنجابی، بلوچی، کشمیری یا پھر پٹھان ہوں ملکر اور یکجہتی کے ساتھ ملک میں قیام امن کے لیے کردار ادا کریں۔ ہمیں ایک پاکستانی کی سوچ قائم کرنا ہوگی اور دشمن کی چالوں کو سمجھنا ہوگا تاکہ ہم قومیت، صوبائیت اور مذہبی فرقہ واریت سے نجات حاصل کر سکیں، نہیں تو ہمارے جوان ملک کی خاطر قربانیاں دیتے رہیں گے اور غم بڑھتا رہے گا۔

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.