میں نماز روزہ کی پابندی کیوں کروں؟ - بشارت حمید

اسلام نے اپنے ماننے والوں پر روز مرہ زندگی میں کچھ عبادات فرض قرار دی ہیں جن میں نماز روزانہ 5 وقت ادا کرنا۔ سال کے ایک ماہ کا روزہ رکھنا۔ سالانہ اپنے مال و دولت پر ڈھائی فیصد زکٰوۃ ادا کرنا اور استطاعت ہونے پر زندگی میں کم از کم ایک بار بیت اللہ کا حج کرنا ہے۔ یہ دین اسلام کے بنیادی ارکان ہیں، جو مسلمان ان میں سے کسی بھی فریضے سے انکار کرے گا تو اس کے ایمان اوراسلام کی سلامتی مشکوک قرار پائے گی اور آخرت میں وہ اللہ کی پکڑ میں آ سکتا ہے۔

موجودہ دور کی مادہ پرستی نے ہماری عبادات کو بھی دنیاوی فوائد کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ کوئی بھائی سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے کہ نماز کی ادائیگی ہمارے جسم کے مختلف اعضاء کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ اس سے فلاں فلاں بیماری میں افاقہ ہوتا ہے۔ روزہ رکھنے سے کئی جسمانی امراض سے بچاؤ رہتا ہے۔ جاپانی سائینس دان نے ریسرچ کی ہے کہ روزہ رکھنے سے کینسر کے جراثیم مر جاتے ہیں۔ یار کن چکروں میں پڑ گئے ہو؟ ہم نماز روزہ کی پابندی بیماریوں سے بچنے کے لیے کرتے ہیں؟ اگر ان سے بیماری میں افاقہ نہ ہوا تو پھر چھوڑ دیں گے؟ اگر ایسا ہی ہے تو بتائیے کہ زکٰوۃ دینے سے کیا دنیاوی فائدہ ملتا ہے؟ اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے سے پھر کیا حاصل ہوتا ہے؟

ہرگز نہیں! ہم یہ فرائض اس لیے ادا کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ ہم ہر حال میں اپنے رب کا حکم مانیں گے۔ ہاں اگر کسی فرض کی ادائیگی سے کوئی دنیاوی فائدہ بھی مل جائے تو یہ اس ضمنی اثر ہے اگر نہ ملے تو ہماری نیت اللہ کے حکم کی تابعداری اور آخرت کی تیاری ہونی چاہیے۔ بے شک اسلام دین فطرت ہے لیکن ہم عبادت کو اللہ کا حکم سمجھ کر ادا کریں گے تو دونوں فوائد سے مستفید ہوں گے اور اگر نیت یہ رہی کہ نماز روزے سے بیماریاں دور ہوں گی تو پھر آخرت کا اجر ضائع ہونے کا ڈر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   الحمدللہ - عظمیٰ ظفر

اپنی نیت یہ رکھیے کہ میں ہر حال میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پابندی کروں گا چاہے دنیا کا کوئی فائدہ ملے یا نہ ملے تو امید ہے کہ اللہ ہمارے اعمال کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.