پنجاب کوفہ نہیں ہے - محمد عامر خاکوانی

اتوار کی صبح ایک دوست نے واٹس ایپ پر ایک کالم کا لنک بھیجا۔ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کی وجہ سے مجھے کئی اخبار روزانہ پڑھنے پڑتے ہیں۔ اردو کے چار اور انگریزی کے ایک اخبار پر مشتمل فائل گھر آتی ہے۔ صبح اٹھنے کے بعد کے پہلے ڈیڑھ دو گھنٹے ان اخبارات کے لیے صرف ہوتے ہیں، روزانہ درجن بھر کالم پڑھنے پڑتے ہیں۔ دفتر جا کر نیٹ پربعض قومی اخبارات کے ریجنل ایڈیشن اور دو تین اہم عالمی اخبار دیکھتا ہوں۔ کوشش ہوتی ہے کہ بھارتی اخبارات پر بھی نظر ڈال لی جائے۔ اس سب کچھ کے باوجود بہت کچھ رہ جاتا ہے، جوخبر یا تحریر اہم ہو، وہ کسی نہ کسی ذریعے سے پہنچ ہی جاتی ہے۔ دوست نے جو کالم بھیجا، وہ جمعہ، اٹھارہ مئی کو شائع ہوا تھا۔ اس کالم میں تین چار بڑے دلچسپ نکات پر بات ہوئی۔ معروف کالم نگار جو کالم میں کہانی کا تڑکا لگانے کی شہرت رکھتے ہیں، انہوں نے میاں نواز شریف کے حالیہ متنازع بیان پرتنقید کی، مگر ایسے ہنر سے کہ اس میں میاں صاحب کی مدح پوشیدہ بلکہ جھلک رہی ہے۔ خیر اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، ہر ایک کا حق ہے، جووہ پسند کریں، لکھ ڈالیں۔ اس کالم میں دراصل ایسی باتیں کہی گئیں جو خلاف واقعہ اور فکری مغالطوں سے لبریز ہیں۔ ریکارڈ درست کرنے کے لیے ضروری ہے کہ استدلال کی کمزوری واضح کی جائے۔

وفاقی دارالحکومت سے آمدہ اس کالم کا سب سے اہم نکتہ، جس کے لیے یہ کالم لکھنے کی نوبت آئی، وہ پنجاب اور اہل پنجاب کو گالی دینا ہے۔ محترم کالم نگار نے نجانے کس جوش میں آ کر لکھا، ”ہم پنجابیوں میں کھڑے ہونے کے جینز ہی نہیں، راجہ پورس اور رنجیت سنگھ کے علاوہ پنجاب کا کوئی لیڈر کسی سے نہیں لڑا۔ ہم پنجابی طاقتوروں کے ساتھ نہیں لڑتے، ہم پنجابی سچوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے، یہ ہمارا کیریکٹر، ہماری تاریخ ہے۔ ہم چڑھتے سورج کی پرستش کرنے والے لوگ ہیں۔ میاں نواز شریف اگر یہ جنگ پنجاب کی بنیاد پر لڑنا چاہتے ہیں تو پھر یہ میدان سجنے سے پہلے ہی جنگ ہار جائیں گے، کیونکہ شاید اس جنگ میں محمود اچکزئی، حاصل بزنجو تو ان کا ساتھ دیں گے، مگر پنجاب ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا۔ یہ لوگ دل نواز شریف کو دے کر تلواریں نئے آنے والوں کے حوالے کر دیں گے۔ ہم پنجابی فطرتاً کوفی ہیں۔ “

سچ تو یہ ہے کہ نہایت دکھے دل کے ساتھ کالم نگار موصوف کے الفاظ اوپر والی سطروں میں نقل کیے ہیں۔ مجھے یہ کالم پڑھ کر شدید صدمہ اور دکھ پہنچا اور اس پر مزید افسوس ہوا کہ پچھلے چار دنوں میں کسی نے اس کی تردید کرنے، جواب دینے کی کوشش نہیں کی۔ میں نسلی اعتبار سے خاکوانی پٹھان اور لسانی شناخت کے حوالے سے احمد پورشرقیہ سے تعلق رکھنے والا ایک (ریاستی) سرائیکی ہوں، جو سابقہ ریاست بہاولپور کہلاتی ہے اور ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد 1970ء میں اسے جبراً پنجاب کا حصہ بنایا گیا، اس سے پہلے کئی صدیوں تک اس کا پنجاب سے الگ تشخص رہا۔ پنجاب پر عائد ہونے والے ان الزامات کو نظرانداز کرنا میرے لیے آسان تھا، اس کے باوجود سچی بات ہے کہ یوں لگا جیسے کسی نے کلیجے میں خنجر گھونپ دیا ہو۔ میری بائیس سالہ صحافت کا تمام سفر لاہور میں گزرا اور اس شہر دلداراں نے میرے جیسے قلم مزدور کو بے پناہ محبت اور عزت دی۔ میرے اوپر چھاﺅں کی، رزق دیا اور شناخت بنائی۔ پنجاب کی دھرتی کا زندگی کی آخری سانسوں تک مقروض رہوں گا۔ افسوس کہ ایک پنجابی نے صرف اپنی سیاسی عصبیت یا تعلق نبھانے کے لیے اپنے ہی خطے اور لوگوں کو گالی دی۔ جو کچھ انہوں نے کہا، وہ غلط، ناروا اورنہایت ناانصافی پر مبنی ہے۔ یہ غلط ہے کہ پنجابیوں میں کھڑے ہونے کے جینز نہیں، یہ سچ بولنے والوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔ یہ کہنا ظلم ہے کہ پنجابی کوفی ہیں اور اپنا دل اور طرف لگاتے ہیں جبکہ تلواریں ان کے دشمنوں کو دے ڈالتے ہیں۔ یہ وہ فقرہ ہے جو مشہور عرب شاعر فرزدق نے جناب حسینؓ کو اس وقت کہا تھا جب وہ اہل بیت کے قافلے کے ساتھ کوفہ جا رہے تھے۔ شاعر نے کہا” کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ، مگر تلواریں ابن زیاد کے ساتھ ہیں۔ “ اہل پنجاب پر اس قدر بے رحمی اور سفاکی سے یہ الزام لگاتے ہوئے زبان کانپ جانی چاہیے تھی۔ امام مظلومؓ کے مخالف لشکر کا سپاہی ہونے کا طعنہ دینے سے بری بات اور کیا ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہتر تھا کہ ماں، بہن کی گالی دے دی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   خوش قسمت کون؟ پنجاب، عثمان بزدار یا عمران خان؟ آصف محمود

عام طور پر تاریخ سے نابلد افراد ایسی جنرلائزڈ، غلط سوئپنگ سٹیٹمنٹ دیا کرتے ہیں۔ فیس بک پر کوئی معمولی پڑھا لکھا شخص، جھنجھلایا ہوا کوئی دیسی لبرل یا نسل پرستی کے تعصبات میں گردن گردن ڈوبے قوم پرست۔ منظور پشتین کے حامیوں کی جانب سے آج کل پنجاب پر طعنہ زنی عام ہے، انہیں دکھ ہے کہ اہل لاہور ان کے جلسہ میں نہیں آئے اور ان کی مجہول سی بے سمت تحریک کو سپورٹ نہیں کر رہے۔ کالم میں جو کہا گیا وہ بالکل غلط ہے۔ تاریخ کو یوں نہیں جانچا جاتا۔ پہلی بات تو یہ کہ ہماری تاریخ عوام کے نقطہ نظر سے، ان کے حوالے سے لکھی ہی نہیں گئی۔ وہ سرداروں کے انٹرایکشن، حملوں، عمل، ردعمل پر مبنی ہوتی ہے۔ بےشمار فیکٹرز ہیں، جو ان سب پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ صرف ایک نکتہ سمجھ لیں کہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کا ردعمل اور میدانی علاقوں کے مکینوں کا ردعمل ایک سا ہرگز نہیں ہوتا۔ پہاڑوں میں گوریلا جنگ ممکن ہے، میدانوں میں چھپنے کی جگہ دستیاب نہیں۔ انہیں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ لشکروں کو کسی مضبوط قلعہ کا حصار دستیاب ہے یا نہیں، سپلائی لائن کیسی ہے اور پیچھے دلی میں بیٹھا حکمران کمک بھیج سکتا ہے یا نہیں؟ اس کے باوجود پنجاب میں کئی بڑے سرفروش کردار گزرے ہیں۔ انگریزوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے کرداروں پر لوک داستانیں مشہور ہیں۔ کھرل، بھٹی، جٹ یہ سب مزاحمت کے مقامی حوالے ہی ہیں۔ ملتان کے آخری نواب مظفر خان سدوزئی کو کون بھول سکتا ہے۔ پچاسی سالہ بوڑھا نواب سبز لباس میں ملبوس تلوار بدست قلعے سے باہر آ کر اپنے دس بیٹوں سمیت سکھوں سے لڑتا شہید ہوا۔

ہماری جدید سیاسی تاریخ کو دیکھ لیں۔ مزاحمت کے حیران کن، جگمگاتے رنگ نظر آئیں گے۔ کون سی سیاسی، عوامی تحریک ہے، جسے پنجاب نے پزیرائی نہیں بخشی۔ استاد دامن، حبیب جالب جیسے مزاحمتی شاعر کہاں سے تعلق رکھتے تھے؟ بھٹو صاحب ایوب خان سے الگ ہو کر ٹرین پر سوار ہوئے، پنجاب ہی نے ان کا شاندار استقبال کیا اور وہ حوصلہ دیا جس نے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی بنیاد ڈالی۔ پنجاب کی فراخدلی کہ بھٹو کے لیے بانہیں کھول دیں، سندھ سے زیادہ پزیرائی انہیں پنجاب سے ملی۔ اسی بھٹو نے جب ڈکٹیٹر کا بھیس بدلا تو پنجاب کے اہل صحافت نے اس کے خلاف شاندار مزاحمت کی، صحافیوں نے جیلیں کاٹیں، مگر ڈٹے رہے۔ جب دھاندلی ہوئی تو پی این اے کی غیر معمولی تحریک میں اہل پنجاب ہی شریک ہوئے، پولیس کو مساجد میں گولیاں تک چلانا پڑیں۔ جنرل ضیا کے خلاف پنجاب کے جیالوں نے خودسوزی کی، صحافیوں کو کوڑے مارے گئے، مگر مزاحمت جاری رہی۔ ضیا کے اقتدار کے عین عروج میں بھٹو کی مظلوم بیٹی وطن واپس آئی تو لاہورمیں لاکھوں لوگ امنڈ آئے۔ کیا یہ طاقتور کے خلاف کھڑا ہونا اور سچے کی حمایت نہیں تھی؟ایم آرڈی، اے آرڈی غرض ہر اتحاد کے لیے پنجاب پیش پیش رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   خوش قسمت کون؟ پنجاب، عثمان بزدار یا عمران خان؟ آصف محمود

عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد میں پنجابی پھر کھڑے ہوئے۔ افتخار چودھری کا قافلہ پنڈی سے لاہور تک تیس گھنٹوں میں پہنچا۔ مشرف کا دور تھا، افتخار چودھری ایک مظلوم، برخاست شدہ جج تھا، اس کا ساتھ دینے پنجابی کیوں نکلے ؟دو ہزار آٹھ کے الیکشن میں مشرف حکمران تھا، اس کی پارٹی ق لیگ نے پورا زور لگایا، اربوں کی اشتہاری مہم چلائی، پنجاب کے عوام نے میاں نواز شریف کا ساتھ دیا، کیونکہ وہ اسے مظلوم سمجھتے تھے، اسے اقتدار میں لانا چاہتے تھے۔ یہ اور بات کہ ان کے خواب بعد میں بکھر گئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پنجاب کھڑا نہیں ہوتا۔ پنجاب کا شاندار اور جاندار مزاحمتی کردار رہا ہے۔ اگر آج میاں نواز شریف کو اپنی تباہ کن غلطیوں، نالائق مشیروں اور ناسمجھی کی وجہ سے عوامی سپورٹ نہیں مل رہی، لوگ ان کے غلط بیانیے کا ساتھ نہیں دے رہے تو غلطی پنجاب اور اہل پنجاب میں نہیں بلکہ میاں نواز شریف میں ہے۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ میاں صاحب سچے اور مظلوم نہیں بلکہ تاریخ کے اہم موڑ پر غلط راستے کو اپنا چکے ہیں۔ ہی از آن رانگ سائیڈ آف ہسٹری۔ قلم کی قوت سے حقائق بدلے یا مسخ نہیں کیے جا سکتے۔ پنجاب کوفہ نہیں، اہل پنجاب کوفی نہیں، سچ تو یہ ہے کہ یہ اپنے حسینؓ کے انتظار میں ہیں اور ابن زیاد کا ساتھ نہیں دینا چاہتے۔

ٹیگز

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.