ہمارا مری جل رہا ہے - عمیر سعود قریشی

مری پورے پاکستان میں ایک سیاحتی ہل اسٹیشن کے طور پر مشہور ہے جو اپنے دلفریب موسم اور حسین نظاروں کی وجہ سے سیاحوں کو یہاں آنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ گرمائی سیزن میں پاکستانی ثقافت کے یکجائی مطالعہ کے لیے مری ایک بہترین جگہ ہے۔ مری کے حوالے سے میں نے آج سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے اس تحریر کا حصہ اول لکھا تھا جس میں مری میں سیاحت کے حوالے سے کچھ انتظامی و عوامی مسائل کی طرف توجہ دلائی تھی جسے کچھ "مہربانوں" نے ایک نیا رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔ شومئی قسمت آج مری انہی بیان کردہ مسائل کا تدارک نہ ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں زیر بحث ہے۔

حالیہ کچھ عرصہ سے مری بائیکاٹ مہم عروج پر ہےاور کچھ منظم افراد کی طرف سے ایک باقاعدہ پلاننگ سے اس مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں اور یہ مہم مری کی سیاحتی انڈسٹری پر خطرناک حد تک اثر انداز ہوئی ہے۔ فطری قانون ہے کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے جسے کسی طور بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ حقیقت پسندی سے معاملے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس بائیکاٹ مہم کی اصل وجہ مری کا بیشتر نان پروفیشنل اور نان ایجوکیٹڈ ہوٹل اور ایجنٹ مافیا ہے (انگلیوں پر گنے جانے والے چند ہوٹلز کو چھورڑ کرجو واقعی محب مری ہی نہیں، محب پاکستان بھی ہیں) اور رہی سہی کسر پارکنگ اور ٹرانسپورٹ مافیا نے پوری کر دی ہے۔ ایک طویل عرصے سے مری کے خلاف ایک لاوا پک رہا تھا اور پھر ان مافیاز کی جانب سے مسلسل تضحیک آمیز سلوک کی وجہ سے سیاحوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور چند افراد کی طرف سے ایک باقاعدہ مہم شروع کی گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی آواز بنتی چلی گئی۔ مری کا ہوٹل و ایجنٹس مافیا اس مہم کو ناکام قرار دے رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی چیخیں نکل گئی ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس مہم کے بعد یہ مافیاز اپنا قبلہ درست کرتے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ مافیا نے اپنی اصلاح اور جنہوں نے یہ مہم شروع کی ان افراد کا تعاقب کرنے کے بجائے ان افراد اور سوشل میڈیا پیچز کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا جنہوں نے شروع دن ہی سے مری کی خوبصورتی اور اس کے پل پل بدلتے شاندار موسم کو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو اپنی لائیو سٹریم کے ذریعے پہنچا کر مری کی سیاحت کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ سوشل میڈیا پر مری کے خلاف سازش کرنے والوں کو بے نقاب کیا۔ ان پیجز میں مری ویدر (Murree Weather) اور اس کی فعال ایڈمن ٹیم سرفہرست ہے۔ لیکن تف ہے مری کے کچھ ضمیر فروش اور قلم فروش صحافیوں پر جو ہوٹل مافیا کے ہاتھوں گٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں انھوں نے بھی مری کے اصل مجرموں کی کرتوتوں پر نہ صرف پردہ ڈالا بلکہ مری کے محسنوں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔

اس معاملے کا ایک افسوسنا ک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سارے معاملے میں مری کی سیاسی قیادت بھنگ کے نشے میں مست ہے۔ وزیر اعظم پاکستان جن کا تعلق اسی خطہ کوہسار سے ہے اور ایک عدد پنجاب کے صوبائی وزیر بھی مری سے تعلق رکھتے ہیں ان کی طرف سے کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آئندہ الیکشن میں اسی ہوٹل و ایجنٹ مافیا سے ان کا ووٹ بنک بھی وابستہ ہے۔ ورنہ اس کے علاوہ کوئی دوسری وجہ نظر نہیں آتی۔ یہاں پر اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مری کا تمام تر مقدمہ سوشل میڈیا پر مری کے کچھ ہونہار اور پڑھے لکھے نوجوانوں اور مری ویدر کی ٹیم نے لڑا ہے جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔ مری کے صحافتی حلقے نے اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی جو مافیا کے دباؤ یا پھر ملی بھگت کا نتیجہ ہی ہو سکتی ہے۔ مری کے صحافتی حلقوں کے بارے ہی شاید غالب نے کہا تھا کہ

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے

ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسمان کیوں ہو

رہی بات بائیکاٹ مہم کی تو یہ مہم شروع کہاں سے ہوئی؟ خواہ وہ بائیکر ایسوسی ایشن کا "علی عثمان" ہو یا دی پاکستان ٹوورزم کا چیئرمین "خواجہ شجاع اللہ"، اور ان کے ساتھی "فرخ بابر"، "عظمت اللہ یار خان" ہوں۔ ہم نہیں جانتے کے اس کا مرکز لاہور ہے یا گوجرانوالہ؟ لیکن اگر یہ مہم نیک نیتی سے چلائی گئی تھی اور پاکستان کے سب سے مشہور سیاحتی مرکز کی اصلاح مقصود تھی تو ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ مہم ٹؤر آپریٹرز کی طرف سے ہائی جیک ہوئی اور پھر ملک کے نامور پیجز جن میں کاغان ناران پیج، لکیر پیج، کشمیر کے پیجز، بائیکاٹ مری پیج، اور نہ جانے کتنے دوسرے گھناؤنے عناصر کو شامل کر کے وہ نفرت پھیلائی گئی کہ الامان الحفیظ۔

مہم شروع کرنے والی سرکردہ شخصیات کے عزائم جو بھی تھے لیکن مری کے باسیوں کو جس نفرت کا سامنا کرنا پڑا اس کی بدترین مثال آج سے پہلے کبھی نہ دیکھی حتٰی کے بزرگوں اور شہیدوں کی قبروں تک کو گالیاں دی گئیں۔ مری میں بسنے والے قبیلوں پر سب و شتم کیا گیا، مذاق اُڑایا گیا، تضحیک کی گئی اور پاکستان کے سب سے بڑے سیاحتی مرکز کو مقبوضہ کشمیر، صومالیہ اور ایتھوپیا بنا دیا گیا۔ نفرت پھیلانے والے نے متعدد ایسے پروپیگنڈے کیے جن کے ثبوت نہیں ملتے، ایسی ویڈیوز اور ایسی تصاویر شیئرکی گئی جن کا سیاق و سباق خود ساختہ اور من گھڑت تھا۔ اس ضمن میں جو اصل مسائل تھے ان کا سدِ باب دور ہوتا چلا گیا وہ مسائل مکالمے کی فضا نہ بنا سکے بلکہ اس کی جگہ نفرت اور منافرت نے لے لی۔ افسوس یہ ہے کہ بائیکاٹ کھیل شروع کرنے والوں نے کہاں اور کب سوچا تھا کہ اس کھیل کو شروع کرنے سے پاکستان کے ماتھے کا جھومر "ملکہ کوہسار مری" پر کتنے سنگین منفی اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان کا وقار مجروح ہو گا، کوئی خطہ، علاقہ، صوبہ اور بسنے والے لوگ، کوئی سبزی یا پھل فروٹ نہیں ہوتا، کوئی پیپسی کی یا کولا کی بوتل نہیں ہوتی جس کا بائیکاٹ کیا جائے بلکہ ان مسائل کو اجاگر کرنے اور انکا حل کرنے کے دوسرے بہت سے ذرائع موجود ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ مری کے سنجیدہ حلقے اس معاملے کو سیریس لیکر اس سے نمٹیں اور اپنے دوست اور دشمن کو پہچانیں۔ ورنہ کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔