تنہائی کے عالم میں پِسے بزرگ - ہلال احمد تانترے

انسان کی دنیاوی زندگی کو پانچ ادوار میں بانٹا جاتا ہے؛ نومولودیت (infancy)، بچپنا (childhood)، بلوغت (adolescense)، جوانی (adulthood) اور بڑھاپا(old age)۔ زندگی کے ان تمام مراحل میں انسان اپنے آپ کو مختلف حالات سے لڑتا ہوا پاتا ہے۔ ویسے بھی زندگی ایک جہدِ مسلسل کا نام ہے، چاہے وہ دودھ پیتا بچہ ہو یا کوئی نوجوان، ہر کسی کو اپنی زندگی قائم رکھنے کے لیے آس پاس کے ماحول سے کسی نہ کسی صورت میں لڑنا پڑتا ہے۔ نومولاد بچہ گھر کا چشم و چراغ ہوتا ہے اور اُس کے ساتھ والدین اپنی آنے والی زندگی میں بہت امیدویں وابسطہ رکھتے ہیں۔ اسلیے پرایوں سے لے کر اپنوں تک بچوں سے بے پناہ پیار و محبت کرتے ہیں اور انہیں کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا نہ ہونے دیتے۔ اس کے بعد کے ادوار میں انسان حالات و واقعات سے خود لڑنا جانتا ہے، یوں کسی اور انسان کی ضرورت اُسے براہ راست نہیں پڑتی۔

لیکن زندگی کے آخری مرحلے میں انسان جب پہنچتا ہے تو وہ بالکل نومولودیت کے عالم میں واپس جا پہنچتا ہے، جس سے ہم بڑھاپے کے نام سے جانتے ہیں۔ انسانی زندگی کے سائیکل کا یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ قرآن پاک میں بھی اسی چیز کا تذکرہ کچھ اس طرح سے کیا گیا؛’’اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا‘‘(الروم، ۵۴)۔ بڑھاپا ان تمام مراحل میں ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس کو انسان نہ چاہتے ہوئے بھی آنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ انسان کئی ساری مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔ جسمانی، نفسیاتی، سماجی اور مالی، کسی نہ کسی صورت میں انسان باقیوں پر منحصر رہتا ہے۔ جسمانی و مالی ضروریات سے کما حقہ ہر کوئی انسان با خبر ہے اور جس کی فکر انسان حددرجہ کرتا ہے، لیکن نفسیاتی ضروریات کا زندگی کے اِس مرحلے میں شاذ ہی کسی کو احساس ہوتا ہے۔ یہاں پر ہم کچھ بات سماجی و نفسیاتی ضروریات کے متعلق کریں گے۔ جس کے لیے Joe نامی ایک نوجوان کا تجربہ چشم کشا کے طور پر ثابت کیا جاسکتا ہے۔

پچھلے سال کی ہی بات ہے کہ ایک یورپی نوجوان نے بزرگوں کی سماجی و نفسیاتی ضروریات اور اُس سے جڑے اُن کے حالات کو کوائف کو سمجھنے کے لیے طے کر لیا ہے کہ وہ پورے ایک ہفتے ایک ایسی جگہ پر گوشہ نشین ہو گا جہاں اُسے کسی سے بات کرنے کا موقع ملے نہ ہی کسی سے ملنے جلنے کا۔ یوں وہ کچھ مخصوص وقت کے لیے سماج سے الگ تھلگ ہوگیا۔ اس تجربے کا مقصد یہ رکھا گیا کہ ہم جو بزرگوں سے اتنے دور ہوتے جارہے ہیں کہ اُن سے اب بات کرنے کی بھی فرصت نہیں ہے، یہ دریافت کیا جائے کہ بزرگ حضرات اپنی زندگی کے یہ آخری ایام کن حالات و کوائف سے دوچار ہوتے ہوئے گزارتے ہیں؟

اپنے اِس تجربے کے دوران انہوں نے پہلے ایک ایسے گھر کا انتخاب کیا جہاں پر کھانے پینے اور کھیلنے کودنے کے لیے تو سب کچھ موجود ہے، لیکن صرف انسان اور انسانی روابط نہیں ہیں جن سے کہ وہ کسی نہ کسی صورت میں بات کر سکتا ہو۔ اس دوران انہوں نے اس صورتحال میں رہتے ہوئے وقفے وقفے سے اٹھائی گئی ایک ویڈیو بھی بناڈا لی، جس میں وہ بہت زیادہ گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’دیانت داری سے بتاؤں، مجھے یہ تجربہ پہلے سے ہی بہت مشکل لگ رہا ہے‘‘۔ اگلے دن جب نیند سے بیدار ہوجاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ’’جب میں صبح نیند سے جاگ گیا تو ہمیشہ کی طرح ہماری جو عادت ہوتی ہے کہ موبائل فون کو چیک کریں، جو کہ عام حالات میں نارمل ہوتا ہے، لیکن یہاں پر میرے پاس کوئی فون یا ذرائع ابلاغ مہیا نہیں ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اصل معاملہ ہماری زندگیوں کو منضبط کرنے والی ٹیکنالوجی کا نہیں ہے، بلکہ انسانی رشتوں کا ہے۔ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ زندگی کی اصل غرض و غایت انسانوں کا باقی انسانوں کے تعیں ایک رشتے کا احساس ہوتا ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   بابوں کے لیے نصیحت - سیٹھ وسیم طارق

ایک بڑے عالی شان بنگلے میں انسانوں کے بغیر ہر کوئی آسائش کی چیز اِس نوجوان کو مہیا ہے۔ انہی حالات میں وہ اپنی ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں مزید کہہ رہے ہیں کہ ’’میں باہر کی دنیا میں رہ رہے لوگوں کی آوازیں سن سکتا ہوں، جو کہ اپنے دن کے کام کا آغاز کرنے کے لیے اپنے اپنے مقامات کی طرف رواں دواں ہوں گے۔ مجھے یہ چیز بہت کھٹک رہی ہے کہ لوگ باہر کی دنیا میں کام کر رہے ہیں اور میں یہاں اکیلا بیٹھا پڑا ہوں‘‘۔ اگلی رات کے آتے وقت مذکورہ نوجوان کہتے ہیں کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ مجھے سونا چاہے، کیوں کہ میرے لیے دن کا نہ کوئی آغاز ہوتا ہے اورنہ کوئی اختتام، بس بیٹھا رہتا ہوں کچھ بھی کام نہ کرتے ہوئے‘‘۔ اگلے دن صوفے پر بیٹھے مذکورہ نوجوان کہتے ہیں کہ’’ بس میں اپنی زندگی کے ایام گن رہا ہوں اور میں جیسے انسان نما مشین (robot) میں تبدیل ہو چکا ہوں، اب جب کہ میں یہاں پر کوئی کام کیے بغیر اور کسی انسانی رابطے کے بغیر اپنی زندگی ایک مشین کی طرح جی رہا ہوں، تو غیر ضروری خیالات کا انبار میرے دماغ میں جنم لیتا ہے جو پھر میرے لیے ایک نہ بیان کرنے والی پریشانی کا موجب بن جاتے ہیں‘‘۔ ایک ہفتے تنہائی میں گزارنے کے بعد جب اسے باہر کی دنیا میں لے جایا گیا تو اسے ایک بزرگ نے پوچھا کہ کیا لگ رہا ہے اب آپ کو ایک ہفتہ کسی انسانی رشتے یا سماجی رابطے کے بغیر زندگی جینے میں؟ جس کے جواب میں Joe نامی اس نوجوان نے کہا کہ ’’میں اپنے آپ کو خوش رکھنے کے لیے بہت زیادہ کوشش کر نے کے بعد بھی خوش نہ رہ سکا اور میرے اندر ایسی نفسیات جمع ہو گئیں جہاں پر مجھے احساس ہو ا کہ مجھے جیسے اکیلا، تن تنہا اور الگ چھوڑ دیا گیا ہے، اور میرا اِس دنیا میں زندہ رہتے ہوئے بھی کوئی وجود نہیں ہے‘‘۔ اس کے بعد بزرگ مذکورہ نوجوان سے کہتے ہیں کہ ’’ڈھائی سال پہلے میری بیوی کا انتقال ہوا جس کے بعد میرے پاس کوئی بھی، ہمسایہ، رشتہ دار، دوست، حتیٰ کہ کوئی انسان تک نہیں آیا جس سے کہ میں باتیں کرتا، اپنے دکھ دھکڑے سناتا، حالانکہ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ دنیا میں آئے ہوئے ہر ایک انسان کو بڑھاپے کا یہ مرحلہ پار کرتے ہوئے ایک نہ ایک دن کوچ کرنا ہی ہے‘‘۔

پوری دنیا میں ہمارے بزرگ حضرات مختلف حالات سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ ہر کوئی انہیں بوڑھا سمجھ کر ان سنا کر رہا ہے۔ ’’بے چارے بوڑھے پتہ نہیں آخر میں کیا کیا نکھرے کرتے ہیں، ہر روز کسی نہ کسی بیماری کا بہانہ بناتے ہیں، نت نئی ڈیمانڈ کر رہے ہیں اور پورے دن دوسروں کی مغز کھپائی کرتے رہتے ہیں‘‘۔

بزرگوں کے تئیں ہمارا یہ ایک عام رویہ ہے۔ لیکن سمجھنے والی بات ہے کہ کیا وجہ ہے کہ بزرگ حضرات ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں اور جس کے جواب میں ہمارا رویہ اُن کے ساتھ ایسا کیوں کر ہے؟ کوئی بھی مسئلہ بذاتِ خود جنم نہیں لیتا ہے، بلکہ اُس مسئلے کو کئی سارے پہلوہوتے ہیں۔ مختلف پہلو جب جمع ہو جاتے ہیں تو کسی مسئلے کو جنم دیتے ہیں۔ یہی حال بزرگوں کے اِس رویہ کاہے۔ جیسا کہ اوپر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بڑھاپے میں انسان پچے کی طرح بن جاتا ہے اور عادات و اطوار بھی بچوں کی طرح ہوجاتے ہیں اور جس کی صرف ایک ہی وجہ ہوتی ہے کہ بڑھاپے میں انسان کو بالکل بچے کی طر ح دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، لامحالہ ہمیں بھی اُن کی تئیں نرم گوشہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ بیماری خود بخود کسی انسان کو گلے نہیں لگا دیتی، پہلے اُس کی آمد کے لیے انتظامات کیے جاتے ہیں، بزرگوں کو سماج سے الگ سمجھا جاتا ہے، اُن سے کسی کو بات کرنے کی فرصت نہیں ہے، اُن کی ضروریات کی کوئی قدر نہیں کی جاتی ہے، نتیجتاً وہ پھر اُن بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس سے ہم پھراُن کے ’نکھروں‘ سے جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بابوں کے لیے نصیحت - سیٹھ وسیم طارق

ٹیکنالوجی سے منضبط موجودہ دور کے انسان کے پاس اپنی آسائش و آسانی کے لیے تو ہر کوئی آلہ موجود ہے، لیکن یاد رکھنے کے قابل یہ بات ہے کہ ٹیکنالوجی کھبی بھی انسان اور انسانی رشتے کی جگہ نہیں لے سکتی۔ نہ صرف اپنے بزرگ والدین کو بلکہ دنیا کے کسی بھی انسان کو اگر رشتے کے احساس سے محروم رکھا جائے تو وہ نیم مردہ لاش کی طرح بن کر رہ جائے گا۔ بزرگ حضرات کے لیے انسانی رشتوں کا یہ مرہم بدرجہ اُتم اہمیت کا حامل ہے۔ اگر اپنے لاڈلے بچے کے لیے انسان اِس امید کے ساتھ کہ یہ بچہ زندگی کے آخری مرحلے میں میرا سہارا بن جائے گا اپنی راتوں کی نیندیں حرام کر سکتا ہے تو کیا وجہ ہے والدین کے انہی جیسے احسانات کو بھلا کر ہم اُن کی سماجی و نفسانی ضروریات کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے؟

عالمی تنظیم برائے صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں 20 فیصد سے زیادہ بزرگ لوگ کسی نہ کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں، 6.6 فیصد بزرگ صرف اور صرف اس وجہ سے جسمانی طور ناکارہ ہوچکے ہیں کیوں کہ وہ نفسیاتی الجھنوں سے جونج رہے ہوتے ہیں۔ نفسانی بیماریوں میں سب سے زیادہ عام بیماری بھولنے کی ہے، جس سے dementia کی اصطلاح سے جانا جاتا ہے اور جس نے 5 فیصد بزرگوں کی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بزرگوں کی طرف سے شکایت کردہ تکالیف کی بنیادی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم اُن کے تئیں نرم گوشہ نہیں رکھتے ہیں۔ نرم گوشہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم بچوں کو اکیلا اور تن تنہا نہیں چھوڑتے ہیں، انہیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ کوئی اس سے بہت سارا پیار کرتا ہے، اُن کی ضروریات کا خیال بھی رکھتا ہے۔ اب اگر اپنے بچے کے لیے انسان اتنی ساری مصیبتیں اٹھاتا ہے، موجودہ دور کے سماج کے اس دور کو کیا ہوا ہے کہ اپنے بزرگ والدین کے بے پناہ احسانات کے باوجود ہم انہیں اپنے لیے بوج سمجھ رہے ہیں؟

ایک دوسری تحقیق کے مطابق بڑھاپے میں جو بھولنے کی بیماری(dementia) عام ہوتی ہے، اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے بزرگوں سے بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ کسی بوڑھے انسان سے اگر دن میں محض اس کے بچے ایک گھنٹے تک اس کے پاس بیٹھ کر ان سے دو چار باتیں کر لیں تو ممکنہ حد تک بھولنے کی بیماری کو روکا جاسکتا ہے۔ گھر کے اندر داخل ہونے کے بعد اگر ان سے بھی سلام کلام ہوجائے، ان کو بھی اس بات کا احساس دلایا جائے کہ کوئی اُن کی بھی عزت کرتا ہے، انہیں بھی اپنے سماج کا انگ سمجھتا ہے، تو نہ کسی بیماری پر پیسے خرچ کی ضروت پڑجائے نہ ہی گھر کا ماحول دگرگوں ہو جانے کا خطرہ ہوگا۔ اتنا ہی نہیں آخرت کے اندر بھی اس عمل کے بدلے جنت اور جنت کے دروازے کے انعام کے ملنے کی بھی امید بھی ہے۔