رمضان کے قدر دان - ام محمد سلمان

میں جب سے حیدرآباد سے آئی تھی، بس اس کے ذوق و شوق کو دیکھ دیکھ کر حیران ہورہی تھی۔ ہر وقت اس کے لبوں پر ایک ہی بات رہتی "میرے پیارے اللہ! رمضان جلدی سے آجائے، رمضان جلدی سے آجائے پھر میں اپنے اللہ سے خوب دعائیں مانگوں گی اور دیکھنا میری بیٹی بالکل ٹھیک ہوجائے گی ان شاء اللہ۔ "

عاشی میری چھوٹی بہن ہے۔ چھوٹے چھوٹے سے چار بچوں کی ماں۔ اس کی سب سے چھوٹی بیٹی جو ابھی مشکل سے صرف ایک سال کی تھی، گزشتہ تین مہینوں سے شدید بیمار تھی۔ ہر طرح کا علاج کروانے کے باوجود بھی اس کی تکلیف میں کوئی کمی نہیں آرہی تھی۔ معصوم بچی بیٹھے بیٹھے اچانکل درد سے کراہنے لگتی اور پھر درد کی شدت برداشت نہ کرتے ہوئے تڑپ تڑپ کے رونے لگتی تھی۔ عاشی اسے بہلانے کی بہت کوششیں کرتی، بعض اوقات خود بھی رونے لگ جاتی، خوب اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتی۔ مگر فی الحال بچی کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی تھی۔ اور اب عاشی رمضان کی شدت سے منتظر تھی۔ میں بہت حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی-

"عاشی! کیا تم روزے رکھو گی؟"

"ہاں ناں باجی، ضرور رکھوں گی ان شاء اللہ۔ " عاشی بڑے وثوق سے بولی۔

"مگر تمہارے اتنے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ساس، سسر اور پورے گھر کی ذمہ داری تم پر ہے۔ بچی تمہاری الگ بیمار ہے اور پھر تم اسے فیڈ بھی کراتی ہو، اوپر سے گرمی بھی اتنی شدید ہے، تمہیں کتنی مشکل ہوگی روزہ رکھنے میں؟ دیکھو میرے خیال سے تم رہنے ہی دو اس بار۔ اور تمہیں پتہ ہے نا کہ بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں کو تو ویسے بھی رخصت ہے، وہ چاہیں تو روزہ چھوڑ سکتی ہیں، بعد میں قضا رکھ لیں۔ "

"نہیں نہیں باجی، اللہ نہ کرے میں کیوں روزے چھوڑوں؟ میں ضرور رکھوں گی ان شاء اللہ"

"تمہیں بہت کمزوری ہوجائے گی میری چندا۔ !" میں بڑی لجاجت سے بولی۔

اور وہ زور سے ہنس پڑی، "اجی کمزوری کیسے ہوجائے گی باجی جان؟ افطاری میں بڑا گلاس بھر کے دودھ کا پیوں گی اور ساتھ میں کھجوریں کھاؤں گی اور سحری میں ایک پراٹھا دہی کے پیالے کے ساتھ۔ کمزوری تو قریب بھی نہیں پھٹکے گی جناب!" وہ بڑے یقین سے گویا ہوئی۔ "روزے تو میں نے کبھی بھی نہیں چھوڑے باجی۔ چار بچوں کی پیدائش کی تکلیف برداشت کر لی مگر ایک بھی روزہ خود سے نہیں چھوڑا اور ویسے بھی باجی، زندگی کا کیا بھروسہ اگلی بار رمضان نصیب ہو بھی یا نہیں؟ موت کا کچھ بھروسہ ہے کیا؟" عاشی ایک ٹھنڈی سانس بھر کے بولی۔

"اچھا بھئی تمہاری مرضی ہے، میں تو تمہارے بھلے کے لیے ہی کہہ رہی تھی۔ " میں نے بات ختم کرنا چاہی مگر عاشی کو نہ جانے کیا یاد آگیا۔ اس کی کٹورا سی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور بھیگی آواز میں کہنے لگی "باجی! وہ جو میری دوست تھی نا طیبہ؟ یاد ہے آپ کو؟"

"ہاں ہاں! جس کا انتقال ہوگیا ہے ابھی پچھلے دنوں؟"

"جی باجی وہی، پچھلے سال رمضان میں میری اس سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ روزے نہیں رکھ رہی۔ مجھے دکھ بھی ہوا اور بہت حیرانی بھی۔ میں نے پوچھا طیبہ تم روزے کیوں نہیں رکھ رہیں؟ تو کہنے لگی دیکھو نا گرمی کتنی شدید ہے، سچ مجھ سے تو اتنی گرمی میں روزے نہیں رکھے جاتے۔ بچوں کو بھی سنبھالو، سسرال کی ذمہ داریاں بھی نبھاؤ۔ نہ بھئی، انسان ہوں میں بھی کوئی پتھر تو نہیں۔ اگلے سال رکھوں گی ان شاء اللہ۔ آپ کو پتہ ہے باجی میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانی۔ بس ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی، اگلے سال رکھ لوں گی ناں یار، زندگی پڑی ہے ابھی تو! نماز بھی پابندی سے نہیں پڑھتی تھی اور زیادہ تر وقت اپنا رمضان ٹرانسمیشن کو ثواب سمجھ کر دیکھنے میں لگا دیتی تھی۔ میں نے اسے بہت سمجھایا تھا۔ یہ ثواب نہیں، عذاب کما رہی ہو تم، مگر اس کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا۔ لمبی عمر کی امید میں یونہی وقت برباد کیا اس نے۔ اور دیکھ لیں باجی، رجب کے مہینے میں ہی اس کا انتقال ہوگیا۔ نہ جانے کس حال میں ہوگی، کاش وقت کی قدر کرلیتی۔ رمضان کو اللہ کی فرمانبرداری میں گزار لیتی۔ ہائے میری پیاری سہیلی! اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے" عاشی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اس طرح رونے پر میری بھی آنکھیں بھر آئیں۔ واقعی ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   شیطان کہاں قید ہے بھائی؟ - معصوم رضوی

ہم لوگ جیتے ہیں تو ایسے گویا کبھی مرنا ہی نہیں ہے اور مر کے ایسے خاک میں مل جاتے ہیں جیسے کبھی جیے ہی نہ تھے۔ جو زندگی ہمیں آخرت کی تیاری کے لیے ملی تھی وہ ہم دنیا کے کھیل تماشوں میں لگ کر گزار دیتے ہیں اور جب بلاوہ آتا ہے تو خالی ہاتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ میں بھی ایک ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئی۔

پھر رمضان کی بابرکت گھڑیاں شروع ہوگئیں اور میں رشک سے دیکھتی کہ میری چھوٹی بہن کتنے شوق سے روزے رکھ رہی ہے۔ رمضان کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہونے دیتی تھی۔ ہر وقت اس کی زبان ذکر الٰہی سے تر رہتی۔ کبھی سبحان اللہ، کبھی الحمدللہ، کبھی لا الہ الا اللہ، استغفر اللہ، کبھی قرآنی آیات، کبھی درود شریف۔ ہر وقت اس کی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہتا۔ ساس کسی بات پر خفا ہوکر کچھ کہہ بھی دیتی تو مسکرا دیتی یا پھر دو آنسو نکل کر دوپٹے میں کہیں جذب ہوجاتے۔ میں کہتی عاشی تم ناحق بات کا تو جواب دے دیا کرو، مگر وہ کہتی باجی! "روزہ صرف بھوک پیاس برداشت کرنے کا تو نام نہیں ہے، لوگوں کے منفی رویوں کو برداشت کرنا بھی تو روزے کا حصہ ہے۔ اور پتہ ہے باجی میں جب بھی اللہ کے لیے کچھ برداشت کرتی ہوں نا تو مجھے ایسا لگتا ہے اللہ تعالیٰ آسمانوں پر سے مجھے مخاطب کرکے کہتے ہیں "شاباش میری بندی شاباش"۔ اور میں آپ کو کیا بتاؤں باجی مجھے کتنا سکون ملتا ہے، مجھے ایسا لگتا ہے میں مزید اللہ کے قریب ہوگئی ہوں۔ میں اللہ کے پیارے بندوں میں شامل ہوگئی ہوں۔ "

افطار سے آدھا گھنٹہ پہلے سب تیاری مکمل کرکے دستر خوان پر آبیٹھتی، رو رو کے اللہ کو پکارتی اپنی بچی کی صحت و تندرستی کے لیے دعائیں مانگتی۔ امت مسلمہ کے لیے بھی خوب دعائیں کرتی۔ سحر کے وقت بھی آدھا گھنٹہ پہلے ہی اٹھ جاتی، دو رکعت نماز پڑھتی اور پھر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگنے لگتیں تڑپ تڑپ کے اپنے رب کو پکارتی،،، دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتی۔ اور میں اس کے جذبے اور شوق پر حیران ہو ہو جاتی۔

سسرال کی ذمہ داریاں اپنی جگہ، کبھی ساس بھی زیادتی کرجاتی، گرمی بھی زوروں پر، چھوٹے بچے الگ تنگ کرتے۔ مگر وہ اللہ کی بندی یونہی صبح و شام اپنی مصروفیات میں مگن رہتی۔ ہاں! مگر اس کا رونا بہت بڑھ گیا تھا۔ بچے زیادہ تنگ کرتے تو بھی اللہ سے دعائیں کرنے لگ جاتی۔ اللہ جی میرے بچوں کو میرا فرمانبردار بنا دیجیے۔ ایک دن میں کہنے لگی، عاشی تم کیوں اتنا روتی ہو؟ فکر نہ کرو تمہاری بچی ٹھیک ہوجائے گی ان شاء اللہ۔ بلکہ دیکھو تو سہی مجھے تو پہلے سے بہت بہتر لگ رہی ہے۔ اور عاشی روتی آنکھوں سے مسکرانے لگی، ہاں باجی! مجھے اللہ کی ذات سے پوری امید ہے، میری بچی بالکل ٹھیک ہوجائے گی ان شاء اللہ۔ عاشی میری چندا! پھر تم کیوں اتنا روتی ہو؟

اور وہ بڑے دکھ سے بولی۔ "طیبہ کی موت مجھے رلاتی ہے باجی، کہیں میں بھی اس دنیا سے بغیر تیاری کے نہ چلی جاؤں۔ میں اپنے رب کو منا لینا چاہتی ہوں باجی، بہت زندگی بے پروائی میں گزار دی۔ اب ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ باجی! ایمان والے تو اللہ سے بہت محبت کرتے ہیں نا؟ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے نا قرآن مجید میں والذین آمنوا اشد حب للہ اور ایمان والے تو اللہ سے بڑی شدت کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں باجی، میں بھی تو ایمان والی ہوں نا مجھ پر بھی تو میرے اللہ کا حق ہے نا کہ میں اس سے شدید محبت کروں؟ میں اس کی نافرمانی سے بچوں، میں اس کی فرمانبرداری والے کام کروں اور میں اسے خوب یاد کروں پتہ نہیں باجی مجھے کیوں اللہ جی کو یاد کرکے اتنا رونا آتا ہے۔ باجی، مجھے ایسا لگتا ہے یہ زندگی بہت کم ہے اپنے پیارے رب کا حق ادا کرنے کے لیے۔ نہ جانے کس وقت بلاوا آجائے اور زندگی کا سفر تمام ہوجائے۔ ایسا نہ ہو پھر پچھتاوے ہی ساتھ رہ جائیں۔ زندگی بہت قیمتی شے ہے باجی! یہ دنیا کے دھندوں میں ضائع کرنے کے لیے نہیں ہے اور وہ اپنا سارا فالتو وقت قرآن کی تلاوت میں گزارتی، اتنی مصروفیات کے باوجود بھی چار پارے تو لازمی پڑھ لیتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   وعدۂ سحری اور طوفان - ام حفصہ

"واقعی وہ ان لوگوں میں سے تھی جو رمضان میں نیکیوں کی دوڑ لگا دیتے ہیں۔

نہ ہی زیادہ کسی کے پاس بیٹھتی نہ فضول باتیں کرتی۔ کام کرتے ہوئے بھی کسی عالم دین کا کوئی نہ کوئی بیان ضرور سن رہی ہوتی۔ فون پر بھی زیادہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ اس کا میاں شام کو تھوڑی دیر کے لیے ٹی وی ضرور چلالیتا تھا، اور کمرے میں آتے جاتے اس کی نظر ٹی وی پر پڑ جاتی اور بے دھیانی میں کوئی سین دیکھنے لگ جاتی تو یاد آنے پر فوراً توبہ استغفار کرتی۔

پھر کچن میں پکوڑے تلتے تلتے رونے لگتی، اللہ جی مجھ سے غلطی ہوگئی، مجھے معاف کردیجیے پیارے اللہ۔ مجھے سارے گناہوں سے بچا لیجیے پیارے اللہ، میری کیا اوقات ہے بھلا، آپ ہی تو نیکی کی توفیق اور گناہوں سے بچنے کی قوت عطا فرماتے ہیں۔ مجھ پر کرم کردیجیے پیارے اللہ!

اور میں اس کی محنت پر ششدر رہ جاتی۔ ایسے ہوتے ہیں اللہ کے ولی! گھر داری اور دنیا داری میں گِھر کے بھی اللہ سے وفا کرتے ہیں۔ میں تو سمجھتی تھی اللہ کے ولی دنیا چھوڑ کے کہیں جنگلوں میں رہتے ہوں گےمگر نہیں، میری سوچ غلط تھی۔ اصل ولی تو ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی فرمانبرداری میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں اور جب ذرا سا پھسلتے ہیں تو بے اختیار ہوکے فوراً پلٹ آتے ہیں۔


میں رمضان کا ایک عشرہ اس کے پاس رہی تھی گیارہویں رمضان کو گھر لوٹ آئی۔ مگر مجھے لگتاہے کہ میں اپنا آپ وہیں چھوڑ آئی ہوں، وہ گھر جو اس کی تلاوت اور تسبیحات سے ہر وقت گونجتا تھا۔ کبھی کبھی جنید جمشید کی وہ نظم لگالیا کرتی۔ "الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں" اور سنتے سنتے پھر رو رو کے اللہ کو پکارتی۔ میرے اللہ واقعی میرے دامن میں شرمندگی کے سوا کچھ نہیں، میرے پاس بس یہ ندامت کے آنسو ہیں، انہیں اپنی بارگاہ میں قبول کر لے۔ آمین یا رب العالمین


ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو رمضان کی قدر کرتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں، نیکیاں کرتے ہیں اور اللہ کو راضی کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔

کیا اپنی بے پروائیوں اور غفلتوں کا کوئی عذر ہے ہمارے پاس؟ آخرت کی جوابدہی کا کچھ احساس ہے کہ نہیں؟ ہمارے آس پاس ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں، مگر عبرت کی نگاہ ہی نہیں ہمارے پاس۔

گناہوں سے بچنے کی قوت اور نیک کام کرنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں۔ کچھ نہیں کیا جاتا ہے تو یہ توفیق بھی اللہ ہی سے مانگنی چاہیے، اپنی نااہلی کا دکھڑا بھی اللہ ہی کے سامنے رونا چاہیے۔ لاحول ولا قوة الا باللہ

Comments

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.