سیکولر اور مذہبی تعلیم کے بنیادی تصورات - محمد دین جوہر

تعلیم (Education) اور تعلیم عامہ (Public Instruction) میں کوئی چیز مماثل، مساوی یا متوازی نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں ان کے فرق پر مرتب ہونے والے نتائج کو معلوم کیے بغیر تعلیم پر گفتگو نہ صرف بےسود ہے، بلکہ بد دیانتی کے زمرے میں داخل ہے۔ تعلیم ایک معاشرتی عمل ہے جس کی بنیاد انسان کی اخلاقی آزادی ہے۔ جبکہ تعلیم عامہ ایک تنظیمی اور سرکاری عمل ہے، جس کی بنیاد طاقت اور سرمائے کی ترجیحات اور ان کا جبر ہے۔ اخلاقی اقدار تعلیم کی بنیاد ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ انسانی تشکیل کے وسائل ہیں، لیکن تعلیم عامہ (پبلک انسٹرکشن) کی اقدار خود طاقت اور سرمایہ ہیں، اور یہ تعلیم رزق کے جبر پر شہری کی تخلیق کا پروسث ہے۔ تعلیم مذہبی یا غیرمذہبی ہو سکتی ہے، لیکن تعلیم عامہ میں مذہب کا نصاب بننا طاقت اور سرمائے کے صرف ایجنڈے کے طور پر ممکن ہے۔ تعلیم عامہ اور اس کی توسیع میں طاقت اور سرمائے کی علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں بہت زیادہ فعال ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم عامہ، اس کے تصور اور اس کے ماڈلز نے تعلیم کے ہر متبادل کو نگل لیا ہے، اور معاشرے میں اس کی گنجائش تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

تعلیم عامہ/جدید تعلیم ایک ”نظام“ کے طور پر کیا ہے؟

تعلیم عامہ یا جدید تعلیم ایک طویل سرکاری، تنظیمی اور میکانکی پروسث ہے۔ اس میں اہم ترین یہ امر ہے کہ تعلیم عامہ دو افراد کے مابین واقع ہونے والا پروسث نہیں ہے، بلکہ ریاست کی شرائط تامہ پر یہ فرد اور ریاست کا تعامل ہے۔ یہ پروسث کئی اجزا پر مشتمل ہے۔ اس کا ہر جز تصور اور طریقۂ کار کا مجموعہ ہے، کیونکہ تعلیم عامہ کی ساخت اور اس کے نظری پہلو باہم جڑے ہوتے ہیں۔ تعلیم عامہ کا پراسث سات اجزا یا مراحل پر مشتمل ہے، یعنی:

(۱) فلسفۂ تعلیم یا اصول تعلیم (Principles of Education/ Philosophy of Education/ Principles of the Public Instruction

(۲) کریکیولم (Curriculum

(۳) نصاب یا نصاب سازی (Syllabus/ Syllabus Design

(۴) تدریسیات (Pedagogy/Theories and Practices of Teaching

(۵) آموزش (Learning/ Theories of Learning/ Cognitive Taxonomies of Learning

(۶) امتحان (Examination/ Assessment/ Theories of Assessment)؛ اور

(۷) استناد (Authentication/Authorization

میں ان کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا، لیکن تعلیم عامہ کے یہ تمام اجزا یا مراحل ریاست اور ریاست کے بنائے ہوئے اداروں کی مکمل ذمہ داری اور ان کی پوری سپرداری میں ہیں۔ ریاست ہی تعلیم کی تھیوری اور پریکٹس (اصول اور عمل) متعین کرنے کے وسائل عاریتاً یا کرایتاً اٹھاتی ہے۔ تعلیم عامہ کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس پر ریاست قانون سازی، انتظامی ذرائع اور معاشی وسائل سے براہ راست اثرانداز نہ ہوتی ہو۔ تعلیم عامہ کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو کسی استاد کی ترجیحات یا شاگرد کی ضروریات پر ترتیب دیا گیا ہو۔ تعلیم عامہ کے سب اصول مغرب کی جدید ریاست کے کھنگالے ہوئے اور اس کے سارے مراحل اسی کے ڈھالے ہوئے ہیں۔ ہم حسبِ ضرورت اور حسبِ وسعتِ کشکول وہیں سے ”استفادہ“ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ صورت حال لارڈ میکالے کے وقت سے قائم ہے، کوئی نئی نہیں۔ یہ الگ بات کہ یہ ہمارے شعور کی سرحدوں سے پرے ہے اور اسے ہم ہاتھی کی زیارت پر جانے والے مولانا رومیؒ کے اندھوں کی طرح ہی ”دیکھ“ پاتے ہیں، اور یہ ہاتھی اپنے کل میں ہمیشہ نامعلوم ہی رہا ہے۔

ہمارا متداول نظام نوآبادیاتی دور سے متوارث اور جدید ہے، اور استعماری تعلیم عامہ ہی کے طے کردہ سارے اجزا اور مراحل پر مشتمل ہے۔ مثلاً ہمارے ہاں قومی تعلیمی پالیسی استعماری اور مغربی افکار کا متعفن ترین چربہ ہے۔ قومی سطح پر کارفرما ہمارا اصولِ تعلیم نقالی اور سرقہ ہے جس میں نظریۂ پاکستان کو بطور چیتھڑا ٹانکا گیا ہے۔ تعلیم عامہ کے اصول پر ہمارے ہاں بھی ایک سرکاری اور قومی ”کریکیولم ونگ” پایا جاتا ہے۔ اور اس کریکیولم کی روشنی میں ”نصاب“ بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر سرکاری ادارے کام کرتے ہیں۔ پھر یہ نصاب سرکاری اور بڑی تعداد میں غیر سرکاری سکولوں میں حرفِ آخر کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کارپوریٹ سکولوں میں بھی جو ”غیرملکی نصاب“ پڑھائے جاتے ہیں، وہ بھی کسی جدید مغربی ریاست ہی کی ترجیحات پر بنے ہوتے ہیں۔ پھر ہمارے سکولوں میں بچے جو کچھ سیکھتے ہیں، اس آموزش کے تمام معیارات اور ان کی معنویت کا تعین بھی ریاست ہی کا اختیار ہے۔ بعدہ اس آموزش کا امتحان لینے کی ذمہ داری کا پورا نظام بھی ریاست نے وضع کیا ہے اور اسی کے انصرام و انتظام میں چلتا ہے۔ امتحان کے بعد اس مفروضہ آموزش کا استناد بھی سرکاری اختیار ہے۔ امتحانات درحقیقت اصولِ تعلیم اور کریکیولم میں طے کردہ مقاصد کی حصولیابی یا عدم حصولیابی کے سرکاری تعین کا طریقہ ہے۔ تعلیم عامہ کے اس وسیع و عریض پراسث میں تدریس ہی ایک ایسا مرحلہ ہے جس میں استاد اور سکول ایک نہایت جزوی اور کسری رول ادا کرتا ہے۔ اس گزارش کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ تعلیم عامہ کے وسیع تر سرکاری نظام اور اس کے فکری تناظر کو پیش نطر رکھے بغیر سیکولر اور مذہبی تعلیم کے فرق پر گفتگو کرنا نہ صرف ممکن نہیں بلکہ لغو اور بے معنی ہے، اور محض بددیانتی کی مشق ہے۔

تعلیم عامہ/جدید تعلیم بطور تصور اور عمل

گزارش ہے کہ جدید تعلیم اپنے پورے تصور میں اور پورے عمل میں جو ہیئت رکھتی ہے وہ ایک ہی مقصد اور طریقۂ کار کے تحت ہے۔ یہ مقصد شے (thing/object) کے ساتھ بچے کے ذہن اور نفس کی نسبتوں کو قائم کر کے انہیں ممکنہ حد تک مکمل کر دینا ہے۔ تعلیم عامہ یعنی جدید تعلیم کا بنیادی ترین، اہم ترین اور واحد مقصد ”شے“ ہے۔ خارج از ذہن شے کی ظاہری ہیئت کو سمجھنا، ایک شے کی دوسری اشیا سے ساکن نسبتوں کا تعین کرنا، اور پھر ایک خاص نظری framework میں اشیا کی حرکت اور حرکت اساس نسبتوں کو معلوم کرنا، ذہنِ انسانی اور نفسِ انسانی کی شے سے تجریدی اور میکانکی نسبتوں کو دریافت کر کے مستحکم کرنا، اشیا کی صورتوں اور اصول حرکت پر ان کی تغیر پذیر نسبتوں کو concept کے طور پر ذہن کا مستقل حال بنانا، اور نفسِ انسانی میں شے کی اہمیت اور قدر و قیمت کو مختلف اسالیب سے قائم کرنا جدید تعلیم کا واحد مقصد اور اہم ترین ذمہ داری ہے۔ سائنسی علوم کی تعلیم و تدریس کا واحد مقصد ٹھوس شے اور فطرت کے فریم ورک میں اشیا کی متحرک نسبتیں ہیں۔ شے سے بچے کے ذہن اور نفس کی نسبتوں کو قائم کرنے کا پورا طریقۂ کار ذہن میں تجریدی اور عمل میں میکانکی ہے۔ مکرر یہ کہ جدید تعلیم عامہ کا اصول، طریقۂ کار اور مقصد صرف ایک ہی ہے، اور وہ ہے ”شے“ اور اس کی میکانیات سے بچے کی ذہنی، نفسی اور عملی نسبتوں کو قائم کر کے مکمل کر دینا۔ جدید تعلیم میں سائنس کو مرکزیت حاصل ہے، اور سائنس سے مراد ہے مادی ”شے“ کو ساخت اور حرکیات میں ممکنہ تکمیل تک define کر دینا۔ جدید تعلیم طاقت اور سرمائے کی اقدار پر، سائنس کی معرف کردہ شے سے انسانی ذہن اور عمل کی تمام ممکنہ نسبتوں کو مکمل کر دینے کا پراسث ہے۔ جدید تعلیم کا اصول و عمل میں شے پر یکتائی کے ساتھ منحصر ہو جانا کسی قدر کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتا۔ قدر سے انقطاع اور شے مرکز ہونا جدید تعلیم کو مکمل طور پر سیکولر بنا دیتا ہے۔

جدید سیکولر تعلیم میں شے دو پہلوؤں سے مقصود ہے، اور پورا تعلیمی عمل اسی کے مطابق ڈھالا گیا ہے، یعنی شے اپنی صورت اور ساخت میں، اور شے اپنے پورے نظام حرکت کے ساتھ، یعنی شے مکاں میں اور شے زماں میں اس کا واحد فوکس ہے۔ جدید تعلیم میں concept بہت اہم ہے اور conceptual ہونا ایک بہت بڑی خوبی اور ذہین طلبا کا خاصہ شمار کیا جاتا ہے۔ concept ذہن میں پیدا ہونے والا کوئی ساکت تصویری خاکہ نہیں ہے، بلکہ یہ مادی تناظر میں شے کو اپنی ساخت اور حرکت میں بیک وقت دیکھنے کا نام ہے۔ concept متحرک ہوتا ہے اور انسانی ذہن کو مشینی اصول پر تشکیل دینے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نصابی کتاب، تنظیمی منہج اور لیبارٹری اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ہیں، تاکہ لفظ، عدد، اور عمل مکمل طور پر شے سے متعلق، تابع اور اس سے چپک جائے۔ جدید تعلیمی پراسث میں concept کی تشکیل کے لیے ٹھوس شے، تصویر اور عملی کام حد درجہ ضروری ہوتے ہیں تاکہ شے اپنی خَردلی جزیات کے ساتھ ذہن میں استحضار مکمل کر لے۔ جدید تعلیم شے کی ساخت اور اس کی حرکیات پر اس قدر زور دیتی ہے کہ انسانی ذہن خود ایک مشین کی طرح متحرک اور میکانکی چیز بن جاتا ہے۔ شے، صورتِ شے اور حرکت شے دنیا ہے، اور جدید تعلیم اپنے ہر پہلو میں اسی دنیا تک محدود اور اسی کے طواف میں ہے۔

جیسا کہ عرض کیا کہ جدید تعلیمی نظام میں شے اور اس کی حرکیات کو مرکزیت حاصل ہے۔ یہی پہلو آگے چل کر جدید معاشروں کو مشین کا ثمر عطا کرتا ہے۔ مشین سیاسی، معاشی، معاشرتی اور علمی لحاظ سے سرمائے اور قوت کی علامت ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو جدید تعلیم کو معاشروں کی ترقی اور بقا کے ساتھ براہ راست متعلق کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں اسلامی، غیر اسلامی کی بحث جدید تعلیمی پراسث سے مکمل بے خبری میں واقع ہوتی ہے، اور جدید تعلیمی عمل سے شرمناک حد تک غیرمتعلق ہے۔ جدید تعلیم سے دستبرداری غلامی اور موت ہے، اور اختیار کرنے کا لازمی نتیجہ سیکولر ہونا ہے۔ آج کے دور میں جو چیزیں معاشروں میں مادی ترقی اور عسکری قوت کا مدار ہیں، وہ اسی جدید تعلیم سے نہ صرف حاصل ہوتی ہیں بلکہ اس کا واحد مقصد بھی ہیں، اور یہ فوکس اس قدر جامع، شدید اور وحدانی ہے کہ اقدار اور انسانی رشتے تعلیمی عمل سے از خود خارج ہو جاتے ہیں۔

ایک حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے کہ رأس الخطیئۃ دنیا اور اس کی محبت ہے اور رأس الحسنۃ دنیا سے لاتعلقی ہے۔ دنیا کا ظاہر مادی اشیا کا مجموعہ ہے، اور دنیا کا باطن مادے کے قوانین حرکت ہیں۔ جدید تعلیم انسانی باطن کو بھی شے اور اس کے اصول حرکت پر تشکیل دیتی ہے۔ جدید دنیا میں معاشی اور سیاسی قوت کا منبع یہی شے مرکز تعلیم ہے۔ جدید تعلیم میں شے کی مرکزیت کو تصویر کے بغیر قائم کرنا ممکن نہیں ہے۔ جدید تعلیم میں شے اور تصویرِ شے بیک آن ہے، اور اس عمل میں انسان بھی اندر سے صد اجزائی متحرک تصویر بن جاتا ہے۔ اس امر کا امکان ہے کہ بھینس اور بین میں کوئی نسبتیں قائم کی جا سکیں لیکن جدید تعلیم میں شے اور تصویر پر ڈھلے ہوئے انسان اور دینی اقدار میں نسبتیں پیدا کرنا محال کے زمرے میں ہے۔ جدید تعلیم میں متن، تدریس اور لیبارٹری شے اور تصویر شے کے گرد مستقل گردش اور بطون شے میں سفر کے ذرائع ہیں۔ جدید تعلیم بچے کو نظری اور عملی طور پر عالم صورت تک محدود کرنے کا نام ہے، جبکہ مسلمان ہونے کا معنی ہی عالم صورت کو غیب کے آئینے میں دیکھنا ہے۔ مذہبی اعتبار سے تصویر کی حرمت معلوم ہے، لیکن جدید تعلیم نام ہی شے اور تصویرِ شے کا ہے۔ ہمیں اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ شے، صورت شے اور حرکیات شے پر دسترس کے بغیر سرمائے اور سیاسی طاقت کے وسائل تک رسائی کیونکر ممکن ہو سکتی ہے؟ اس پس منظر میں اب یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ مذہبی تعلیم کیا ہے اور اس کے مطالبات کیا ہیں؟

بنیادی سوال

میرا مقصد یہی سوال اٹھانا ہے کہ مذہبی اور سیکولر تعلیم میں کیا فرق ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے؟ اگر سیکولر اور مذہبی کا فرق معلوم بھی ہو جائے، اور اس کے عملی افادات ممکن نہ ہوں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ فلسفہ آرائی ایک بےسود چیز ہے۔ لیکن افسوس کہ اس مضمون کی حد تک میں صرف فرق ہی کو زیر بحث لا سکتا ہوں۔ ضروری امر یہ ہے کہ اولاً سیکولر اور مذہبی تعلیم کے فرق کو بنیاد میں سمجھا جائے۔

مذہبی تعلیم کے دو بنیادی مطالبات

جدید تعلیم از اول تا آخر شے سے تعلق کا نظام ہے۔ بطور مسلمان ہمیں تعلیم سے دو چیزیں مزید مطلوب ہیں۔ لیکن یہ دو چیزیں اضافے کے طور پر نہیں بلکہ بنیاد کے طور پر مطلوب ہیں۔ اور یہ دو چیزیں ہیں ”لفظ سے تعلق“ اور ”ذات سے تعلق“۔ مادی انسان کی تشکیل کا سانچہ شے ہے، اور مذہبی انسان کی تشکیل کا سانچہ لفط اور ذات ہے۔ یہ امر بدیہی ہے کہ تعلیم میں لفظ کو مرکزیت دیے بغیر انسانی شعور میں وحی کی مرکزیت کو باقی نہیں رکھا جا سکتا۔ اور تعلیم کو ذات سے غیرمتعلق اور impersonal بنا کر کسی انسانی رشتے یا اللہ اور اللہ کے رسول ؐ سے تعلق کا کوئی تصور بھی بچے میں پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تعلیمی پراسث میں بچے کا ذہن اور نفس شے میں پورے کا پورا کھپ جائے، لفظ محض دھڑ کے طور پر باقی رہے، اور پورا تعلیمی عمل impersonal ہو جائے تو مذہبی آدمی کی تشکیل کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔

جدید تعلیمی پراسث میں لفظ، شے کے نہ صرف تابع ہے بلکہ لفظ ایک طویل تعلیمی ڈرل سے گزرنے کے بعد شے میں پورے کا پورا کھپ جاتا ہے۔ جدید تعلیم میں لفظ شے سے فزوں تر کچھ نہیں ہے۔ جدید تعلیم میں لفظ، شے کا فضلہ ہے۔ جدید تعلیم لفظ کو پَر بریدہ بنا کر شے کے تابع کر دیتی ہے۔ جدید تعلیم کا ڈھالا ہوا لفظ زمان و مکاں کے پنجرے سے باہر پرواز کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جدید تعلیم میں لفظ کو precision کا رندہ اس وقت تک لگایا جاتا ہے جب تک وہ بالکل مقداری اور میکانکی نہیں بن جاتا۔ مادی شے ادھوری اور نامکمل ہے کیونکہ زمان و مکاں میں مقید ہے، شعور انسانی سے نام/تعریف کی محتاج ہے اور خود اپنا تعارف نہیں ہے۔ لفظ ایک مکمل شے ہے، کیونکہ خود اپنا تعارف ہے اور معنی کا محتوی ہے۔ لفظ کی پوری وجودیات اس کا زمان و مکاں کی دیوار کا چھید ہونا ہے، لیکن جدید تعلیم لفظ کو اس دیوار کی پپڑی بنا دیتی ہے۔ جدید تعلیم لفظ کو شے کی شرائط پر ازسرنو تعمیر کرتی ہے، جبکہ مذہبی ہونے کا مطلب شے کو لفظ کی شرائط پر دیکھنا ہے۔ جدید تعلیم نے شے کی قدرافزائی اور لفظ کی رسوائی کو ایک پورے نظام کی شکل دی ہے۔ ہمارے بے خبر لوگوں نے رومیؒ کے اندھوں کی طرح ہاتھی کی دم پکڑی ہوئی ہے اور نصاب نصاب کا شور مچا رہے ہیں، حالانکہ ”عقبی حاصلات“ میں دفن ہونے کو ہیں۔

جیسا کہ عرض کیا کہ جدید تعلیم شے مرکز اور impersonal ہے، اس لیے اس میں انسانی رشتوں کے تصور کو دیکھ لینا بھی ضروری ہے۔ تعلیم عامہ یا جدید تعلیم ایک تنظیمی پروسث ہے۔ ہر تنظیمی ساخت صرف دو سوالوں کے جواب میں قائم ہوتی ہے۔ تنظیمی عمل کا مقصد کیا ہو گا؟ اور یہ مقصد صرف ضرورت ہے۔ تنظیم میں کارفرما عمل کا سانچہ کیا ہو گا؟ اور یہ صرف جبری ہے۔ تنظیمی عمل کے یہ دونوں پہلو ہر اس عمل کی عین ضد ہیں جسے مذہبی عمل کہا جا سکتا ہے۔ ہر انسانی عمل رشتوں کے نظام کا حصہ ہوتا ہے۔ مذہبی تناظر میں انسانی رشتہ انسان کی اخلاقی آٹونومی کا اظہار ہے۔ تنظیم میں انسانی رشتہ ضرورت اور جبر کی ایک نئی تقویم پر قائم ہوتا ہے۔ یعنی ہر تنظیم طاقت/اتھارٹی پر قائم کیے گئے مصنوعی اور ضرورت کے رشتوں کی ایک ساخت ہے۔ اسی طرح ہر تنظیمی عمل صرف میکانکی عمل کی انجام دہی ہے، یعنی تنظیمی عمل اخلاقی، غیراخلاقی، حلال، حرام وغیرہ نہیں ہوتا۔ یہ قانونی، غیرقانونی، اصولی، غیراصولی، ڈسپلن کا حامل یا عدم حامل ہوتا ہے۔ میکانکی عمل سے مراد یہ ہے کہ اس کے نتائج مقداری اور قابل پیمائش ہوتے ہیں۔ ہر جدید تنظیم یا آرگنائزیشن ایک خاص اصولِ طاقت اور ایک خاص اصولِ پیداوار پر بنائی جاتی ہے جس سے مکارم الاخلاق یا کوئی بھی مذہبی قدر بنیاد ہی میں خارج ہوتی ہے۔ تنظیم انسان کی فطری استعداد تعلق کی فنا پر استوار ہوتی ہے۔ ہر تنظیم میں فرد ایک پیداواری عامل کے طور کام کرتا ہے، اور وہ کسی اخلاقی وجود کا حامل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیم نے استاد کو ایک facilitator بنا دیا ہے، اور جو انسانی تعلق کی فنا کا حتمی اظہار ہے۔ جدید تعلیم میں لفظ کی بازیافت کے ساتھ ساتھ استاد کی اخلاقی بحالی کے بغیر کسی دینی مقصد کی تلاش عبث ہے۔ جدید تنظیم کو جبر کی بجائے استاد کی اخلاقی autonomy کے ساتھ دوبارہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

آخر میں جدید تعلیم کے ایک ایسے پہلو کی طرف ضمناً اشارہ کرنا ضروری ہے جو آج کی دنیا میں دہشت گردی کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ جدید تعلیم میں شے سے تعامل کا منہج بچے کی فطرت ثانیہ بن کر اس کے ہر عمل میں سرایت کر جاتا ہے۔ شے سے تعامل کا منہج اپنی تاثیرات میں nihilistic ہے، کیونکہ شے سے آلاتی تعامل کی وجودیات nihilism ہے۔ اس میں خطرناک پہلو یہ ہے کہ جدید تعلیم میں ڈھلا ہوا آدمی جب دینی اقدار و احکام سے شے کی منہج پر تعامل کرتا ہے، تو اقدار و احکام سے اس کا تعلق بھی آلاتی ہی رہتا ہے۔ ”آلاتی“ سے مراد یہ ہے کہ اقدار و احکام اس کی نفسی تعمیر اور اس کے عمل کی تشکیل کے وسائل نہیں بن پاتے، بلکہ اس کے احوال و اعمال کی جواز سازی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ nihilism جدید تعلیم کی پوری وجودیات ہے، اور اس میں رہتے ہوئے ایسی میکانکی شخصیت کی تعمیر ہی ممکن ہے جو سسٹم میں جگہ پا کر مفید ہو سکے۔ میکانکی شخصیت کسی ایسے autonomous انسانی عمل کے قابل نہیں ہوتی جو اخلاقی بھی ہو۔ مذہبی اقدار و احکام سے تعلق میکانکی شخصیت کے داخلی nihilism کو تبدیل کیے بغیر اس کے اظہار کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور ان کی جوازسازی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ میکانکی شخصیت اور مذہبیت کا ایک اظہار دہشت گردی ہے۔ جدید تعلیم کی وجودیات سے مکمل بے خبری ہی جدید دانشوروں کو دہشت گردی اور مذہبی تعلیم میں فکری تلازمات فراہم کرتی ہے جو مکمل طور پر جعلی ہیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جناب محمد دین جوہر صاحب کی تحریریں گہرائی اور گیرائی کا حامل ہوتی ہیں ،۔جدید مغرب ، استعمار ، استشراق ، جدیدیت ، ظاہریت ، سیکولرزم ، لبرلزم ان کے مضامین کے کلیدی الفاظ (key words) ہوتے ہیں ، استاذ ِ محترم رشید ارشد صاحب کی بات یاد آتی ہے کہ دین کا عالم صحیح معنوں میں وہ ہوتا ہے جو نصوص (قرآن و سنت) کے ساتھ ساتھ اپنے دور اور اس کے پیش و عقب سے بھی اچھی طرح وقف ہو ،ان کا ہر مضمون فکر انگیز(thought provoking) ہوتا ہے اور شعور و آگہی کا ایک نیا روژن کھولتا ہے۔ تفہیمِ مغرب سے دلچسپی رکھنے والے اردو دان طبقہ کو ان کی تحریروں سے بے نیاز نہیں ہونا چاہیے۔( اللھم ارنا الحق حقا و ارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا و ارزقنا جتنابہ)