منظور پشتین کا قضیہ - فاروق اعظم

پاکستان میں تحریکوں کا اٹھنا انوکھی بات نہیں۔ ماضی میں بہت سی تحریکیں منظر عام پر آئیں، کچھ معدوم ہوگئیں اور بعض اپنی حیثیت منوا گئیں۔ ان دنوں پشتون تحفظ موومنٹ ابھر کر سامنے آئی ہے، جس کے روح رواں جنوبی وزیرستان کا محسود نوجوان منظور پشتین ہیں۔ منظور اس سے قبل علاقائی سطح پر سرگرم تھے۔ کراچی میں نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد بننے والی صورت حال نے ان کی تحریک کو نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی متعارف کرا دیا۔ پشتون تحفظ موومنٹ اپنے جلسوں کے ذریعے جن مطالبات کو دہرا رہی ہے ان میں لاپتہ افراد اور ماورائے قانون قتل کے معاملات سرفہرست ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے ’ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیئشن کمیشن‘ یعنی ’حقائق اور مفاہمتی کمیشن‘ کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔

جہاں تک منظور پشتین کے مطالبات کی بات ہے تو یہ قابل غور ہیں۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’منظور پشتین کے بعض مطالبات جائز ہیں اور ان کے تمام جائز مطالبات آئین اور قانون کی روشنی میں حل کیے جا رہے ہیں‘‘۔ تاہم ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں جو نعرے بلند کیے جا رہے ہیں اور جس طرح ایک خاص سمت میں ریاستی اداروں کو مطعون کیا جا رہا ہے، وہ بھی قابل توجہ ہے۔ اسی نکتے کے سبب ہی بعض مخصوص فکر کے حامل حلقے، جن کا پشتونوں یا ان کی اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں، تاہم وہ ان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک بانی ایم کیو ایم بھی ہیں، جنہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں منظور پشتین کے کراچی جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے کارکنان کو ہدایات دیں۔ حالاں کہ بانی ایم کیو ایم کا کردار کسی سے مخفی نہیں کہ ماضی میں ان کی تنظیم نے کراچی میں پشتونوں کا کس طرح جانی و مالی نقصان کیا۔ بدقسمتی سے مذکورہ حلقوں کا وتیرہ رہا ہے کہ یہ صرف ریاستی اداروں پر ہی نہیں بلکہ ریاست کے وجود پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ یہی و جہ ہے کہ بعض حلقے منظور پشتین کی تحریک کو شک کی نظر سے دیکھتے ہوئے انہیں بیرونی ایجنڈے کے زیر سایہ سمجھتے ہیں۔ دراصل یہ عام تاثر بن چکا ہے کہ جو شخص یا گروہ ریاست یا اس کے اداروں پر تنقید کرے، اسے بیرونی امداد پر پلنے کا طعنہ ملتا ہے۔ اسی طرح جو شخص ریاست یا اس کے اداروں کی حمایت میں بات کرے، اسے بوٹ پالشیا کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ بوٹ پالشیا کون ہے یا بیرونی ایجنڈے پر کون عمل پیرا ہے؟ پوشیدہ باتیں وقت کے ساتھ خود ہی ظاہر ہوجائیں گی، ہم یہاں ظاہری امور کو زیر بحث لاتے ہیں۔

واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے ردعمل کے نتیجے میں جنم لیا۔ بالکل ویسے ہی جس طرح فاٹا میں ٹی ٹی پی نے جنم لیا تھا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکی مطالبے پر وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا آغاز کیا تو ردعمل میں فورسز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی جھڑپیں ردعمل کا نتیجہ تھیں، اس وقت منظر نامے پر تحریک طالبان پاکستان کا نام کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ لال مسجد اور سوات آپریشن کے بعد ٹی ٹی پی ایک قوت کے طور پر سامنے آئی۔ ہمیں یہ سمجھنے میں دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ کسی بھی قوت کو امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان حالات میں دشمن کا دشمن دوست بن جاتا ہے۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا، ان کو امداد بھی ملی اور افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں بھی۔ اس کے بعد فاٹا سمیت ملک بھر میں جو خونی کھیل کھیلا گیا اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں، وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

اسی طرح منظور پشتین کی تحریک فاٹا کے سخت حالات کی وجہ سے ردعمل میں ابھری اور وقت کے ساتھ اس کی قوت میں اضافہ ہوا۔ یہاں قابل غور پہلو یہ ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں یا ان کی سوشل میڈیا مہم میں مغرب زدہ این جی اوز کیا کر رہی ہیں؟ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ان مخصوص حلقوں کی موم بتیاں بھی خاص مواقع پر روشن ہوتی ہیں۔ جب فاٹا میں ڈرون طیارے پشتونوں کا خون کر رہے تھے، تب موم بتی مافیا نے ایک موم بتی بھی روشن نہیں کی۔ لیکن اب جب غصیلے نوجوانوں نے بعض قابل اعتراض نعرے بلند کیے تو ان مخصوص حلقوں کو بھی پشتونوں کی فکر لاحق ہوگئی۔ نجانے یہ صورت حال دیکھ کر کیوں یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ کہیں ستر کی دہائی کی تاریخ دہرائی تو نہیں جا رہی۔ اس وقت بھی حقوق کے نام پر ’’پختون زلمے‘‘ کو متحرک کیا گیا اور صوبے بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہاں تک کے پشاور یونی ورسٹی میں سینئر صوبائی وزیر حیات محمد خان شیرپاؤ کا قتل بھی پختون زلمے کے ہاتھوں ہوا۔ تفصیلی ذکر جمعہ خان صوفی کی کتاب ’’فریب نا تمام‘‘ میں ملتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی ستّر سالہ تاریخ میں قومیت یا لسانیت کی بنیاد پر جتنی بھی تحریکیں اٹھیں، وہ بیرونی امداد کے بغیر چل نہیں سکیں۔ جمعہ خان صوفی نے نیپ اور پختون زلمے کے علاوہ بلوچ محاذ کا بھی تفصیلاً ذکر کیا ہے کہ کس طرح انہیں مالی امداد، تربیت اور پناہ گاہیں فراہم کی گئیں۔ اسی طرح جی ایم سید کی سندھو دیش تحریک کا بھی مختصر ذکر موجود ہے کہ انہوں نے افغان صدر داؤد خان سے مدد کی اپیل کی اور بھارت سے روابط کے لیے افغان سرزمین کا استعمال کیا گیا اور کابل میں ان کی میزبانی کی گئی۔ اس کے علاوہ کراچی میں مہاجروں کے حقوق کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا، وہ کھلی کتاب کی مانند ہے۔

مذکورہ بحث کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں یک طرفہ رائے قائم کر رہا ہوں۔ تاہم یہ اندیشہ ضرور ہے کہ منظور پشتین کی تحریک سے جو حلقے خود کو منسلک کر رہے ہیں وہ اسے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ویسے ہی جس طرح ماضی میں پشتونوں کو استعمال کیا گیا۔ لہٰذا ان حالات میں چہار اطراف کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت کے ساتھ بات چیت کا عمل ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہیے۔ بلا شبہ جمہوری معاشرے میں احتجاج ہر کسی کا حق ہے، تاہم یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ خیر خواہی کا بھرم رکھنے والے حلقے تعاون کے نام پر پشتون تحفظ موومنٹ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرلیں اور عوام کو اس وقت خبر ہو جب ’’فریب نا تمام‘‘ کا دوسرا ورژن مارکیٹ کی زینت بن جائے۔