نامنظور نامنظور – احسان کوہاٹی

جاوید بھائی سے بات کرنے کے بعد سیلانی مسکرا دیا۔ اسے پرانا وقت یاد آگیا جب کراچی میں نامعلوم افراد کا طوطی بولتا تھا۔ کسی اخبار میں ہمت نہ تھی کہ وہ ان کی جانب اشارہ بھی کرسکے۔ قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری پر تنخواہیں وصولنے والے بھی چپ رہتے تھے اور آزادئ صحافت کے نام پر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ایوارڈ لینے والوں کی زبان پر بھی کسی کا نام نہ آتا تھا، پر جاننے والے جانتے تھے کہ یہ نامعلوم افراد ایم کیو ایم کے کس سیکٹر آفس سے نکلتے ہیں اور کارروائی کے بعد کہاں جا کر آرام کرتے ہیں؟ لیکن نام لینے کی کسی میں ہمت نہ تھی، سوائے کراچی کے ایک گنجان آباد علاقے نامکو سینٹر نامی عمارت سے شائع ہونے والے ایک اخبار کی، جسے دھونس دھاندلی سے دبایا جا سکا، نہ اس کے کارکنوں کو گولی اور گالی سے ڈرایا جا سکا۔

کم وسائل سے نکلنے والا یہ اخبار ایک شہید کا خواب تھا، اس شہید کا جس نے ہمیشہ نامعلوم دہشت گردوں کے نام، پتے اور کوائف چھاپے۔ ہفت روزہ تکبیر صلاح الدین شہید صاحب کی ادارت میں نکلتا تھا اور اس طرح نکلتا تھا کہ نامعلوم افراد کے سینوں پر مونگ دلتا جاتا تھا۔ کوئی ترغیب، تحریص و لالچ صلاح الدین صاحب کو پیچھے نہ ہٹا سکی، جس کے بعد ڈرانے دھمکانے کی باری آئی۔ نامعلوم افراد ان کی گاڑی کے پیچھے مقناطیس بن گئے۔ یہ گھر سے نکلتے تو اجنبی چہروں کو سامنے پاتے، گاڑی اسٹارٹ کرتے تو کئی موٹرسائکلیں اسٹارٹ ہو جاتیں۔ انہیں پورے ’’پروٹوکول‘‘ کے ساتھ دفتر لے جایا جاتا۔ راستے میں پتلونوں میں اڑسے ہوئے پستول، ٹی ٹی اور ماؤزر بھی دکھائے جاتے اور کچھ کہے بنا بہت کچھ کہہ کر یہ نامعلوم افراد غائب ہوجاتے۔ رات جب صلاح الدین صاحب گھر کے لیے روانہ ہوتے تو ان کی گاڑی کے ساتھ بہت سی موٹرسائکلیں حرکت میں آجاتیں اور انہیں اسی طرح پورے پروٹوکول کے ساتھ گھر پہنچایا جاتا۔ اس مشق کا صلاح الدین صاحب پر اثر یہ پڑا کہ قاتلوں، بھتہ خوروں کے لیے ان کی زبان اور سخت ہوگئی۔ ایم کیو ایم کی یہ چال ناکام ہوئی تو ’’بھائی‘‘ نے تلملا کر حکم دیا کہ تکبیر کراچی کے کسی چھاپہ خانہ سے چھپ کر نہ نکلے۔ کہتے ہیں صلاح الدین صاحب، روزنامہ امت کے موجودہ چیف ایڈیٹر رفیق افغان جو اس وقت تکبیر کے سینئر رپورٹر تھے اور دیگر ساتھیوں نے پورا زور لگا لیا، اردو زبان کے سب سے بڑے روزنامے کے ایڈیٹر سے بات کی کہ پرچہ چھپوانا ہے، مشین پر لگا دیں، انہوں نے ہاتھ جوڑ کر معذرت کرلی کہ پہلے ہی اس حوالے سے ہدایت آچکی ہے، میں یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس کے بعد جس پرنٹر سے بھی بات کی جاتی وہ کان پکڑ کر ایک طرف ہوجاتا۔ انگریزی زبان کے سب سے بڑے اخبار کے مالکان بھی ان نامعلوم افراد سے تنگ تھے، ڈھکے چھپے لفظوں میں کبھی کبھار ان کے خلاف بھی خبر چھاپ دیتے لیکن کھل کر سامنے آنے کی ہمت نہ تھی۔ اس بڑے گروپ سے تکبیر کی اشاعت کی بات کی گئی تو انہوں نے بادل نخواستہ حامی بھر لی جس کے بعد تکبیر کی کاپی اس انگریزی اخبار کے پرنٹنگ پریس پہنچائی گئی اور ابھی پرنٹنگ مشین چلی ہی تھی کہ چھاپے خانے کا فون بجنے لگا۔ ہدایت آ گئی کہ مشین روک دی جائے اور مشین روک دی گئی۔ اس کے بعد صلاح الدین شہید اور ان کی ٹیم کے پاس کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ ’’بھائی‘‘ سے ان کی شرائط پر مذاکرات کر تے اور تکبیر کو چھاپہ خانے سے نکال کر ہاکروں کی سائیکل تک پہنچانا ممکن بناتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا صلاح الدین شہید صاحب نے یہ چیلنج قبول کیا۔ انہوں نے مجیب الرحمان شامی صاحب سے فون پر بات کی۔ ان کا ہفت روزہ زندگی لاہور سے شائع ہوتا تھا، اب تکبیر کی کاپی ریل گاڑی کے ذریعے لاہور چھپنے جاتی اور وہاں سے چھپ کر آتی اک عرصہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ صلاح الدین صاحب کا گھر جلادیا گیا لیکن ان کا عزم راکھ نہ ہوسکا۔ ان کی زندگی چھین لی گئی لیکن سچ کا بے خوف سفر تکبیر کے ساتھ ساتھ امت کی صورت میں بھی جاری رہا یہاں تک کہ نامعلوم افراد سب کے لیے معلوم ہوگئے۔ وہ اخبار جو ایم کیو ایم کے خلاف ایک کالم کی خبر چھاپنے کی ہمت نہ رکھتے تھے، آج شہ سرخیاں بھی لگا رہے ہیں تو یہ ’’امت‘‘ کی ان قربانیوں کا ہی ثمر ہے۔

جاوید صاحب روزنامہ امت کے سرکولیشن مینیجر ہیں۔ رات گئے جب رپورٹر ہاتھ جھاڑ کر گھر کا رخ کرتے ہیں تو تب یہ گھر سے پرنٹنگ پریس کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو ان کا کام شروع ہی اس وقت ہوتا ہے۔ اخبار چھپنے کے بعد اسے نیوز ایجنٹ اور پھر ہاکروں کے ہاتھوں میں دے کر ہی فارغ ہوتے ہیں۔ ان کی بڑی ذمہ داری ’’امت‘‘ کو بروقت قاری کے ہاتھوں میں پہنچانے کی ہے۔ ایسا نہ ہو تو ان تک شکایات پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ سولہ مئی کو بھی ایسا ہی ہوا جب انہیں ہاکروں کے فون آنا شروع ہوئے۔ قیوم آباد سے ایک ہاکر نے بتایا کہ کچھ افراد نے اس سے مارپیٹ کی اور امت خبار کا بنڈل چھین کر آگ لگا دی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ امت، منظور پشتین کے خلاف ’’بکواس ‘‘چھاپتا ہے، خبریں شائع کرتا ہے، دوبارہ امت لے کر یہاں آئے تو چھوڑیں گے نہیں۔

اختر کالونی، اورنگی ٹاؤن، منگھوپیر اور سرجانی ٹاؤن میں بھی ہاکروں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ سرجانی ٹاؤن کے ہاکر کو یہ کہہ کر چھوڑا گیا کہ تم اپنے پشتون بھائی ہو، اس لیے چھوڑ رہے ہیں لیکن دوبارہ ایسا کیا تو ہم سے برا کوئی نہ ہوگا۔ سیلانی کو یہ سب جان کر زیادہ حیرت نہیں ہوئی منظور محسود جس تیز رفتاری سے ایک مخصوص جذباتی فضا میں محسود تحفظ موومنٹ سے پشتون تحفظ موومنٹ کا سفر کرکے منظور پشتین ہوا ہے اس میں یہ سب کچھ تو ہونا ہی تھا۔ لاپتہ افراد اور قبائلی پشتونوں کی محرومیوں کے نعروں کے ساتھ پشتونیت کے پرچم لہرائے جانے لگے تو قوم پرست پشتون اس نئی آواز کی جانب متوجہ ہوئے بنا نہ رہ سکے۔ وہ اس جانب متوجہ ہوئے توسیکولر ازم اور سول سوسائٹی کے کھلے ڈھلے لوگ بھی چونک پڑے۔ اس خطے میں سیکولر ازم اور کمیونزم کے لیے قوم پرستی نے ہمیشہ زرخیز مٹی کا کام کیا ہے۔ انہیں منظور کی نظر میں ایک نیا موقع نظر آیا اور پھر منظور پشتین بھی ’’سرخ سویرا‘‘ والوں کا منظور نظر ہو گیا۔ روس کے حصے بخرے ہونے کے بعد آوارہ گردی کرنے والے نظریاتی یتیموں نے پشتون تحفظ موومنٹ میں نیا مورچہ بنا لیا ہے۔ اس مورچے میں جو پاکستان کو جتنی بڑی گالی دے، پاک فوج کے لیے جتنا گندا کلمہ کہے اور پنجاب کے لیے جتنی زیادہ نفرت کا اظہار کرے وہ اتنا ہی ’’نر پشتون‘‘ کہلاتا ہے۔ انہیں پاکستان کے پرچم سے خاص چڑ ہے۔ ان کے جلسوں میں پاکستانی پرچم دکھائی نہیں دیتا۔ کراچی کے جلسے میں بھی یہی صورتحال رہی سہراب گوٹھ پر آنے والوں میں سے کسی کے ہاتھ میں قومی پرچم نہیں تھا۔

منظور پشتین کے دائیں بائیں رہنے والے کہتے ہیں کہ منظور کے جلسوں میں بولی جانے والی زبان تلخیوں اور محرومیوں کا نتیجہ ہے، یہ تلخیاں دور کی جانی چاہیئں۔ وہ کہتے ہیں کہ خادم حسین رضوی سے بات ہوسکتی ہے تو منظور پشتین کی بات کیوں نہیں سنی جاتی؟ سیلانی ان کا یہ مطالبہ لے کر ادھر ادھر بھاگتا پھرا بالآخر ایک باخبر دوست نے کہا کہ ان سے پوچھیں حاجی شاہ جی گل آفریدی کو جانتے ہیں؟ پی ٹی آئی کے شاہ فرمان سے ملاقات ہے؟ ان کے توسط سے حیات آباد فیز ۳ پشاور میں دس اور سولہ مئی کو جرگے رکھے گئے تھے، منظور پشتین کیوں نہیں پہنچا؟ وہ جرگے میں بیٹھنے سے، بات چیت کرنے سے کیوں کتراتا ہے؟ بات چیت رابطوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے لیکن ساتھ میں نفرت اور دشنام طرازی بھی جاری ہے۔ دراصل یہ چاہتے ہیں کہ طیش دلایا جائے ان کے ساتھ مارپیٹ ہو گرفتاریاں ہوں تاکہ انٹرنیشنل میڈیا کو ہیڈلائنز مل جائیں۔

انٹرنیٹ پر منظور پشتین کی بہت سی معنی خیز تصاویر گردش میں ہیں۔ عظیم پشتونستان کے جھنڈے والی تصویر کے بعد کچھ نہ سمجھنے کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ پے درپے افغانستان یاترائیں اور مخصوص ملاقاتوں کا احوال بھی بہت کچھ بتا رہا ہے لیکن سیلانی بنا تنظیم کے اس تحریک کو تیزی سے پرتشدد راہ کی طرف بڑھتا دیکھ کر متفکر ہے۔ جلسوں میں آگ لگاتے خطبات، جذباتی تقاریر اورمحرومیوں، شکایتوں میں گندھے نوحوں سے ہپناٹائزم کا کام لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پشتون نوجوان تو ویسے بھی جذباتی خمیر رکھتے ہیں، یہ تحریک اگر اسی رخ پر آگے بڑھتی رہی تو ہمارے دشمنوں کی باچھیں کھل آئیں گی، ان کی مرادیں بر آئیں گی۔ بدقسمتی سے ایسا ہوتا ہی لگ رہا ہے جس تحریک سے جڑے لوگ اختلاف رائے برداشت نہیں کرسکتے، جھٹ سے دیاسلائی نکال لیتے ہیں، انہیں ’’نامعلوموں ‘‘ اور کن کٹوں کی راہ پر ڈالنا کیا مشکل ہوگا؟ لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ 80ء کی دہائی نہیں، بندہ ایکسپوز ہونے میں 80 سیکنڈ بھی نہیں لگتے۔ منظور پشتین کو بھی سوچنا ہوگا وہ اب آگ بجھا نہیں رہا، بھڑکا رہا ہے۔ وہ فائر فائٹروں کو پٹرول دے رہا ہے، اس نے جائز شکایات سے ناجائز مطالبات تراش لیے ہیں۔ سب سے عجیب اتفاق بات اس تحریک کی ایم کیو ایم سے یکسانیت ہے، شکایات، شکوے، محرومیاں اور لہجے کی تلخی اور گرمی! یہ سب طور طریقہ تو وہی ’’بھائی‘‘ والا ہے، کیا اب ہم ایک اور بھائی کو سنا کریں گے؟ سیلانی یہ سوچتے ہوئے فیس بک پر منظورپشتین کے پیروکاروں کے تیزاب میں بجھے نفرت انگیز کلمات پڑھتے ہوئے ایک وڈیو میں منظور پشتین کو تقریر کرتے ہوئے پرسوچ نظروں سے دیکھا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.