گردشی قرضوں کے مسائل اور ان کا حل - عاطف الیاس

خبر: گردشی قرضے ۱۰۰۰ ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

گردشی قرضہ کیا ہے؟

تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب بجلی پیدا کرنے کا اختیار پرائیوٹ کمپنیوں کو دیا جاتا ہے اور ان سے منہ مانگے داموں بجلی خریدی جاتی ہے تو اس مہنگی بجلی کے بل کی ادائیگی میں جو فرق اکٹھا ہوتا رہتا ہے وہ گردشی قرضہ کہلاتا ہے۔

اس گردشی قرضے کے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

اس کا سب سے بڑا اثر لوڈ شیڈنگ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب پرائیویٹ کمپنیوں کو پیسے نہیں ملتے تو وہ بجلی کی پیدوار بند یا کم کردیتے ہیں جس سے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ جنم لیتا ہے۔

کیا پاکستانی حکومت لوڈ شیڈنگ کے جن پر قابو نہیں پاسکتی؟

یہ بہت آسان ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے لیے درجِ ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:

۱۔ نج کاری (Privatization) سے جان چھڑانی ہوگی۔ جو مسائل کی بنیادی جڑ ہے۔ یہ قدرتی وسائل اور عوامی ضروریات پر چند لوگوں (پرائیویٹ کمپنیوں) کی اجارہ داری قائم کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام کی رُو سے قدرتی اور عوامی وسائل پرائیویٹ ہاتھوں میں نہیں دیے جاسکتے۔ قدرتی وسائل عوامی ملکیت ہیں جو عوام ہی کے فائدے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ انھیں چند پرائیویٹ کمپنیوں کو اربوں ڈالرز کمانے کے لیے کھلا نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ان قدرتی وسائل میں بجلی، گیس، پٹرول سمیت تمام توانائی کے ذرائع، معدنیات، عوامی ضروریات کے منصوبے، چراہ گاہیں، پارکس، کھیل کے میدان وغیرہ شامل ہیں۔

۲۔ توانائی کے متبادل ذرائع کے ذریعے وافر بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ مثلاً ہوا، روشنی، کچرا اور پانی کے ذریعے اتنی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے کہ ہم روٹی بھی بجلی پر پکاسکتے ہیں اور ختم ہوتے گیس کے ذخائر کو انڈسٹری کے لیے بچا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں 65 فیصد بجلی فرنس آئل یا مہنگے ذرائع سے پیدا کی جاتی ہے۔ جو نہ صرف بہت مہنگی پڑتی ہے اور ضرورت بھی پوری نہیں ہوتی۔

کیا گردشی قرضوں کا نقصان انفرا سٹرکچر پر بھی ہوتا ہے؟

جی ہاں کئی سالوں سے جو اربوں روپے گردشی قرضوں کی صورت میں دیے جارہے ہیں ان سے کئی میگا ڈیم وجود میں آسکتے تھے۔ اگر مندرجہ بالا تجاویز کو مدنظر رکھ کر ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے تو نہ صرف حالیہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ انڈسٹری کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرکے مستقبل میں مستقل معاشی انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔

آخر مسئلہ کیا ہے؟

مسئلہ سادہ سا ہے یعنی حکمرانوں کی ترجیحات کا۔ ہمارے ہاں حکمرانوں، سیاسی و فوجی اشرافیہ، بیوروکریسی کی ترجیح شارٹ ٹرم شو بازی اور لانگ ٹرم ذاتی سیونگ ہے۔ جس وجہ سے کوئی مسئلہ بھی حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ ہم تیزی سے امریکہ کے بعد چینی قرضوں تلے دبتے جارہے ہیں لیکن کسی کو فکر نہیں۔

حل کیا ہے؟

اس کا حل اسلام کی بنیاد پر حکمرانی اور مخلص قیادت کا ہونا ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر اس بے بہا وسائل کی حامل امت کو پھر سے دنیا کی سیادت پر فائز کرسکتی ہیں کیونکہ مسئلہ وسائل کا نہیں ہے، مسئلہ وسائل کو اسلام کی بنیاد پر استعمال کرکے لوگوں تک ڈلیور کرنے کا ہے۔ ان شاء اللہ

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.