زندگی بخش منصوبہ- عبدالقادر حسن

گزشتہ حکومتوں کی جانب سے ملک میں توانائی کا بحران حل کرنے کے سبھی دعوے ٹھس ہو گئے جو بھی حکمران آیا اس نے عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کا وعدہ کیا لیکن جب اقتدار سے رخصت ہوا تو حالات جوں کے توں تھے یعنی وہی حالات تھے جو کہ اس کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے تھے۔

دراصل کسی بھی حکمران نے ایمانداری سے بجلی کا اہم مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اور اس سلسلے میںجو کوششیں کی گئیں وہ بھی بے سود گئیں اور عوام کے ساتھ ساتھ ملک کی صنعت کا پہیہ بھی رک رک کر ہی چلتا رہا بلکہ کئی صنعتکار توبجلی کے بحران کے باعث ملک ہی چھوڑ گئے اوراس طرح ملک میں جو تھوڑا بہت روز گار بچ گیا تھا وہ بھی قریب قریب ختم ہو گیا ۔

بجلی کی کمی کے باعث عوام کا انحصارقدرتی طور پر متبادل ذرایع یعنی جنریٹر اور بیٹریوں پر ہو گیا جن کے ذریعے اب گھروں میں روشنی اور ہوا کا انتظام ہورہا ہے جب کہ بڑی بڑی فیکٹریاں متبادل توانائی کے ذریعے اپنانے پر مجبور ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کی پیداواری لاگت میں بھی بہت اضافہ ہو گیا جو کہ عوام کی دسترس سے باہر ہے اس لیے زیادہ تر مصنوعات کے اکثرکارخانے بند ہو گئے اور بعض نے چین سے کم کوالٹی کی اشیاء بنوا کر پاکستانی مارکیٹ میں فراہم کرنا شروع کر دیں جس کی وجہ سے رہی سہی صنعتوں کا بھی بیڑہ غرق ہو گیا کیونکہ کم لاگت کی درآمدی اشیا عوام کی پہنچ میں ہوتی ہیں۔

میری یادداشت اگر درست کام کر رہی تو مجھے یاد آرہا ہے کہ میاں نواز شریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کیا تھا جس کو ملک بھر میں ملا جلا رد عمل ملا تھا لیکن ان کا اعلان سیاسی ثابت ہوا اور ان کے اعلان کے بعد کسی اور حکومت نے کالاباغ کا بھاری پتھر اٹھانے کی کوشش ہی نہ کی۔

دراصل کالا باغ ڈیم سیاسی مصلحتوں کا شکار ایک قومی منصوبہ ہے سب سے پہلے مرحوم صدر ضیاء الحق نے اسے اپنے صوبہ سرحد کے گورنر جنرل فضل حق کی دلجوئی کے لیے اسے موخر کر دیا، ان کے بعد کی حکومتیں اپنے سیاسی حلیفوں کی خوشنودی کے لیے اسے موخر کرتی رہیں اور اس دوران یہ فنی اور ملکی بقا کا منصوبہ ایک سیاسی تنارع بن گیا ۔

موجودہ خیبر پختونخوا کی ایک کمزور جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے اس منصوبے کی مخالفت کی ضرورت رہتی ہے حالانکہ اس پارٹی کے سربراہان موت کے بعد دفن ہونا بھی پاکستان میں پسند نہیں کرتے لیکن سیاست اور اقتدار کے لیے ان کو سادہ لوح پختون بھائی مل گئے ہیں جن کو اب جناب عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف نے ان کے چنگل سے کسی حد تک نکال لیا ہے اور آیندہ انتخابات میں اس بات کا مزید تعین ہو جائے گا کہ پختون عوام کس پارٹی کی حکمرانی میں رہنا پسند کرتے ہیں ۔

مجھے کالاباغ کی یاد جناب شہباز شریف جو کہ اب اپنی پارٹی نواز لیگ کے صدر بھی ہیں ان کے اس بیان سے آئی ہے جو کہ انھوں نے سندھ میں منعقدہ ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام پر سو کالا باغ بھی قربان ہیں ۔

مجھے شہباز شریف کی نیک نیتی پر کوئی شبہ نہیں وہ ایک محنتی سیاستدان ہیں انھوں نے پنجاب کی ترقی کے لیے اقدامات کیے ہیں لیکن کالا باغ کے بارے میں اگر ان کا یہ بیان سیاسی بیان ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے سندھی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے کیونکہ کالاباغ ڈیم کی افادیت سے کوئی حکمران یا ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا اور شہباز شریف جیسا زیرک سیاستدان جو کہ ملک میں بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے مخالف سیاستدانوں کے طعنے برداشت کر رہا ہے اس کے منہ سے کالا باغ مخالف الفاظ سن کر مجھے شدید مایوسی ہوئی ہے کیونکہ شہباز شریف کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ملک کو بجلی و پانی کی ضرورت ہے۔

کھیت پیاسے ہیں اور کارخانے بند ہیں ۔ بتایا جاتا رہا ہے کہ کالا باغ ڈیم ہمیں پانی بھی دے سکتا ہے اور سستی ترین بجلی بھی لیکن اس تکنیکی منصوبے کو سیاسی بنا دیا گیا ہے ۔ یہ ایک لمبا اور پرانہ قصہ ہے کہ ہم نے اپنے قدرتی دریا بھارت کے ہاتھوںکیوں بیچے اور مصنوعی بندوں کے محتاج ہو گئے لیکن آج کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا زرعی اور صنعتی مستقبل کالا باغ بندکا محتاج ہے اور ہم اس کی تعمیر میں بہت زیادہ تاخیر کر چکے ہیں۔

پاکستان کی صورت میں قدرت نے ایک عظیم ملک عطا کیا مگر ہم نے اس میںگھٹیا اور بہت ہی چھوٹے سیاستدان اور حکمران پیدا کیے جنہوں نے اس ملک کی عظمتوں اور نعمتوںکا حق تو کیا ادا کرنا تھا اسے ایک نارمل ملک بھی نہ بنا سکے وہ تو قدرت نے ہمیں کچھ سائنس دان عطا کر دیے ورنہ دھوتیوں والے ہم پر پیشاب کر رہے ہوتے اور یہ سیاستدان ان کی فراغت کے انتظار میں ہاتھ میں پانی کا لوٹا لیے کھڑے ہوتے۔

ہم پاکستانی جذباتی قوم ہیں ان جذبات سے کھیلنے کا فن ہمارے سیاستدان خوب جانتے ہیں اس لیے میاں شہباز شریف نے بھی سندھ جا کر اعلان کر دیا کہ سندھیوں پر سوکالا باغ بھی قربان کرنے کو تیار ہیں، اس جذباتی اعلان سے پہلے وہ یہ ہی سوچ لیتے کہ اس سے پہلے وہ قوم سے بجلی پوری کرنے کا جو وعدہ کر چکے ہیں وہ ابھی تک پورا نہیں کر سکے۔

کالاباغ کی صورت میں ایک ایسا منصوبہ ہمارے پاس ہے جس کے بارے میں جذبات کو الگ کر کے ایک پاکستانی بن کر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارے ملک کی بقا کا یہ منصوبہ کسی نے باہر سے آکر شروع نہیں کرنا بلکہ ہم نے خود ہی اپنی اشد ضرورت کے تحت اس کا آغاز کرنا ہے کیونکہ اس سے ہی ہماری زراعت اور صنعت کی زندگی وابستہ ہے، یہ زندگی بخش منصوبہ مصلحتوں سے علیحدہ کر کے جس قدر جلد شروع کر دیا جائے اسی میں ملک کی بھلائی ہے ۔