حاضر دماغی - بریرہ صدیقی

ایم اے انگریزی سال دوم کے رزلٹ کی آمدآمد تھی اور دعائیں جو اب التجاؤں کا روپ دھار چکی تھیں شدت سے جاری تھیں کہ یارب! یا تو کوئی معجزه فرما دے اور اگر اس دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ کرنا مقصود ہے تو اے ستارالعیوب! بس رزلٹ کا اطلاع نامہ مجھ تک پہنچنے میں کوئی اور مداخلت نہ ہو۔ تاہم۔ الحمدللہ یہ دعا بھی آخرت کے لیے ذخیرہ کر لی گئی اور ایک ظالم دوپہر میں والد صاحب کو دیکھاPunjab University Result Intimation Letter اٹھائے، چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ سجائے داخل ہو رہے ہیں۔ اس مسکراہٹ کو اپنی کامیابی پر قیاس کرتے ہوئے جواباً بھرپور تائیدی مسکراہٹ سے آگے بڑھ کر داہنے ہاتھ سے اپنا نامۂ اعمال وصول کرنے کی کوشش کی، لیکن حسبِ سابق ہماری چھوٹی ہمشیرہ کا اتنی دیر میں نزول ہو گیا۔

اب کھلے ہوئے لفافے کو کھول کر رزلٹ پڑھتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی گویا ابھی پہلی بار پڑھا جا رہا ہے۔ چند ثانیے کے بعد رزلٹ تھماتے ہوئے فرمانے لگے، " تو یونیورسٹی والوں کو پتہ نہیں تھا، ہمیں ڈرامے ہی کرنے تو آتے نہیں، کر سکتے تو ہم یہاں ہوتے؟" یعنی ماڈرن ڈرامہ؟ دل میں خطرے کی گھنٹیاں اور ابو کے عقب میں کھڑی بہن کے بے وقت کے قہقہے گونج اٹھے۔ منظر عام سے ہٹ کر اس تازیانہ نما تبصرے کو سہتے detail marks دیکھنا شروع کیے اور اس کے بعد ابا جان سے گفتگو شروع کردی کہ ابو جی! آج آپ اپنے ہی سکھائے گئے اخلاقی اصولوں کی پامالی کے مرتکب ہوئے ہیں، اگرچہ جمع کا صیغہ استعمال کر کے آپ نے جملے کی تلخی کو کم کیا ہے لیکن کسی کی ذاتی ڈاک نہ کھولنے کا سبق آپ نے ساری زندگی پڑھایا ہے اور جو کسی کا عیب پتہ چل جانے کی صورت میں اسے تنہائی میں بتانے والی نصیحت ہے؟ اور وہ جو ہر حال میں آدھے بھرے گلاس پر فوکس کرنے کی آپ کی یاددہانی ہے، میرا گلاس جو باقی چار مضامین میں شاندار کامیابی کے ساتھ پون بھرا تھا، وہ کیوں آپ کو نظر نہ آسکا؟ اور یہ جو چند دن پہلے آپ کو کسی بھی "غیر متوقع " نتیجے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کو کہا تھا اور جواباً آپ نے فرمایا تھاکہ " پنجاب یونیورسٹی سے فیل ہو جانا بھی ایک اعزاز ہے" تو وہ دعوے کیا ہوئے ابا حضور؟ گستاخی معاف لیکن دل مانتا نہیں کہ یہ وہی باپ ہے جس نے محض دو دن پہلے اچھی مونگ مسور کی دال پکانے پر ہزار کا نوٹ فراخ دلی کامظاہرہ کرتے ہوئے عنايت کیا تھا۔ گفتگو اختتام پذیر ہوئی کہ تنہائی اور عالمِ خیال میں کی جانے والی گفتگو یوں ہی بے نتیجہ رہتی ہے۔

اس سانحے کو بیتے زیادہ عرصہ نہ ہوا ہوگا جب ہمشیرۂ مذکورہ پر اپنی مخصوص افتادِ طبع کے باعث آن لائن شاپنگ کا جنون سوار ہو گیا اور کافی سرچ آپریشن کے بعد نظرِ انتخاب ایک کرتا نما کرتی پے پڑی، جس کی سلیوز کی طوالت، "طول میں طولِ شبِ ہجر کا افسانہ"کے مصداق دامن سے بھی کئی گنا زیادہ طويل تھی، گلے میں ہلکی زنجیر جڑی تھی، کسی ہرے، نیلے رنگ کے قبیل سے تعلق تھا۔ بہرحال آرڈر بک کروا دیا گیا۔ چند ہی روز بعد جب ایک دوپہر والد صاحب کو دوبارہ ڈاک کا پارسل اٹھائے آتے دیکھا تو رب کی شانِ بے نیازی پے یقين مزید بڑھ گیا۔ گھر آتے ہی صدا لگائی، " اپنا پارسل لینا بھئی نہدیہ! ذرا ہم بھی دیکھیں کیا ہے اتنے ہلکے سے پیکٹ میں جس کی ادائیگی اتنی بھاری تھی۔ نہایت مستعدی سے پارسل وصول کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی کھول کر لاتی ہوں۔ ٹھیک دو منٹ کے بعد واپسی ہوئی، اتنی دیر میں ہم امی کو اس امید پر دعوت دے چکے تھے کہ ابھی متوقع پڑنے والی ڈانٹ کو جب تک امی کی ڈانٹ کا تڑکا نہ لگ جائے، تشنگی باقی رہے گی۔ کھلے ہوئے پیکٹ سے جو سامان نکلنا شروع ہوا اسے دیکھ کے گھٹی گھٹی چیخیں نکلنا شروع ہو گئیں، ایک عدد ہلکی فیروزی tagged شال، ایک براؤن ٹراؤزر اور ان دونوں کے درمیان پیکٹ میں دبی "کرتی" جسے کھول کر دکھانے کے بجائے گول مول کر دیا گیا۔ اماں اور ابا کی واہ واہ اور تعریفی وتوصیفی کلمات جاری ہو گئے، اس حسنِ انتخاب کی دل کھول کر تعریف کی گئی۔

چاہیے تو یہ تھا کہ بآوازِ بلند عین موقع پر صورتحال واضح کر دی جاتی، لیکن جلے دل سے محفل اٹھ آئے، بہن کے بے موقع قہقہے بدستور جاری تھے جسے برداشت کرنا بس سے باہر تھا۔ بس ابا جان سے ہی گلہ تھا کہ ایسے موقعوں پر ہمارا کچھ نہیں جاتا، وہ جو آپ کے اعلیٰ ذوقِ خریداری کی ایک دنیا معترف ہے، وہ مشکوک ہو جاتی ہے اور ناقابل ِفہم ہے کہ یا تو آپ وزن سے ہی ورائٹی کا اندازہ لگانے چلے تھے یا بھاری بھرکم شال دیکھ کر بھی آپ کو گمان تک نہ گزرا۔ ایسے شک کو آپ نے موقع پر ہی کھول کر، میرے ناکامی کے اطلاع نامے کی طرح رفع کیوں نہ کر لیا؟ آخر کیا امر مانع تھا؟ لیکن ابو کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس لیے کہ گفتگو اس بار بھی عالمِ خیال میں کی جا رہی تھی۔

قوتِ گویائی ساتھ دے تو ہم بتائیں کہ آپ کی یہ ارادتاً چشم پوشی ہم سے مخفی نہیں ابا حضور! لیکن ہم ڈرامے بازی کے ساتھ ساتھ، "حاضر دماغی " سے بھی حتی الامکان اجتناب کرتے ہیں۔

Comments

بریرہ صدیقی

بریرہ صدیقی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مختلف قومی جرائد اور دلیل کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کے بعد چار سال جرمنی میں قیام بھی کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.