قرآن اور رمضان: تلاوت سے تدبر تک - فضل ہادی حسن

بلاشبہ قرآن کے الفاظ اگر ایک طرف معجزہ ہے تو دوسری طرف ان الفاظ کی تلاوت (پڑھنا) باعث ثواب ہے۔ اس حوالے سے مختلف روایت اور واقعات کے علاوہ یہ حدیث ایک بڑی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔

عن عَبْد اللَّهِ بْن مَسْعُودٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ (رواه الترمذي وغيره وصححه الشيخ الألباني.)

’’جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے اس کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔‘‘

رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺسے قرآن کی تلاوت کا اہتمام ثابت ہے بلکہ جبرائیل امین علیہ السلام کو سناتے تھے۔ بخاری کی روایت ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ’’ جبرائیل امین رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دور کرتے۔ ‘ ‘(بخاری، کتاب بدء الوحی)

قرآن اور تلاوت قرآن کی فضیلت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا بلکہ قیامت کے دن روزہ اور قرآن شفاعت کریں گے جب کوئی بھی فرد کسی کی شفاعت نہیں کرسکیں گے۔ جتنا زیادہ تعلق قرآن سے ہوگا یقیناً اس کے لیے باعث خیر ہوگا لیکن یہ تعلق صرف تلاوت تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی نیت کے ساتھ ساتھ اسے غور وفکر، تفہیم و تفسیر، دلیل و استدلال اور دیگر امور کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ رمضان میں ہم سب کی دلچسپی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرکے کئی دفعہ ختم قرآن کریں۔ ایک استاد (اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے، آمین) کلاس میں کہتے تھے کہ جب قرآن کا ترجمہ اور مفہوم سمجھ آئے گی تو قرآن کی تلاوت (سننا اور سنانا) میں ایک حلاوت اور ایک کشش محسوس کریں گے۔، یقیناً ان کی بات کا ادراک تب ہو جب تھوڑی بہت قرآن کی معانی و مطالب سے واقفیت ہوئی۔

یہاں ہمارے ہاں ایک کمزوری ہے کہ تلاوت پر زور زیادہ دیا جاتا ہے لیکن سجھنے اور کسی حد تک معانی و مطالب سمجھنے میں تساہل برتی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الأَلْبَابِ (سورہ ص:29) ’’یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقول و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔‘‘ یعنی یہ انسان کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔ اس کی زندگی کو درست کرنے کے لیے بہترین ہدایات دیتی ہے، اس کی پیروی میں آدمی کا نفع ہی نفع ہے، نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، سید مودودیؒ) ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے ’’ کیا اِن لوگوں نے قرآن پر غورنہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل (تالہ)چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘ (سورہ ص، 24) یعنی یا تو یہ لوگ قرآن مجید پر غور نہیں کرتے، یا غور کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر اس کی تعلیمات اور اس کے معانی و مطالب ان کے دلوں میں اترتے نہیں ہیں کیونکہ ان کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں جو ایسے حق ناشناس دلوں کے لیے مخصوص ہیں (تفہیم القرآن) اس کے علاوہ قرآن میں کئی جگہوں پر تدبر اور غور وفکر کی طرف ترغیب دی گئی ہے۔

یہاں ایک استدلال یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معمول رمضان میں تلاوت کرنے کا زیادہ اہتمام تھا۔ اسی وجہ سے سلف صالح سے بھی یہی منقول ہے کہ وہ کثرت تلاوت کا اہتمام کرتے تھے، بعض تو ایک ہی دن میں قرآن کو پورا پڑھتے تھے تاکہ کسبِ اجر اور رمضان کی مبارک اور قیمتی ساعتوں سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوجاسکیں۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب و مقصد نہیں ہوتا کہ وہ تدبر نہیں کیا کرتے جو کہ فی الحقیقت قرآن کے نزول کا اہم مقصد (اوپر آیت نقل ہوئی) ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت (حدیث ابی زرؓ، لمبی تفصیل ہے) ہے کہ آپ ﷺ ایک رات ایک ہی آیت کی تلاوت کی تھی۔ إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (سورۃ المائدة:118) ’’اے اللہ! اگر تو انھیں عذاب میں مبتلا کر دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں معاف کرد ے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے‘‘۔

میرا خیال ہے کہ ان کی تلاوت بھی قرآن میں غور و فکر کی مانند تھی (اگر چہ تدبر اور غور و فکر کے لیے تلاوت میں توقف اور ٹھہراؤ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا)۔ خود رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین اہل زبان تھے سلف صالح کے عرب اور عجمی ائمہ کرام قرآن کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ مفاہیم و مطالب سے واقف تھے۔ ان کے لیے قرآن کی تلاوت کرنے میں ’’تدبر‘‘ شامل تھی۔ یہاں بھی سیرت سے ہی مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ ایک دفعہ عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سورہ نسآء سنانے لگے، جب آپ اس آیت پر پہنچے فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا (سورۃ النسآء 41) ’’پھر سوچو کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں ﴿یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو﴾ گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے‘‘ تو آپﷺ رو پڑے، آنکھوں مبارک میں آنسو آگئے۔

رمضان المبارک کے مبارک لمحات میں قرآن سے تعلق جوڑنے کے لیے تلاوت کے ساتھ ساتھ کچھ وقت قرآن میں غور وفکر، مختصر ترجمہ و تشریح دینے کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔

1۔ سورتوں کا مختصر خلاصہ پڑھیے تاکہ سورت کا شان نزول، زمانہ نزول اور مباحث کا علم ہوجائے۔

2۔ قرآن کی چند سورتوں کا خصوصی معالعہ کریں، جس میں معاملات، اخلاق اور معاشرت کا خصوصی ذکر ہو۔

3۔ سورہ البقرہ، النساء، آل عمران، (ہود و اخواتہا)، بنی اسرائیل، سورہ کہف، سورہ النور، طلاق، احزاب، سورہ حجرات اور سورہ رحمٰن سمیت چند سورتوں کی تلاوت، ترجمہ و تفسیر (غور وفکر) کو اس رمضان المبارک میں اپنا ہدف بنائیں۔

4۔ بالخصوص سورہ حجرات کا مطالعہ کریں (سوشل میڈیا کے تناظر میں اس کی اہمیت و ضرورت محسوس کرتا ہوں)، موجودہ دور اور فتوں کا مقابلہ کرنے سورہ کہف کےمفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

5۔ تفسیروں کے نام کے طور پر آسان سے آسان اور عام فہم تفسیر کا انتخاب کریں، البتہ چند نام شیئر کرتا ہوں۔ تفہیم القرآن، معارف القرآن، تبیان القرآن (علامہ غلام رسول سعیدیؒ)، تدبر قرآن، ضیاء القرآن اور ترجمان القرآن سمیت دیگر۔

پورا قرآن سمجھنا اور غور وفکر کے لیے نازل ہوا ہے لیکن اگر چند ہی سورتیں اس رمضان المبارک میں سمجھنے اور غور وفکر کے لیے مختص کی جائیں تو یقیناً یہ مبارک لمحات مزید مبارک بنائے جاسکتے ہیں۔ اس فہرست میں مزید اضافہ بھی کیاجاسکتا ہے میں نے بس ایک اپنے علم کے مطابق چند سورتوں کا ذکر کیا۔ اس وقت مختلف تفاسیر کتابی شکل کے موبائل ایپس کی صورت میں موجود ہیں جس سے ہر وقت استفادہ کرنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن اور رمضان کا روح سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین!

نوٹ: اتفاق اور اختلاف کیا جاسکتا ہے، نیز اہل علم ہی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ البتہ رمضان میں قرآن کے ساتھ تعلق کو جوڑنے کی خاطر یہ تحریر لکھی۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.