حکایت سادی - عائشہ تنویر

جمہوریت کے دور کا ذکر ہے کہ ہمارے ملک میں ایک بہت ایماندار وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔ اب آپ لغت میں ایماندار کے معنی نہ دیکھنے لگ جائیں، یہ ایک کہانی ہی تو ہے۔ اس میں سب کچھ ہو سکتا ہے۔

ان ایماندار وزیراعظم نے عوام کی بہبود کے لیے بہت محنت کی، جگہ جگہ سے پورا ملک اس امید پر کھود ڈالا کہ شاید کہیں سے خزانہ نکل آئے ‫لیکن ناشکری عوام پھر بھی خوش ہو کر نہ دیتی۔ جبکہ وہ تو دل کے اتنے اچھے تھے کہ اپنی ساری دولت چھپا کر رکھتے کہ غریب عوام دیکھ کر احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں۔

وزیراعظم ایک اچھے حکمران ہی نہیں ایک اچھے انسان بھی تھے۔ رشتہ داروں سے حسن سلوک ان کی گھٹی میں تھا۔ اقتدار پا کر انہوں نے بالکل غرور نہ کیا، اپنے تمام رشتہ داروں کو یاد رکھا بلکہ ساتھ ساتھ رکھا۔ وزیراعظم اپنی عوام کے ساتھ اتنے مخلص تھے کہ ان سے کوئی کام نہ لینا چاہتے تھے ‫اور یوں ملک میں بے روزگاری عام ہو گئی۔

جب فارغ بیٹھے عوام ان کے خلاف باتیں بنانے لگے تو بھی وزیراعظم نے خندہ پیشانی سے ان کی ہرزہ سرائیاں نظرانداز کیں اور عوام کو روزگار دینے کے لیے ملک میں جلسے کرنے شروع کر دیے‫۔ یوں کیٹرنگ والوں کو تو روزگار ملا ہی ساتھ ہر علاقے میں پیسے لے کر ان کے لیے نعرے لگانے والوں کے لیے بھی نوکریاں نکل آئیں۔ ان نوکریوں میں میرٹ کا خاص خیال رکھا جاتا، کسی کی سفارش نہ چلتی، اور جو اخبار یا سوشل میڈیا پر کمپین چلاتے ان کی الگ نوکریاں نکلیں۔ اب ملک میں کوئی بندہ بے روزگار نہ رہا۔ ایسے میں ایک جگہ سے وہ گزرے تو دیکھا ایک بندہ خاموش اکیلا بیٹھا ہے۔ وہ حیران رہ گئے۔ انہیں ہر جگہ نعرہ بازی کی عادت تھی چاہے ان کے حق میں ہو یا خلاف۔ انہوں نے اپنے وزیر سے کہا کہ جا کر اس کا مسئلہ دریافت کرو۔

"ہمارے دور حکومت میں کوئی سکون سے جی لے، ہم بالکل برداشت نہیں کر سکتے"۔

وزیر آدمی کے پاس گیا اور اس سے یوں وزیراعظم کو نظر انداز کرنے کی وجہ پوچھی۔ آدمی نے شان بے نیازی سے جواب دیا "میں آپ کی پارٹی کا نہیں ہوں۔ میں فری لانسر ہوں اور مفت کسی کی تعریف یا کسی پر تنقید میرا شیوہ نہیں۔"

وزیراعظم نے یہ سیدھی سچی باتیں سنیں تو بہت متاثر ہوئے، وہ آدمی کے پاس گئے اور پوچھا "مجھے بتائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟"

اس نے جواب دیا "سب سے مل بانٹ کر کھانا سیکھو، یاد رکھو جتنے ہاتھوں تک خزانے کی لوٹ مار کا حصہ پہنچے گا، اتنا تمہارے حق میں بہتر ہے۔"

وزیر اعظم نے مزید کہا "مجھے کوئی اور نصیحت کریں۔"

آدمی نے جواب دیا "ابھی اقتدار میں ہو جتنا لوٹ سکتے ہو لوٹ لو، یہ حکومت کسی کی نہیں ہوتی، کل کوئی تھا، آج تم ہو، کل کوئی اور ہوگا۔ اس لیے جو کمانا ہے آج کما کر بیرون ملک بھجوا دو۔"

وزیراعظم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور آگے چل دیے۔

غیر اخلاقی سبق: بے ایمانی کے کام ایمانداری سے کریں تا کہ آپ کے خلاف کھڑا ہونے کی کوئی جرات نہ کرے۔