عبوری حکومت کا مذاق - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

آج کل میں عبوری حکومت کے لیے وزیر اعظم کا اعلان ہوا چاہتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں 31 مئی کو موجودہ منتخب حکومت کا دور اختتام پذیر ہو جائے گا اور ایک نئی "نامزد" حکومت اقتدار سنبھال لے گی۔

معاف کیجیے گا لیکن میرے لیے عبوری حکومت کا تصور ہی نہایت مضحکہ خیز ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ یہ عبوری حکومت نامی شے سب سے پہلے 58 ٹو بی کے دم چھلّے کے طور پر سامنے آئی۔ جب صدر مملکت اپنی صوابدید پر جب چاہیں منتخب حکومت کو گھر بھجوا دیا کرتے تھے اور اس کے بعد اسی صوابدید کو مزید بروئے کار لاتے ہوئے نئے انتخابات کے انعقاد تک ایک عارضی بندوبست کا اعلان بھی ساتھ ہی فرما دیتے تھے۔

ہمارے جمہوری چیمپئینز نے 58 ٹو بی کو تو بہت برا بھلا کہا لیکن "عبوری حکومت" نامی اپچ کو پورے طمطراق سے 18 ویں آئینی ترمیم میں بھی برقرار رکھا۔ درآ1ں حالیکہ یہ کونسا جمہوری اصول ہے کہ منتخب حکومت کی جگہ ایک دوسری منتخب حکومت کے بجائے کوئی نامزد حکومت لے؟ ایک ایسی حکومت جس سے کی بات نہ اندرون ملک سنی جائے اور نہ بیرون ملک۔ بیوروکریسی انہیں گھاس بھی نہ ڈالے اور عوام ان کے نام اور عہدوں سے ہی واقف نہ ہوں۔ بظاہر تو اس کا مقصد سوائے اس شغل میلے کے اور کچھ نہیں کہ کچھ یار لوگ باقی تما عمر سابق وزیراعظم، وزیر اعلی یا سابق وزیر کہلا سکیں۔ بہرحال یہ کریڈٹ تو ہے کہ کارِ سرکار کو نوٹنکی کیسے بنایا جا سکتا ہے یہ ہم ہی نے دنیا کو بتایا۔

ستم ظریفی دیکھیے، ایک حکومت جو 5 سال قرضوں پر قرضے لے کر ملک کو گروی رکھ سکتی ہے، جیسی چاہے پالیسییاں بنا سکتی ہے، جنگ و امن کے معاملات دیکھتی ہے، بین الاقوامی معاہدہ جات کرتی ہے وہ بس ایک انتخابات کروانے کی ہی اہل نہیں؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انتخابات بھی اس نے تو نہیں کروانے، وہ تو الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ آپ قانون سازی سے الیکشن کمیشن کو مضبوط کریں، انتخابات کے ہنگام اہم اور کلیدی انتظامی اختیارات الیکشن کمیشن کے حوالے کریں اور وہ پورے کنٹرول کے ساتھ انتخابات کروا دے۔ جو بھی اکثریت لے ، موجودہ حکومت اس نئی منتخب حکومت کو اقتدار سونپے اور بات ختم۔ یہ کیا تماشا ہے کہ الیکشن کمیشن کو مضبوط اور خود مختار نہیں بنانا خواہ اس کے لیے عبوری حکومت جیسا بے مقصد اور بے معنی ڈھکوسلا کیوں نہ کرنا پڑے۔ جہاں تک دھاندلی کی بات ہے تو عبوری حکومتوں کے آنے سے دھاندلی کے الزامات میں کوئی کمی دیکھنے میں آئی؟ ایک دو فیصد ہی؟

یہ بھی پڑھیں:   ٹکٹ کا حصول اور اسمبلی تک کا سفر - امجد طفیل بھٹی

لطف کی بات یہ ہے کہ ساری سیاسی پارٹیاں خود فریبی اور اپنی تذلیل کے اس مظاہرے پر متفق بھی ہیں اور مطمئن بھی۔ بے شرمی کی انتہا ہے۔

ووٹ کی اہمیت ملاحظہ ہو، ووٹوں سے برسر اقتدار حکومت اگلے ووٹ کے دوران برسر اقتدار نہیں رہ سکتی کیوں کہ اس سے خطرہ ہے۔ اس کے لیے جمہوری عمل سے باہر کے "نامزد" لوگ لائے جائیں گے جو انتخابات کی "نگرانی" کریں تاکہ ہم بعد کی تاریخوں میں ووٹ کو عزت دے سکیں۔

واٹ آ کنٹری !

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.