شاباش فلسطینیو! - زبیر منصوری

شابا ش فلسطینیو!

تمہارے قرآن نے الحمد للہ تمہیں صرف تجوید و تلاوت ہی نہیں سکھائی Perception Management کا ماہر بھی بنا ڈالا ہے!

تم نے بمباری اور تباہی کا شکار پورے مظلوم غزہ کو ہی ایک “برانڈ“ بنا ڈالا، تم نے پوری دنیا سے یہودی دشمن اور انسانیت دوست لوگوں کو اپنی پشت پر کھڑا کر لیا ہے۔ شاید ہی مسلمانوں کی اور کوئی قوم ہو جس کے لیے یورپ و امریکہ میں اتنی ہمدردی پائی جاتی ہو جس کے لیے لوگ یوں سڑکوں پر آ جاتے ہوں جس کے اوپر ظلم کو بیان کرنے کے لیے ایسے کری ایٹو آئیڈیاز سوچے جاتے ہوں۔ جس کی ویڈیوز یوں خود مغرب میں وائرل ہوتی ہوں۔

شاباش فلسطینیو!

تم نے سوچا کہ اوبجیکٹو کیا ہے؟ حاصل کیا کرنا ہے؟ Smart Goal سیٹ کیے تم نے، ہوا میں تیر نہیں چلائے بلکہ غور کیا کہ کہاں سے آواز اُٹھے تو مؤثر ہوگی؟ تم نے دیکھا کہ ان لوگوں (Target group) تک پہنچنے کا مؤثر ٹول کون سا ہوگا؟ تم نے سوچا کہ یہ لوگ کیا انداز پسند کریں گے؟ تم نے اس کے مطابق ماضی کے لوگوں کے تجربات سے سیکھ کر ایک پلان تیار کیا تم اس پر لگ گئے، وسائل فراہم کیے، سارے موجود معاونین کو استعمال کیا، “دشمن کے دشمن“ کو جانا سمجھا اس تک پہنچے اور آج اسرائیل کے لیے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہر ایسے موقع کو فلسطینی اسرائیل کے لیے مصیبت اور اپنے لیے ہمدردوں میں اضافہ کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔۔ اسرائیل کے لیے سو دو سو بندے مار دینا کوئی مسئلہ نہیں مگر سوشل میڈیا کے بعد اس کے Echo کو سنبھالنا مسئلہ بن گیا ہے۔

شاباش فلسطینیو!

میرے اس معذور استاد نے جب برسوں پہلے بڑے پیمانے پر اپنے نوجوانوں کو قرآن سے محبت عطا کی تھی تو یہ اندھی بہری گونگی رسمی رواجی محبت نہیں تھی بلکہ یہ پوری قوم میں ایک بجلی کی طرح پھرتی برقی رو تھی۔ پھر استاد نے ان نوجوانوں کو خود ان عربوں ہی کی تعاون سے دنیا بھر کے علوم پڑھنے بھیجا اور وہ ایک وقت آیا جب غزہ پی ایچ ڈیز کی تعداد کے اعتبار سے سب سے بڑا علاقہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   رزان النجار: ارض ِ فلسطین کی فاطمہ بنت عبداللہ - محمد عمید فاروقی

پھر استاد کے ان شاگردوں نے عقل و ذہانت کے میدانوں میں یہودی ذہن کا مقابلہ شروع کر دیا تو دنیا کو حیران کر دیا۔

اسرائیلیو! تمہارا پالا روکھے پھیکے بے وزن اور عارضی وقتی کوک کی بوتل کی جھاگ کی طرح اُٹھتے اور پھر اسی رفتار سے بیٹھ جاتے نوجوانوں سے نہیں ہے، بلکہ امت کے یہ چیتے تمہارے لیے ہی سدھائے گئے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد تک لوہے کے چنے بنے رہیں گے، یہ تمہیں ٹف ٹائم دیں گے، ان کے جذبے کسی لفاظی اور چرب زبانی والی تقریر سے نہیں تشکیل پائے بلکہ یہ قرآن کی محبت سے پھوٹتے ہیں جو لازوال کلام ہیں یہ دیوانے حالت جنگ میں قرآن پڑھتے ہیں اور جن آیات کا انتخاب کرتے ہیں وہ موقع کی مناسبت سے ان کا ایمان بڑھاتی اور فتح کے یقین کو پکا کرتی ہیں۔

شاباش فلسطینیو!

معرکہ آرائیوں کے زبردست دنوں میں ہم جیسوں کے ایمان میں حدت شدت حلاوت اور طاقت کی دعا دینا تم نے اللہ کو اپنا آپ بیچا تم نے ثابت کر دیا دعا کرنا ہم بھی اپنا وعدہ پورا کر سکیں۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.