رمضان ریزولوشن - محمد عامر خاکوانی

ہر سال یکم جنوری سے پہلے میرے جیسے بے شمار لوگ نئے سال کے حوالے سے کئی عہد اور commitment کرتے ہیں۔ اسے "نیو ایئر ریزولوشن" کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ عہد وزن کم کرنے کے کیے جاتے ہیں، لوگ اپنے آپ سے وعدے کرتے ہیں کہ اس سال ہم وزن گھٹائیں گے، کئی کامیاب بھی ہوجاتے ہیں، میری طرح کی مثالیں زیادہ ہیں جن کا وزن چند کلو مزید بڑھ جائے۔ اسی طرح سگریٹ چھوڑنے کا بھی بہت لوگ ارادہ کرتے ہیں، ایسے لوگ یقیناً ہیں جو اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے زندگی بھر سگریٹ نہیں پیتے۔ مگر بہرحال خاصی تعداد ان کی ہے جو دوبارہ سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ہر سال کروڑوں لوگ نیو ایئر ریزولوشن لکھتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ زیادہ تر کی کمٹمنٹ پوری نہیں ہوپائے گی؟ ماہرین نے اس سوال پر کئی سروے کیے اور پھر یہ نتیجہ نکالا کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں، انہیں اپنی نیوایئر ریزولوشن لسٹ یا وش لسٹ لکھنا اپنی اس تبدیلی کی سوچ کا اظہار لگتا ہے۔ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں بے حسی کی اس سٹیج تک نہیں جانا چاہیے کہ خود کو بدلنے کی سوچ بھی نہ آئے۔ پھر نیو ایئر ریزولوشن اپنی قوت ارادی اور مضبوطی کو آزمانے کا موقعہ بھی دیتی ہے، جو لوگ اسے پوری سنجیدگی اور خلوص سے لیتے ہیں، وہ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔

رمضان سے چند دن پہلے اچانک ہی خیال آیا کہ ہم نیو ایئر ریزولوشن بناتے ہیں تو کیوں نہ اس بار رمضان ریزولوشن ٹرائی کیا جائے؟ اسلامی کیلنڈر کے اعتبار سے تو محرم پہلا مہینہ بنتا ہے۔ مگر ہر مسلمان کے لیے رمضان کی خاص اہمیت ہے۔ ایک رمضان سے اگلے رمضان تک کا سالانہ دائرہ بنتا ہے، کیوں نہ اس بار رمضان ریزولوشن بنائے جائیں؟ قوی امکان ہے کہ متبرک مہینے کی وجہ سے رب تعالیٰ کی نصرت اور تائید بھی شامل ہوجائے اور ہماری کمٹمنٹ پوری ہوجائیں۔

نیٹ پر سرچ کی تو اندازہ ہوا کہ یہ تصور باقاعدہ طور پر موجود ہے، بے شمار لوگوں نے اپنے رمضان ریزولوشن شیئر کر رکھے تھے۔ کچھ لوگوں نے بچوں اور بڑوں کے لیے الگ الگ چھوٹے بڑے عہد بنائے اور ان کے لیے دلچسپ پلے کارڈز بھی تخلیق کیے۔ نیو ایئر ریزولوشن کے برعکس رمضان ریزولوشن میں دو فائدے ہیں، ہم شارٹ ٹرم یعنی صرف ماہ رمضان کے لیے خود سے کمٹمنٹ کریں اور اس کے لیے باقاعدہ شیڈول بنائیں، جبکہ دوسرا لانگ ٹرم یعنی سال بھر کا منصوبہ ہو، اگلے رمضان تک آپ نے اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا اور اگلے شعبان کی پندرہ کو ایسسمنٹ ڈیٹ بنا لیں۔ روایت ہے کہ اس رات حساب کتاب ہوتے ہیں، ہم چاہیں تو اپنے وعدوں کا حساب کتاب بھی کر سکتے ہیں، چھوٹی موٹی کمی کو پندرہ دنوں کے اندر پورا کیا جا سکتا ہے۔

رمضان اعمال کا مہینہ ہے، نیکیاں کمانے اور نیکی کی فصل کاشت کرنے کا بابرکت مہینہ۔ اس میں زیادہ سے زیادہ نفع بخش اعمال صالح کرنے چاہیئیں۔ ہمارے جیسے دنیا دار بھی کوشش کرتے ہیں کہ نماز باقاعدگی سے پڑھیں، قرآن پاک کی تلاوت کے لیے وقت نکالیں اور تسبیحات زیادہ سے زیادہ کریں۔ اس مہینے میں یہ عادت پختہ ہوجائے تو پھر سال بھر چلتی رہتی ہے۔ بات نیت کی ہے، آپ چاہتے ہیں کہ اپنے روز وشب میں نیکیاں شامل کریں تو چھوٹے چھوٹے کام کرنے سے یہ ہوسکتا ہے۔ اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ کام شروع کرنے سے پہلے چند منٹ نکال کر قرآن پاک کی تلاوت کر لیتے ہیں، ایسے انداز میں کہ کام کا ہرج بھی نہ ہو اور آغاز نیکی سے ہوگیا۔ اس ضمن میں یہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا نہ ہو، آپ اپنی طرف سے نیکیوں میں مگن ہیں اور دفتری کام کا حرج ہو رہا ہے، یا آپ کسی پبلک ریلیشنگ والے شعبہ میں ہیں اور لوگ انتظار کی کوفت سے دوچار ہیں۔ ایسے میں نیکی کے بجائے نقصان کا اندیشہ ہے۔ ایک دوست نے ایسی ایپ کا لنک بھیجا، جس میں موبائل کھولتے کھولتے آپ ایک آیت بطور پاسورڈ کے پڑھ لیتے ہیں۔ دن میں کم سے کم بھی پچاس سو بار تو موبائل اٹھا کر دیکھنا پڑتا ہے، ہر با رچند سکینڈز میں ایک آیت پڑھ لی۔ بہت لوگوں کو دیکھا کہ سفر کرتے ہوئے ہاتھ میں انگوٹھی نما تسبیح پہن کر ذکر کرتے رہتے ہیں۔ پروفیسر احمد رفیق اختر سے پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے تسبیحات بتائیں اور مشورہ دیا کہ دفتر آتے جاتے سفر میں پڑھ لیا کرو کہ اس وقت کا بہترین استعمال یہی ہے۔ آج کل موبائل نے آسانی پیدا کر دی ہے، کہیں پر چند منٹ کے لیے انتظار کرنا پڑا تو یار لوگ فیس بک کھول کر کوئی سٹیٹس پڑھنے لگ جاتے ہیں، ایسا کرنے والے کبھی کسی وقت وہ چند منٹ قرآن پاک کی تلاوت یا ذکر کے لیے نکال لیں تو وقت نفع بخش ہوجائے گا۔ یہ تو رہا چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرنے کا معاملہ، ہم نے صرف یہ طے کرنا ہے کہ جب، جہاں وقت ملے، کوئی نیکی ضرور کرنی ہے۔ اس کی نوعیت کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے، اپنے حالات کے مطابق خود طے کر لیں۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان، سراپا رحمت (1) - سلمان اسلم

رمضان کی اہم ترین کمٹمنٹ قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی ہوسکتی ہے۔ ہر سال اس پر لکھتا ہوں، جس کسی نے وہ تجربہ کیا، اس نے اعتراف کیا کہ قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے زندگی میں تبدیلی کا احساس ہوا۔ سادہ سی بات ہے کہ رب کریم کا عظیم ترین پیغام ہم بچپن سے پڑھنے تو لگتے ہیں، مگر اس کے مفہوم سے بسا اوقات زندگی بھر بے خبر رہتے ہیں۔ رمضان کے اسی مہینے سے اس بے خبری کو ختم کرنے کا سوچیں اور باقاعدہ طور پرترجمہ پڑھنا شروع کر دیں۔ سید مودودی کی تفہیم القرآن مشہور تفسیر ہے، ان کا ترجمہ آسان اور بامحاورہ ہے، مولانا فتح محمد جالندھری کا ترجمہ مشہور ہے۔ مولانا احمد رضا خان، مفتی محمد شفیع کی تفسیر معارف القرآن، حاشیہ عثمانی، پیر کرم شاہ، علامہ اسد، مولانا اصلاحی، جاوید غامدی، غرض آپ کا جو بھی مسلک ہو، اپنے مزاج، پسند کے عالم دین کا انتخاب کر لیں۔ بے شمار تراجم دستیاب ہیں، نیٹ پر بھی نہایت آسانی سے تراجم دیکھے جا سکتے ہیں، موبائل ایپ موجود ہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے وقت کی مناسبت سے چند آیات پڑھنے کے بعد ترجمہ قرآن پڑھنا شروع کر دیں۔ جس طرح مطالعہ کے شوقین کتابوں کو پڑھنا شروع کر تے اورچند ہی دنوں میں مکمل کر کے دم لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک بار تو الم سے والناس تک قرآن پاک ترجمہ سے پڑھ لیں۔ پھر وقت نکال کر اسے غور سے پڑھتے رہیں۔ ترجمہ سے جب آپ پہلی بار پڑھیں گے تو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کلام واقعی کائنات کے خالق اور عظیم ترین قوت کا ہے۔ جو رعب، دبدبہ، ہیبت، روانی اور قوت اس میں ہے، وہ آپ کو بے شمار مسائل، واہموں، مغالطوں سے نجات دلا دے گی۔ قرآن پاک ترجمہ سے پڑھنا شروع کر دیا تو سمجھ لیں کہ دین اسلام سمجھ آنے لگ جائے گا۔ اگلا مرحلہ سیرت مبارکہ پڑھنے کا ہے۔ مجسم قرآن عالی جناب ﷺکی شخصیت ہے۔ آپ ﷺکی ذات مبارکہ، عادات، فرمودات کا مطالعہ کرنا شروع کریں، زندگی بدل کر رہ جائے گی۔ یہ محاورتاً نہیں حقیقتاً عرض کیا جارہا ہے، آزما کر دیکھ لیں۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک اور ہمارے رویے - محمد سلیم جباری

رمضان ریزولوشن میں اپنی شخصیت کے اندر مثبت تبدیلیاں لانے کی بات ضرور شامل کریں۔ یہ نہایت افسوسناک بات ہے کہ بطور مسلم امت ہمیں جس قسم کے اخلاق، کردار اور سچائی کا علم بردار ہونا چاہیے تھا، ہم ویسے نہیں۔ ہمارے اندر دیانت داری، لین دین کا کھرا پن، عہد کی پابندی، کاروباری اخلاقیات، نرم زبان، میٹھا لہجہ اور دیگر مومنانہ خصوصیات نام کی نہیں رہیں۔ افسوس کہ جن لوگوں کو مغرب میں یہودیوں سے معاملہ کرنے کا اتفاق ہوا، وہ متفق ہیں کہ کاروباری اخلاقیات میں یہودی کمیونٹی ہم مسلمانوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے اندر ہم ہر جگہ یہ دیکھتے ہیں کہ اہل مذہب خاص طور سے اپنے اخلاق اورمعاملات کے حوالے سے زیادہ مایوس کن اور خطرناک ہیں۔ ان سے جو بھی معاملہ کیا جائے، دوسرے کو تشویش ہی رہتی ہے۔ ہم سب اپنی نبی ﷺکے امتی اور عاشق رسول ﷺہونے کے دعوے دار ہیں، مگر ہماری زندگیوں میں عالی جناب کے مشکبار رنگوں کی ہلکی سی جھلک نظر نہیں آتی۔ اگر رمضان ریزولوشن میں ہم ایک اچھے امتی بننے کی کمٹمنٹ ہی کرڈالیں اور کوئی ایک اچھی عادت پختہ کر لیں جو ہمیں سیرت نبوی ﷺسے سیکھنے کو ملی تو یہ کمٹمنٹ ہزار بے نفع چیزوں پر بھاری ہے اور یقیناً رمضان کی کمٹمنٹ میں رب کی نصرت اور مدد شامل ہوگی۔ ہم اس طرف سوچنے اور پلان کرنے کی کوشش تو کریں۔ دو پلان بنائیں۔ ایک رمضان میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کا اور دوسرا سال بھر کے حوالے سے نئی نفع بخش، مثبت کمٹمنٹ کرنے کا پلان۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.