موسمی اور سدا بہار مسلمان - خدیجہ افضل مبشرہ

ہر سال کے رمضان کی طرح اس بار بھی پہلے روزے ہی بہت جگہوں پر پڑھ چکی ہوں "موسمی مسلمان"۔ کسی کا نمازیوں سے بھری مسجد دیکھ کر دکھی ہو جانا کہ پہلے کہاں تھے؟ کسی کا تراویح میں رش دیکھ کر طنز کرنا کہ "دوسرے عشرے میں دیکھیں گے" اور ایسا ہی بہت کچھ۔

بحیثیت مسلمان ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ کسی کی عبادت پر انگلی اٹھائیں۔ یہ خالص بندے اور اللہ کے بیچ کا معاملہ ہے۔ اگر ہمیں کسی کا اتنا ہی درد اور احساس ہے تو ہمیں اگلے کو جتائے اور بتائے بنا دل میں یہ دعا کر دینی چاہیے کہ "اے الٰہی اپنے اس بندے کو ہمیشہ کے لیے دینی اور نماز کا پابند بنا دیں۔ اور یقین مانیں یہ دعا اگلے کے ساتھ ساتھ اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کے حق میں بھی قبول فرمائیں گے۔ لفظوں اور رویوں کے خنجر سے دوسروں کے دلوں کو زخمی کرنا چھوڑ دیں۔ اللہ اور بندوں کے بیچ کا تعلق مضبوط نہیں بنا سکتے تو کمزور بھی مت کریں۔

بہت مشہور حدیث ہے کہ "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔" کیا خبر کہ آپ کی سارا سال کی عبادت، کسی دوسرے مسلمان بھائی کی عبادت پر انگلی اٹھانے اور طنز کرنے سے اکارت جائے؟ اور کسے خبر کہ آپ کی نظر میں سارا سال گناہوں میں ڈوبے ہوئے کسی نام نہاد مسلمان کی خلوص نیت اور خالص توبہ کی نیت پر پڑھی گئی ایک تراویح، ایک نماز، ایک روزہ اللہ کے ہاں مقبول ٹھہرے؟

کیا خبر یہ رمضان ساری عمر گناہوں میں ڈوبے ہوئے کسی مسلمان کا لمحۂ ہدایت ہو، اس کی زندگی کو پلٹ دینے والا وقت ہو۔ رمضان رحمت کا در ہے جو میرے رب کی طرف سے ہم سب کے لیے نیک بد اور اچھے برے کی تمیز کے بغیر کھلتا ہے۔ آپ مخلوق ہو کر مخلوق پر ہی اللہ کریم کے کھولے ہوئے دروازے بند مت کریں۔

خدارا! دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کی بجائے اپنا دامن دیکھیں۔ بھلے ہی آپ سدا بہار مسلمان ہوں گے مگر کون ہے ہم میں جو پارسائی کا دعوی کر سکے؟ کتنے ہیں ان سدا بہار مسلمانوں میں جو خود کو گناہوں سے بالکل پاک کہلا سکیں؟ جو رب ہمارے گناہ بخشنے پر قادر ہے وہ دوسروں کے گناہ بھی بخشنے والا ہے۔

جو رب ہمارا پردے رکھنے والا ہے وہ دوسروں کی بھی پردہ پوشی کرتا ہے۔ جو بھید اور پردے اللہ نے آپ کے ساتھ ساتھ دوسروں کے رکھے ہیں انہیں پارسائی کے زعم میں مت کھولیں۔ اس بابرکت مہینے میں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی بھلائی اور عافیت مانگیں۔ وہ رب سوہنا بہت بے نیاز ہے، بڑا سخی ہے۔ آپ بھی تنگ دلی چھوڑ کر اپنے رب کی صفت سخاوت کو اپنائیں۔ دل، نظر، سوچ ہر چیز میں سخی ہو کر سوچیں۔ اپنا دامن آگ سے بچانے کا سوچتے ہوئے اپنے بھائی کا بھی ضرور سوچیں۔ کیا پتہ آپ کی کشادہ دلی اور وسیع القلبی ہی اس محبوب رب تعالیٰ کو پسند آ جائے۔

اللہ تعالیٰ اس رمضان میں ہم سب کو گناہوں سے بچائیں، ہمیں اس ماہ مبارک کی ڈھیروں برکات نصیب فرمائیں اور ہمیں ایک متحد امت بنائیں۔ آمین!