ہم غیر جانبدار ہیں - رومانہ گوندل

اللہ کو ایک ماننا، اس ذات کے خالق و مالک ہونے کا اقرار کرنے کا نام توحید ہے۔ توحید کا اقرار، مطلب ہر شرک کی نفی۔ توحید اور شرک ایک دوسرے کی مکمل طور پر ضد ہیں۔ اللہ کی وحدنیت کا اقرار ہی دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔ کفر و شرک سے ایمان کی طرف پہلا اور سب سے بنیادی قدم توحید کا اقرا ر ہی ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر ایمان کا تصور ہی نہیں۔ اسلام کے باقی تمام ارکان اور عبادات کا اطلاق اس کے بعد ہوتا ہے۔ ایمان کے بعد بھی توحید ہی مسلمانوں کی ہر عبادت نماز، روزہ، قرآن، حج، زکٰوۃ، جہاد کی بنیاد ہے لیکن سب سے پہلے کلمہ ہے جو کہ پہلی اور بنیادی سیڑھی ہے۔ جس طرح پہلی سیڑھی پر قدم رکھے بغیر اوپر نہیں چڑھا جا سکتا اسی طرح کلمہ پڑھے بغیر کوئی دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا اور جب ایک انسان کلمہ پڑھ لیتا ہے تو وہ شرک سے ایمان کی طرف سفر کرتا ہے۔ ایک انسان مشرک ہے اور اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تو سب سے پہلا اقرار ذبان سے ہوگا اور یہ اقرار کلمہ پڑھ کے ہوگا: لا الہ الاللہ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں

اب اگر اس کلمے کے الفاظ پر غور کر یں تو اس کے دو حصے ہیں۔ آ غاز کہاں سے ہے؟ لا الہ کہ کوئی معبود نہیں۔ یہ کہہ کے انسان غیر جانبدار ہو گیا کہ وہ جس شرک میں تھا، اب اس میں نہیں رہا، اس سے نکل آیا ہے۔ لیکن ابھی تک ایمان میں داخل نہیں ہوا بلکہ وہ غیر جانبدار ہو گیا ہے کیونکہ وحدنیت کا اقرار ابھی باقی ہے، جب تک وہ یہ نہیں پڑھ لیتا الا للہ یعنی سوائے اللہ کے۔ یہ پڑھ کے وہ موحد ہو گیا۔ اس نے توحید کو قبول کر لیا۔ اب جانبدار ہوگیا۔ اس نے کفر کا انکار کر کے حق کا اقرار کر لیا۔

یہ کلمہ مسلمان کی پہلی تربیت ہے۔ اس لیے اس کے الفاظ اور مفہوم پر غور ضروری ہے۔ کلمے سے کیا سمجھ آ یا؟ یہ کہ غیر جانبداری کوئی چیز نہیں۔ انسان جانبدار ہوتا ہے یا حق کا یا پھر کفر کا۔

ہم سب کا ہر روز کئی حالات و واقعات سے واسطہ پڑتا ہے۔ کوئی ہمیں پسند آ جاتا ہے اور کسی کو ناپسند کرتے ہیں۔ کسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور کسی پر غصے اور دکھ کا۔ لیکن آ ج کل کے ماڈرن دور میں ایک اور ری اکشن سامنے آیا ہے، غیر جانبدار ہونے کا۔ بہت سے جرائم اور برائیاں جو ہمارے سامنے ہوتی ہیں لیکن ہم کسی کا ساتھ نہیں دیتے۔ نہ اچھائی کو ا چھائی کہتے ہیں اور نہ برائی کو برائی۔ بلکہ خاموش رہتے ہیں اور اس خاموشی کو غیر جانبداری کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ غیر جانبداری کچھ نہیں ہو تی اور نہ یہ قابلِ قبول ہے۔ کیونکہ ایسا ہوتا ہی نہیں کہ انسان کسی چیز کو دیکھے اور اس کے اندر کوئی اچھا یا برا احساس پیدا نہ ہو اور وہ احساس ہی اس کا اندر ہوتا ہے کہ وہ کس سائیڈ پر ہے۔

انسان اس دنیا میں عمل کے لیے بھیجا گیا ہے جس پر اس کا حساب ہونا ہے تو کیا وہ ہر معاملے میں غیر جانبدار بنا رہے۔ تو کیا اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا؟ یقیناً ہوگا۔ اللہ تو غیر جانبداری کا نہیں کسی عمل کا حکم دیتا ہے۔ بظاہر اگر غیر جانبدار رہے، خاموشی اختیار کرے تو بھی دل کا جھکاؤ کسی نہ کسی طرف ہوتا ہے تو انسان بھی اصل میں اسی طرف ہوتا ہے جس طرف اس کا دل ہوتا ہے۔ جہاں بول کے کسی کو روکا جاسکتا ہو وہاں چپ رہنا بھی ظلم کا ساتھ ہوتا ہے۔ کلمے سے یہی سبق دیا گیا ہے کہ جس طرح آدھا کلمہ پڑھ کے کفر سے نکلتا ہے لیکن ایمان میں داخل نہیں ہوتا۔ جب تک مکمل نہ کر لے۔ اسی طرح جب تک انسان کسی سائیڈ کو نہیں چنتا تو وہ درمیان میں ہی لٹکتا ہے اور درمیان میں لٹکنے والا کبھی منزل پر نہیں پہچنتا۔ اس لیے درست راستے کا انتخاب کرنا اور اس میں درست طرح سے چلنا ہوتا ہے۔

بنی اسرائیل نے بچھڑے کو معبود بنایا تو تین گروہ بن گئے۔ ایک وہ جنہوں نے اس کی عبادت کی، دوسرا وہ جو انہیں روکتے رہے لیکن تیسرے گروہ میں وہ لوگ تھے جنہوں نے نہ انہیں منع کیا اور نہ خود عبادت کی بلکہ جو غیر جانبدار رہے۔ تو وہ دونوں گروہ مجرم ٹھہرے جنہوں نے عبادت کی اور جو غیر جانبدار رہے۔ ایمان ان کا قابل قبول تھا جنہوں نے انہیں منع کیا تھا۔

ہمارے ہاں برائیاں اس لیے نہیں پھیل رہیں کہ کچھ لوگ وہ کر رہے ہیں بلکہ اس لیے پھیل رہی ہیں کہ جاننے والے لوگ یہ کہہ کے غیر جانبدار ہوگئے کہ ہر انسان کا اپنا عمل ہے جس میں وہ آزاد ہے۔ جو چاہے کر لے کوئی دوسرا اس کا ذمہ دار نہیں تو ایسا نہیں ہے۔ ہم ہر اس عمل کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں جس کا ہمیں پتا ہو یا جو ہمارے سامنے ہوا ہو۔ جس کو روکنے کی کوشش کر سکتے تھے، جو ہم نے نہیں کی۔ پچھلی قوموں پر جب جب بھی عذاب آئے تو صرف نا فرمان نہیں مارے گئے بلکہ غیر جانبدار بھی اس میں پکڑے گئے۔ جہاں ہمارے معاشرے میں لا تعداد جرائم اور برائیں جنم لے چکی ہیں، اس کے کرنے والے تو مجرم ہیں ہی لیکن وہ لوگ اس سے بڑے مجرم ہیں جو ان کو روک سکتے ہیں، لیکن روکتے نہیں۔ اس میں عام لوگوں سے لے کر انصاف اور قانون کی کرسیاں سنبھال کے بیٹھے ہوئے تک سب شامل ہیں جو عملاً غیر جانبدار بنے ہوئے ہیں۔ اس غیر جانبداری سے مجرم دندناتے پھر رہے ہیں، معصوم لوگ مر رہے ہیں۔ صرف قومی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی مسلمانوں کا بے دریغ قتل ہو رہا ہے لیکن مسلمان غیر جانبدار بنے بیٹھے ہیں۔