چڑی روزہ - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

فروری کا مہینہ تھا، انگلستان کا ٹھنڈا ٹھنڈا موسم اور رمضان المبارک کی آمد! روزے کا تصور ایک سہانا احساس تھا، اگرچہ اپنے دیس کی روح پرور فضاؤں سے اتنا دور تھے کہ نہ سحری کا وہ سماں ہوتا نہ افطار کا! سحری میں پورے ساز و آلات اور قوالیوں کے ساتھ جگانے والوں کا ہنگامہ تو رہا ایک طرف، اذان تک سنائی نہ دیتی۔ ایسے میں جب ہماری ننھی منی بچیوں نے روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو سچ مانیے ہمارا دل خوشی سے بھر گیا۔ ایک تو روزہ داروں میں اضافے کی خوشی اور دوسرا یہ احساس بھی کہ گوروں کے دیس میں وہ دینی احکامات سے بالکل ہی نا واقف نہ رہ جائیں۔

روزہ رکھنے سے پہلے ہم نے انہیں تفصیل سے روزہ اور اس کے لوازمات کے بارے میں بتایا، نماز کی ادائیگی کی یاد دہانی کروائی، قرآن کی تلاوت کی بھی۔ اس میں والدین کی نافرمانی اور لڑائی جھگڑے اور جھوٹ سے بچنے کے بارے میں بتایا، روزہ کب شروع ہوگا؟ کب کھلے گا؟ اس میں کیا کیا پابندی کرنی ہوگی، کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرناسب ان کے گوش گذار کیا، اگرچہ وہ اس سے پہلے بھی روزہ رکھ چکی تھیں مگر یاد دہانی ضروری تھی، ہماری ہدایات پر بیٹیوں کے سر بھی پنڈولیم کی طرح ہل رہے تھے، ہم نے اطمینان کا سانس لیا اور سحری کی تیاری شروع کر دی۔

سب سے چھوٹی بیٹی سمیہ ریسپشن میں تھی اور عائشہ پہلی جماعت میں جبکہ مریم، تیسری جماعت میں، اور عمر کے اس فرق سے بے نیاز تینوں ہی روزہ رکھنے کے لیے بے چین! رمضان المبارک کی پہلی رات انہیں نیند بھی نہ آ رہی تھی۔

سحری میں پراٹھے، انڈے اور دہی جیسے لوازمات کا بھی اہتمام تھا، جس سے روزہ آسانی سے گزر جاتا ہے۔ پہلے دو روزے گھر میں گزر گئے اور چھٹی میں خوب ہی گزرے۔ سب سے چھوٹی بیٹی خوب فریش رہتی۔ پھر سکول شروع ہوگیا، اور ہفتے کے پہلے دن یعنی پیر کو سہ پہر تین بجے جب میں انہیں لینے سکول پہنچی تو منجھلی بیٹی کی کلاس ٹیچر میرے پاس آ گئی اور بڑے تشویش ناک انداز میں بولی: ’’ڈو یو ناؤ یور ڈاٹر واز فاسٹنگ؟‘‘۔ (آپ جانتی ہیں کہ آپ کی بیٹی نے روزہ رکھا ہوا تھا۔)

میں پریشانی میں بولی: ’’یس، آئی ناؤ‘‘۔ میرا دل ابھی تک اس کے ’’واز‘‘ میں اٹکا ہوا تھا، تو کیا اب عائشہ کا روزہ نہیں ہے؟ ابھی افطار میں دو گھنٹے باقی ہیں۔

میرے اندیشے ابھی تک میرے اندر ہی سر اٹھا رہے تھے، انہیں اظہار کا مناسب لبادہ نہ ملا تھا، ٹیچر نے اگلا تیر چھوڑا، انتہائی پریشانی کے عالم میں: ’’ اتنی سی بچی سارا دن کھائے پیے بغیر کیسے رہ سکتی ہے؟‘‘

’’اوہ نو، آئی کانٹ امیجین، شی سیڈ: شی از فاسٹنگ ٹِل سن سیٹ، ہاؤ از اٹ پاسیبل؟‘‘۔

مس بیکر نے بتایا کہ جب کلاس کو حسب ِ معمول دودھ کی بوتل اور بسکٹ دیے گئے تو عائشہ نے لینے سے انکار کر دیا کہ میرا روزہ ہے اور ٹیچر کے استفسار پر اس نے روزے کی تفصیلات بیان کر دیں، بس ٹیچر کا دل دھک کر کے رہ گیا، اتنی چھوٹی سی بچی روزہ رکھے گی، کیسے؟ اس صورت ِ حال میں کلاس کے مسلمان بچوں سے پوچھا گیا، جن کے گھر میں رمضان تو شروع ہو چکا تھا مگر کسی بچے کا روزہ نہ تھا۔ ٹیچر حیران تھی کہ صرف ایک مسلمان بچی کا روزہ جبکہ اس کے کسی اور مسلمان ہم جماعت کا نہیں۔ ٹیچر پرائمری سیکشن کی انچارج کے پاس گئی اور وہ ایک مسلمان ٹیچر کے پاس، ایک بچی کا روزہ رکھنا ان سب کے لیے معمہ بن گیا تھا۔ مسلمان ٹیچر کا خیال تھا کہ ہمارے ہاں جب بڑے روزہ رکھتے ہیں تو بچے بھی شوق سے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں روزہ رکھنا ہے، وہ یونہی کہہ رہی ہوگی۔

وہ تینوں عائشہ کے پاس آئیں اور دوران ِ تفتیش معلوم ہوا کہ عائشہ کا واقعی روزہ ہے، اب تو انہیں خوب پریشانی ہوئی۔ مسلمان ٹیچر نے کہا: ’’عائشہ تم نے چڑی روزہ رکھا ہوگا؟‘‘۔ بچوں کا چڑی روزہ ہوتا ہے، جس میں دودھ بھی پی سکتے ہیں اور بسکٹ بھی کھا سکتے ہیں، بس آدھے دن کا روزہ ہوتا ہے۔

عائشہ نے اپنے ذہن پر زور دیا، اس نے تو کبھی چڑی روزے کا ذکر تک نہ سنا تھا، ٹیچر نے بچوں سے پوچھا: ’’بچے چڑی روزہ رکھتے ہیں نا؟‘‘، اکثریت نے اثبات میں سر ہلایا اور وضاحت کی کہ بچے دن میں تین چار روزے رکھ سکتے ہیں۔ ٹیچرز نے پھر عائشہ کو گھیر لیا، وہ دودھ نہیں پیے گی، بسکٹ نہیں کھائے گی تو اسے ٹیچر کی بات بھی سمجھ نہیں آئے گی۔ مسلمان ٹیچر نے بتایا: ’’دیکھو میں بھی مسلمان ہوں، میرے بچے بھی چڑی روزہ ہی رکھتے ہیں‘‘۔

عائشہ کو ان کی بات کا یقین آگیا تھا یا وہ اپنی جانب متوجہ آنکھوں کی تپش برداشت نہ کر پا رہی تھی، اس نے بسکٹ منہ میں رکھا اور غٹا غٹ دودھ پی کر بوتل ان کے حوالے کر دی۔

میں ٹیچر کی بات سن کر الجھے ذہن کے ساتھ اس صورت ِ حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جب عائشہ کوٹ پہن کر بستہ اٹھائے میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور مجھ سے کہنے لگی، ’’ امی جان، میڈم آسیہ تو مسلم ہیں نا؟ وہ بھی کہہ رہی تھیں کہ بچے چڑی روزہ رکھتے ہیں۔ ‘‘

مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کیا کہوں؟ اتنی دیر میں باقی دونوں بچیاں بھی آچکی تھی، روزے کی سلامتی کے ساتھ! انہوں نے کیسے روزہ بچا لیا تھا، اب مجھے ان پر حیرت تھی۔ سمیہ چونکہ ریسپشن میں تھی، اور اس کی انچارچ الگ تھی، اس لیے دوسری کلاس میں ہونے والی ہلچل سے بے خبر تھی اور سمیہ کو جب دودھ پیش کیا گیا تو اس نے یہ کہہ کر بوتل واپس کر دی: ’’آئی ڈونٹ وانٹ اٹ‘‘، ٹیچر نے دودھ کی بوتل اور بسکٹ واپس لے لی اور اسے کہا کہ جب وہ ریفرش منٹ لینا چاہے اسے بتا دے‘‘۔ رہی مریم تو خوش قسمتی سے اس کی کلاس میں ایک اور بچے کا بھی روزہ تھا اور کلاس ٹیچر بھی مسلمان تھی، لہٰذا کوئی مشکل پیش نہ آئی۔

اگلے دن ہم والدین ہیڈ ٹیچر کے کمرے میں موجود تھے، یہ پہلا موقع تھا ان کے آفس میں جانے کا۔ کمرہ خوب سجا ہوا تھا، کلام ِ اقبال کے بڑے بڑے لافتے، شاہیں بچوں کی جرأت اور بلند پروازی کے منظوم شہ پارے۔

یہ شاید ہماری خوش قسمتی کہ ہیڈ ٹیچر مسلمان تھے، پاکستانی مسلمان! سیالکوٹ کے رہنے والے، جن کی اقبال سے محبت اور الفت کمرے کی سجاوٹ میں دکھائی دے رہی تھی، مگر طویل عرصہ برطانیہ رہنے کے بعد وہ بھی کچھ کچھ انگریز ہی بن چکے تھے۔ انہوں نے بچوں کی صحت اور روزے کے مضر اثرات پر پورا لیکچر دے ڈالا اور اختتام ان کلمات سے کیا: ’’ ہم بھی چڑی روزہ ہی رکھتے تھے بچپن میں، ساری عمر پڑی ہے، رکھ لیں گے بچے روزے بھی، میں ذاتی طور پر بچوں کا روزہ ظلم ہی سمجھتا ہوں ان پر، اگر وہ چڑی روزہ رکھ کر خوش ہو جاتے ہیں تو خوش ہو لینے دیں انہیں۔‘‘

ان کے اتنے طویل لیکچر کا بھی ہم پر کوئی خاص اثر نہ ہوا تھا، بچوں کا روزہ رکھنا نہ رکھنا تو ایک طرف انہیں جھوٹی تسلی دینا کسی طرح بھی مناسب نہ لگ رہا تھا، ہمارے میاں قدرے ناگواری سے بولے: ’’پھر آپ کس وقت بچوں کو یہ بتاتے ہیں کہ چڑی روزے کا کوئی وجود نہیں، یہ محض جھوٹی تسلی ہے؟ اگر بچہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے جھوٹا روزہ رکھوانے کی ضرورت بھی کیا ہے؟‘‘

اور ہمارے میاں کے اسے جھوٹا روزہ کہنے پر پرنسپل صاحب تڑپ اٹھے لیکن میاں صاحب نے بات جاری رکھی: ’’آپ اس بچی کے بارے میں کیا کہیں گے، جس نے کل اپنی ٹیچر کے جھوٹ کو سچ سمجھ کر روزہ توڑ دیا کیونکہ اس کے والدین نے اس کو جھوٹی بات نہیں سکھائی، اس نے استاد کی بات پر اعتبار کیا لیکن اس پر کل شام کیا بیتی ہوگی جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی ٹیچر نے اس سے جھوٹ کہا تھا اور دودھ پینے اور بسکٹ کھانے سے اس کا روزہ ٹوٹ گیا ہے‘‘۔

پرنسپل صاحب سوچ میں پڑ گئے، یقیناً بچوں کی تربیت میں جھول ان کے یقین کو الجھا دے گا اور اب بھی یہ جھول سکول اور استاد کی جانب آیا ہے، کیا وہ آئندہ ٹیچر کی بات پر یقین کر سکے گی۔

’’ہم اپنے بچوں کو صحابہ اکرامؓ کے قصّے سناتے ہیں، ان کو سردارانِ جنت جناب حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کے روزے کا واقعہ بتاتے ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ نفل روزہ بھی رکھتے تھے، اگرچہ ان کے پاس کھانا کم ہوتا تھا اور سوال کرنے والے کو بھی دیتے تھے، آپ ہی بتائیے ہم اپنے بچوں کو ان کے رول ماڈل نہیں بتائیں گے، تو ان کی شخصیت میں مضبوطی کیسے آئے گی؟‘‘۔

’’کہاں عرب کی گرمی، صحرا کی تپش اور گرمیوں کے روزے اور حسن ؓو حسین ؓاور کئی بچوں کے روزے؟ یہاں تو موسم بھی بہت اچھا ہے اور روزہ بھی چھوٹا سا! اگر بچوں کے لیے ناقابل ِ برداشت ہوتا تو ہم ان کو اس مشقت میں ہی نہ ڈالتے اور عائشہ کو اگر ٹیچر اصرار نہ کرتیں تو وہ کچھ نہ کھاتی پیتی‘‘۔ میں نے بھی وضاحت کی۔

پھر آپ ہی بتائیے اس کا حل، انہوں نے سوچتے سوچتے گیند والدین کے کورٹ میں پھینک دی: ’’بہت آسان حل ہے، اگر بچہ آپ سے کہتا ہے کہ اس کا روزہ ہے تو اسے کچھ کھانے پر اصرار نہ کریں، اور اگر سکول میں اس کی کارکردگی میں روزے کی وجہ سے کمی آتی ہے تو والدین کو آگاہ کر دیں‘‘۔ والد صاحب نے حل بھی چٹکیوں میں بتا دیا۔

’’ٹھیک ہے اور اگر آپ کی بچی سکول میں صحیح طرح پرفارم نہ کر سکی تو آپ بھی اس کے روزہ رکھنے پر اصرار نہیں کریں گے۔ ‘‘

’’میں کلاس ٹیچر سے یہ بھی کہہ دیتا ہوں کہ روزے دار بچوں کو جسمانی ورزش سے استثنا دے دیا جائے‘‘۔ انہوں نے مثبت عملی تجویز بھی دے دی۔

سچ ہے، جہاں چاہ وہاں راہ!

Comments

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.