بگ بینگ تھیوری کی بگ پرابلم - رضا سلیم بٹ

کائنات کی ابتداء کیسے ہوئی؟ اس سوال نے انسان کو صدیوں سے تجسس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دنیائےِ سائنس میں اس سوال کا جواب دینے کے لیے رائج الوقت نظریہ "انفجارِ عظیم" یعنی بگ بینگ کہلاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملحدین اس نظریہ کو بنیاد بنا کر خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں جبکہ جدید تعلیم یافتہ مذہبی لوگ اس نظریے کو مذہب سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس نظریے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 2014ء میں Pontifical Academy of Science میں اپنے خطاب کے دوران Pope Francis کو یہ کہنا پڑا کہ" Big Bang Theory اور Theory of Evolution اور مذہب میں کوئی تضاد نہیں۔ ان دونوں نظریات کو تسلیم کرنے سے خدا کا کردار ختم نہیں ہوتا"۔

اسی روش پر عمل پیرا کچھ مغربی تعلیم یافتہ مسلمان بھی بگ بینگ تھیوری کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملحدین ہوں یا مذہب پسند دونوں کا مسئلہ یہ ہے کہ نہ ان کو بگ بینگ تھیوری کا مکمل ادراک ہے اور نہ ہی اس بات کا اندازہ ہے کے اس نظریے کے بہت سے پہلو آج بھی غیر ثابت شدہ ہے۔ وہ مسلمان جو قرآن کی آیات کو اپنے من چاہے معنیٰ پہنا کر اس نظریہ کو الہامی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو اس بات کی سمجھ ہونی چاہیے کہ یہ نظریہ آج بھی ابتداء کائنات کے اسرار کو پوری طرح بیان کرنے سے قاصر ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ بگ بینگ نے ابتداء کائنات کی گتھی سلجھانے کی بجائے مزید الجھا دی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ آئیے اب ان مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جن کا بگ بینگ تھیوری کے پاس اب تک کوئی جواب نہیں۔

بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ کچھ سائنسدانوں کے بقول بگ بینگ سے پہلے وقت ہی وجود نہیں رکھتا تھا تو اس کا مطلب ہے کچھ نہیں تھا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر بگ بینگ کے کیسے ہو گیا؟ کیوں کہ کسی بھی واقعے (Event) کو ہونے کے لیے سپیس اینڈ ٹائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے سائنسدانوں کے پاس کوئی حتمی جواب نہیں کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

نقطہِ انطلاق (Singularity) کا ظہور کیسے ہوا؟ دوسری پہیلی یہ ہے کہ Singularity یعنی وہ نقطہ جس میں دھماکے کے نتیجے میں کائنات معرض وجود میں آئی، اس نقطے (Singularity) کا ظہور کیسے ہوا؟ اس سوال کا سائنسدانوں کے پاس کوئی جواب نہیں۔

بگ بینگ کے فوراً بعد کیا ہوا؟

بگ بینگ کے فوراً بعد کیا ہوا؟ اب تک سائنسدان جو کچھ اندازہ لگا پائے ہیں وہ یہ کہ دھماکہ ہونے کے بعد ایک ملی سکینڈ کے بتیسویں حصہ میں کیا ہوا؟ مگر جیسے ہی سائنسدان ذرا پیچھے جاتے ہوئے ایک ملی سکینڈ کے اڑتیسویں حصے تک پہنچتے ہیں تو فزکس کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اس مقام پر درجہ حرارت اس قدر شدید تھا کہ Four Forces of Nature کا وجود ممکن نہیں۔ سائنسدانوں کے بقول اس مقام پر ایک ہی ایسی فرضی قوت (Hypothetical Force) تھی جس نے بعدازاں باقی چار Forces کو جنم دیا۔ اس "فرضی قوت" کا وجود ثابت کرنے کے لیے سائنسدانوں نے ایک مفروضاتی تھیوری بنائی ہے جیسے Grand Unification Theory یا (GUT) کہا جاتا ہے۔ مگر جب سائنسدان مزید پیچھے جاتے ہوئے ایک ملی سکینڈ کے بیالیسویں حصے تک پہنتے تو اس مقام پر فزکس کے مروجہ تمام قوانین کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں اور Break down ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس مقام پر ایک ایسی مہا تھیوری کی ضرورت پیش آتی ہے جو فزکس کے تمام قوانین کو ایک ہی تھیوری کے تابع کر دے۔ اس فرضی مہا تھیوری کو Theory of Everything یا (TOE) کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں تھیوزیر ابھی تک سائنسدانوں کے دماغوں میں تو ضرور ہیں مگر تجرباتی طور پر کوئی وجود نہیں رکھتیں۔

ضدِ مادہ (Anti Matter) کا وجود:

1928ء میں ماہر طبیعیات Paul Dirac نے ایک نظریہ پیش کیا کہ قدرتی طور پر مادے (Matter) کے وجود کے ساتھ ساتھ ضدِ مادہ یعنی Anti-Matter بھی اتنی ہی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ جب بھی مادہ اور اور ضدِ مادہ آپس میں تعمل (Interact) کرتے ہیں تو فنا (Annihilate) ہو جاتے ہیں۔ Paul Dirac اپنے اس نظریے کو تجرباتی طور پر ثابت نہیں کر سکے چنانچہ 1995ء میں CERN میں ایک تجربہ کے دوران ہائیڈروجن ایٹم کا ضدِ مادہ یعنی اینٹی ہائیڈروجن Anti-Hydrogen Atom کو پیدا کر کے ضدِ مادہ (Anti-Matter) کے وجود کو تجرباتی طور پر ثابت کر دیا گیا۔ مگر یہاں ایک ایسا سوال کھڑا ہو گیا جس نے آج کے دن تک سائنسدانوں کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ وہ سوال یہ ہے کہ اگر قدرتی طور پر مادہ اور ضدِ مادہ یکساں مقدار میں پایا جاتا ہے تو بگ بینگ کے نتیجے میں جب مادہ وجود میں آیا تو ظاہر سی بات ہے کہ اتنی ہی مقدار میں ضدِ مادہ بھی وجود میں آیا ہوگا۔ درجہ حرارت شدید ہونے کی وجہ سے مادہ اور ضدِ مادہ نے آپس میں تعمل (Interaction) بھی کیا ہو گا جس کا نتیجہ فناہی (Annihilation) ہے۔ اس فناہی کے نتیجے میں کائنات کا اپنی موجودہ حالت میں وجود ناممکن ہے۔ اس لیے یہ پہیلی آج تک حل نہیں ہو پائی کہ بگ بینگ کے وقت ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے کسی طرح کائنات میں مادے کی مقدار بڑھ گئی اور ضدِ مادہ غائب ہو گیا اور کائنات کا اپنی موجودہ حالت میں ظہور ممکن ہوا۔

مسئلہِ توازن (Fine Tuning Problem):

جب کسی جگہ کوئی دھماکہ ہوتا ہے تو دھماکے کے بعد وہاں پر موجود نظام زندگی درہم برہم ہو جاتا ہے یا اُس نظام زندگی میں ایک توازن اور ترتیب آ جاتی ہے؟ جی ہاں! بگ بینگ کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے جس کو "مسئلہِ توازن" Fine Tuning Problem کہا جاتا ہے۔ اگر ہماری کائنات ایک بہت بڑے دھماکے سے معرض وجود میں آئی ہے تو پوری کائنات میں حیران کن حد تک وہ توازن، یکسانیت، ترتیب اور ربط کیسے قائم ہوا کہ جس کی وجہ سے پہلے ہائیڈروجن اور ہیلیئم بنے۔ پھر مزید بھاری عناصر بنے جن سے سیارے، ستارے اور کہکشائیں بنی اور بالآخر زندگی کا ظہور ہوا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ماہرین طبیعیات نے ایک تھیوری بنائی ہے جسے Multiverse Theory کہا جاتا ہے۔ اس تھیوری کے مطابق ہماری کائنات اکیلی نہیں بلکہ ان گنت کائناتوں میں سے ایک کائنات ہے کہ جس میں اتفاقی طور پر وہ تمام حالات بن گئے جو زندگی کی پیدائش کے لیے موزوں تھے۔ اس تھیوری کو سائنسدانوں کی بہت بڑی تعداد کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کیونکہ ہماری کائنات کے علاوہ کسی اور کائنات کا وجود ہے؟ اس کو کسی بھی طور مشاہداتی یا تجرباتی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے سائنسدانوں کے بقول Multiverse Theory کی حیثیت ایک سائنسی افسانے سے زیادہ نہیں۔

سیاہ مادہ (Dark Matter):

ایک مسئلہ یہ ہے کہ کشش ثقل (Gravity) ہماری زمین اور نظام شمسی کے باقی سیاروں کی حد تک تو ٹھیک کام کرتی ہے مگر کہکشاؤں اور دیگر پیچیدہ ڈھانچوں پر پوری طرح نافذ (Apply) نہیں ہو پاتی۔ صرف کشش ثقل کی بنیاد پر کہکشاؤں کا وجود ناممکن ہے کیونکہ کشش ثقل کی قوت ایک کہکشاں کو جوڑ کر اکٹھا رکھنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سائنسدانوں نے ایک نظریہ پیش کیا کہ خلا (Space) محض خالی جگہ کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں ایک ایسا مادہ موجود ہے جو نظر نہیں آتا۔ اسی لیے اس مادے کو سیاہ مادہ (Dark Matter) کہا جاتا ہے۔ اسی کی وجہ سے کہکشاؤں کا وجود برقرار ہے۔ سائنسدانوں کے بقول کائنات کا 85 فیصد حصہ Dark Matter پر مشتمل ہے۔ لیکن یہاں بھی وہی مسئلہ ہے کہ Dark Matter کا وجود براہ راست تجرباتی طور پر ثابت نہیں ہو پا رہا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ کائنات کا 85 فیصد حصہ کیا ہے؟ بہت سے ماہرین طبعیات Dark Matter کے نظریہ سے اختلاف کرتے ہوئے متبادل نظریات پر کام کر رہے ہیں جیسے کہ Modified Newtonian Dynamics یا MOND اور String Theory پر کام کرنے والے سائنسدانوں کی طرف سے پیش کیے جانے والا Emergent Gravity کا نظریہ مگر ابھی تک کوئی بھی نظریہ بشمول Dark Matter براہ راست تجرباتی طور پر ثابت نہیں ہو پایا۔ ماہر طبیعیات Jim Peebles کے بقول "یہ بات باعث ندامت ہے کہ کائنات میں موجود مادے کا غالب ترین حصہ ابھی تک محض ایک مفروضہ ہے".

چپٹے پن کا مسئلہ (Flatness Problem):

ہماری کائنات بظاہر بلکل چپٹی (Flat) اور ہموار ہے۔ جس طرح ایک ربڑ کی شیٹ کو دونوں کناروں سے کھنچنے سے وہ اسی طرح چپٹے انداز سے کھنچتی چلی جائے گی، بلکل اسی طرح ہماری کائنات بھی بگ بینگ کے بعد چپٹیے انداز میں معرض وجود میں آئی اور اسی انداز سے پھیل رہی ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ بگ بینگ کے بعد کائنات میں مادے کی کثافت (Density) کا بہت نازک توازن قائم ہوا۔ اگر کائنات کی کثافت موجود کثافت سے زیادہ ہوتی تو کائنات کی کشش ثقل اس کو اندر کی جانب جھکا دیتی اور آہستہ آہستہ ایک وقت آتا جب کائنات منہدم ہو جاتی اور اگر کائنات کی کثافت موجودہ کثافت سے کم ہوتی تو کائنات بیضوی شکل میں باہر کی طرف مڑتی چلی جاتی اور آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہو کر ختم ہو جاتی۔ دونوں صورتوں میں کائنات کا موجودہ حالت میں وجود کسی بھی طور ممکن نا تھا۔ سو بگ بینگ کے نتیجے میں کائنات کا چپٹا پن کیسے قائم ہوا؟ اس مسئلے کو Flatness Problem کہتے ہیں۔

افقی مسئلہ (Horizon Problem):

"افقی مسئلہ" (Horizon Problem) کیا ہے؟ اس کو یوں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ایک دھماکہ ہوتا ہے تو سب سے زیادہ درجہ حرارت اس دھماکے کے مرکز میں ہوتا ہے۔ جیسے جیسے دھماکے کا اثر پھیلتا چلا جاتا ہے ویسے ویسے اس کا درجہ حرارت کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ مگر ہماری کائنات جس میں ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں کا فاصلہ لاکھوں نوری سال (Light Year) کا ہے۔ جبکہ کہکشاؤں کی کم سے کم تعداد 100 ارب ہے۔ عقل یہ کہتی ہے کہ دھماکے کے بعد جب یہ کائنات بنی اور پھیلانا شروع ہوئی تو بیرونی حصوں کا درجہ حرارت نسبتاً کم ہوتے چلا جانا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ کائنات کے دو مختلف کونے جن کا آپسی فاصلہ کائنات کی مجموعی عمر سے زیادہ ہے، یہ دونوں کونے ایک ہی درجہ حرارت رکھتے ہیں۔ ہاں ایسا ایک صورت میں ممکن ہے۔ جس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں کہ آپ گرم چائے کے کپ میں ٹھنڈا دودھ ڈال کے چھوڑ دیں، مکس نہ کریں۔ ٹھنڈا دودھ گرم چائے میں پھیلتا جائے گا اور کچھ دیر کے بعد دودھ اور چائے دونوں آپس میں مکس ہو جائیں گے اور کپ کا درجہ حرارت یکساں ہو جائے گا۔ کائنات کا درجہ حرارت یکساں ہونے کے لیے بھی بگ بینگ کے وقت ایسا کچھ ہونا ضروری ہے۔ یعنی بگ بینگ کے نتیجے میں جب مادہ وجود میں آیا تو اتنا وقت ہونا چاہیے تھا کہ جس میں تمام مادہ آپس میں مکس ہو جاتا تاکہ اس کے بعد وہ مادہ جیتنا مرضی پھیلتا چلا جاتا مگر اس کا درجہ حرارت یکساں ہوتا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ بگ بینگ ہونے کے فوراً بعد جب مادہ کا پھیلاؤ شروع ہوا تو اتنا وقت نہیں تھا کہ مادہ آپس میں پوری طرح مکس ہو پاتا۔ البتہ ایک صورت میں ایسا ممکن تھا کہ مادے کے آپس میں مکس ہونے کی رفتار روشنی کی رفتار سے تیز ہوتی۔ مگر ایسی صورت میں آئن سٹائین کی Theory of Relativity غلط ثابت ہوجاتی ہے۔ کیونکہ Theory of Relativity کے مطابق کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے تیز نہیں جا سکتی۔

چپٹے پن اور افقی مسئلے کو حل کرنے کے لیے چار سائنسدانوں نے 80ء کی دہائی میں Inflation Theory بنائی جو ریاضیاتی اعتبار سے ان دونوں مسائل کو کسی حد تک حل کرتی ہے مگر تجرباتی طور پر اس تھیوری کا وجود اب تک ثابت نہیں ہو سکا جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ Inflation Theory متنازع ہوتی جا رہی ہے۔ اس تھیوری کو بنانے والے چار سائنسدانوں میں سے ایک سائنسدان Paul Steinhardt بھی اس تھیوری کے خلاف ہو چکے ہیں اور اس تھیوری پر مزید تحقیق کرنے کو وقت کا ضیاع کہتے ہیں۔ پروفیسر Rupert Sheldrake جدید فزکس کے اس مجموعی المیہ پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں "جدید سائنس کی بنیاد ایک اصول پر کھڑی ہے، یعنی ہمیں ایک معجزہ دے دو اور اس کے بعد ہم ہر چیز کی وضاحت کر دیں گے۔ اور وہ معجزہ ہے مادے، انرجی اور وہ تمام قوانین جو ان کو چلاتے ہیں، ان سب کا یکدم " عدم وجود" (Nothingness) سے وجود میں آنا".

بگ بینگ تھیوری کے ان مسائل کو حل نا کر پانے کی وجہ سے بہت سے سائنسدانوں نے اس نظریے کے متبادل نظریات پر تحقیق کرنا شروع کر دیا ہے جیسے کہ Ekpyrotic model, Steady State Model, Bouncing Cosmology, Plasma Cosmology وغیرہ۔ مگر ان تمام نظریات کے ساتھ بھی وہی مسئلہ ہے جو بگ بینگ کے ساتھ ہے کہ یہ تمام نظریات بگ بینگ کے مسائل کا جواب دیتے دیتے مزید نئے سوالات کھڑے کر دیتے ہیں۔ سو ابتداء کائنات کو سمجھنے کے لیے انسان جتنا زیادہ گہرائی میں جا رہا ہے اتنا ہی کائنات کی پراسراریت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سائنس کیا کبھی اس اسرار پر سے پردہ اٹھا پائے گی؟ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔