رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (1) - یوسف ثانی

رمضان المبارک کی تراویح میں مکمل قرآن مجید سننے کے علاوہ ہم خود بھی تلاوت کرتے ہیں اور اللہ جنہیں توفیق دے، وہ ناظرہ تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے معنی و مفہوم کو بھی تراجم کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ استقبال ماہ رمضان کے سلسلہ اس مرتبہ دلیل میں ہم نے قرآن مجید میں موجود اوامر و نواہی کی موضوعاتی درجہ بندی کو چھ اقساط (1، 2، 3، 4، 5، 6) میں پیش کیا۔ رمضان المبارک کے دوران ہم کوشش کریں گے احادیث کی کتب میں موجود اوامر و نواہی کی موضوعاتی درجہ بندی کو چھ اقساط میں پیش کریں تاکہ قارئین دلیل میں مطالعہ حدیث کا ذوق بھی پیدا ہو۔ واضح رہے کہ دین اسلام میں قرآن مجید کے احکامات کی وہی تفسیر و تشریح قابل قبول ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعہ پیش کیے ہیں۔

1۔ ازدواجی زندگی:

عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر سب سے بڑا حق اس کی ماں کا ہے۔ (مستدرک حاکم) اگر میں کسی مخلوق کے لیے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے (ترمذی) جس عورت کا اس حال میں انتقال ہو کہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں جائے گی۔ (ترمذی) لوگو! اپنی بیویوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ جس کا گھر میں آنا تمہیں ناپسند ہو وہ اس کو گھر آنے کا موقع نہ دیں۔ اگر وہ ایسی غلطی کریں تو ان کو تم سزادے سکتے ہو جو زیادہ سخت نہ ہو۔ تمہارے ذمہ مناسب طریقے پر ان کے کھانے کپڑے کی ضروریات کا بدوبست کرنا ہے (مسلم) عورتوں سے بھلائی کرتے رہنا کیونکہ عورتوں کی پیدائش پسلی سے ہوئی ہے اور پسلی اوپر ہی کی طرف سے زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے۔ شوہر کی موجود گی میں اُس کی اجازت کے بغیر کسی عورت کا نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں (بخاری) بخیل شوہر کے مال سے بقدر ضرورت پوشیدہ طور پر کچھ لے لینا جائز ہے (بخاری) عورتو! صدقہ دو کہ میں نے جہنم میں اکثریت تمہاری ہی دیکھی ہے کیونکہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کے حسن معاملت کا انکار کرتی ہو۔ تمہارے شوہر اور تمہارے بچے سب سے زیادہ اس امر کے مستحق ہیں کہ تم انہیں صدقہ دو (بخاری) جہنم میں عورتوں کی کثرت کا سبب شوہر کا کفر کرنا اور اُن کا احسان نہ ماننا ہے (بخاری) اے عورتو! صدقہ دو اس لیے کہ میں (نبی ﷺ) نے تمہیں معراج میں زیادہ دوزخی دیکھا ہے۔ وہ اس لیے کہ تم لعن طعن کثرت سے کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو (بخاری) عرصہ دراز تک دور رہنے کے بعد رات کو گھر واپس نہ آیا کرو۔ کوئی مومن اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کوڑے سے نہ مارے (بخاری)۔ جو اپنی بیویوں کے ساتھ عدل نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا (ترمذی، نسائی)

نکاح:

جو نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو وہ نکاح کرلے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے اور شر مگاہ کو محفوظ رکھنے کا باعث ہے۔ جو نکاح کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ سے شہوت ختم ہوجاتی ہے (بخاری) قریش کی عورتیں بہتر ہیں، اولاد پر بہت مہربان اور شوہر کے مال کا بہت خیال رکھنے والیاں (بخاری) نبی ﷺ کا ایک صحابی ؓسے سوال: کسی کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ کسی عورت کا رشتہ طے ہوجانے کے بعد اُسی عورت کو اپنا رشتہ نہ بھجواؤ (بخاری) نکاح کے وقت عورتوں کے مال، نسب یا خوبصورتی کی بجائے اس کی دینداری کو فوقیت دینی چاہیے۔ مَردوں پر کوئی فتنہ عورتوں سے زیادہ ضرر رساں نہیں ہے۔ بیوہ عورت کا نکاح ا س کی اجازت کے بغیر کنواری کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہ کیا جائے۔ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے۔ کسی عورت کو اپنے خاوند سے یہ درخواست کرنا درست نہیں کہ وہ اس کی سوکن کو طلاق دے دے۔ جب کوئی بیوہ عورت پر کنواری سے نکاح کرے تو اُس کے پاس سات دن رہے پھر باری باری رہے۔ جب کسی کنواری پر بیوہ عورت سے نکاح کرے تو اُس کے پاس تین دن رہے پھر باری باری سے رہے (بخاری) تین کام ایسے ہیں جن میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ نماز جب اس کا وقت آجائے۔ جنازہ جب تیار ہوکر آجائے اور بے شوہر والی کا نکاح جب اس کے لیے مناسب جوڑ مل جائے (ترمذی) ’جب کوئی کسی عورت کو اپنے نکاح میں لائے تو یہ دعا کرے: ”اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَس ئَلُکَ تاوَشَرِّمَا جَبَل تَھَا عَلَی“ اے اللہ! اس میں اور اس کی فطرت میں جو خیر اور بھلائی ہو، میں تجھ سے اس کی استدعا کرتا ہوں اور اس میں اور اس کی فطرت میں جو شر اور برائی ہو اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں (ابو داؤد، ابن ماجہ) کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینا ہو تو اسے ایک نظر دیکھ لےنا گناہ نہیں۔ (مسند احمد، ابن ماجہ) شوہر دیدہ (بیوہ یا مطلقہ) عورت کو اپنے نفس پر اپنے ولی سے زیادہ حق اور اختیار ہے۔ (مسلم) کنواری کے نکاح سے قبل اس سے اجازت حاصل کی جائے، خاموشی بھی اجازت ہے۔ (مسلم) وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا خرچ کم سے کم ہو۔ (بیہقی)

ممنوعہ نکاح:

جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ دودھ پینے سے بھی حرام ہیں۔ دو بہنوں کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز نہیں۔ دودھ کا رضائی رشتہ جب ہی ثابت ہوتا ہے کہ بچے کی غذا دودھ ہو۔ کوئی عورت اپنی پھوپھی یا اپنی خالہ کے شوہر سے نکاح نہ کرے (بخاری) خیبر کے دن متعہ (مخصوص دورانیہ کے لیے عارضی نکاح کرنا) اور گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کردیا گیا تھا (بخاری)

ولیمہ:

جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو ضرور جائے (بخاری) ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو (بخاری) اُم المومنین حضرت صفیہؓ کے ولیمہ میں روٹی یا گوشت نہ تھا بلکہ صرف کھجوریں، پنیر اور گھی ڈال دی گئی تھیں (بخاری)

مہر:

نبی ﷺنے اپنی بیویوں کا مہر پانچ سو درہم (مساوی 1530 گرام چاندی) مقرر فرمایا تھا (مسلم) عورت اپنی مرضی سے طلاق لینا چاہے تو اُسے مہر واپس کرنا ہوگا (بخاری)

میاں، بیوی تعلقات:

اللہ کے ہاں وہ بدترین درجہ میں ہوگا جو بیوی سے ہم بستری کے بعد اس کا راز فاش کرے (مسلم) جب خاوند اپنی بیوی کو ہم بستری کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے اورخاوند اس پر غصہ ہوکر سوجائے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں (بخاری) حضرت عائشہؓ نبی ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی پھر آپ ﷺ اپنی بیویوں کے پاس جاتے اور ہم بستری فرماتے جب تم میں سے کوئی جنبی ہوتو وہ وضو کرکے سوئے (بخاری) ایک بار نبی ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات سے ایک مہینہ کا ایلاء (بطور شوہربیوی سے نہ ملنے کی قسم کھانا) کیا (بخاری)

عزل اور اولاد کا قتل:

عزل کرنے میں نہ کچھ فائدہ ہے اور نہ کچھ خوف ہے۔ کیونکہ جس جان نے پیدا ہونا ہے وہ ضرور پیدا ہوگی (بخاری) دوسرا بڑا گناہ اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ اس کو کھلانا پڑے گا (بخاری) اگر چاہو تو عزل (حمل سے بچنے کے لیے مباشرت کے دوران منی فرج سے باہر خارج کرنا) کرلو لیکن جو بات مقدر ہوچکا ہے وہ ہو کے رہے گا۔ (مسلم)

طلاق:

حلال اور جائز چیزوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیزطلاق ہے (ابو داؤد) سخت تکلیف کے بغیر شوہر سے طلاق کامطالبہ کرنے والی پر جنت کی خوشبو حرام ہے (مسند احمد، ترمذی)عورتوں کو طلاق نہ دو ا لّایہ کہ چال چلن مشتبہ ہو۔ ذائقہ چکھنے کے شوقین مردو زن نا پسندیدہ ہیں (طبرانی) کوئی عورت اپنی سوتن مسلمان بہن کو طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو بھی خود حاصل کرلے (بخاری) نکاح، طلاق اور رجعت (ایک یا دو طلاق کے بعد رجوع کرنا)تین ایسی چیزیں ہیں جن کا ہنسی مذاق کے طور پر کہنا بھی حقیقت ہی کے حکم میں ہے (ترمذی، ابو داؤد) زبردستی کی طلاق اور زبردستی کے ”عتاق“ (غلام آزاد کرنا) کا اعتبار نہیں۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ) طلاق دورانِ حیض نہیں بلکہ ایامِ طہر میں مباشرت کیے بغیر دینا چاہیے۔ طلاق بائنہ (غیر رجعی) کے بعد حلالہ کیے بغیر عورت پہلے شوہر کے پاس لوٹ نہیں جاسکتی (بخاری)

بیوہ کی عدت:

بیوہ کے لیے سرمہ لگانا جائز نہیں جب تک چارہ ماہ دس دن کی عدت نہ گزر جائے (بخاری) دورانِ عدت بیوہ رنگین کپڑے، زیورات نہ پہنے۔ نہ خضاب، مہندی یا سرمہ لگائے (ابو داؤد‘ نسائی) تین دن سے زیادہ سوگ منع ہے۔ شوہر کے انتقال پر چار مہینے دس دن سوگ کا حکم ہے (مسلم)

سفر عورت:

عورت کے لیے جائز نہیں کہ محرم کے بغیر ایک دن رات کی مسافت کا سفر کرے (بخاری)

2۔ اسلام، دین:

اسلام کی عمارت کے پانچ ستون: (1) شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں (2) نماز پڑھنا (3) زکوٰة دینا (4) حج کرنا (5) رمضان کے روزے رکھنا (بخاری) اسلام لاؤ گے تو قہر الہٰی سے بچ جاﺅگے (بخاری) دین بہت آسان ہے۔ جو شخص دین میں سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا (بخاری) تم لوگ راست و میانہ روی اختیار کرو اور خوش ہو جاﺅ کہ تمہیں ایسا آسان دین ملا ہے (بخاری) پانچ باتوں کا حکم دیا: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز پڑھنا اورزکوٰة دینا۔ رمضان کے روزے رکھنا اور مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں دینا (بخاری) دین میں آسانی پیدا کرو، سختی نہیں۔ لوگوں کو خوشخبری سناؤ، انہیں ڈرا ڈرا کرمتنفر نہیں (بخاری) تم لوگ دین میں آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو اور سختی کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے ہو (بخاری) ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا کیا جاتا ہے مگر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنالیتے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں بات یوں ہوئی تو میں یہودی ہوں تو وہ ویسا ہی ہوگا جیسا اس نے کہا ہے (بخاری) دین کے معاملے میں اُن بندوں پر نظر رکھو جو دین میں تم سے فائق اور بالاتر ہوں (ترمذی)

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک اور قرآن مجید (4) - یوسف ثانی

3۔ استخارہ : نماز اور دعا

رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کی تعلیم فرمایا کرتے تھے (بخاری) جب تم میں سے کوئی شخص کسی بھی کام کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے (بخاری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو تمام کاموں میں استخارہ اتنی اہمیت سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ انسان کی سعادت اورنیک بختی یہ ہے کہ اپنے کاموں میں استخارہ کرے اور بدنصیبی یہ ہے کہ استخارہ کو چھوڑ بیٹھے، اور انسان کی خوش نصیبی اس میں ہے کہ اس کے بارے میں کیے گئے اللہ کے ہر فیصلے پر راضی رہے اور بدبختی یہ ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرے (مشکوة) جو آدمی اپنے معاملات میں استخارہ کرتا ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا اور جو شخص اپنے کاموں میں مشورہ کرتا ہو اس کو کبھی شرمندگی یا پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے گا (طبرانی)

استخارہ کا طریقہ: دن رات میں کسی بھی وقت (جونماز کا مکروہ وقت نہ ہو) دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں۔ سلام پھیر کر استخارہ کی مسنون دعا مانگیں جس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے۔

استخارہ کی دعا کا مفہوم:”اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیری قدرت کے ساتھ طاقت طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا۔ تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو خوب جانتا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام میرے لیے، میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام ِکار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کا میرے حق میں فیصلہ کردے اور اسے میرے لیے آسان کردے۔ پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام میرے لیے، میرے دین، میرے معاش اور میرے انجامِ کار کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کردے اور مجھے اس سے دور کردے اور میرے لیے بھلائی کا فیصلہ کردے جہاں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی کردے“۔ (بخاری)

4۔ اطاعتِ امیر، حکمران، اور رعیت

جب معاملہ نااہل لوگوں کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا (بخاری) سنو اور اطاعت کرو اگرچہ کوئی حبشی ہی تم پر حاکم بنادیا جائے (بخاری) تم سب لوگ مسئول یعنی ذمہ دار ہو اور تم سب لوگوں سے تمہاری رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ ۔ امام بھی مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہوگی۔ مرد اپنے گھر میں مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کی باز پرس ہوگی۔ عورت اپنے شوہر کے گھر میں مسئولہ ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہوگی۔ خادم اپنے آقا کے مال میں مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہوگی (بخاری) جب بہت سے لوگ مشترکہ طریقہ پر کھارہے ہوں تو دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملاکر کھانا منع ہے (بخاری) امام کی بات سننا اور ماننا ہر شخص پر ضروری ہے، جب تک خلاف شرع نہ ہو۔ حکومت اور سرداری کے زیادہ لائق تم اس کو پاؤگے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو (بخاری) مسلمانوں کی جماعت اور برحق امام کے پیچھے رہو۔ اگر جماعت یا امام نہ ہوتو سب فرقوں سے الگ رہو (بخاری) اطاعت کرنا صرف اچھے کاموں میں لازم ہے۔ گناہ کے کام میں امام کی فرمانبردار ی ضروری نہیں (بخاری) جو قوم اپنے اوپر عورت کو حکمراں بنائے گی وہ ہرگز فلاح حاصل نہ کرسکے گی (بخاری) خلیفہ کے دو باطنی مشیر ہوتے ہیں۔ ایک اس کو خیر کی طرف اور دوسرا برائی کی طرف راغب کرتا ہے (بخاری) عہدہ کا مطالبہ کروگے تو ساری ذمہ داری تم پر ہوگی۔ لیکن اگر بن مانگے ملی تو پھر تمہاری مدد کی جائے گی (بخاری) جو شخص اپنے امیر میں کوئی نا پسندیدہ بات دیکھے تو صبر کرے (بخاری) حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک صاف کفر نہ دیکھ لیں (بخاری) سنو اور اطاعت کرو خواہ تم پر کسی حبشی غلام کو ہی عامل بنادیا جائے۔ جماعت کا ذمہ دار اگر معاملات میں خیانت کرے اور اسی حالت میں مرجائے تو اس پر جنت حرام ہے (بخاری) جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دُہرا ثواب ملتا ہے۔ (بخاری) اولوالامر یعنی خلیفہ یا امیر کا حکم مانو خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی ہو۔ (مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی) تم میرے اور میرے خلفاء کے طریقے کی پیروی کو اپنے اوپر لازم کرلینا اور دین میں نئی نکالی ہوئی باتوں سے اپنے آپ کو الگ رکھنا (مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)

5۔ اللہ اوررسول اللہ ﷺ

کسی اچھی بات میں اللہ و رسول کی نافرمانی نہ کرنا (بخاری) نماز قائم کرنے، زکوٰة ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کے اقرار پر نبی ﷺ سے بیعت کی گئی (بخاری) میرے نام پر اپنا نام رکھ لو مگر میری کنیت یعنی ابوالقاسم پر اپنا نام نہ رکھو (بخاری) سات قسم کے آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے۔ عادل حاکم، عبادت میں بڑا ہونے والا نوجوان، جس کا دل مسجدوں میں لگا رہتا ہو، جوصرف اللہ کے لیے دوستی کریں۔ جسے کوئی عورت بدکاری کے لیے بلائے اور وہ اللہ کے خوف سے انکار کردے، جو چھپا کر صدقہ دے، جو خلوت میں اللہ کو ایسے یاد کرے کہ آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجائیں (بخاری) جو شخص رسول اللہ ﷺپر جھوٹ بولے اسے چاہیئے کہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ ڈھونڈلے (بخاری) اللہ کے ننانوے ناموں کو یاد کرنے والا جنت میں داخل ہوگا (بخاری) جس نے نبی ﷺکی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ جس نے نبی ﷺ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ جس نے شرعی امیر کی اطاعت کی اس نے نبی ﷺکی اطاعت کی۔ جس نے شرعی امیر کی نافرمانی کی اس نے نبی ﷺکی نافرمانی کی۔ نبی ﷺ کے بعد کسی سے شرطِ موت پر بیعت نہ کریں گے (بخاری) جو شخص قصداً میرے اوپر جھوٹ لگائے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے (بخاری) رسول اللہ ﷺ اس طرح جلدی جلدی باتیں نہ کیا کرتے تھے جیسے عام لوگ کرتے ہیں (بخاری) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن ِآدم زمانہ کو بُرا کہہ کر مجھے ایذا دیتا ہے کیونکہ زمانہ میں ہی تو ہوں (بخاری) جو کچھ میں جانتا ہوں اگر اس کو تم جانتے تو ہنستے تھوڑا اور روتے زیادہ۔ نبی ﷺ (بخاری) جو میری سنت سے منہ پھیرے گا وہ مجھ سے نہیں (بخاری) اگر کوئی اللہ کی رضا کی بات کہہ کر اسے اہمیت نہ دے تو اللہ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے (بخاری) جونبی ﷺکی اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو نافرمانی کرے گا، گویا اس نے انکار کیا (بخاری) میں اللہ اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں۔ جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں (بخاری) نبیﷺ اپنے ذاتی کام خود کرتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر خود ہی اپنی ٹوٹی جوتی مرمت کر لیتے، خود ہی اپنا پھٹا ہوا کپڑا سی لیتے، اپنے کپڑوں میں جوئیں دیکھتے اور بکری کا دودھ بھی آپ خود ہی دوہ لیتے تھے (ترمذی) نبی ﷺ صحابہ کے اُکتا جانے کے خیال سے ہر روز وعظ نہ فرماتے تھے (بخاری)

صلوٰة و درود:

مجھ پر زیادہ صلوٰة بھیجنے والاقیامت کے دن مجھ سے قریب ترین اور مجھ پر زیادہ حق رکھنے والاہوگا۔ (ترمذی)جب تک کہ نبیﷺ پر درود نہ بھیجا جائے، دُعا آسمان اور زمین کے درمیان ہی رکی رہتی ہے۔ (ترمذی) جو میری قبرپر مجھ پر درود بھیجتا ہے، وہ میں خود سنتا ہوں۔ جودُور سے بھیجتا ہے وہ مجھ پرپہنچا یا جاتاہے (بیہقی)

6۔ اللہ کی پناہ:

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی، سُستی، بڑھاپے کی محتاجی زندگی والی بدترین عمر سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب، دجال کے فتنے اور زندگی و موت کے دیگر فتنوں سے (بخاری)۔ اے اللہ! میں بخیلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یا اللہ میں نامردی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یا اللہ میں نکمی عمر تک زندہ رہنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میں سستی اور بے انتہا بڑھاپے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ گناہ اور قرض و تاوان سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔ قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔ دوزخ کے فتنے اور دوزخ کے عذاب سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مالداری کے فتنے اور غربت کے فتنے سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مسیح دجال کے فتنے سے بھی یا اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:   روزہ دار کے دو پر، علم اور عمل – ڈاکٹر احمد عیسیٰ

7۔ اعمال اورنیت:

تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کونیت ہی کا صلہ ملتا ہے (بخاری) سب سے افضل عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا ہے، پھر اس کے بعد اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، اور اس کے بعد حجِ مبرور ہے (بخاری) اعمال کے نتیجے نیت کے موافق ہوتے ہیں، ہر شخص کے لیے وہی ہے جو وہ نیت کرے (بخاری) جب بندہ بیمار ہوجاتا ہے یا سفر کرتا ہے تو جس قدر عبادت وہ گھر میں رہ کر یا حالت ِصحت میں کیا کرتا تھا، وہ سب اس کے لیے لکھی جاتی ہیں (بخاری) اللہ نے مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ میں لوگوں کے دلوں میں جھانک کر دیکھوں (بخاری)

8۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر:

اچھی باتوں کا حکم دینے اوربُری باتوں سے منع کر نے والا اگر خود اِن پر عمل نہ کرے تو اسے آگ میں ڈالا جائے گا جہاں اس کی آنتیں نکل پڑیں گی۔ وہ اس طرح گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کو لے کر گھومتا ہے (بخاری) میرا پیغام لوگوں تک پہنچاو اگرچہ ایک آیت ہی سہی (بخاری) خلاف شرع باتوں کو ہاتھ سے اوراگر طاقت نہ ہو تو زبان سے بدلنے کی کوشش کرو (مسلم) اللہاُس بندہ کو شاداب رکھے جومیری حدیث کویاد کرے اور دوسروں تک پہنچائے (ترمذی، ابو داؤد)

9۔ انصاری، صحابہؓ اور اہل بیت:

انصار میں سے نیکو کار کی نیکی کو قبول کرو اور ان میں بدکار کی بدی سے درگذر کرو (بخاری) نبی ﷺ کی دعا: اے اللہ! تو حسن ؓسے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اُس سے بھی محبت فرما (بخاری) نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ کو بُرا نہ کہو (بخاری) انصار کے ساتھ سوائے مومن کے کوئی دوستی نہ رکھے گا اور سوائے منافق کے کوئی دشمنی نہ رکھے گا (بخاری) انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کی نیکی کو قبول کرنا اور ان کی برائی سے درگزر کرنا (بخاری)

10۔ ایمان کی پہچان:

وہ ایمان کی شیرینی کامزہ پائے گا، جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول ﷺسب سے زیادہ محبوب ہو۔ جس کسی سے محبت کرے تو اللہ ہی کے لیے محبت کرے۔ اور کفر میں واپس جانے کو ایسا بُرا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو سمجھتا ہے (بخاری) لا الٰہ الا اللہ کہنے والے کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو تو وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا (بخاری) جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے، اللہ کے ذمہ یہ وعدہ ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کردے گا (بخاری) جس نے کلمہ لا الٰہ الا اللہ کہا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا (بخاری) جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی تو اس کے بارے میں وہ ذمہ داری ختم ہوگئی جو اللہ کی طرف سے صاحب ایمان بندوں کے لیے ہے (ابن ماجہ)

11۔ برائی، بھلائی ؛ نیکی، گناہ:

بُرائی کا بدلہ اسی کے موافق دیا جاتا ہے مگر یہ کہ اللہ تعا لیٰ اس سے درگزر فرمائے (بخاری) سب سے بُرا اس کو پاؤگے جو ایک طرف ایک طرح بات کرے اور دوسری طرف دوسری طرح کی (بخاری) اللہ بدی کو بدی سے نہیں بلکہ بدی کو نیکی سے مٹا تا ہے۔ کیونکہ گندگی کبھی گندگی کو نہیں دھوسکتی۔ (مسند احمد) نیکی کا بدلہ دس گُنا سے سات سو گُنا تک ہے (بخاری) اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب دین کا وہ کام ہے، جسے ہمیشہ کیا جائے (بخاری) بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ ہر ایک صغیرہ گناہ کاکے لیے یہ کفارہ ہے (بخاری) راستے میں پڑی کانٹوں کی ایک شاخ کو ہٹانے پر اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو معاف کردیا (بخاری) تم میں بہتر وہ شخص ہے، جن کے اخلاق اچھے ہوں (بخاری) نیکی کے ارادہ پر ہی پوری نیکی اور عمل بھی کرلیا تو دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ بُرائی کا ارادہ کر کے خوف سے عمل نہیں کیاتو ایک نیکی کا ثواب ملے گا۔ اگر برائی کر لی تو ایک ہی گناہ ملے گا۔ جو دکھانے کے لیے کوئی نیک کام کرے گا تو اللہ قیامت کے دن اس کی بدنیتی سب کو سنادے گا (بخاری) جو روزے رکھتے، نمازیں پڑھتے اور صدقہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈرتے ہیں کہ کہیں اُن کی یہ عبادتیں قبول نہ کی جائیں۔ یہی لوگ بھلائیوں کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں (ترمذی وابن ماجہ)ہر برائی کے بعد نیکی کرو تو وہ اس کو مٹادے گی اورلوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آ ؤ (ترمذی) نماز نور ہے، صدقہ دلیل و برہان ہے اور صبر اُجالا ہے (مسلم) جس نے میری کوئی ایسی سنت زندہ کی جو میرے بعد ختم کردی گئی تھی تو اس شخص کوان پر عمل کرنے والے تمام بندگان خدا کے اجر و ثواب کے برابر اجر و ثواب ملے گا۔ (ترمذی) جس نے نیکی کے راستہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی تو اسے ان سب لوگوں کے اجروں کے برابر اجر ملے گا جو اس کی بات مان کراس راستہ پر عمل کریں گے۔ اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی (مسلم) تمہیں چاہیے کہ میانہ روی اختیار کرو اور اللہ کا قرب حاصل کرو (بخاری) خلوت و جلوت میں خوفِ خدا، خوشی و غصہ میںحق بات کہو، خوشحالی و تنگدستی میں میانہ روی اختیار کرو (بیہقی) اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص بھی ہدایت پا جائے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بڑھ کرہے (بخاری)

حق بات:

ہر موقع پر حق بات کہوخواہ وہ لوگوں کے لیے کڑوی ہی کیوں نہ ہو (مسند احمد) اللہ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو (مسند احمد)

گناہ اور گنہگاروں کی اقسام:

سب سے بڑا گناہ اللہ کا کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا (بخاری) سات تباہ کن گناہوں سے بچو: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی جان کو ناحق مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ سے بھاگنا اور پاک دامن و بے خبرمومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا (بخاری) کسی کو اللہ کا شریک بنانا سب سے بڑا گناہ ہے۔ تیسرا بڑا گناہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنا ہے (بخاری)۔ زانی زنا کرتے وقت، شرابی شراب پیتے وقت اور چور چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا۔ میری اُمت کی چند قومیں زنا کرنے کو، ریشم پہننے کو، شراب پینے کو اور باجوں کو حلال سمجھیں گی (بخاری) گنہگار کی مثال صنوبر کے پیڑ کی سی ہے کہ سیدھا سخت کھڑا رہتا ہے اللہ جب چاہتا ہے اسے اکھیڑ دیتا ہے (بخاری) اے میرے رب! میں نے گناہ کیا ہے، تو مجھے معاف کردے (بخاری) اُن گناہوں سے بچنے کی خاص طور سے کوشش کرو جن کو معمولی سمجھا جاتا ہے (ابن ماجہ، بیہقی) دنیا دار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا (بیہقی) دوسروں کے متعلق بدگمانی سے بچو، کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ میں نہ رہا کرو (مسلم) جاسوسوں کی طرح کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو (مسلم)نہ بغض و کینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو (مسلم) تکلیف اور ناگواری کے باوجود پوری طرح کامل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف قدم زیادہ پڑنااور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا منتظر رہنا، گناہوں کو مٹانے والے اعمال ہیں (مسلم) کوئی گناہ سر زد ہوجائے تو وضو کرکے نمازپڑھو اور معافی مانگو۔ اللہ معاف فرمادیتا ہے (ترمذی) اگر شادی کی عمر کو پہنچ جانے پر بھی اولاد کی شادی کا بندوبست نہیں کیا اور وہ اس کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہوگیا تو اس کا باپ اس گناہ کا ذمہ دار ہوگا۔ (بیہقی) سات مہلک اور تباہ کن گناہ :اللہ کی عبادت یا صفات میں کسی کو شریک کرنا، جادو کرنا، قتلِ ناحق، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد میں لشکر کاساتھ چھوڑ جانا، پاک دامن بندیوں پر زنا کی تہمت لگانا (مسلم) جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا۔ جو اس کی دعوت پر بدعملی کے مرتکب ہوں گے اور ان لوگوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی (مسلم) دین میں نکالی ہوئی ہر نئی بات بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے (مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی)

12۔ بہتان، غیبت، چغلی، مذاق :

ایسا بہتان کسی پر نہ باندھنا جس کو تم دیدہ و دانستہ اپنے سامنے بناﺅ (بخاری) لوگوں میں صلح کرانے کی کوشش میں کوئی اچھی بات کی چغلی کھانے والا شخص جھوٹا نہیں ہے (بخاری) غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے (بیہقی)گوز لگانے یعنی ہوا خارج کرنے پر ہنسنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے (بخاری)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں