مغربی تہذیب اور جدید چین کی وجودیات - محمد دین جوہر

آزادی (freedom) مغربی تہذیب کی بنیادی ترین قدر ہے۔ یہ کوئی مطلق قدر نہیں اور حریت (liberty) تو بالکل بھی نہیں کیونکہ انسان کے وجودی حالات میں یہ ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا اس تصور کو ”سے آزادی“ (emancipation) کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ یہ اصلاً مذہب کے مطالبات اور نیچر کے جبر ”سے آزادی“ کا بیک وقت سیاسی اور رومانوی داعیہ ہے۔ جدید انسان غیب اور شہود (فطرت) دونوں کا منکر اور باغی ہے، کیونکہ وہ غیب و شہود بھی اپنے مفروضے کے مطابق وضع کرتا ہے۔ قدر سے وابستگی چونکہ انسانی شعور اور عمل دونوں کی ساخت متعین کرتی ہے، اس لیے مغرب میں آزادی کی قدر سے جو تہذیبی ادراک پیدا ہوا، وہ جدید تاریخی اور سائنسی علوم میں سامنے آیا، اور جدید معاشی اور سیاسی عمل کی بنیاد بنا۔ اس ادراک میں اہم ترین نکتہ یہ رہا ہے کہ سیاسی عمل منتشر رہے اور معاشی عمل مرتکز ہو۔ جدید معاشرہ انسانی عمل کے بتدریج خاتمے اور میکانکی عمل کے مکمل غلبے سے تشکیل پایا ہے، کیونکہ بصورت دیگر ”سسٹم“ کا قیام ممکن نہیں بنایا جا سکتا۔

انسانی عمل پانچ طرح کے ہیں: عبادتی، اخلاقی، جمالیاتی، سیاسی اور میکانکی۔ مذہب کے کمزور ہو جانے یا اس کے مکمل انکار سے جدید انسان کے لیے عبادتی، اخلاقی اور جمالیاتی عمل کا امکان باقی نہ رہا۔ اور انسان کا آزاد حیاتیاتی/میکانکی عمل، سرمایہ دارانہ مشینی عمل میں ضم ہو کر ختم ہو گیا۔ اس صورت حال میں سیاسی عمل آخری انسانی عمل کے طور پر باقی رہا ہے اور اسے جدید معاشروں میں انسانی عمل کی یادگار کہا جا سکتا ہے۔ سیاسی عمل اپنے غیرمشینی انسانی سانچے کی وجہ سے سرمائے کے شدید ارتکاز کو قبول نہیں کر سکتا، اور اس کے عدم استحکام کے امکانات سے مملو ہوتا ہے۔ لیکن سیاسی عمل کی بتدریج تنظیم کاری اور کنٹرول، اس کی ضعف گری اور آخرکار تباہی کے بغیر سرمایہ دارانہ عمل کی کامیابی اور سرمایہ دارانہ معاشرے کا قیام یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سیاسی عمل اپنی وجودیات میں انسانی جبکہ معاشی عمل میکانکی ہے۔ سرمایہ دارانہ عمل اپنی بے رحم میکانکی توسیع اور سسٹم کی قوت پذیری کے باعث سیاسی عمل کو بھی نگل لیتا ہے، اور اس کا انسانی شرائط پر قیام مشکل ہو جاتا ہے۔ جدید عہد ہر نوع کے انسانی عمل پر میکانکی عمل کی مکمل فتح سے عبارت ہے، اور سیاسی عمل بھی آخرکار اسی انجام سے دوچار ہوتا ہے۔

گزارش ہے کہ مغربی تہذیب کی داخلی جدلیات افکار کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی عمل اور سرمایہ دارانہ عمل کے مابین بھی ظاہر ہوئی۔ جدید سیاسی عمل کا چار بڑے دھاروں میں ابتدا ہی سے منتشر ہو جانا سرمائے کی بالآخر فتح کی اصل بنیاد ثابت ہوا: یعنی (۱) ریاست؛ (۲) حکومت؛ اور (۳) حکومت کے لیے پارٹی پولٹکس اور ٹریڈ یونین ازم؛ اور (۴) میڈیا۔ ریاست کے سول اور فوجی ادارے، حکومت اور میڈیا جدید سیاسی عمل کی ایسی مستقل تنظیماتی اور میکانکی شکلیں ہیں، جن کی وجودیات سرمائے اور اس کے مشینی عمل سے اخذ ہوئی ہے اور وہ اسی سے ہم آہنگ ہیں۔ تنظیماتی سیاسی عمل اور مہا سرمائے میں عینیت تاریخی جبر کا لازمی نتیجہ ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ سیاسی عمل کی تنظیماتی شکلیں مستقل ہیں اور سرمائے کی ترجیحات سے ہم آہنگ اور ہم قدم ہیں۔ دوسری طرف حکومت تک رسائی کے لیے پارٹی پولٹکس اور ٹریڈ یونین ازم جدید سیاسی عمل کی ایسی خام انسانی شکلیں ہیں جن میں سرمائے کے بالمقابل کسی انسانی ایجنڈے کے پنپنے کا امکان کھلا رہتا ہے۔ مہا سرمائے کی ہیئت میں تبدیلی کے باعث ٹریڈ یونین ازم کا تو خاتمہ ہو چکا ہے، اور سیاسی عمل کی خام اور عوامی شکلیں یا تو ازحد کمزور ہو گئی ہیں یا وہ سرمائے کی قوتِ خرید کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں۔ سیاسی عمل کی خام اور باقی ماندہ عوامی شکلیں بھی جمہوری، مذہبی، نسلی، لسانی، سیکولر، لبرل، فسطائی، آمرانہ، پاپولسٹ، سوشلسٹ، اشتراکی وغیرہ کی فکری شناختوں کے تحت مکمل طور پر منتشر ہیں۔ خام اور عوامی سیاسی عمل کا مقصد مستقل تنظیماتی ہیئتوں تک رسائی ہے تاکہ عوام پر مہا سرمائے کی استحصالی پیشرفت اور ارتکازی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ لیکن سیاسی عمل کا یہ پہلو وقت کے ساتھ حد درجہ مضمحل اور کمزور ہو چکا ہے۔ سرمایہ دارانہ عمل اپنے آغاز ہی سے عالمگیر سطح پر خود کو منظم کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا، جبکہ اس کے متوازی کسی سیاسی عمل کا عالمگیر سطح پر منظم ہونا کبھی ممکن نہ ہو سکا۔ یہ صورت حال عصر حاضر میں سیاسی عمل کی لاچارگی کی بہت بڑی وجہ بنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ کیا ہو رہا ہے جناب؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

مغرب کی خون آشام تاریخ، عالمگیر تاراج اور شدید فکری انتشار سے اس امر کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اپنی بنیادی قدر سے پیدا ہونے والے افکار اور سیاسی اور سرمایہ دارانہ عمل میں کسی عظیم تالیف (grand synthesis) میں ناکام رہا ہے۔ لیکن چین مغربی تہذیب کی کوکھ سے پیدا ہونے والے سیاسی اور معاشی افکار و عمل میں عظیم تالیف کا آدرش واقعاتی طور پر حاصل کر چکا ہے۔ جمہوریہ چین نے جدید تاریخی تجربے کی تنقیح سے ہر ایسے خام اور عوامی سیاسی عمل کو مکمل طور پر رد کر دیا جو ”انسانی“ آرزؤں کا ترجمان ہو سکتا تھا، اور جو اپنی فعلیت میں مہا سرمائےکے عدم استحکام کا باعث بن سکتا تھا۔ اس فیصلے سے چین میں کارپوریٹ مہا سرمائے، سیاسی عمل کی تنظیماتی ہیئتوں اور ان کی اشتراکی جواز سازی سے ایک ایسی عظیم تالیف (grand synthesis) ممکن ہوئی ہے جو اس سے قبل کہیں سامنے نہیں آ سکی۔ جدید چین سیاسی عمل اور مہا سرمائے میں تضادات کے خاتمے سے ایک مکمل ترین مادی تہذیب قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انسانی آدرش کا حامل سیاسی عمل ”سسٹم“ کا سب سے بڑا تضاد تھا جسے چین نے مطلقاً ختم کر دیا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں عظیم تالیف کا حصول، فکر اور عمل کو یک ہدف بنا کر اس کی استعدادِ کار کو غیرمعمولی بنا دیتا ہے۔ ناچیز کی رائے میں اسی عظیم تالیف سے چین نے مادی ترقی کا وہ ہدف چار دہائیوں میں حاصل کر لیا، جس کے حصول میں مغرب کو چار سو سال لگے۔

مغرب کی جغرافیائی اور طاقت کی حدود سے باہر، مغرب کے اساسی افکار و اعمال کی اس عظیم تالیف (grand synthesis) کے مضمرات کیا ہوں گے؟ اس انہونی کا اول ادراک بھی مغرب ہی کو ہوا ہے جہاں اس صورت حال کو ”چائنا شاک“ (China Shock) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مغربی تہذیب عالمگیر حالات کے پیش نظر اپنی خارجی حرکیات کو تبدیل کرتی رہی ہے۔ لیکن عروجِ چین سے پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مغربی تہذیب اپنی داخلی حرکیات کو بدلنے پر بھی آمادہ دکھائی دیتی ہے۔ دہشت گردی کے بیانیے پر قائم ہونے والی عالمگیر خارجی پالیسی مغرب کے داخلی اضطراب اور عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ مغرب نے انسانی آزادی، ترقی اور حقوق انسانی کی سیاسی آڑ میں سرمایہ اندوزی کا جو ڈھونگ کئی صدیاں رچائے رکھا، وہ عروجِ چین کی موجودہ صورت حال میں برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ عروجِ چین کے باعث مغرب جس وجودی چیلنج سے دوچار ہوا ہے، وہ اس کی تمام جدلیاتوں، استعماری غارت گری کے خلاف تمام مزاحمتوں، اشتراکی للکار بازی اور دو عالمی جنگوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ صرف کرۂ ارض پر مغربی غلبے کو برقرار رکھنے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ مغرب کی تہذیبی اساس ہی کے مشتبہ ہو جانے کا مسئلہ ہے۔ اور یہ ایسا مسئلہ ہے جو کسی فکری اور عسکری جدلیات میں بھی حل نہیں ہو پا رہا۔ اس کا واحد حل گلوبل سسٹم میں ایسی ریڈیکل تبدیلی ہے جس میں چین غیر اہم ہو جائے، اور نائن الیون کے بعد سے امریکہ اور یورپ اسی کوشش میں ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تاریخ کے موجودہ لمحے میں مغرب ایسی کوئی فکری اور سیاسی استعداد اور وسائل نہیں رکھتا جو اس مقصد کے حصول میں معاون ہوں۔ اس کا لازمی نتیجہ گلوبل سسٹم کا بڑھتا ہوا عدم استحکام اور اس کے انہدام کا یقینی خطرہ ہے۔