کیا سمجھے؟ - رعایت اللہ فاروقی

فیس بک کے حوالداروں کی غلط بیانیاں اپنی جگہ لیکن دنیا بھر میں رائج قانون کے مطابق جب کوئی فوجی سمندری جہاز یا طیارہ کسی ملک پہنچتا ہے تو اس ملک کے فوجی اڈے پر لنگر انداز ہوتا یا اترتا ہے اور اس ملک کی فوج ہی اس کی میزبان ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ نے مختلف ممالک سے آنے والے فوجی سمندری جہازوں کو ہمیشہ ڈاکیارڈ میں ہمارے نیول بیس پر لنگر انداز ہوتے دیکھا ہوگا۔ آپ نے کبھی نہ دیکھا ہوگا کہ یہ جہاز کراچی پورٹ ٹرسٹ کی برتھ پر لنگر انداز ہوئے ہوں جو سول سمندری پورٹ ہے۔ بالکل اسی طرح فوجی طیارے اگر کبھی ہمارے کسی شہر میں اترتے ہیں تو پاکستان ایئرفورس کے ایئربیسز پر اترتے ہیں اور وہیں سے رخصت ہوتے ہیں۔

پاکستان کے تین اہم ترین شہروں میں ایئرپوٹس اور ایئربیسز یکجا رہے ہیں۔ یہ تین شہر لاہور، اسلام آباد اور پشاور ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ سول ایوی ایشن اور پاکستان ایئرفورس دو بالکل ہی الگ الگ ادارے ہیں۔ ان کی انتظامی حدود، پراپرٹی اور املاک کے حوالے سے یہ خود مختار ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کوئی بھی ادارہ اپنی کوئی چیز کسی دوسرے ادارے کو استعمال کے لیے دیتا ہے تو قاعدے قانون کے مطابق وہ چیز مفت میں نہیں بلکہ کرائے پر دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس کے حوالے سے تب تک پی اے ایف کی کرائے دار رہی ہے جب تک ان شہروں میں اپنے الگ ایئرپوٹ نہ بنا لیے گئے۔ ان قومی اداروں سے کرایہ وصول کرکے پاکستان ایئرفورس نے کوئی غلطی ہرگز نہیں کی لیکن مشرف دور میں اپنے کئی ایئربیسز امریکیوں کو مفت میں فراہم کرکے وہ شرمناک حرکت کی ہے جسے تاریخ کبھی نہ بھلا پائے گی۔

جن شہروں میں ایئرپورٹس اور ایئربیسز ایک ہی جگہ رہے ہیں وہاں بھی انتظامی طور پر یہ ایک دوسرے سے حد فاصل پر رہے ہیں۔ نہ ایئرفورس والے ایئرپورٹ کی انتظامی حدود میں جا سکتے ہیں اور نہ ہی ایئرپورٹ والے ایئربیس کی حدود میں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں سول ایوی ایشن والا حصہ "بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ" کہلاتا تھا جبکہ ایئرفورس والا حصہ "نور خان ایئربیس" کہلاتا ہے۔ دونوں کے سربراہ الگ، دونوں کی انتظامیہ الگ، دونوں کی حدود الگ اور اس حد تک الگ کہ اگر کوئی خبر ایئرفورس والے حصے سے آتی ہے تو رپورٹ ہوتا کہ نور خان ایئربیس پر یوں یوں ہوا۔ اور اگر سول ایوی ایشن والے حصے میں کچھ ہوتا تو خبر ہوتی کہ بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یوں یوں ہوا۔

یہ دو الگ الگ نام اس لیے استعمال ہوتے آئے ہیں کہ دونوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں۔ جو ایئربیس کی حدود میں وقوع پذیر ہوتا تھا اس کی مکمل ذمہ داری ایئربیس پر ہوتی اور جو ایئرپورٹ کی حدود میں ہوتا اس کی ذمہ داری ایئرپورٹ اور پاکستان کی سول حکومت پر ہوتی۔ اب ایسے میں کل ایک خبر آئی ہے ملاحظہ ہو

"راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر افغانستان کے بگرام ایئربیس سے آنے والا امریکی ایئرفورس کا سی 130 طیارہ اترا اور وہاں سے کرنل جوزف کو لے کر افغانستان لوٹ گیا"

کیا سمجھے؟

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.