سورۃ یٰسین پڑھنے کی گھڑی - عبداللہ طارق سہیل

ہر طرف غدار، غدار، لیجو، پکڑیو، کا وہ کہرام مچا کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دی اور اسی شور بے اماں میں امریکہ اپنے آدمی کرنل جوزف کو اٹھا کر لے گیا اور پاکستانی دیکھتے رہ گئے۔ ساڈا کی اے زور تگڑے دے ہتھ ڈور، یہ وہی کرنل جوزف تھا جس نے اندھی ڈرائیونگ کی اور دو پاکستانی نوجوان کچل دیے اور یہ وہی کرنل جوزف ہے جس کے ’’فرار‘‘ کی ایک کوشش ریاست پاکستان ایک دن پہلے ناکام بنانے کا دعویٰ کر چکی تھی جو شور قیامت برپا ہے، سابق وزیر اعظم نوازشریف نے غداری کمیشن بنانے کا مطالبہ کر کے ایک نئی جہت دے دی ہے۔ اور اسی شور میں ’’گائیڈڈ میڈیا‘‘ کو یہ فرصت ہی نہیں ملی کہ وہ غزہ کی پٹی پر ٹوٹنے والی تازہ قیامت کا ذکر ’’دوسری خبروں‘‘ ہی میں ڈال دیتا۔

’’دوسری خبریں‘‘ کی اصطلاح سے آج کل کے لوگ واقف نہیں۔ یہ کئی عشرے پہلے کی بات ہے۔ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی خبرنامے سمیت ان الفاظ میں خبریں شروع کرتے تھے کہ پہلے اہم خبریں سنیے۔ اہم خبروں کے پورے ہونے تک خبرنامے کا وقت تقریباً پورا ہو جاتا، جو ذرا سا دو اڑھائی منٹ بچتے، ان میں نیوز کاسٹر کہتے، اب آپ دوسری خبریں سنیے۔ اس حصہ میں کم اہم خبریں دی جاتیں۔

رات کے وقت ٹی وی چینلز نے غزہ کی خبر دینا شروع کی لیکن سرسری انداز میں، ’’دوسری خبروں‘‘ کے ضمن میں۔غزہ کے بارڈر پر اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کردی، 60 کے قریب نوجوان موقع پر شہید ہوگئے، زخمیوں کی تعداد اڑھائی تین ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ مظاہرین پر فائرنگ کا یہ واقعہ عالمی ریکارڈ ہے۔ غزہ کے مظاہرین بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی پر احتجاج کر رہے تھے۔ ایک دن پہلے غزہ کی حماس انتظامیہ کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کو مصر کے صدر جنرل السیسی نے بلایا تھا۔ خدا جانے، صبر کی پیشگی تلقین ہی کی ہوگی۔

غزہ والوں کی بدنصیبی اسی قسم کی ہے جس قسم کی مقبوضہ کشمیر والوں کی ہے۔ غزہ ایک بہت مختصر علاقہ ہے، ڈیڑھ سو مربع میل سے بھی کم رقبہ، چھ میل چوڑا، 25 میل لگ بھگ لمبا اور اس میں 20 لاکھ سے زیادہ انسان آباد ہیں۔ اتنے مختصر علاقے میں ڈھنگ کی گوریلا جنگ ممکن نہیں اور اگر کوئی کرے گا تو خمیازہ فی یہودی فوجی ایک ہزار شہادتوں کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ جنوب میں اس کی سرحد مصر سے لگتی ہے جو عملاً بند ہے۔ مصر سے کوئی امداد غزہ نہیں آ سکتی، دوا تک نہیں۔ مغرب میں سمندر ہے جو اسرائیلی کشتیوں سے بھرا رہتا ہے۔ مشرق اور شمال میں اسرائیل ہے۔ یہ نام نہاد فلسطینی ریاست کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ مغربی کنارے کا محدود علاقہ ہے، بیچ میں اسرائیل ہے۔ دونوں حصوں کے لوگ ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے۔ نقشے کی مثال کچھ کچھ ویسی ہی ہے جیسی مشرقی اور مغربی پاکستان کہ درمیان میں بھارت تھا لیکن رابطہ بہرحال ہو جاتا تھا۔ سمندر سے بھی فضا کے راستے سے بھی، یہاں فلسطینیوں کو ایسا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اسرائیل غزہ والوں کو بجلی گھر بھی بنانے نہیں دیتا چنانچہ چھوٹے چھوٹے ’’دیسی‘‘ قسم کے بجلی گھر ہیں جن کو اسرائیل جب چاہے راکٹ مار کر اڑا دیتا ہے۔ غزہ تنہا ریاست ہے (اگر اس پر ریاست کی تہمت لگائی جا سکے)۔ مصر سے سعودی عرب تک اور انڈونیشیا سے مراکش تک کوئی مسلمان ملک اس کا دوست نہیں۔ غزہ پر جب قیامت ٹوٹتی ہے (اور وہ اکثر ٹوٹتی رہتی ہے) تو ہمدردی کی آوازیں مسلمان ملکوں سے نہیں، یورپ کے اندر سے اٹھتی ہیں۔ کوئی انہیں ہتھیار تو کہاں، خوراک اور دوائیں بھی نہیں دیتا۔ یاسر عرفات کے مرنے کے بعد اس کا کوئی ’’عالمی سفیر‘‘ بھی نہیں رہا۔

غزہ کے بچے موت سے نہیں ڈرتے۔ بڑے بوڑھوں کو جس طرح یقین ہوتا ہے کہ اب وہ کسی بھی دن حوالہ اجل ہونے والے ہیں اور اس یقین کے بل پر وہ موت سے بے خوف ہو جاتے ہیں، اسی طرح غزہ کے بچوں کو شعور کی منزل تک پہنچنے سے پہلے یہ ادراک ہو جاتا ہے کہ کل نہیں تو پرسوں، انہیں مر جانا ہے۔ تین سال کے بچے بھی جانتے ہیں کہ ان کی باری آج کل میں آنے والی ہے، چنانچہ موت ان کے لیے کوئی ڈراوا نہیں رہ گیا۔

ایسا ہی معاملہ کشمیر کا ہے۔ ان کے پاس نسبتاً زیادہ علاقہ ہے لیکن اتنا زیادہ بہرحال نہیں کہ کوئی کامیاب گوریلا جنگ لڑی جا سکے۔ آپ کشمیر (مقبوضہ) کا نقشہ اٹھائیے۔ جو حصے چین کے قبضے میں ہیں (اکسائی چین اور شمال میں ایک پٹی) انہیں نکال دیں تو باقی سارا رقبہ کم و بیش اتنا ہی رہ جاتا ہے جتنا ہمارا گلگت کا اور یہ سارا علاقہ کشمیر بھی نہیں ہے۔ اس میں لداخ کے علاقے بدھ اکثریت کے، جنوب میں جموں ہندو اکثریت کا ہے۔ جسے ہم وادی کشمیر کہتے ہیں اور جہاں کم و بیش سارے کشمیری مسلمان آباد ہیں، وہ ہمارے آزاد کشمیر سے بس تھوڑا سا بڑا علاقہ ہے۔ چنانچہ گوریلا جنگ کے لیے کافی جگہ بالکل دستیاب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجاہدین آزادی کبھی بھارتی کیمپ پر حملہ کر کے بھاگ جاتے ہیں تو بھارتی فوج تعاقب کر کے انہیں بہت جلد گھیر لیتی ہے۔ کشمیر کی آبادی قابض طاقت سے کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی۔ ستر لاکھ کی مسلمان آبادی ہے۔ بوڑھے اور عورتیں نکال دیں تو کل 25,20 لاکھ کی آبادی ہے جو جلسے کرسکتی ہے، جلوس نکال سکتی ہے، مظاہرے کرسکتی ہے اور بھارتی فوج پر پتھراؤ کرسکتی ہے۔ اس پچیس لاکھ کی آبادی کے لیے بھارت کی دو تین لاکھ فوج اور اتنی ہی بارڈر فورس ہے اور پولیس اس کے علاوہ۔ یعنی ہر تین کشمیریوں پر بندوق کی ایک نالی تنی رہتی ہے، ٹینک الگ سے۔

مایوس کن صورتحال کی وجہ صرف یہی منظر نہیں، یہ بھی ہے کہ اہل غزہ کی طرح دنیا میں ان کا بھی کوئی غمگسار نہیں، مددگار ہونا تو بہت دور کی بات ہے کشمیر میں کتنا ہی قتل عام ہو، کبھی سنا کہ سعودی عرب نے، چین نے، برطانیہ یا فرانس نے، امریکہ یا آسٹریلیا نے کبھی مذمت کی ہو۔ بس پاکستان تھا جو کچھ عرصہ پہلے تک ان کی تھوڑی بہت عملی مدد کردیا کرتا تھا۔ اب یہ عملی مدد اصولی مدد میں بدل گئی ہے۔ اصولی مدد کے معنی آپ جانتے ہی ہیں۔

قدیم ہندی محاورے میں اصولی مدد کا ترجمہ یوں کہ چڑھ جا بیٹا سولی رام بھلی کرے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک جماعت اسلامی پاکستان کے کارکن اپنے جلوسوں میں کشمیریوں کی اصولی مدد کرنے کے لیے تصویری پوسٹروں کی نمائش کیا کرتے تھے۔ ان پوسٹروں پر کشمیری ماؤں کو حوصلہ دیا جاتا تھا کہ فکر مت کرو، تمہارے بچے جنت میں تمہیں واپس مل جائیں گے۔ ’’یوٹرن‘‘ والے سال کے بعد سے یہ پوسٹر بھی غائب ہو گئے۔

کشمیریوں اور اہل غزہ میں ایک فرق البتہ ہے اور وہ آبادی کا ہے۔ کشمیری ستر، پچھتر لاکھ ہیں۔ ان کا صفایا ہوتے ہوئے کئی عشرے لگ جائیں گے پھر کشمیر میں بہرحال فاقہ کشی اور دوائیں نہ ہونے کا مسئلہ نہیں ہے۔ غزہ کی آبادی صرف 20 لاکھ ہے، بیماریوں کا ڈیرہ ہے۔ غذا کم یاب، دوائی نایاب ہے، شرح شہادت زیادہ ہے۔ چنانچہ غزہ کا مسئلہ قلیل مدتی حل کے بہت زیادہ قریب ہے۔ سورۃ یٰسین کی تلاوت کی جائے تو مریض کی تکلیف کم ہو جاتی ہے۔ وہ قید زندگی سے رہا ہو جاتا ہے۔ بظاہر اہل غزہ کے لیے یہ گھڑی سورۃ یٰسین پڑھنے کی ہے۔ غزہ پر ٹوٹنے والی قیامت سے یہ بھی طے ہوگیا کہ قبلہ اول اب پونے دو ارب مسلمانوں کا مسئلہ نہیں رہا، یہ صرف 20 لاکھ اہل غزہ کا درد سر ہے۔