غدّار کون؟ محب وطن کون؟ - ڈاکٹر طاہر مسعود

یہ شکوہ اکثر کیا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں بڑی آسانی سے کسی کو بھی غداری کا سرٹیفکیٹ تھما دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ اچھی بات نہیں۔ فتویٰ کفر کا ہو یا سرٹیفکیٹ غداری کا، بنا تحقیق و تفتیش کے کسی کو بھی مورد الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے لیکن کیا یہ سوال قابل غور نہیں کہ غدار عموماً ہم مسلمانوں ہی میں کیوں اور کیسے پیدا ہو جاتے ہیں؟ اس خطے میں انگریزوں نے مسلمان غداروں ہی کی مدد سے اپنی حکومت قائم کی۔ ہندوستان کو ہندوستان ہی کی تلوار سے فتح کیا اور یہ تلوار مسلم حکمرانوں کے یہی غداران وطن تھے جنہوں نے انگریزوں سے درپردہ مل کر کبھی نواب سراج الدولہ، کبھی ٹیپو سلطان اور کبھی بہادر شاہ ظفر کو شکست سے دوچار کیا۔ بعد میں تو ان غداروں کا انجام بھی عبرت ناک ہی ہوا لیکن شکست اور ذلت کا جو داغ لگنا تھا وہ تو لگا اور یہ عقدہ ہنوز لاینحل ہے کہ بے وفائی اور غداری ہماری صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کی سرشت میں کیوں پائی جاتی ہے؟ بعض مسلمان اغیار سے مل کر اپنوں، اپنے ہم مذہبوں اور ہم وطنوں ہی کے لیے درپے آزار کیوں ہو جاتے ہیں؟

ماضی کے میر جعفر، میر صادق اور الٰہی بخش آج بھی ہمارے درمیان ہیں۔ وہ آج بھی دھن دولت کے لیے اغیار کے ہاتھوں استعمال ہونے پر آمادہ و تیار رہتے ہیں وہ جس دھرتی پر آنکھیں کھولتے جس مٹی پر کھیل کود کر جوان ہوتے، جہاں کا پانی پیتے اور جہاں کے رزق سے خود کو جوان کرتے جن اداروں سے تعلیم پاتے اور جس ہوا اور فضا میں سانسیں لیتے ہیں اس کا عوض تو کیا دیں گے خود اس وطن اور اپنے ہم وطنوں کا وقت پڑنے پر سودا کرنے میں نہ شرماتے ہیں اور نہ ذرا بھی ہچکچاتے ہیں۔ کبھی سمجھ نہیں سکا انہیں کیسی ماؤں نے جنا ہے اور کن نامبارک ہاتھوں میں یہ پلے بڑھے ہیں؟ ایسے یہ بدقماشوں کی وجہ سے ہم لوگوں کا امیج بیرونی دنیا میں ایسا بن چکا کہ ایک امریکی سینیٹر کی یہ گالی بھی ہمیں سننی پڑی کہ پاکستانیوں کا کیا ہے وہ تو چند ڈالروں کے لیے اپنی ماؤں کو بھی بیچ ڈالیں۔ یہ گالی ہم نے سنی اور اسے پی گئے۔ حکومتی سطح پر بھی کوئی احتجاج نہ ہوا۔ ہم آج بھی ایسے لوگوں کو بھگتنے اور برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ دنیا میں کہاں اور کس ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ حکمرانی کے لیے باہر سے وزیر اعظم درآمد کیے جائیں اور جس دن وزارت عظمیٰ کی معیاد مکمل ہو وہ اپنا بریف کیس اٹھائے وی وی آئی پی پروٹوکول کے مزے لوٹتے ہوئے گرین چینل کے رستے جہاں سے آئے تھے اسی سمت پرواز کر جائیں؟

یہی کھیل تماشے ساٹھ، ستر برسوں سے اس ملک میں ہو رہے ہیں۔ ہمارے عوام جو بے چارے ناخواندہ اور سادہ لوح ہیں کہ اس ملک کے بدخواہ تو نہیں ہیں لیکن بدخواہوں کو کندھوں پر بٹھا کر اقتدار کے راج سنگھاسن تک پہنچانے میں طاق ہیں ایک بار جس کے ہو جائیں اس کی ساری نالائقیاں اور بدمعاشیاں سامنے آ جائیں تو بھی اس کے دامن سے چمٹے رہتے ہیں، اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے گھر کو گھر کے چراغ ہی سے آگ لگ جائے تو اس آگ پر قابو پانے کی فکر کسے ہو اور کیوں ہو؟

ہم اپنے مصائب کا ذمہ دار یہود و ہنود کی سازش کو ٹھہراتے ہیں ممکن ہے اس میں بھی کوئی صداقت ہو تو ہو لیکن سچی اور سو فیصدی حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اپنی تباہی کے لیے ہم خود بہت کافی ہیں۔ ہمیں کسی بیرونی دشمن اور سازشی عناصر کی ضرورت نہیں۔ ہمارے اندر ہی ہمارے دشمن موجود ہیں، ان کی سازشیں ہی ہماری بربادی کے لیے بہت ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہم میں سے بہت سوں نے اپنے ہی ملک کو اپنا نہیں سمجھا ہے۔ وہ جسے انگریزی میں کہتے ہیں Sense of Ownership کو ہم اپنے وطن کو اپنی ملکیت سمجھیں۔ یہ جانیں کہ یہ ہمارا وطن ہے اس کا نقصان ہمارا ذاتی نقصان ہے اور اس کی ترقی ہماری اپنی ترقی ہے۔ ملک آگے بڑھے گا تو ہم آگے بڑھیں گے ملک گڑھے میں گرے گا تو ہم اوندھے منہ گریں گے۔ نہیں! یہ احساس پوری شدت و حدت کے ساتھ کیا خود ان لوگوں میں ہے جن کے ہاتھوں میں زمام اقتدار رہا ہے؟ حب وطن یا وطن سے محبت کوئی ایسا جذبہ تو نہیں جسے بدن میں سوئی سے انجیکٹ کر کے پیدا کیا جائے۔

جذبہ حب الوطنی تو فقط احساس اور جذبے کا نام ہے جو قلبی اور ذہنی تعلق سے پیدا ہوتا ہے جب یہ تعلق گہرائی میں جا کر اتر کر محسوس ہی نہ ہو تو پھر کیسا وطن اور کہاں کی محبت؟ میں تو سلام کرتا ہوں اس وطن عزیز کے شاعروں، گلوکاروں اور موسیقاروں کو جنہوں نے اس مصیبت زدہ ٹوٹے پھوٹے دولخت ہوئے ملک کے لیے ایسے دل کش و دل ربا ملّی نغمے لکھے اور ایسے جذبے سے گائے ہیں کہ اس کی کوئی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں ملتی ہی نہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ ان ہی ملّی نغموں نے وطن کی شان میں گائے اور لکھے گئے ان گیتوں نے جذبہ حب الوطنی کی آبیاری میں جو کردار ادا کیا ہے ابھی تو اس کا ٹھیک طرح سے اندازہ بھی نہیں لگایا گیا ہے۔

جنگ، آسمانی آفات، کھیل کود کا میدان یا دہشت گردی کے واقعات پر،سانحے پر، المیے کے، خوشی اور غم کے مواقع پر ہمارے شعرا، ہمارے گلوکاروں اور موسیقاروں نے اپنے ہم وطنوں کے احساسات کو زبان دی ہے اور اپنے جذبوں سے اہل ملک کے جذبوں کو جگایا بھی ہے ان گیتوں میں جو کچھ کہا یا لکھا گیا ہے ذرا تصور کیجیے کہ وہ اوصاف اور خصائص ہمارے اندر کتنے اور کس قدر ہیں؟ اور اگر نہیں ہیں تو کیا وہ خوبیاں ہمارے اندر نہیں ہونی چاہیئیں؟ ہاں! یہ ٹھیک ہے کہ ہماری صفوں میں غدار بھی ہوں گے وطن فروش بھی ہوں گے، قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر قربان کرنے والے کچھ کم نہ ہوں گے لیکن حیرت ان پر نہیں، تعجب تو ان پر ہے کہ صحیح معنوں میں محب وطن وہ ہیں جو خالی ہاتھ اور خالی پیٹ ہیں۔ وطن کو اپنا وطن وہ سمجھتا ہے جو تہی دست ہے۔ خدمت اور قربانی بھی اسی کی ہے جس کو کچھ نہیں ملا اور لوٹ مار کر کے عیش و آرام کی زندگی گزارنے والوں کے دلوں میں نہ اس ملک کا درد ہے اور نہ انہیں یہاں کے ننگے بھوکے لوگوں کی کوئی فکر ہے شکوہ سنج اور ملک سے وہ ہے جسے اس ملک نے سب سے زیادہ نوازا۔ اور شکر گزار وہ جسے آج بھی اچھے دنوں کا انتظار اور امید ہے۔ گز گز بھر زبانیں ان ہی کی ہیں جنہوں نے اس ملک کی زبانی کلامی خدمت کی ہے اور عملاً سارے فائدے اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لیے سمیٹے اور بٹورے ہیں۔ انہیں کون پوچھتا ہے جو دن رات اس ملک کے عوام کی خدمت پر مامور ہیں۔ چاہے سرحدوں پر راتوں کو جاگ جاگ کر پہرہ دینے والے چھوٹے رینک کے فوجی ہوں یا سڑک کے کنارے بیٹھ کر جوتے گانٹھنے والا موچی اور سبزیاں بیچنے والا معمولی دکاندار۔

وطن عزیز میں جو ہاہا کار مچی ہوئی ہے وہ بے وجہ نہیں ہے۔ ٹاک شوز، سوشل میڈیا ہی نہیں، چائے خانوں، ویگنوں، دکانوں اور گھر کی محفلوں میں بھی ہر زبان پہ یہی بحران زیر بحث ہے کہ اب تخت گرانے اور تاج اچھالے جانے کا وقت دور نہیں۔ وہ وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ جنہوں نے لوٹ کا مال اپنے بنک اکاؤنٹ میں ڈھیر کر رکھا ہے، جن کے موٹے پیٹ حرام کی کمائی سے بھرے ہوئے ہیں اب ان سے حساب کتاب ہونا چاہیے۔ ان کے سر جھکا کے چلنے کی رسم کا خاتمہ ہونا چاہیے کہ سر اٹھا کے چلنے کے دن جلد یا بدیر آ جانا چاہیئیں۔ آخر کب تک Have اور Have not کا غیر انسانی تماشا ہم دیکھتے رہیں گے۔ کچھ وہ لوگ کہ جنہیں طبقہ اشرافیہ کا نام دیا جاتا ہے، سب کچھ ان ہی کے پاس ہے اتنا کچھ کہ جس کا شمار وہ خود بھی نہ کر سکیں اور باقی وہ الم نصیب طبقے ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔ یہاں تک کہ سر چھپانے کا ٹھکانہ تک نہیں۔ جو جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے اپنی بچیوں کو، بچوں بیچ ڈالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور جن کے پاس بیچنے کے لیے اولاد بھی نہیں وہ اوور ہیڈ برجوں، پارکوں اور فٹ پاتھوں پر اپنی راتیں سیاہ کرتے ہیں۔ ایسے منظروں کو دیکھ دیکھ کر ہماری آنکھیں پتھرا چکی ہیں اور اعصاب شل ہو چکے ہیں کہ اب ایسے المیے ہمارے قلب میں تاسف کا احساس بھی پیدا نہیں کرتے۔ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا نصیب ہے۔ نہیں یہ تقدیر کا ہرگز کھیل نہیں! یہ اس ظالمانہ اور استحصالی نظام کا نتیجہ ہے کہ اس میں عدل، مساوات اور منصفانہ تقسیم دولت کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اس گلے سڑے نظام کو ایک زور دار دھکے سے گرایا جانا چاہیے اور اس کی جگہ تقسیم زر کا وہ نظام لایا جانا چاہیے جس میں کم سے کم ہر غریب آدمی کو سر چھپانے، تن ڈھانپنے اور پیٹ بھرنے کا آسرا تو ہو۔ اگر کوئی جمہوری نظام یہ حقوق محروم طبقات کو نہ دے سکے تو اس پر بھی غور ہونا چاہیے کہ اس سے بہتر نظام کیوں کر لایا جا سکتا ہے؟

انسانی ذہن اور انسانی تدبیر کے دروازے مقفل نہیں ہوئے کہ ہم اپنے مخصوص حالات کی روشنی میں چناؤ کا اور حکمرانی کرنے کے طریقوں کا کوئی نیا عادلانہ اور ترقی پسندانہ نظام وضع نہ کر سکیں۔ مغرب کا جمہوری نظام ان کے تاریخی حالات اور ارتقائی عمل کے نتیجے میں روبہ عمل آیا اور یہ ظاہر کامیاب ہی نظر آتا ہے لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کا پودا بدیس سے درآمد کیا گیا اور اور اسے ہم نے اپنی ضروریات، محدودات اور معروضی حقائق کے تناظر میں کانٹ چھانٹ کر قابل قبول اور مفید و موثر بنا کر رائج نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس جمہوری طریقے سے آنے والی سست رفتار تبدیلی کی بابت غالب کی زبان میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

جب معاشرے میں عدل و انصاف اور تعزیر و احتساب نہ ہوں گے تو غداروں ہی کی افزائش ہوگی اور ہو رہی ہے!