عوامی لیڈر نامنظور - حبیب الرحمٰن

پاکستان میں حکومتوں کا سلسلے وار الٹ پلٹ ہونا اپنے اندر ایک کربناک کہانی رکھتا ہے۔ اس کربناکی میں جو "کراہ" سنائی دیتی ہے ممکن ہے کہ میرے کان اس کو جس طرح اور جس انداز میں سن رہے ہوں دوسروں کے کان اس کراہ کو اس طرح اور اس اندازمیں نہ سن رہے ہوں۔ مجھے اس کراہ میں جو آواز ابھرتی اور گونجتی سنائی دیتی ہے وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ "عوامی لیڈر نامنظور!"

قائد اعظم محمد علی جناحؒ شاید پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی کمزوری تھے اور ان کے ہوتے شاید یہ ممکن نہیں تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اس بات کی غلطی کر بیٹھتی کہ اپنی طاقت آزماتی۔ ورنہ "زیارت" کے چکر تو باقاعدگی سے کیے جارہے تھے۔ یہ طواف اس لیے نہیں تھا کہ قائد کی تیمارداری کی جائے یا خیریت دریافت کی جائے بلکہ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا تھا کہ قائد کی زندگی کے کتنے سانس باقی ہیں؟ اس دوران، جبکہ قائد شدید علیل تھے شاید ان کو اس بات کا اندازہ تھا کہ ان کے بعد اسٹیبلشمنٹ اس ملک کے ساتھ کیا کرنے والی ہے اسی لیے قائد نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ "افواج پاکستان کو حکومتی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں اور پارلیمنٹ کا کام نہ صرف قانون سازی کرنا ہے بلکہ وہی ایک ایسا ادارہ ہے جس کو ہر ادارے پر برتری حاصل ہے۔" شاید یہی وجہ تھی کہ قائد کے رحلت کرجانے کے باوجود اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کو اس بات کی فوری طور پر جرات نہ ہو سکی کہ اقتدار پر قبضہ کیا جا سکے۔

ایسا کرنے لیے ابھی میدان کو مزید ہموار کرنا تھا جس کے لیے اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ عوام کی نظر میں سیاسی قائدین کو گرایا جائے تاکہ ان کے اقتدار پر براجمان ہونے کو عوام ناپسند نہ کر سکیں۔ اس سب کے لیے بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ کوئی بھی ایسا فرد جو کسی بھی وقت عوامی مقبولیت حاصل کرسکتا ہو اس کو جس طرح بھی ہوسکے عوام کی نظروں میں گرایا جائے اور اگر اس کام میں کوئی دشواری پیش آئے اور ایسا کرنا ممکنات میں سے نہ رہے تو اسے راستے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہٹادیا جائے۔

قائدؒ کے بعد پاکستان کی معتبر ترین ہستی اور آپؒ کے دست راست انسان لیاقت علی خان کے علاوہ اور کوئی ہو نہیں سکتا تھا۔ مسلم لیگ میں اگر کوئی قائدؒ کا سچا اور تحریک پاکستان کا مخلص ترین کوئی انسان ہو سکتا تھا تو وہ لیاقت علی خان ہی تھے، جن کے اخلاص کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ آج کل کے حساب سے جو اس وقت کا کھرب پتی ہو سکتا تھا وہ لیاقت علی خان ہی تھے لیکن جب وہ شہید کیے گئے تو ان کے تن پر جو بنیان تھا وہ بھی پھٹا ہوا تھا اور ان کے گھر کی الماری سے ان کے جو ذاتی لباس برآمد ہوئے وہ بھی پرانے اور بہت قلیل تھے۔ پاکستان بنا تو انڈیا میں بننے والے سفارت خانے کو اپنی کوٹھی وقف کردی۔

لیاقت علی خان نے ایک نہایت مفلس، بدحال اور غریب ملک کا اقتدار سنبھالا تو دو، تین برس میں ہی یوں محسوس ہونے لگا کہ پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا بلکہ دوڑنے بھی لگے گا۔ یہ سارے انداز ایک سیاست دان کو عوامی لیڈر بنانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اسٹیبلشمنٹ کے لیے سوہان روح بن سکتی تھی اور ان کا مستقبل تاریک ہو سکتا تھا۔ اگر ان کو اپنے مستقبل کی تاریکی کی فکر نہیں ہوتی تو پاکستان کا مستقبل نہ جانے کتنا روشن ہو چکا ہوتا؟ یہ بات ممکن ہے کہ کچھ اذہان پر بار گراں ہو لیکن جو جوں میں آ گے بڑھوں گا توں توں ممکن ہے کہ میرے مخالفین مجھ سے نزدیک تر ہوتے جائیں۔ لیاقت علی خان کی عوامی مقبولیت کو ہر صورت میں ختم کرنا تھا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اس کو عوامی انداز میں ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پاکستان ایک نوزائدہ ملک تھا اور اس وقت کوئی اور قابل ذکر شخصیت بھی ایسی موجود نہیں تھی جس کو ان کے مقابلے پر پیش کیا جاسکتا تھا چنانچہ ایک ہی راستہ تھا کہ "نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری"۔ لیاقت باغ راولپنڈی جو نہ جانے اس وقت کس نام سے پکاراجاتا تھا، ان کا مقام شہادت ٹھہرا اور وہ "اللہ پاکستان کی حفاظت کرے" کی آخری تمنا کو دہراتے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ قتل کی آخری نشانی کو بھی "نشانہ" بنا کر جرم کا ہر نشان ہمشہ ہمیشہ کے لیے مٹا دیا گیا۔

لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد میدان خود ہی ہموار ہوتا گیا۔ اوپر تلے وزیر اعظموں کی تبدیلی نے ملک پر قبضے کے خواب دیکھنے والوں کو تعبیر دی۔ پہلے مارشل لا کی طوالت کے لیے بھی یہ بات بے حد ضروری تھی کہ کوئی عوامی لیڈر پاکستان میں نہ ابھر سکے جس کی دو مثالی خود ایوبی دور میں سامنے آئیں، جن میں اعظم خان اور محترمہ فاطمہ جناحؒ شامل ہیں۔ اعظم خان جو خود بھی وردی والے تھے لیکن پاکستان کے ساتھ بہت محبت رکھتے تھے۔ گورنر ہونے کے باوجود خود عوام کا خادم سمجھتے تھے اور عوامی انداز میں عوام میں مقبولیت اختیار کرتے جا رہے تھے چنانچہ ضروری ہو گیا تھا کہ ان کو عوام سے دور ہی نہیں بہت دور کر دیا جائے سو ایسا ہی کیا گیا اور ان کو عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کی شخصیت تو تھی ہی بہت بلند۔ ایسی شخصیات تو حکمرانوں کے لیے ہوتی ہی خطرہ ہیں لہٰذا ضروری تھا کہ ان کے نام و نمود کو خاک میں ملایا جائے لہٰذا ان پر بھارتی ایجنٹ کا الزام لگادیا گیا اور عوام سے دور رکھنے کے لیے ان کی تحریر، تقریر اور تصویر تک پر تا قیامت پابندی لگادی گئی۔

پھر حالات نے ایسی کروٹ اختیار کی کہ ایک نہیں دو دو عوامی رہنما پیدا ہوئے۔ شیخ مجیب نے اس وقت کے مشرقی پاکستان میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑے تو بھٹو نے اس وقت کے مغربی پاکستان میں۔ اسٹیبلشمنٹ خوب آگاہ تھی کہ مجیب کے حوالے اقتدار کرنے کا مطلب خود اس کی موت ہے جبکہ بھٹو کو اقتدار دینے میں بچت کے کافی امکانات ہیں۔ مجیب کی جیت کو دبانے کے لیے پاکستان کی بہترین فوج کو استعمال کیا گیا جس نے مشرقی پاکستان میں موجود اقلیت (بہاریوں) کو اپنے ساتھ ملاکر عوامی طاقت کو دبانے کی کوشش کی لیکن اس کوشش میں بہاریوں، ہمدرد پاکستانیوں، افواج پاکستان اور خود پاکستان کو بہت بڑا صدمہ اٹھانا پڑا اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   تولے گئے، ہلکے ثابت ہوگئے - محمد عامر خاکوانی

اسٹیبلشمنٹ خود اتنے ضعف کا شکار ہوئی کہ ایک سویلین (بھٹو) کو ایڈمنسٹریٹیو اختیارات سونپنے پڑے۔ شیخ مجیب جس کو عوامی لیڈر کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی اس سے نجات کے لیے ملک کا دولخت ہوجانا تو گوارا کر ہی لیا تھا لیکن مغربی پاکستان میں بھٹو کا یکا و تنہا لیڈر بن کر ابھرنا بھی کسی کو کیسے گوارا ہو سکتا تھا۔ جن حالات میں بھٹو کو تخت نشینی ملی ان کو دیکھتے ہوئے کوئی اس بات کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستان ری-اسٹبلشڈ ہو جائے گا لیکن پاکستان نہ صرف پوری دنیا میں پاکستان کہلایا بلکہ اس مختصر عرصہ میں پاکستان میں آگے پیچھے دو آئین بھی بنا لیے گئے۔ ایک عبوری اور دوسرا مستقل۔

آئین کا بن جانا ہر ادارے کو اپنی اپنی سرحدوں میں محدود کر دیتا ہے۔ ایک جانب آئینی جکڑ بندیاں اور دوسری جانب ایک پاکستانی کا پاکستان کے عوامی رہنما کے طور پر ابھرنا اور چھا جانا کوئی ایسی گولی نہیں تھی جس کو آسانی کے ساتھ نگلا جا سکتا تھا لہٰذا ضروری تھا کہ راہ کے اس کانٹے کو جس حد تک ممکن ہو سکے ہٹایا جائے۔ شاید اس بات کو خود بھٹو صاحب کو بہت ادراک تھا لہٰذا انہوں نے بھی افواج پاکستان کو محدود کرنے کے لیے "ایف ایس ایف" کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ملک کے اندرونی انتظامات کو سنبھالنا تھا اور فوج کو سرحدوں کی محافظت کے لیے مخصوص کر دینا تھا۔ یہ بات اچھی تھی یا خراب، اس سے قطع نظر اس بات کو افواج پاکستان گوارا نہ کر سکیں۔ پہلے تو کوشش کی گئی کہ تمام حکومت مخالف جماعتوں کو جمع کرکے اس کا سیاسی میدان میں مقابلہ کیا جائے لیکن اس میں ناکامی کے بعد مارشل لا کا نفاذ بہرصورت لازمی قرار پایا۔ بات یہاں پر ہی ختم ہوجاتی تب بھی اسٹیبلشمنٹ کو آنے والے دور میں بہت خوفناک حالات کو سامنا کرنا پڑتا۔ اس لیے اس بات کی یقینی بنایا گیا کہ پاکستان ہی کے نہیں، مسلم دنیا کے ایک مقبول لیڈر کو اپنی راہوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہٹا دیا جائے۔ کیونکہ بھٹو کی مقبولیت بہت ہی اعلیٰ تھی اس لیے اس کا زندہ رہ جانا نہ جانے کن کن کی موت کا سبب بنتا اس لیے ان کو اپنی راہ سے ہٹا ہی دیا گیا۔

اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 11 سالہ دور کے بعد جو الیکشن ہوئے اس میں جیتنے والی پارٹی بھٹو ہی کی تھی۔ عوام نے اس کی بیٹی کو اقتدار کی سب سے بڑی کرسی تک پہنچایا۔ جس کی بیٹی کو عوام میں اتنی پذیرائی ملی اگر وہ خود زندہ ہوتا تو پھر کیا حال ہوتا؟ اس الیکشن سے قبل بھی پاکستان میں مارشل لائی دور میں ایک جھوٹا سچا الیکشن کرایا گیا اور ضیاء نے از خود اپنی پسند کے مطابق ملک کا ایک وزیر اعظم چنا۔ محمد خان جونیجو نے اقتدار سنبھالتے ہی عوامی سطح کے کام زور شور سے شروع کر دیے۔ دنیا جانتی تھی کہ یہ ایک "ڈمی" وزیر اعظم ہے لیکن عوام میں بڑھتی ہوئی مقبولیت مقتدر اعلیٰ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجانے لگی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وزیر اعظم، ان کی کیبنیٹ اور اسمبلیاں، سب ایک ساتھ ملیامیٹ کر دی گئیں۔

اس مرتبہ تاریخ میں پہلی بار ایک حکومت نے اپنے ہاتھوں بنائی گئی حکومت پر "کرپشن" کا الزام لگایا جس کی تصدیق آج تک نہیں ہو سکی۔ اس الزام کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے اور اب اس قسم کے الزامات چھوت کی بیماری کی مانند پورے پاکستان میں پھیل چکے ہیں۔ جنرل ضیا الحق ایک فضائی حادثے کا شکار ہوئے لیکن مارشل لا کا تسلسل جاری رہا۔ الیکشن کے نتائج کے سلسلے میں بینظیر کا آجانا بھی خطرے کی ایک گھنٹی ہی تھا۔ اس لیے فارغ کیا جانا بنتا تھا، سو ایسا ہی ہوا۔ نواز شریف کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا لہٰذا اگر دیکھا جائے تو جو جو بڑاخطرہ بن سکتے تھے اور عوام میں اپنا مقام بنا سکتے تھے وہ کسی نہ کسی صورت میں فارغ کیے جاتے رہے۔

اگر غور کیا جائے تو نواز شریف اور بینظیر میں سب سے زیادہ خطرناک (اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں) عوامی لیڈر بینظیر یا پھر بھٹو فیملی والے ہی ہو سکتے تھے۔ چنانچہ بینظیر سے پہلے میر مرتضیٰ بھٹو کا مرڈر ہوا اور اس کے بعد بے پناہ عوامی پذیرائی حاصل کرتی شخصیت بے نظیر کو بھی راہ سے ہٹا دیا گیا۔ نواز شریف کی پارٹی کے متعلق یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جس پارٹی کو ایک منظور وٹو توڑ سکتا ہو اس سے کیا ڈرنا؟ اس لیے نواز شریف محفوظ رہے۔

خیال تھا کہ اگر نواز شریف کو نااہل قرار دیدیا جائے تو پارٹی حسب سابق بکھر جائے گی لیکن یہ اندازہ غلط ثابت ہوا اور لگتا ہے کہ پارٹی اب واقعی سیاسی پارٹی بنتی جا رہی ہے اور عوام اب اپنی پارٹی کے کھمبے تک کو ووٹ ڈالنے کے لیے تیار ہیں جس کی حالیہ مثال جہانگیر ترین کی نشست پر ہونے والے الیکشن کے نتائج ہیں جس پر ایک ایسا فرد جیت گیا جس کو لوگ جانتے تک نہیں تھے۔ نواز شریف کیونکہ عوامی لیڈر کے طور پر ابھرتے جا رہے ہیں اور تمام سیاسی رہنماؤں میں فی الحال وہ یکا و تنہا ہیں اس لیے ان کے لیے زندگی کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ہو یا خود پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، کسی کا بھی مزاج معاشرے سے مختلف نہیں۔ ہرسیاسی و مذہبی پارٹی کی سوچ کا معیار ایک ہی ہے۔ کوئی پارٹی کسی کے عروج کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور جس طرح ممکن ہو وہ اقتدار تک پہنچ جانے والی پارٹی کو ہٹانے کے لیے ہر وہ قدم اٹھانے کے لیے تیار و آمادہ رہتی ہے جس کا جمہوری روایات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس کی سب سے بڑی مثال الطاف حسین ہیں، جو ممکن ہے کہ سارے سیاسی چوہدریوں، ملکوں، وڈیروں، سرداروں اور خانوں کی لٹیا ہی ڈبو کر رکھ دیتے۔ ہنڈا ففٹی سے سیاسی جد و جہد کا آغاز کرنے والے ایک "غریب" فرد نے سب کے لیے گھنٹی بجادی تھی اس لیے اسی برق رفتاری سے اس کا تیاپانچہ بھی ضروری تھا۔ ابھی کراچی میں قدم گڑے ہی تھے کہ پاکستان کے ہر شہر میں دھوم مچ گئی۔ یہ مدح سرائی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خلائی مخلوق - حبیب الرحمٰن

غور کریں کہ ملک کی ہر چھوٹی بڑی پارٹی کے لیڈر نے 90 زیرو کی چوکھٹ پکڑلی۔ نتائج کے فوراً بعد ایک عظیم الشان جلسہ کراچی میں ہوا جس کی نظیر ملتی ہی نہیں۔ اسی قسم کے پانچ جلسے اور بھی ہونے تھے لیکن لیاقت باغ کے جلسے کے بعد پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے سیاسی رہنما اور پارٹی کو اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہو گئی۔ لیاقت باغ کی تقریر الطاف حسین کی سیاسی موت بن گئی اور اس کی باز گشت انگلینڈ اور امریکہ تک میں گونجنے لگی۔ عالم یہ ہوا کہ الطاف حسین کی تقریر کے بعد لیاقت باغ خالی ہو گیا اور نواز شریف کو اپنی تقریر چھٹتے ہوئے ہجوم کو دیکھتے ہوئے بہت ہی مختصر کرنی پڑ گئی۔ تقریر جاری رکھنے کی صورت میں ممکن تھا کہ انہیں خالی میدان سے ہی خطاب کرنا پڑتا۔ اب مجھے کوئی یہ بتائے کہ ہنڈا ففٹی پر بیٹھ کر الطاف حسین کے ساتھ جناح گراؤنڈ تک جانے والے نواز شریف کو الطاف حسین میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی؟ مزار قائد پر ہونے والا تاریخ ساز جلسہ بھی پاکستانیوں کا لگا لیکن پنڈی میں جلسے کے بعد اچانک یہ بات کیسے علم میں آئی کہ الطاف حسین اور اس کی پارٹی "را" کی ایجنٹ ہے؟ اسٹیبلشمنٹ والوں کو بھی مڈل کلاس والے کب اچھے لگے ہیں اور خاص طور سے اہل کراچی تو پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی "بھارتی ایجنٹ" کے طور پر پورے ملک کو سمجھائے جانے لگے تھے تو اس عالم میں الطاف حسین کس طرح برداشت کر لیے جاتے؟

میں نے اپنی اس تحریر میں جس بات کو مرکزی حیثیت دی ہے وہ یہ دی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو "عوامی" لیڈر کسی طور گوارا نہیں۔ اس بات کو پیش نظر رکھ کر میں نے ان تمام ابھرنے والے رہنماؤں کا ذکر کیا جن کے پیچھے عوام کا ایک سیلاب ہے اور سیلاب تھا اور قوم نے ان کا حشر اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا اور ابھی کہانی جاری بھی ہے۔ یہاں میں ایک بات کی اور وضاحت کرنا چاہوں گا تاکہ اپنے مؤقف کو مزید واضح کر سکوں۔ جہاں اسٹیبلشمنٹ کسی بھی لیڈر کو سر اٹھا کر چلنے دینے کو قطعاً تیار نہیں وہاں اس کی پوری کوشش یہ بھی ہے کہ پارٹیاں قائم و دائم رہیں البتہ ان کی جو بھی لیڈر شپ ہو وہ ان کی مرہون منت ہو اور ان کی خواہشات کے مطابق ملک چلائیں۔ کیا کسی نے اس بات کو محسوس نہیں کیا کہ جب بینظیر موجود تھیں اور حالات اس قسم کے تھے کہ وہ ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہوں تو اسٹیبلشمنٹ کی یہ پوری کوشش تھی کہ امین فہیم پارٹی کے لیڈر بن جائیں۔ نواز شریف کی غیر موجودگی میں بھی یہی کوشش رہی کہ شہباز شریف یا مخدوم جاوید ہاشمی مسلم لیگ کی قیادت سنبھال لیں۔ یہی کوششیں ایم کیو ایم کی قیادت کے لیے بھی رہیں۔ ساری پارٹیاں اپنی اپنی جگہ رہیں لیکن اس شرط پر کہ اپنی اپنی قیادت کو مائنس کردیں۔ "مائنس ون" کی اصطلاح کہاں سے نکلی اور کس نے نکالی؟ یہ فرمائش اس وقت تک کی جاتی رہتی ہے جب تک پارٹی اس حد تک کمزور نہ ہوجائے کہ اس سے کسی بھی قسم کی واضح جیت کی توقع ختم ہو جائے۔ چنانچہ لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ پارٹیاں اپنی اپنی جگہ موجود ہیں لیکن مائنس در مائنس ہونے کے بعد اور اگر مائنس کے بغیر کچھ پارٹیاں موجود ہیں تو وہ صرف اس لیے موجود ہیں کہ ان کی مدد سے ان پارٹیوں کو توڑا جائے جو کہنے پر چلنے کے لیے تیار نہیں۔

نواز شریف جوں جوں اپنے مؤقف پر ڈٹ کر آگے بڑھتے جارہے ہیں توں توں مشکلات میں گھرتے جا رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو نواز شریف سیاست کے میدان سے اس حوالے سے باہر ہو چکے ہیں کہ اب ان کے لیے کوئی آس امید نہیں کہ وہ اسمبلیوں کا حصہ بن سکیں لیکن ان کی پارٹی وابستگی اور عام لوگوں میں ان کی مقبولیت پارٹی کو بہت طاقتور بنارہی ہے اس لیے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وہ پارٹیاں جن پر بظاہر اسٹیبلشمنٹ کا کوئی دباؤ نہیں، وہ بھی اس بات کو سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ بھی کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ آصف زرداری یا باالفاظ دیگر پی پی پی کو بڑی چھوٹ ملی ہوئی ہے لیکن وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ "اینٹ سے اینٹ" بجانے کی دھمکی کے بعد اگر وہ پورے پاکستان میں دندناتے پھر رہیں تو اس کے پس پردہ کیا کہانی ہے؟ اسی طرح عمران خان خوب اچھی طرح واقف ہوں گے کہ اگر وہ نااہل ہونے سے بچ گئے ہیں تو ایسا کس کی خواہش ہے اور یہ بات بھی بخوبی جانتے ہوں گے کہ اگر وہ مسند اقتدار پر متمکن ہونے میں کامیاب ہو بھی جائیں گے تب بھی ان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا رویہ کیا ہو سکتا ہے؟

یہی سب کچھ کراچی میں ایم کیو ایم کی تقسیم کے بعد ہر ابھرنے والے لیڈر کو معلوم ہے کہ وہ سب آزاد نہیں ہر چہار جانب سے جڑے ہوئے ہیں اور ذرا بھی "چوں چرا" ان کے مستقبل کو خراب کر کے رکھ سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے اندر سے بھی کسی کو لیڈر بنتا نہیں دیکھ سکتی۔ ضیاء لحق تو شاید اس لیے بچ رہے کہ وہ حادثے کا شکار ہوئے ورنہ ایوب خان کو عوامی لیڈروں نے تو نہیں ہٹایا تھا۔ پرویز مشرف کو بھی حاضر ڈیوٹی اور ریٹائرڈ جرنیلوں نے ہی ہٹایا تھا۔ جب عالم یہ ہو کہ کسی بھی قسم کی قیادت کو ابھرنے نہ دیا جائے اور نہ ہی کوئی قیادت پیدا کی جائے تو پاکستان بغیر قیادت کتنے عرصے اور چل سکتا ہے؟ جس قوم کا رہنما ہی نہ ہو اس قوم کو ان کی منزل تک کون لے جائے گا؟۔ اگر ہم نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو آنے والا مستقبل کوئی اچھی کہانی کیسے سنا سکتا ہے؟