گنبد خضریٰ کے سامنے - بشریٰ تسنیم

مسجد نبوی کے مشرقی جانب ایک ہوٹل میں سامان رکھنے کے بعد ہم تینوں ماں بیٹیاں مسجد کی طرف جانے کو سڑک کنارے کھڑی تھیں، جہاں اور بھی نمازی اسی انتظار میں تھے کہ کب ’’شرطہ‘‘ ان کے لیے راستہ بنا کر دیتا ہے۔ سڑک پار کر کے ایک خالی میدان میں سے گزر رہے تھے تو تاشفہ نے میرا ہاتھ زور سے دبایا، خوشی جس میں استعجاب کا رنگ نمایاں تھا۔

’’امی، امی! وہ دیکھیں، ‘‘ دوسرے ہاتھ سے اس نے اشارہ کیا۔

میں نے اور ہانیہ رحمٰن نے بیک وقت ادھر دیکھا۔۔

اللّٰھم صلی علی سیدنا محمد وبارک وسلم۔

گنبدی خضریٰ پہ نظر پڑتے ہی فاصلے سمٹ گئے اور میں پل بھر میں ان فضاؤں میں پہنچ گئی جہاں سیرت کی کتابوں نے پہنچنا ہمارے لیے آسان کر دیا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں ان سب سیرت نگاروں کا شکریہ ادا کیا۔ تاریخ نویسوں، محدثین کے لیے عقیدت بھری دعا کی۔ انہی کی بدولت مومنوں کے دلوں میں ان فضاؤں کی خوشبو رچ بس جاتی ہے۔ گنبد خضریٰ کے ساتھ کیا ایمانی تر و تازگی وابستہ ہے۔ یہ ایمان کی حلاوت ہے یا محبت کا کرشمہ کہ یہاں کے میدانوں، پہاڑوں کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی مسلم ہے۔

اپنی سوچوں میں گم تھی کہ سامنے جنت البقیع نظر آنے لگا۔ دنیا کے سارے شہر خموشاں کا بادشاہ شہر خموشاں۔

میں نے ہانیہ اور تاشفہ کے ساتھ مل کر دعا کی۔ السلام علیکم یغفراللّٰہ لناولکم۔ انتم سابقون وانا انشاء اللّٰہ بکم لاحقون۔

ہزاروں صحابہ کرامؓ یہاں آرام فرما رہے ہیں۔ جلیل القدر صحابہ، امہات المومنین، رسول اللہؐ کی بیٹیاں پیارے نبیؐ کی اپنی بیٹیوں سے محبت کا احساس میری آنکھیں نم کرنے لگا۔ میں نے دونوں کو دائیں بائیں اپنے پہلو سے لگا لیا اور دونوں کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

میرے نبیؐ کی سنت ہے بیٹیوں سے پیار کرنا۔ جنت البقیع کی دیوار کے پاس کھڑے میں آنسو بہاتی رہی۔ میں بھی بیٹی ہوں۔ یہ میری بیٹیاں ہیں۔ بیٹیوں سے میرے حبیبؐ کو کتنا لگاؤ تھا۔ مجھے بھی ہے، میرے ماں باپ کو بھی تھا۔ یہ سب اسی لیے تو تھا کہ نسبت انؐ سے جاملتی ہے۔ یہ نسبتیں بھی کتنا حوصلہ دلاتی ہیں، کتنا قرب، اپنائیت عطا کر دیتی ہیں؟ بیٹیوں کے حوالے سے میری نسبت پیارے نبیؐ سے یہ بھی تو ہے کہ میری بھی چار بیٹیاں ہیں۔ اے اللہ! میری بیٹیاں سیرت میں ان بیٹیوں جیسی ہوں، جنت میں ان کے ساتھ ہوں۔ میں نے تصور میں ان چاروں کو ان چاروں کے ساتھ بیٹھے دیکھا۔ جنت کے اعلیٰ درجات میں۔ پیارے کی اک نئی لہر نے شاد کر دیا۔ ہمیں بیٹیاں اس لیے پیاری ہیں کہ آقا کی تعلیم و تربیت یہی سکھاتی ہے۔

نماز کے لیے آتے جاتے ان جنت البقیع کے باسی ان خوش نصیبوں سے ’’سلام دعا‘‘ ضرور ہوتی۔ ہر مرتبہ دل کسی قیدی پرندے کی مانند پھڑپھڑانے لگتا۔

’’وانّا انشاء اللّٰہ بکم لاحقون‘‘

سلام پیش کرنے کے بعد میں دل مہجور کو سمجھاتی اور وہ مجھے سمجھانے لگتا۔ ہر مرتبہ آتے جاتے اس وسیع و عریض شہر خموشاں پہ نگاہ ڈال کر اپنی جگہ کی درخواست پیش کر دیتی۔ یہی نگاہ پلٹ کر آتی تو زیر زمین ’’قیمتی خزانوں‘‘ کے قریب، بہت قریب، بس دیوار کے پار۔ دنیا کے خزانے مومنوں کی آزمائش کو موجود پاتی ایک نگاہ کے پیچھے کتنے دور نظر آتے ہیں، اور اسی پلٹتی نگاہ کے ساتھ کتنے منظر بدل جاتے ہیں۔

میں سوچتی یہ بازار یہ راستے اور یہ دکانوں کی جگہیں اسی راستے سے تو حضور اکرمؐ کا گزر ہوتا ہوگا؟ مجھے انؐ کی قدموں کی چاپ سانسوں کی مہک فضا میں محسوس ہونے لگی۔ جنت البقیع اور حجرہ عائشہؓ کے درمیان کا راستہ۔ ایک ایسی یاد سے وابستہ ہے جو مجھے ہمیشہ مسکرانے پر مجبور کرتی ہے اور میں خود کو اسی ماحول کا حصہ محسوس کرتی ہوں۔

آدھی رات کا وقت جب میرے پیارے نبیؐ آہستگی اور خاموشی سے گھر سے نکلے اور چھپ چھپا کے، محبت کا سمندر سینے میں موجزن لیے حضرت عائشہؓ پیچھا کرتی ہوئی۔ میاں کے ساتھ بیوی کی محبت کا لازوال جذبہ۔ دو مقام کا درمیانی راستہ جو میں نے ہمیشہ مسکراتے جذبات کے ساتھ طے کیا، دیکھا اور محسوس کیا۔

اس ایک دن یہ احساسات اتنے غالب آئے کہ میں گنبد خضریٰ کو نگاہ میں سموتے ہوئے باب جبرائیل کے سامنے والے صحن میں بیٹھ گئی۔ یہاں سے حضور اکرمؐ گزرے ہوں گے۔ حضرت عائشہؓ کیسے چھپتی چھپاتی جاتی ہوں گی۔ ساری بیویوں کے جذبات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ میاں سے دوری سب کو شاق گزرتی ہے۔ ہر بیوی شک کرتی ہے۔ محبت کا نرالا انداز ہوتا ہے یہ! دماغ میں یہ بات آئی کہ اگر یہ شک محبت کی وجہ سے ہے تو قابل گرفت تو نہ ہوا۔ میری نگاہ بے اختیار گنبد خضریٰ پہ جاٹکی۔ اگر حضرت عائشہؓ کی یہ بے تابی، تجسس اللہ تعالیٰ کو برا لگتا تو فوراً گرفت ہوتی۔ یہ تو ایک سادہ سی بات ہے میاں بیوی کی محبت میں۔ نہ حضورؓ نے ناراضگی کا اظہار کیا نہ کوئی وحی اتری کہ رات کے اس پہر اکیلی شوہر کی ٹوہ لگانے کیوں نکلی؟ شوہر بھی وہ جو حبیب خداؓ اور انسان کاملؐ ہو۔ قوامیت کے پیش نظر شوہر کے بارے میں فکر مندی کی یہ بات اکثر و بیشتر میرے لیے سوالیہ نشان بنی رہتی تھی۔ پھر شارجہ کی ’’مسجد نور‘‘ میں ایک جمعہ کو نماز کے لیے ہم سب گھر والے گئے تو خطیب صاحب نے اس موضوع پہ بہت خوبصورتی سے وضاحت کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ شوہر کے معمولات پہ نگاہ رکھنا قابل گرفت نہیں ہے، اور انہوں نے اسی واقعہ کی مثال دی (اس دن نہ جانے کتنی بیویاں نہال ہوئی ہوں گی میری طرح) نماز کے بعد گاڑی میں بیٹھتے ہوئے میں نے ا پنے شوہر سے پوچھا۔

’’آپ نے سنا خطیب صاحب کیا کہہ رہے تھے؟‘‘ میرے شوہر بہت ذہین ہیں میرا مدعا سمجھ گئے۔ کچھ جارحانہ سے انداز میں کہنے لگے۔

’’سارے خطبے میں تمہیں یہی بات سمجھ آئی ہے بس؟‘‘

’’آپ کو کیا بات سمجھ آئی؟‘‘ میں نے سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے دریافت کیا۔

’’کچھ نہیں‘‘ تجاہل عارفانہ میں لپٹا لہجہ صاف بتا رہا تھا کہ ’’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ ‘‘ آج اس جگہ پر ان خطیب صاحب کو دعا دینا بھی میرا فرض تھا۔ اب میرے احساسات اور اس واقعہ کی جذباتیت میں انوکھا پن بھی شامل تھا۔ کاش! شوہر جانتے ہوتے کہ بیوی کی محبت میں جو فکر مندی ہوتی ہے اس کو کھو کر وہ کیا چیز کھو بیٹھتے ہیں۔

میں نے اپنے خیالات کو جھٹکا اور سامنے دیکھا باب جبرئیل کھلا ہوا تھا اور دور سے مواجہ شریف میں کھڑے زائرین نظر آ رہے تھے۔ میں نے نگاہوں ہی نگاہوں میں پھر سے حجرہ عائشہؓ اور جنت البقیع کے درمیانی راستے کو ناپا اور تصور میں خود کو آس پاس ہی پایا۔ جب رات کا وقت تھا اور حضرت عائشہؓ چادر اوڑھے دل میں محبت کا سمندر موجزن لیے اپنے محبوب کا پیچھا کر رہی تھیں۔ محبوب بھی وہ جس کو آبگینوں کی نزاکت کا بھرپور احساس تھا۔

لوگوں کی آمدورفت میرے اردگرد جاری تھی۔ ظہر کی اذان میں ابھی کچھ وقت تھا۔ ہلکے ہلکے بادل آسمان پر چھائے ہوئے تھے۔ گرمی کی شدت کم تھی۔ ہوا چل رہی تھی۔ صحن میں لگے جہازی سائز کے چھاتے بھی دھوپ کو روک رہے تھے۔ آج دونوں بچیاں ابھی گھر میں تھیں۔ فجر کی نماز کے بعد عموماً زائرین اپنے ٹھکانوں پر جا کر آرام کرتے اور ظہر کے بعد مسجد میں آ جاتے۔ رمضان المبارک کی ساعتیں ہوں اور مسجد نبوی (جو کہ اب نبوی دور کے پورے مدینہ منورہ پر محیط ہے) تو مومنوں کے دل ایسے موجیں مار رہے ہوتے ہیں جیسے چودھویں کا چاند ہو اور سمندر کی موجیں۔ وہاں بیٹھے حزب الاعظم پڑھی جس میں ساری مسنون دعائیں درج ہیں۔

پھر درود شریف کا ورد کرتی رہی۔ ظہر کی نماز کے لیے لوگ آنا شروع ہو گئے تھے میں بھی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باب علی تک پہنچ گئی۔ ٹھنڈک اور پرسکون ہوائیں دور سے محسوس ہونے لگتی ہیں۔ پوری مسجد نبوی میں برابر ایک جیسی ٹھنڈک رہتی ہے۔ رمضان المبارک کی وجہ سے دن بھر خواتین مسجد میں ہی رہتیں۔ آرام کرنے کا بھی موقع دیا جاتا ہے۔ ہم بھی ایک بار آجاتے تو تراویح پڑھ کر ہی گھر جاتے۔ رات کو دیر سے کھانا کھاتے، وہیں سحری ہو جاتی اور تہجد کے وقت حرم شریف میں آ جاتے۔ افطاری بھی حرم شریف میں کھجور، دہی اور روٹی سے کروا دی جاتی۔ اس افطاری میں وہ لذت، طاقت اور برکت ہوتی کہ پھر تراویح کے بعد رات کا کھانا اور سحری کو جمع کر لیتے۔

رات کو ہم چاروں مل کر کسی ہوٹل میں کھانا کھاتے۔ بچوں کے لیے بروسٹ کھانا ترجیح ہوتا جو ہمارے گھر اور مسجد نبوی کے درمیان ہی پڑتا تھا۔ بہت پرسکون شب و روز گزرتے ہیں۔ حرمین شریفین میں زندگی میں وقت کی پابندی کے ساتھ رہنا اور محبت اہل صفا سے نورو حضور و سرور بھی مل جاتا ہے۔ اضافی دنیاوی جھنجھٹ سے آزاد۔ نہ پکانا پڑے نہ جا کر لانا پڑے۔

الحمدللہ میرے شوہر بہت اچھے ہیں اور سفر میں، گھر سے باہر اور بھی اچھے ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہم اہل خانہ گھر سے باہر بہت اچھا وقت گزارتے ہیں اور اگر وہ سفرِ حجاز ہو تو نور، علیٰ نور۔ اللہ تعالیٰ میرے شوہر کو صحت و ایمان کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے۔ ان کی وجہ سے ہمیں بار بار یہ خوش نصیبی حاصل ہو جاتی ہے اور انہی کے وسیلے سے ابتدائی بارہ سال کا عرصہ سعودیہ میں گزارا جو میری زندگی کا سنہری دور ہے۔

وہاں بچوں کے ساتھ مسجد میں رہنے سے بہت کچھ سیکھا اور سکھایا۔ ماحول، جگہ دل کی کیفیات مختلف ہوتی تھیں۔ جو کچھ پورا سال نہ کہہ سکتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں۔ سیرت نبویؐ، تاریخ، سیرتِ صحابہؓ و صحابیاتؓ، واقعات کو سنانا، غور کرنا، نتیجہ نکالنا، عمل کی راہ تلاش کرنا، وعدے کرنا، دعائیں، زیارتیں کرنا۔ سب کچھ بچوں کی محبت میں اضافہ کا باعث بنا۔ سیرت کی کتاب محمدؐ عربی یہاں پڑھنے سے ان جگہوں کا احساس، قرب و تعلق میں اضافے کا باعث بنا۔ یہ مقدس مقامات ایسے ہیں کہ زندگی میں جتنی مرتبہ بھی حاضری ہو، ہر مرتبہ نیا مشاہدہ، نیا تجربہ اور سکونِ تازہ کا احساس ملتا ہے۔ آنکھوں کو طراوٹ، دل کو تقویت۔ ایمان میں استقامت کا جذبہ زیادہ ہو جاتا ہے۔

شارجہ سے عمرہ کی نیت سے روانہ ہوئے تو ارادہ تھا کہ دس بارہ دنوں میں لوٹ آئیں گے۔ لیکن یہ میرے رب کریم کی خاص عنایت رہی کہ ہم ایک دن، ایک دن کر کے تقریباً تین ہفتے وہاں گزار آئے۔ جب واپسی کا ارادہ ہوتا تو لگتا، کہیں سے آواز آ رہی ہے۔

’’اتنی جلدی کیا ہے جانے کی، ابھی رکو نا!‘‘

اور میرا رب روک ہی لیتا۔ اسی طرح مدینہ منورہ میں کچھ محبت بھری ناقابل فہم سی آوازیں دامن پکڑ لیتیں اور روح جھوم جھوم جاتی۔ ہم شہر خموشاں کے باسیوں سے سلام دعا کرتے اور گنبد خضریٰ کی ٹھنڈک سے آنکھیں طراوٹ محسوس کرتیں۔

اس دن تہجد کے وقت مسجدی نبویؐ کی طرف جاتے ہوئے میں نے دونوں بچیوں سے کہا ’’آج ہم اکیلے اکیلے بیٹھیں گے۔ ‘‘

’’کیوں ہم آپ کو تنگ کرتی ہیں۔ ‘‘ ہانیہ نے معصومیت سے میری جانب دیکھا۔

’’نہیں! یہ بھی تجربہ کر کے دیکھو۔ طواف اور سعی بھی تو خود کفیل ہو کر کی ہے نا تم دونوں نے۔ ‘‘

دونوں کی طرف سے خاموشی رہی۔ میں نے سوچا میں دل کی بات کہہ دوں کہ ’’اصل میں مجھے کسی سے خاص طور پر ملنا ہے۔ اکیلے میں۔ ‘‘

’’کس سے؟‘‘ دونوں نے بیک وقت سوال کیا۔

’’بس بہت سے پیغام اور باتیں ہیں جو ضروری ہیں۔ ‘‘ میں جب سے آئی تھی وہ موقع تلاش کر رہی تھی۔ میرے اوپر جب بھی رقت طاری ہوتی، دونوں بچیاں مجھے ہراساں سی ہو کر دیکھنے لگتیں۔

بچوں کے لیے ماں کا رونا بہت ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ مائیں تو پھر بھی بچوں کا رونا برداشت کرتی ہی ہیں۔ بچے ماں کی روتی آنکھوں کو برداشت نہیں کر سکتے، وجہ چاہے کچھ بھی ہو رونے کی۔

دل آہ و فغاں، روح فریاد وزاری کرنا چاہتی تھیں۔ ایسے کہ کسی کو کسی کا دھیان نہ رہے۔ کوئی کسی سے تڑپنے کی وجہ دریافت نہ کرے۔ کسی کو ہمدرد نگاہوں سے نہ دیکھے کہ یہاں ہمدردی کا مفہوم آنسو پونچھنا نہیں ہوتا۔ بلکہ جن کی آنکھیں خشک رہتی ہیں وہ ہمدردی کے قابل ہوتے ہیں۔

روح جس پانی سے غسل کرتی ہے وہ آنسو ہوتے ہیں۔ یہ پانی کا چشمہ کوشش سے کبھی دریافت نہیں ہوتا۔ یہ خدائی چشمہ جب پھوٹتا ہے تو پھر بے اختیار بہتا چلا جاتا ہے۔ انسان کی چشم سے بہنے والا چشمہ انمول ہے۔ اس کا ہر قطرہ بھی قیمتی ہے اگر وہ ندامت سے نکلا ہو۔ ایسا ایک قطرہ بھی نار جہنم کو بجھانے کی طاقت رکھتا ہے۔ انسان کے پاس یہی دولت ہے جس کا بدل کچھ نہیں۔ کوئی لفظ، کولی جملہ، کوئی آہ، کوئی قیمت، کوئی ہتھیار اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

مجھے خدشہ تھا کہ کہیں چشمہ خشک ہی نہ ہو جائے۔ جب آنسوؤں کی زبان میں بات کرنے کا موقع آئے تو وہ گنگ نہ ہو جائے۔

ریاض الجنتہ کی طرف جانے کے لیے منتظر خواتین جالی کے دروازوں سے لگ کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ انتظامیہ زبان جاننے والوں کے گروپ بنا رہی تھیں۔ عائشہ خاتون پاکستانی خواتین کو توحید کے بارے میں درس دے رہی تھیں۔ انتظامیہ کی طرف سے ہدایات دی جا رہی تھیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ خواتین نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ مگر کچھ مزاجوں کی بے صبری اور کچھ محبت کا کا جذبہ اور پھر اطاعت کا قرینہ نہ ہونے کی وجہ سے مثالی نظم و ضبط عنقا ہوتا ہے۔

دروازے کھلتے ہی اک شور سا مچ گیا۔ جنت کے دروازے جب کھلیں گے تو تب بھی ایسا ہی ہوگا؟ بے قراری۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا شوق۔ میرے دل نے مجھے سرزنش کی۔

’’جب اور جہاں آگے بڑھنے میں سبقت کا حکم ہے وہ یاد نہیں رہتا۔ ‘‘

’’جنت کے دروازے تو کشادگی کا بے مثال مظہر ہوں گے۔ سکون، اطمینان، وقار، تہذیب کا اعلیٰ نمونہ ہوگا، اعلیٰ درجے کے انسان ہو گے۔ ‘‘

میں نے قدموں کے نپے تلے انداز میں رکھنے کی شعوری کوشش کرتے ہوئے جنت کے دروازوں کا تصور باندھا۔

’’ہوں گے تو وہاں ہم جیسے۔ دنیا کے جھمیلوں میں پھنسے انسان ہی۔ جو یہاں مہذب ہوگا۔ وہاں بھی ہوگا۔ تو پھر تہذیب سیکھنی تو اسی دنیا میں ہے۔ ‘‘ یہی سوچتے میں نے اپنے اردگرد بھاگتی ہوئی بہنوں کو دیکھا۔ ’’محبت ہے نا!‘‘ میرے اندر سے کسی نے سرگوشی کی اور ’’محبت میں سب کچھ۔ ‘‘ اور اک ٹہوکا سا میرے دماغ میں اٹھتی سوچوں پہ لگا۔

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

اور میں محبت کے پہلے قرینے کی انگلی پکڑ کر ‘‘سبز قالینوں‘‘ کا تصور کر کے اس کے قریب ترین صحن کے ایک ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔

سامنے ہی تو گنبد خضریٰ کی بہار جلوہ گر تھی!

’’اے اللہ! میں درود سلام کے اتنے تحفے بارگاہِ نبیؐ میں پیش کرتی ہوں جتنے آپ خود پسند کریں اور جن سے آپ راضی ہو جائیں۔ ‘‘ بچپن میں یاد کی ہوئی دعا لبوں پر خودبخود جاری ہو گئی۔

اللّٰھم انی اسلک العفو والعافیہ

زبان یہاں آ کر اٹک گئی۔ اندر سے ایک سرگوشی جیسا سوال چبھنے لگا۔ تیر نیم کش جیسا۔ عافیہ صدیقی؟

ہاں! وہ بھی۔ اے اللہ ہمیں عافیہ صدیقی بھی واپس چاہیے۔ میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں مگر پھر بھی کس قدر مضبوط رشتہ ہے۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نسبت ہے اور جس رشتے میں اللہ کے نام کی ڈوری بندھی ہو کیا وہ کمزور ہو سکتا ہے؟

عافیہ کی شکوہ کناں مظلوم صورت میرے دل کو چھیدنے لگی اور آنکھوں میں برسات کا موسم چھا گیا۔

عافیہ کی زندگی، عزت و آبرو سے بے نیاز یہ اربوں مسلمان اور ان کے بے حس حکمران، وہ امت کی بیٹی جس کا نام ماں نے ’’عافیہ‘‘ رکھا اب ’’عافیت‘‘ نے ناواقف ہے۔ وہ کتنے مسلمانوں۔ کس کس کی شکایت کرے گی؟ وہ جس کو اس کے خواب میں حضورؐ نے ’’بیٹی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ ایک بیٹی جب باپ سے کسی کی شکایت کرتی ہے تو باپ کیوں مداوا نہ کرے!

میرے تصور نے وہ منظر دکھایا کہ میری روح کانپ اٹھی۔ بے اختیار میری آہ نکلی۔ ایک التجا۔ ایک گزارش۔

’’عافیہ! عافیہ’! میری بہن میں تجھ سے بہت محبت کرتی ہوں۔ خدا کے لیے میری شکایت پیارے نبیؐ سے نہ کرنا۔ میں میں عافیت کی دعا کرتے ہوئے کبھی تمہیں نہیں بھولی۔ ‘‘ میں نے عافیہ کے آگے ہاتھ جوڑے۔

’’خدا کے لیے تم میری شکایت پیارے نبیؐ سے نہ کرنا۔ ہر نماز میں، طواف میں، گھر میں، گھر سے باہر۔ ہر جگہ ہر دعا میں تمہارا حصہ ہے۔ ‘‘

’’یا میرے مولا! ہمارے حال پر رحم فرما۔ امت کی بیٹی اور سب بیٹیوں پر کرم کی نظر کر دے۔ عافیہ کو عافیت سے ہمکنار کر دے۔ ‘‘

دعا جب لفظوں کی محتاج نہ رہے تو پھر آنکھوں کی برسات مدعا بیان کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ دل کے اندر رقت کا چشمہ ابل
ابل کر چشمان کے راستے بہہ رہا تھا۔ پتہ نہیں غم دل کو کھا رہا تھا یا دل غم کو کھا رہا تھا۔ یا دونوں کام ساتھ ہی ہو رہے تھے۔

وہی طائف کے سفر کا دکھ چپکے سے در آتا ہے اور میرے دکھی دل کو اور بھی غم زدہ کر دیتا ہے۔ میں جب بھی دکھی ہوتی ہوں، پیارے نبیؐ کا وہ سفر اور ان کی زبان سے نکلے لفظ یاد آنے لگتے ہیں۔ شاید اس پکار، اس التجا کو اللہ تعالیٰ یاد کروا دیتے ہیں تاکہ پھر سکون اور ٹھہراؤ آ جائے جسم و جان میں۔

’’اے اللہ! تو میری بات سن رہا ہے۔ میری جگہ اور مقام سے واقف ہے۔ میرے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے۔ میری کوئی بات تجھ سے
چھپی نہیں ہے۔ میں سختی میں مبتلا ہوں، محتاج ہوں، فریاد کناں ہوں، پناہ کی طلبگار ہوں، اپنے گناہوں کا اعتراف ہے گڑگڑا رہی ہوں۔ ذلیل مجرم کی طرح سے پکارتی ہوں اسی طرح جیسے ایک مصیبت زدہ پکارتا ہے اور اس کی طرح التجا کرتی ہوں جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو، آنسو رواں ہوں، جس کا جسم تیرے سامنے عاجز ہو کر پڑا ہو اور غلام کی ناک اپنے آقا کے سامنے خاک آلود ہو۔

اے اللہ! میری اس التجا کو قبولیت سے محروم نہ کرنا۔ میرے لیے مہربان اور رحیم ہو جانا۔ اے بہترین عطا کرنے والے اور سائل کو بہترین جواب دینے والے۔

اے اللہ! میں عافیہ کی کمزوری کا گلہ، اس کی بے بسی اور لوگوں کی نظروں میں اس کی ذلت کی شکایت تیرے سامنے پیش کرتی ہوں۔ اے ارحم الرحمین، تو عافیہ کو کس کے حوالے کرے گا، اس دشمن کے جو اس سے ظالمانہ رویہ رکھے گا۔ یا کسی دوست کے ہاتھ میں دے گا اس کا فیصلہ۔ اے اللہ! اگر تو اس سے ناراض نہ ہو تو اس کو کسی مشکل کی پروا نہیں ہے۔ مگر پھر بھی تجھ سے ہم عافیت کے طلبگار ہیں۔۔ اے اللہ! حفاظت فرما۔ جیسے کہ تو ایک شیر خوار بچے کی حفاظت فرماتا ہے۔ ‘‘ آمین۔ اور میں نے سارا وقت عافیہ کے لیے، اپنے قلبی احساسات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچانے میں گزار دیا۔