دلائل، اختلاف، تقلید اور اجتہاد - شہباز بیابانی

حواس خمسہ اور عقل کے بعد علم کے حصول کا تیسرا ذریعہ وحی ہے۔ وحی کا سرچشمہ قرآن عظیم ہے اور قرآن چونکہ ایک مجمل کتاب ہے اس لیے اس کی تشریح کے لیے شارح کی ضرورت ہے۔ قرآن کے شارح اوّل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

جہاں تک آیت وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ الخ کا تعلق ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن میں ہر چيز کی تفصیل ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فهو من العام الذي أريد به الخاص كقوله وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْء یعنی یہاں عام کو ذکر کرکے خاص مراد لیا گیا ہے (اور وہ خاص حلال و حرام کا علم ہے) اللہ کے اس قول کی طرح کہ میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے۔ لیکن اللہ کی رحمت تو شیاطین، کفار و منافقین کو شامل نہیں۔ یا جیسا کہ قرآن میں مذکورہے کہ وَأُوتِيَتْ مِن كُلّ شَىْء کہ ملکہ سبا کو ہر چیز دی گئی تھی تو ظاہر کہ ملکہ سبا کو ہر چیز نہیں دی گئی تھی بلکہ ان کو ضروری چیزیں دی گئی تھیں۔ یا خود یوسف علیہ السلام اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ وَأُوتِينَا مِن كُلّ شَىْء۔ یہ بھی معلوم ہے کہ یوسف علیہ السلام کو تو ہر چیز نہیں دی گئی تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو سلطنت چلانے کی ضروری اشیاء دی گئی تھیں۔

ان تصریحات سے واضح ہوا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجمل نہیں ہے بلکہ اس میں ہر چیز کی تفصیل کی گئی ہے، صحیح نہیں۔ بلکہ قرآن کی تشریح کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی تشریحات کواحادیث نبویہ کہتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا اور وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى * إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى۔

دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس بات کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دے اس پر عمل کرو اور جس سے منع کرے اس سے منع ہو جاؤ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نفس سے نہیں بولتے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتے ہیں: وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (سورۃ نحل 44) ترجمہ: اور ہم نے تم پر ذکر (قرآن) کو نازل کیا تاکہ اس میں جو کچھ (حلال و حرام) نازل ہوا ہے تم اس کو کھول کر بیان کرو۔

تو احادیث نبویہ قرآن کی تشریح کرتی ہیں۔ جس بات کی تشریح احادیث سے سمجھ میں نہ آئے تو پهر صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو ترجیح دی جائے گی۔ اگر صحابہ رضی اللہ عنھم میں بهی اختلاف ہو تو پهر صحابہ رضی اللہ عنھم کے اجماع پر عمل کیا جائے گا اور اگر اجماع نہ ہو تو جو صحابی سب سے زیادہ فقیہ ہوں گے ان کے عمل کو ترجیح دی جائے گی۔ اگرچہ معروف کرخیؒ اس طرف گئے ہیں کہ صحابہ کرام کے عمل کے ہم ان معاملات میں پابند ہیں جو قیاس سے واضح نہیں۔ مگر ہم ان معاملات میں جو قیاس سے طے ہوسکتے ہیں صحابہ کرام کے سنت کے پابند نہیں۔ لیکن جمہور علماء امت صحابہ کے اجماع اور فقاہت کو ترجیح دینے کے حق میں ہیں۔

اس بارے میں یہ حدیث ہماری رہنمائی کرتی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو (قاضی بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ نے پوچھا: ”تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“، انہوں نے کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر (اس کا حکم) اللہ کی کتاب (قرآن) میں موجود نہ ہو تو؟“ معاذ نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی (اس کا حکم) موجود نہ ہو تو؟“، معاذ نے کہا: (تب) میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو (صواب کی) توفیق بخشی“۔ (جامع ترمذى حديث نمبر1327)

اگرچہ اس حدیث کے ایک راوی حارث ابن عمرو پر بعض علماء نے کلام کیا ہے لیکن اصول فقہ کی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ اصول چار ہیں یعنی کتاب اللہ، سنت رسولؐ، اجماع اور قیاس۔ اختلاف اس امت میں صحابہ کرام کے دور سے چلا آرہا ہے اور چلتا رہے گا۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

اگر مسئلہ ایسا ہو کہ اس بارے میں صحابہ سے کوئی عمل منقول نہ ہو تو پهر قیاس کیا جائے گا۔ قیاس وہی شخص کر سکے گا جو عربی زبان، لغات، روزمرہ ومحاورہ، صرف و نحو، اصول فقہ کو سیکھ چکا ہو اور قرآنی علوم میں ماہر ہو، عَامِّ، خَاصِّ، مُشْتَرَكِ، مُؤَوَّلِ، نَّصِّ، ظَّاهِرِ، نَّاسِخِ وَمَنْسُوخِ، إِجْمَاعِ، قِيَاسِ، محکم، مفسر، مطلق، مقید شان نزول وغیرہ سیکھ چکا ہو۔ قرآن و سنت سے استنباط کر سکتا ہو۔ وہ احادیث کا علم جانتا ہوں۔ احادیث کے اقسام، ناسخ و منسوخ، موضوع، ضعیف، صحیح، حسن وغیرہ اس کو معلوم ہوں.وہ تحقق بالمعنی کر سکتا ہو اور اس کو احادیث کی ایک کثیر تعداد متناً و سنداً یاد ہو۔

اس سلسلے میں بہت سے علماء و مجتہدین پیدا ہوئے تهے جن میں چار بہت مشہور ہوئے کیونکہ ان کے شاگردوں نے ان کے اقوال کو فقہ کی شکل میں مدون کیا۔ جبکہ باقی ائمہ کو ایسے شاگرد نہ ملے جو ان کے فقہ کو مدون کرتے۔ اب عام لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ ان چاروں میں امام ابوحنیفہؒ کے پیروکار بہت زیادہ ہیں۔ اور امام شافعی، امام احمد اورامام مالک رحمهم اللہ کے پیروکار بهی ساری دنیا میں پهیلے ہوئے ہیں.

قرآن سے تقلید کی دلیل:

یا ایهاالذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعواالرسول و اولی الامر منکم (النساء) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، اس کے رسول کی اطاعت کرو اور امر والوں کی اطاعت کرو۔

اس آیت سے تقلید شخصی و تقلید غیر شخصی دونوں ثابت ہوئے۔ کیونکہ اولی الامر میں اضافت جنسی ہے جو ایک اور ایک سے زائد مجتہد ین کو برابر شامل ہے۔

۔ اسی طرح فَا سْأَلُوا اہل الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ یعنی اگر تم نہیں جانتے تو یاد رکھنے والوں یعنی علماء سے پوچھو

حدیث سے تقلید کی دلیل:

عن حذیفة قال کنا جلوسا عندالنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: "انی لا ادری ما قدر بقائی فیکم فاقتدوا باالذین بعدی" و اشار الی ابی بکر و عمر (ترمذی، حدیث نمبر 3663 البانی نے بهی اس کی تصحیح کی ہے)

ترجمہ: حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیثھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا" میں نہیں جانتا کہ میں تم میں کتنا باقی رہوں گا پس تم ان لوگوں کی اقتدا کرو جو میرے بعد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کو اشارہ کیا۔

تقلید شخصی کی مثال:

[arabic]أَنَّ اہل الْمَدِينَةِ سَأَلُوا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہ عَنْهُمَا عَنِ امْرَأَةٍ طَافَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ حَاضَتْ؟، ‏‏‏‏ قَالَ لَهُمْ:‏‏‏‏ تَنْفِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَا نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ وَنَدَعُ قَوْلَ زَيْد ۔ (بخاری حدیث رقم:1759)

ترجمہ: مدینہ کے لوگوں نے ابن عباسؓ سے ایک عورت کے متعلق پوچھا کہ جو طواف کرنے کے بعد حائضہ ہوگئی تھیں، آپ نے انہیں بتایا کہ (انہیں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں بلکہ) چلی جائیں۔ لیکن پوچھنے والے نے کہا ایسا نہیں کریں گے کہ ہم آپ کی بات پر عمل تو کریں اور زید بن ثابتؓ کی بات چھوڑ دیں۔ تو اس پوچھنے والے نے زید بن ثابت کی تقلید شخصی کی اور ابن عباسؓ نے اس پر نکیر نہیں کی۔

شاہ ولی اللہؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ: "امت محمدیہ نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ان مذاہب اربعہ کی تقلید جو مدون ہو چکے ہیں اور تحریروں میں آچکے ہیں، ہمارے زمانے میں جائز اور درست ہیں"۔ کیونکہ ہر شخص استنباط کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔

جب یونانی فلسفہ کے آنے سے لوگ عقل کے پیچھے بھاگنے لگے اور گمراہ فرقے وجود میں آگئے تو انہوں نے اسلامی عقائد پر اعتراضات کی بوچھاڑ کردی۔ ان کی تردید کے لیے ابوالحسن اشعری اور ابو منصور ماتوریدی رحمهم اللہ کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے ان گمراہ فرقوں کے اعتراضات کے جوابات دیے۔ یہ دونوں علم کلام میں اہل سنت والجماعت کے امام اور مقتدا مانے گئے۔

اس دور سے دل کے بجائے دماغ کو ترجیح دینا شروع ہوئی اور اہل خرد اپنے دلائل پر مطمئن ہونے لگے۔ وہ دوسرے کے دلائل ماننے کے پوزیشن میں نہیں رہے اس لیے تقلید کی اہمیت اور بهی بڑھ گئی۔ لوگ ان چار اماموں کی تقلید کرنے لگے چنانچہ بڑے بڑے علماء مثلا علامہ ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن حجر، ابن عبدالبر، کرمانی، علامہ تفتازانی، امام نسفی، ابن کثیر، قرطبی، امام رازی، امام غزالی، عزالدین بن عبدالسلام، امام شاطبی، قاضی شوکانی وغیرہ رحمھم اللہ ان چار اماموں میں سے کسی ایک کی تقلید کرنے لگے۔ حدیث کی کتابیں صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابوداود، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ اور دیگر بعد میں محدثین کی جانفشانی اور عرق ریزی سے اقوام عالم میں پھیلے ہوئے حدیث کے حفاظ سے جمع کرکے لکھے گئے۔

گمراہ فرقوں میں معتزلہ، خوارج، جهمیہ، مشبہ وغیرہ نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے وہ اپنے دلائل کو ہی صحیح کہا کرتے تھے جو ان کو نہ مانتے ان کو کافر یا گمراہ کہتے۔ انہی حالات میں ائمہ مجتہدین کی پیروی کی اہمیت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں.

جہاں تک دلائل کی بات ہے تو ہر شخص جو کام کرتا ہے وہ ضرور کسی دلیل کا سہارا لے کر وہ کام کرتا ہے۔ لیکن اس بارے میں یہ ضروری ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ کیا اس کے دلائل صحیح بهی ہیں یا نہیں؟ چنانچہ کارل مارکس نے بھی اپنے نظریہ اشتراکیت و خدا بے زاری کو دلائل سے ثابت کیا جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا:

صاحب سرمایہ از نسل خلیل

یعنی آن پیغمبرے بی جبرئیل

زانکہ حق در باطل او مضمر است

قلب او مؤمن دماغش کافر است

غربیاں گم کردہ اند افلاک را

در شکم جویند جان پاک را

رنگ و بو از تن نگیرد جان پاک

جز بہ تن کارے ندارد اشتراک

دین آن پیغمبری حق ناشناس

بر مساوات شکم دارد اساس

تا اخوت را مقام اندر دل است

بیخ او در دل نہ در آب و گل است

اسی طرح لینن نے کمیونزم کے حق میں، مائکل ہیکنگ نے خدا کے وجود سے انکار کے حق میں، وولٹائر، مونٹیسکو اور روسو نے جمہوریت کے حق میں، مشرکین مکہ نے شرک کے حق میں، ہم جنس پرستوں نے ہم جنس پرستی کے حق میں، فحاشوں نے فحاشی کے حق میں، مسیلمہ کذاب اور مرزا قادیانی نے جھوٹی نبوت کے حق میں، غلام احمد پرویز نے انکار حدیث کے حق میں، امریکہ نے عراق پر حملہ کرنے کے حق میں غرض ہر شخص نے اپنے نظریات اور اعمال کے حق میں دلائل ہی پیش کیے ہیں۔ لیکن کیا ان کے دلائل درست ہیں؟ یقیناً نہیں۔

ہر شخص اپنی دلائل کو صحیح کہتا پهرتا ہے تو اس سے شدید اختلافات پیدا ہوتے چلے گئے۔ امت کا شیرازہ بکھرتا گیا اور فرقہ واریت شروع کی گئی۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ فرقہ واریت کا الزام بھی ان ائمہ مجتہدین اور اہل حق پر لگاتا گیا۔ کیونکہ اختلاف تو بعد میں آنے والوں نے پیدا کیا۔ اس لیے پهر وہی بات ہے کہ اختلاف سے بچنے کے لیے تقلید کرنا لازمی ہوگیا۔

دلائل وہ ہیں جو قرآن و سنت، صحابہ کی زندگی اور اجماع امت کے مطابق ہوں اور جو دلائل ان میں سے کسی کے خلاف ہوں وہ ناقابل قبول ہیں۔

مثلاً منکرین حدیث (پرویزیوں) کے دلائل جن کو وہ قرآن سے اخذ کرنے کا زعم رکهتے ہیں لیکن وہ احادیث نبویہ، صحابہ کے عمل اوراجماع امت کے خلاف ہیں۔ کیونکہ وہ قرآن کی ایسی تفسیر کرتے ہیں جو کہ شاذ اور مردود ہوتی ہے۔ وہ ڈکشنریوں اور لغات کا سہارا لیتے ہیں۔

اگر احادیث کا انکار کیا جائے تو مندرجہ ذیل قرآنی آیتوں کی تفسیر کیسے اور کہاں سے کرسکتے ہیں؟

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللہ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتقویٰ اللہ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (ال عمرآن)

اس آیت میں مدد کرنے کا جو وعدہ کیا گیا ہے تو اس کا ذکر کسی آیت میں نہیں ہے اس وعدے کا ذکر حدیث میں ہوا ہے۔

وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللہ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللہ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ (انفال)

یہ وعدہ بھی وحی غیر متلو یعنی احادیث نبویہ سے ثابت ہے۔

وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللہ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ (تحریم)

اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج سے شہد نہ پینے کا وعدہ کرنے کا جو واقعہ مذکور ہے یہ بھی صرف اور صرف حدیث سے ثابت ہوا ہے۔ قرآن میں اس کی تفصیل نہیں ہے۔

بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (نحل 44)

اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ قرآن کی تشریح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا أَطِيعُوا اللہ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللہ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللہ وَالْيَوْمِ الْآَخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (نساء 59)

اس آیت میں اطیعوا الرسول سے مراد یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو تو ظاہر ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو سامنے رکھ کر ہی ان پر عمل کرسکتے ہیں۔

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللہ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ[/arabic] (شوری 51)

اس آیت میں من وراء حجاب سے مراد وحی غیر متلو یعنی احادیث مبارکہ ہیں۔

وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللہ وَمَا كَانَ اللہ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللہ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (بقرۃ 143)

اس آیت میں تحویل قبلہ کے جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے یہ واقعہ بھی حدیث کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے۔

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (نساء 65)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قطعی ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال بھی حجت ہوئے۔

یا جیسے احمدیوں اور قادیانیوں کے دلائل جو خود ان کے اپنے خودساختہ فلسفہ پر مبنی ہیں۔ یا اہل هوا کے دلائل جن کا زعم ہیں کہ اگرچہ ہم عربی نہیں جانتے مگر ہم خود قرآن و حدیث کی تشریح کرکے عمل کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے اجماع کی مخالفت کرکے تفرقہ پیدا کرتے ہیں۔

اس طرح ایک قسم کے لوگ وہ ہیں جو دین میں تواتر کے منکر ہیں وہ صحابہ کو اچهے نظر سے نہیں دیکهتے اور ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے نہیں تهکتے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ جس تواتر سے ہمیں دین پہنچا ہے اس زنجیر میں سے کڑیاں نکالنے چاہیے تاکہ درمیان میں ہم جو چاہیں خود مصنوعی کڑیاں بنا کر زنجیر کو مکمل کریں۔

آج کے دور میں جتنے باطل پرست ہیں، سب کی قدر مشترک یہی ہے۔ کیونکہ اسناد اور سند دین کے لیے بہت ضروری ہے۔ چنانچہ عبداللہ ابن مبارک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاء یعنی سند اور اسناد دین میں سے ہے اور سند نہ ہوتا تو ہر شخص جو چاہتا کہتا پھرتا۔

تو علم حاصل کرنا استاد سے ضروری ہے۔ امام بخاریؒ بهی فرماتے ہیں کہ وَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ یعنی علم تعلیم و تعلم سے حاصل ہوتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ ان راویوں کو ترجیح دیتے ہیں جنہوں نے اپنے اساتذہ کے ساتھ زیادہ مدت گزاری ہو کیونکہ صحبت ضروری ہے۔ صحابہ کو صحابہ کہتے ہی اسی لیے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ تهے اور یہ تو ظاہری بات ہے کہ استاد اور مستند ادارے کے بغیر تعلم کا عمل ناممکن ہے۔ مثلاً ایک انجینیئر میڈیکل کا کام نہیں کرسکتا اور ایک میڈیکل ڈاکٹر اسلامک سکالر نہیں بن سکتا سوائے اس کے کہ میڈیکل کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم کو تعلم کے طریقے پر حاصل کرے۔ یعنی ہر میدان میں دوڑ لگانے کے لیے اسی میدان کے متعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر پانچ سال تک اساتذہ سے میڈیکل کالج میں میڈیکل پڑھتا ہے اس کے بعد ایک سال ہاؤس جاب کرتا ہے یعنی عملی طور پر ڈاکٹروں کی نگرانی میں مریضوں کا علاج کرتا ہے اس کے بعد کم از کم دو سال سپیشلائزیشن کرتا ہے تو پھر کہیں جاکر ڈاکٹر کہلایا جا تا ہے۔

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ:

صحبت از علم کتابی خوشتر است

صحبت مردان حر آدم گر است

پعنی اللہ والوں کی صحبت علم کتابی سے بدرجہ ہا بہتر ہے کیونکہ مردان حُر کی صحبت سے انسان بن جاتے ہیں۔ اقبال کا مطلب یہ ہے کہ علم کتابی کو صحبت میں رہ کر حاصل کرنا اصل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ساتھ رسول کو بھی بھیجا ہے جن کی صحبت میں رہ کر صحابہ نے طرآن کو سیکھا۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ:

یک زمانے صحبت با اولیا بہتر

از صد سالہ طاعت بے ریا

جہاں تک اجتہاد کی بات ہے تو اگرچہ اجتہاد کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے، اس کو کوئی بند نہیں کرسکتا۔ لیکن قحط الرجال کے اس زمانے میں مجتہدین کا فقدان ہر کسی کو معلوم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ إِنَّ اللہ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا (سنن ابو داود 4291 حدیث صحیح) یعنی اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی میں ایک مجدّد پیدا کرتا ہے جو اس کے دین کی تجدید کرتا ہے۔ اب مجدد کون ہے؟ کس فرقے سے ہے؟ کب آئیں گے؟ ظاہر ہے کہ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ میں مجدد ہوں، یا ہر فرقے کا دعوی ہے کہ ہمارا صاحب مجدد ہے تو یہ مسئلہ پھر ایک اختلافی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کا حل پھر تقلید ہی ہے۔ جہاں تک مجدد کی بات ہے تو وہ دین کے اس حصے کی تجدید کے لیے آئیں گے جس کی جگہ بدعات نے لی ہو گی۔ وہ کوئی نیا دین پیش نہیں کرے گیں۔ اس سلسلے میں حضرت مہدی کے بارے میں احادیث میں آیا ہے کہ وہ آخری زمانے میں آئیں گے اور امت کی اصلاح کریں گے وہ مجتہد کامل ہوں گے۔ اب اگر درمیان میں کوئی مجتہد آئے تو دیدہ و دل فرش راہ!

مجھ کو بھی تمنا ہے کہ مجتہد دیکھوں

کی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانی

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کی رہنمائی کے لیے کوئی مجتہد پیدا کرے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم عمل نہ کریں اور مہدی اور مجتہد کے انتظار میں آلتی پالتی مار کر بیثھ جائیں۔

اگرچہ سائنسی علوم میں بھی ایک حد تک تقلید سے مفر نہیں کیونکہ ہر سائنسدان اپنے پیش رو کے نقش قدم پر چل کر ایک حد تک پہنچ جاتا ہے پھر کہیں جا کر وہ خود تحقیق کر سکتا ہے۔ اس کے لیے تحقیق کا راستہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ اسی اس بارے میں علامہ اقبال نے یوں کیا ہے

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

اگرچہ اقبال نے اجتہاد پر بہت زور دیا ہے اور اس بارے میں اپنے خطبات میں کافی بحث کی ہے لیکن وہ خود امام ابوحنیفہؒ کی تقلید کرتے تهے۔ چنانچہ انہوں نے وصیت میں صاف لکھا ہے کہ میں فقہی مسائل میں امام ابو حنیفہ کا مقلد ہوں۔ اقبال نے اپنے خطبات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلام ایک حرکی دین ہے اور تحقیق و اجتہاد کی بہت ضرورت ہے کیونکہ بعض احکام وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ وہ تو اجماع کا حق بھی قانون ساز اسمبلی کو دینے کے لیے تیار ہیں بشرط یہ کہ اسمبلی کے ارکان اسلامی قانون سے با خبر ہوں ورنہ بصورت دیگر وہ اسمبلی کے ساتھ علماء کی ایک کونسل کے مقرر کرنے کے حق میں ہیں تاکہ وہ کونسل غیر اسلامی قوانین کا سدباب کرسکے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے خطبات میں یہ کہا ہے لیکن ان کو یہ اندیشہ تھا کہ کم نظر علماء اجتہاد کرنے میں سنگین غلطی کرسکتے ہیں اور اس انحطاط اور قحط الرجال کے زمانے میں گمراہی کے اجتہاد سے تقلید بہتر ہے۔ انہوں نے "رموز بے خودی" میں ایک عنوان لگایا ہے کہ "در معنی ایں کہ در انحطاط تقلید از اجتہاد اولی تر است"۔ اس کے ایک دو شعر ہیں

اجتہاد اندر زمان انحطاط

قوم را برھم ھمی پیچد بساط

ز اجتہاد عالمان کم نظر

اقتدا بر رفتگاں محفوظ تر

اقبال کہتے ہیں کہ کم نظر عالموں کے اجتہاد سے گزرے ہوئے لوگوں (صحابہ، تابعین اور ائمہ) کی اقتدا محفوظ تر کام ہے۔

اپنی کتاب "ضرب کلیم" میں "اجتہاد" کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ ہند میں اجتہاد کرنے والے تو نہیں ہیں البتہ محکومی ہے، مغرب کی اندھی تقلید ہے اور تحقیق کا زوال ہے۔ یہ لوگ خود تو بدلتے نہیں لیکن اپنے نام نہاد اجتہاد سے الٹا قرآن کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سکھاتی نہیں مؤمن کو غلامی کے طریق