گل وچوں کج ہور اے - محمد واحد

ہرنام سنگھ کو ایک دفعہ سیاسی منطق سیکھنے کا شوق ہوا تو وہ پرنام سنگھ منطقی کے پاس گیا۔ پرنام سنگھ پہلے ہی سرشار تھا، اوپر سے ہرنام بھی آگیا۔ ہرنام بولا چاچا پرنام! سیوں مجھے سیاسی منطق تو سکھا تو بڑا سیانا اور منطقی ہے۔

پرنام بولا میں سکھا تو دوں گا لیکن پہلے میرے کچھ سوالوں کے جواب دے۔

ہرنام بولا پوچھ۔

بولا دو چور چوری کرنے گئے چوری کے دوران گھر والے آگئے دونوں بھاگے اور باورچی خانہ کی چمنی میں گھس گئے باہر نکلے تو ایک کو منہ کالا ہو گیا لیکن دوسرے کا منہ کالا نہیں ہوا کیوں؟

ہرنام بولا اس لیے کے ساری کالک پہلے کو لگ گئی۔

پرنام نے زوردار تمانچہ رسید کیا اور بولا دوسرے نے ماسک پہنا ہوا تھا۔

پرنام نے دوبارہ پوچھا دو چور چوری کرنے گئے چوری کے دوران گھر والے آگئے دونوں بھاگے اور باورچی خانہ کی چمنی میں گھس گئے باہر نکلے تودونوں کا منہ کالا نہیں ہوا کیوں؟

ہرنام اس لیے کہ دونوں نے ماسک پہنا ہوا تھا پرنام نے ایک تمانچہ اور رسید کیا اور بولا اس لیے کہ باورچی خانہ کی چمنی نئی تھی جس میں کالک ہی نہیں تھی۔

پرنام نے پھر پوچھا دو چور چوری کرنے گئے چوری کے دوران گھر والے آگئے، دونوں بھاگے اور باورچی خانہ کی چمنی میں گھس گئے۔ باہر نکلے تو دونوں کا منہ کالا نہیں ہوا، بتاؤ کیوں؟

ہرنام بولا دو صورتیں ہیں یا تو دونوں نے ماسک پہنا ہوا تھا یا پھر چمنی نئی تھی جس میں کالک ہی نہیں تھی۔

پرنام نے ایک اور دیا اور بولا “مورکھا! جس چمنی میں کتا بلی نہیں گھس سکتے اس میں چور کیسے گھس گئے؟

اب ایسی سیاسی منطق سے بھی مشکل ہے شطرنج سمجھنا اور اس سے بھی مشکل ہے سیاسی شطرنج سمجھنا۔ میاں صاحب بھی اسی شطرنج کے ماہر کھلاڑی اور ہمارے ادارے بھی کسی سے کم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فوج اقتدار بھی پلیٹ میں رکھ کے دے؟ - سمیع احمد کلیا

شطرنج کے کھیل میں جیتنے کی لیے کئی بار لالچ بھی دیا جاتا ہے اور جان بوجھ کر اپنے پیادے، گھوڑے حتیٰ کہ وزیر بھی مروا دیا جاتا ہے۔ میاں صاحب کا سیرل المیڈا کو دیا گیا حالیہ انٹرویو ایسی ہی گہری چال ہے جس کی سمجھ وقتی طور پہ کسی کو نہیں آئی۔ سب کو لگا اب تو انہیں شہ مات ہوگئی۔ یہاں تک کہ میاں صاحب کے حقیقی اور سیاسی بھائی بھی انگشت بدنداں تھے۔ شہباز شریف نے تو سیدھا سیدھا اسے رد کر کردیا کیونکہ "درگھٹنا سے دیر بھلی۔"

اگلے ہی دن قومی سلامتی کا اجلاس بلوایا گیا۔ پھر تو ہمارے میڈیائی دانشوروں نے میاں صاحب کے بیان کو لیکر وہ جنگی ماحول بنایا کہ الحفیظ الامان۔ ہر خبر بریکنگ نیوز، بیگ راؤنڈ میں "میرے نغمے تمہا رے لیے"، چینل سارے ہی 24/7، سو وطن سارا ہی جاگتا رہا۔ لگتا تھا بوٹوں کی چاپ پہ "میرے ڈھول سپاہیا گایا جا رہا ہے۔"

لیکن میاں صاحب بھولی دلہن کی طرح کہ میں بھولی تو ہوں لیکن اتنی بھی نہیں بنے، سب دیکھتے رہے۔

پہلے تو کرنل جوزف کو سفارتی استثنیٰ دینے سے انکار کی باتیں آغیں، کرنل جوزف کو لینے کے لیے آنے والا طیارہ ناکام ونامراد
واپس۔ اسی چرخے کی کوک سن کے جوگی پہاڑ سے اتر آیا اور ماہی کے متلاشی نہر والے پل پہ بھی پہنچ گئے۔ داد و تحسین ہر طرف سے ٹوٹ کر برس رہی تھی کہ … قومی سلامتی کے اجلاس کی تو کوئی خاص خبر نہ آئی، بس کرنل جوزف کومشہور زمانہ ترانہ "سجنا اے محفل اساں تیرے لئی سجائی اے" کی دھنوں میں روانہ کردیا۔

چلو! یہ پاک سرزمین ایک ناپاک سے تو پاک ہوئی۔ کل سے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کامیابی کی مبارک باد کسے دینی ہے؟ میاں صاحب کو یا کسی اور کو؟ یا پھر دونوں ہی محفل سجانے میں ملوث ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   غداری کے الزام کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے؟ - یاسر محمود آرائیں

بقول مرشد اگر مگر نئیں گل وچوں کج ہور اے!