دو ملاقاتیں - روبینہ فیصل

اس زمانے کی بات ہے جب مسلم لیگ میں، نون، قاف اور کاف کا چکر نہیں تھا، بس ضیاالحق کی فوجی وردی سے نکلی گرد سے سب سیاست دان ایک جماعت بنا کر بیٹھ گئے تھے۔ جس کی سپورٹر، میری ایک دوست بولی "دیکھا!ہمایوں اختر کتنا پیارا ہے؟"

"ایسی بات بھی نہیں، یوسف رضا گیلانی اور فیصل صالح حیات بھی کسی سے کم نہیں ہیں" پیپلز پارٹی کی سپورٹر بولی۔

ہم ایف سی کالج میں ایم اے انگلش کی طالبات تھیں اور یہ تھا ہماری سیاسی بحث کا حاصل وصول۔ جو لڑکیاں مسلم لیگ کی سپورٹر تھیں وہ اس لیے تھیں کہ ان کے امی ابو اس جماعت کو پسند کرتے تھے، اور جو لڑکیاں پیپلز پارٹی کی سپورٹر تھیں ان کی بھی وجہ وہی ہوتی تھی۔ اُس وقت، پنجاب میں پیپلز پارٹی کے حامیوں کو، بھی ایک نارمل انسان ہی سمجھا جاتا تھا۔

میرا سارا سیاسی علم، کالموں کی دین ہوتا تھا اور شاید میں ہی وہ واحد لڑکی ہوتی تھی، جو امی ابو کی باتوں کی بجائے، کالم پڑھ کر اپنی رائے بنانے کی کوشش کرتی تھی۔ خود کو باقی لڑکیوں سے زیادہ ہشیار اس لیے بھی سمجھتی تھی کہ لٹریچر سے ہٹ کر کچھ سیاسی ور تاریخی کتابیں پڑھ رکھی تھیں جن میں سے"اور لائن کٹ گئی" ابھی بھی زبانی یاد ہے اور اسی کتاب کی وجہ سے بھٹو سے ایک خاص قسم کی محبت تھی، مگر امی ابو کی مسلم لیگ سے انسیت کی وجہ سے مجال ہے بھٹو کی حمایت میں ایک لفظ بھی منہ سے نکال دوں۔

ایسی سیاسی معصومیت کے ساتھ ہم انگلش لٹریچر پڑھتی رہیں۔ ہمارے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ سر اشفاق سرور ہوا کرتے تھے، جنہوں نے ایک اصول بنا رکھا تھا کہ جو سٹوڈنٹ پہلی کلاس، جو 8:30 بجے شروع ہوا کرتی تھی، اور انہی کی ہوا کرتی تھی، میں ایک بھی منٹ لیٹ ہوگا تو وہ کلاس کے اندر نہیں آسکتا۔ مجھے میرا بھائی سبز رنگ کی ٹریل (موٹرسائیکل) پر چھوڑنے آیا کرتا تھا اور اسے اٹھانا، منتیں کرنا اورپھر کالج پہنچنا اس کے بعد ہمارے ڈیپارٹمنٹ سے پارکنگ تک کا فاصلہ، یہ سب کرتے کرتے میں تقریباً پورا سال ہی اشفاق صاحب کی کلاس کے باہر ہی بیٹھی رہی۔ کبھی یہ دیکھنے کا اتفاق ہی نہیں ہوا کہ وہ کلاسکیل ڈرامہ پڑھاتے کیسے ہیں؟ ایک دن یہ حساب لگایا کہ جس لوہے کی زنجیر کے پیچھے بھائی مجھے اتارتا ہے، وہاں سے کلاس روم تک اگر بھاگ کر یعنی پورا سپرنٹ مار کر جاؤں تو کلاس شروع ہونے سے پہلے پہنچ سکتی ہوں۔ اس پریکٹس کا پہلا ہی دن تھا، بائیک سے اترتے ہی، ادھر دیکھا نہ اُدھر اور دوڑ لگا دی۔ 5 سے 7منٹ کا فاصلہ 2منٹ میں طے کیا۔ ابھی سانس ہموار کر کے کلاس کے اندر بیٹھی دوستوں کو حیران کرنے کی سوچ سے لطف اندوز ہی ہو رہی تھی کہ سراشفاق میرے سامنے کھڑے لال، آگ برساتی آنکھوں سے گھور رہے تھے۔

میں نے بوکھلا کر کہا: "میں آج ٹائم پر ہوں سر!"

"ہممم۔۔۔" غصے سے پھنکارے، " کلاس کے بعد مجھے میرے آفس میں ملو۔"

ان سے بہت ڈر لگتا تھا، خیر جانا تو تھا ہی، پہنچی تو مجھے دیکھتے ہی غرائے "آپ لڑکی ہو کر اتنا تیز بھاگ رہی تھیں؟"

میں سمجھی شاید کسی سپورٹس ڈے کے لیے میرا انتخاب ہو نے والا ہے، فخر سے بولی: "سر میں اتنا ہی تیز بھاگتی ہوں۔ میری دوڑ بہت تیز ہے اور میں نے ہیلی کالج میں سپورٹس ڈے پر سب سے زیادہ کپ، مختلف ریسوں میں ہی جیتے تھے۔"

ان کو شاید تھوڑی سی ہنسی آئی ہوگی کیونکہ مجھے شک پڑا کہ ان کی مونچھ ہلکی سے پھڑکی ہے لیکن خود کو کنٹرول کرتے ہوئے غصے سے بولے: "آپ کو پتہ ہے یہ لڑکوں کا کالج ہے اور یہاں لڑکیاں صرف ایم اے میں ہوتی ہیں اور وہ بھی صرف چار ڈیپارٹمنٹ ہیں؟ گنوں تو پورے کالج میں لڑکیوں کی تعداد کل ملا کر ۵۰ سے زیادہ نہ ہوگی اور لڑکے ہزاروں میں، ہر عمر اور ہر رنگ کے، آپ کو احتیاط کرنی چاہیے۔ "

"یعنی؟" میں نے پوچھا

"یعنی یہ کہ یہاں، اس کالج میں بھاگنا نہیں۔" وہ غصے سے بولے، میں سہم گئی مگر پھر بھی ہمت کر کے بولی: "سر میں صبح جتنی بھی جلدی اٹھ جاؤں، میرا بھائی کچھ دیر کروا ہی دیتا ہے اور میں کلاس پڑھنا چاہتی ہوں یا تو آپ پورے ساڑھے آٹھ پہنچنے والے اصول میں تھوڑی سی لچک کر دیں یا اس زنجیر کو ہٹوا دیں تاکہ میرا بھائی مجھے کلاس کے آگے ہی چھوڑ دے۔"

اس کے بعد مزید ڈانٹ پڑی، مگر کچھ بھی تبدیل نہ ہوا۔ ایسی عزت افزائی کے بعد، اسی دن، جب دل سے غم لبریز تھا، کیا دیکھتی ہوں، گل گھوتنا سا نواز شریف کے خاندان کا کوئی جانشین، ہمارے ہی کالج میں بی اے کا سٹوڈنٹ تھا، اپنی پجارو سے، عین ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے آگے اتررہا ہے، ہم کلاس کے باہر، گراؤنڈ میں بیٹھی ہوئیں، اسی غم کو غلط کرنے میں مصروف تھیں مگر جیسے ہی میری نظر عالی شان گاڑی میں سے اترتے ہوئے کالج کے نالائق لڑکے کی شکل پر پڑی۔ میرا پارہ چڑھ گیا، بھاگ کے جا کراسی کم بخت زنجیر کو دیکھا، وہ اٹھی ہو ئی تھی اور مجھے زندگی میں پہلی دفعہ احساس ہوا کہ عزتِ نفس رکھنے والوں کے لیے طبقاتی فرق کتنی منحوس چیز ہے؟ مزید اس احمق کی کم بختی یہ آئی کہ میں جب زنجیر کا معائنہ کر رہی تھی، اس نے مجھ پر کو ئی فلمی جملہ اچھالا، جس کی مجھے سمجھ تو نہ آئی مگر میری ساری بے بسی، ساری فرسٹریشین، اس گھل گھوتنے پر نکل گئی۔ میں بولنے لگی:

"ابا یا ماما، چاچا حکومت میں ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تم اس کالج کے سٹوڈنٹ نہیں ہو۔ ہماری ہی طرح کے ہو بلکہ میں تم سے زیادہ لائق ہوں۔ گاڑی ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے آگے لاتے ہوئے اور ہماری طرف شو مارنے کی غرض سے دیکھتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آرہی؟ اور ہم سے چھوٹے ہو، اگر ایک کلاس میں بار بار فیل نہیں ہوئے تو۔ ہم تمہاری سینیئر ہیں۔"

عبدالقادر حسن کالمسٹ کا بیٹا شاید اطہر نام تھا اس کا، وہ بھی ان کے ساتھ ہی ہوتا تھا، وہ ہنسنے لگ گیا۔ اس کے بال ماتھے پر گرے ہوئے تھے اور رنگ چاکلیٹ جیسا لگا۔ میں نے اسے کہا "تم جو وحید مراد بن کے پھرتے ہو، تمہارے ابا کالم تو بہت اچھے لکھتے ہیں، بیٹا کیسا پیدا کیا ہے؟ تم سب کی شکایت لگا دوں گی۔" تب تک یہ نہیں پتہ ہو تھا کہ باپ بیٹا سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔

اتنا غنیمت ہو ا کہ ان میں سے کسی نے مجھے آگے سے کو ئی جواب نہ دیا یا پھر شاید ان کا مینٹل لیول اتنا ہی تھا کہ وہ احمقوں کی طرح منہ کھولے بس دیکھتے ہی رہے۔

اور ایک احساس مجھ سے عمر بھر کے لیے چپک گیا کہ سب انسان، خاص کر کے جب وہ ایک ہی ادارے میں پڑھ رہے ہیں یعنی قابلیت کے لحاظ سے وہ برابر ہیں تو ان میں یہ فرق کیوں کہ کسی کی بائیک زنجیر سے پیچھے روک لی جائے اور کسی کی لینڈ کروزر کلاس کے اندر تک، آجائے۔ جبکہ ذہانت بھی میری تیز ہو اور دوڑ بھی۔

اس لمحے میرے سادہ سے دل میں پہلی دفعہ طبقاتی فرق کے خلاف نفرت کا احساس جاگا اور صبح صبح سر اشفاق سرور نے مجھے دوڑ تیز ہو نے کے باوجود، لڑکی ہونے کی وجہ سے، معذور ی کا بھی احساس دلا دیا تھا۔ ایم انگلش میں لٹریچر پڑھ کر میں نے کیا سیکھا؟ یہ تو پتہ نہیں مگر اس کالج کی تعلیم میں یہ دو احساسات، آج بھی میری شخصیت میں دبک کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے امارت، شہرت اور حکومت کی وجہ سے جو طبقاتی فرق نواز شریف کے خاندان کے چشم و چراغ کی زنجیر توڑتی گاڑی کی وجہ سے محسوس کیا، اس سے بالکل بر عکس احساس، عمران خان کے ساتھ ایک ملاقات میں مجھے ہوا۔

اگلے کالم تک اس ملاقات کا انتظار کیجیے۔

ٹیگز