عورت کا دشمن، یہ "پیارا" سسٹم - انس اسلام

ایک فیملی رشتہ دیکھنے گئی۔ انکار اس بات پر کردیا کہ لڑکی کی ناک تیکھی نہیں۔ ایک اور صاحب بتا رہے تھے کہ میری سسٹر کا انکار اس بات پر ہوا کہ قد لمبا نہیں۔ ایسے اکثر واقعات سننے میں آتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے یہ رویہ اور لڑکوں کی یہ ذہنیت لڑکیوں پر بڑا اثر چھوڑتی ہے، جو کہ ان کی برداشت سے باہر کا معاملہ ہے۔ لڑکیاں ایسے مسائل کے حوالے سے پریشان بھی رہتی ہیں بلکہ بہت ڈپریشن اٹھاتی ہیں۔ یہ المیہ ہے اور نہایت گھٹیا، افسوسناک و شرمناک و المناک و دردناک معاملہ ہے۔

لیکن ہمیشہ کی طرح میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے مسائل کا رونا رونے کی بجائے، ایک دوسرے کے خلاف شکوے شکایات، لعن و طعن کو چھوڑ کر مسائل کے اسباب و وجوہات اور ان کی جڑ معلوم کرنی چاہیے اور پھر اس جڑ کو کاٹنے کے لیے حسبِ استطاعت محنت کرنی چاہیے۔ نہیں تو سب رونا دھونا صرف ماتم کہلاتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ امت پر ماتم حرام ہے، مسلمان ماتم نہیں کیا کرتا، مسلمان بڑی بصیرت والا اور حقیقت پسند ہوتا ہے، حقائق معلوم کرتا ہے اور پھر بڑی سنجیدگی سے قرآن و سنت کی اتباع و اطاعت میں مسائل کا پائیدار حل نکالتا ہے۔

لیکن اس وقت ہم مجموعی طور پر میڈیائی طبیعت کے ہوچکے ہیں۔ مسائل کا رونا اور ماتم، بس! میڈیا (اس حوالے سے) سوائے ماتم کے کچھ نہیں کرتا اور سوائے ماتم کے کچھ نہیں سکھاتا۔ مایوسی، گھٹن، ڈپریشن و بدحالی و انتہا پسندی پیدا کرتا ہے۔ قطعاً کوئی حل نہیں دیتا، بلکہ ہمیشہ الجھانے کا کام کرتا ہے۔ سارے کالم نگار، تجزیہ کار، تبصرے باز اور کانفرنسیں و سیمینارز کر کر کے بڑے بڑے گھر بنا لینے والے، سبھی رو رو کر ہی کما رہے ہیں۔ اکثریت کو مسائل صحیح طرح سے معلوم ہیں، نہ ہی یہ سمجھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی امت کے مسائل ان کی کوئی درد سری ہے۔ یہ شریعتِ محمدﷺ کی ابجد تک سے بھی واقف نہیں، اور حقیقت بات یہ ہے کہ یہ جب سے پیدا ہوئے ہیں انہوں نے ایک آیت تک نہیں پڑھی۔ انہوں نے حل بتانے ہیں آپ کو آپ کے مسائل کے؟ بلکہ حقیقت بات یہ ہے کہ یہ خود ایک بنیادی مسئلہ ہیں جملہ مسائل کے۔ لاکھوں یہ صرف ماتم کرنے کا ہی کماتے ہیں۔ جیسے غریب کے نام پر ہر کوئی کما رہا ہے، سیاستدان، دانشور، ملاکھڑے کرنے، کروانے والے، ٹیبل ٹاکس والے، الفاظ کے لکھاری… سبھی بنیادی طور پر ماتم ہی کرتے ہیں، ان کا روزگار ہی ماتم کرنا ہے… بس! ادھر فلم انڈسٹری اربوں کماتی ہے محض مسائل دکھانے کے، جو فلم و ڈرامہ میں غریب کا کردار ادا کرتا ہے وہ کروڑوں کماتا ہے۔ غریب وہیں کا وہیں، مسائل ویسے کے ویسے۔

خیر، بات یہ کرنا تھی کہ لڑکی اس حرکت سے بڑی پریشان ہے اور دکھ میں رہتی ہے۔ مردوں سے اسے شکوے شکایات ہیں۔ عرض و سوال یہ ہے کہ ایسا مرد کس کی پیداوار ہے؟ کس نے ایسے نیچ ذہن پیدا کیے ہیں؟ اس جہالت کا کون قصور وار و ذمہ دار ہے؟ اس مسئلے کی بنیاد کہاں ہے؟ کیا ٹی وی، انٹرنیٹ، جدید ٹیکنالوجی اس کی مکمل قصور وار نہیں؟ ایجوکیشن سسٹم اس کا ذمہ دار نہیں؟ کیا یہ میڈیا کا کرا دھرا نہیں؟ کیا فیشن انڈسٹریز، فلم و ڈرامہ و تھیٹر کی دنیا کا اس حیوانیت کی تخیلق میں بنیادی کردار نہیں؟

لڑکی ایسی ہونے چاہیے، ویسی ہونی چاہیے، بیوٹی فل لڑکی کیسی ہوتی ہے، کس نے سکھایا اس کو؟ لڑکیوں کا بھی معیار ٹیکنالوجی کے انقلاب کے بعد بدلا ہے کہ لڑکا چاہیے جس کے سِکس پیک بنتے ہوں، سلمان خان جیسا ہو، ویسا ہو یا ویسا! یہ ماڈل اور نمونے اور یہ حسن کے معیارات ہماری اولاد کہاں سے لیتی ہے؟ حسن پرست اسے کس نے بنایا؟ اور پھر یہ ہمارے ٹھرکی اور "سِک مائنڈڈ" شعراء، غلاظت کے مجسّم یہ ادیب، ایک مکمل ناپاک لٹریچر!

غرض، ہوس پیدا کرنے اور بھڑکائے رکھنے کا، حسن پرستی کا ایک پورا نظام ہے۔ شیطانی سکرین کو فالو کرنے والے لڑکے لڑکیاں، ماں باپ کے ہزاروں خرچ کروا کر، ویسی شکلیں بنا کر، سج سنور کر سکول، کالج و یونی و اکیڈمی جاتے ہیں۔ لڑکی کلاس فیلوز لڑکوں کے اور لڑکا لڑکیوں کے دونوں ایک دوسرے کے جذبات بھڑکاتے ہیں۔ یہ جو ماڈرن اور حسن کی پجاری، "لَسٹ" کی ماری، پرتعیش افکار والی نسل تیار کی جا رہی ہے حضرات! یہ پھر شادی بیاہ کے لیے ہزار نَقص نہیں نکالے گی تو اور کیا کرے گی؟ لاکھ نخرے نہیں دکھائے گی تو کیا کرے گی؟ یہ جو فحش دماغ، بے حیا و حیوان ٹائپ پود تیار کی جا رہی ہے، ناک ایسی ہونا چاہیے، آنکھ ایسی، ہونٹ ایسے، فگر یہ، ہائٹ اتنی! یہ بکواسات نہیں اُگلے گی تو اور کیا امید رکھتے ہیں آپ؟

جناب! یہ طوفانِ بدتمیزی سراسر آسمانی دین و اقدار کے باغی سرمایہ دارانہ نظامِ حیات کا پیدا کردہ ہے۔ آپ جہاں چلے جائیں، سفر و حضر میں ہر ہر جگہ اِس نظام نے حسینائیں سنوار کر کھڑی کردی ہیں۔ حج کو بھی جاتے آتے نمائشی لڑکیوں کے ہاتھوں کھانے کی اشیاء لیں، ہر جگہ ایک سیمپل۔ پیمپر سے لیکر بلیڈ تک، ہر چیز کے باہر ایک عدد ماڈل دوشیزہ کی باکمال تصویر موجود۔ اس سب کے بعد کیا خیال ہے لڑکا کیسی لڑکی کی ڈیمانڈ کرے گا؟

جس بچے کی آنکھ کھلی اور اس نے بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے جوانی تک، گھر باہر، باہر اندر حسینائیں اور ماڈلز ہی دیکھی ہوں، آپ ذرا اندازہ کریں کہ یہ بچہ بڑا ہوکر کیا چاہے گا؟ کس ٹائپ کا انسان ہوگا یہ؟

مزے کی بات پھر یہ ہے کہ یہ سب جائز بھی ہے، بلکہ شریعت کا عین تقاضا ہے۔ اللہ مارے گا اگر عورت کو تعلیم و جاب نہ کروائی تو… بات کرکے دیکھ لیں، بڑے سے بڑا سیانا اور بعض کج فہم علماء بھی حب الوطنی اور وطن کی ترقی کے لیے اسے عین واجب کہہ ڈالیں گے۔ دلائل کے انبار لگ جائیں گے۔ لیکن نتائج کا رونا رونے کے لیے بھی یہی سبھی پڑھے لکھے، پیسے لیکر رو کر دکھائیں گے۔ قلم اور زبان سے مسائل کا پِٹنا پیٹ کر دنیا کمائیں گے۔

آپ کو لگتا نہیں یہ سب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے جیسے ہیں؟ جو امت کو تنزّلی میں پھینک رہے ہیں اور پھر رو رو کر ہلکان بھی ہوکر دکھاتے ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے، جرائم بڑھ رہے ہیں، مسائل پے در پے کھڑے ہورہے ہیں؟

اِن سب کو آپ حل بتائیں کہ عورت کو اُس کے اصل مقام پر واپس گھر پہنچا دو، ٹی وی نکال دو وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ تو سب آپ کو باقاعدہ امت کا دشمن قرار دیں گے۔

ترقی کا عقیدہ ہم سے سب کچھ کروا رہا ہے۔ بچے کو بچپن سے سکول حرص و ہوس و حسد سکھانے لگتا ہے، جسے "کمپیٹیشن" کہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اِس "آزاد" نظام کا حرص و ہوس و حسد پیدا کرنے کے علاوہ کوئی اور کام ہے؟ ذرا غور کریں، ہلکی سی توجہ دیں، پھر بتائیے گا یہ سارا سسٹم کیا جدید نسل کو بنیادی طور پر ہوس پرست و حسن پرست و مادہ پرست، بنانے کا کام نہیں کر رہا؟ نفس کو بھڑکانے اور شدید بھڑکائے رکھنے کا کون سا حربہ اور اہتمام و انتظام ہے جو اِس سسٹم نے نہیں کررکھا؟

آپ ایک دوسرے کو لاکھ دوش دیتے رہیں، اس کے لیے کتنے ہی قوانین بنا لیں، ہزار سال اِن مسائل کے حل کے لیے بھاگ دوڑ کرتے رہیں، لاکھ حل نکالیں، لیکن یاد رکھیں! اِس سب کا علاج صرف اور صرف الٰہی نظامِ زندگی کے پاس ہے، جس میں یہ مسائل جنم ہی نہیں لیتے۔ یہ پیداوار کلّی طور پر سراسر شیطانی نظام کی ہے، تمام امراض کی جڑ یہی خود ہے، جس کی شفا صرف قرآنی و نبوی طرزِ زندگی میں ہے۔

مسئلہ بنیادی طور پر ''معیارِ زندگی'' کا ہے، اچھی زندگی، اچھا گھر، اچھی بیوی، اچھا خاوند، اچھی اولاد، اچھا معاشرہ، اچھی ریاست، اچھے اور برے کا معیار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا قائم کردہ نظامِ حیات ہے نہ کہ جدید دجالی معیارات۔

بنیادی طور پر ہمیں سب سے پہلے کتابِ زندگی و دستورِ حیات (قرآن مجید) سے اپنا ''مقصدِ حیات اور معیارِ زندگی'' سمجھ لینا چاہیے، جس کے لیے ہمیں آج قرآن مجید کو ''صحابہ کی آنکھ'' سے دیکھنے کی شدید ضرورت ہے۔

اللہ ہمیں وہ آسمانی قلب و ذہن عطا فرمائے، ہمیں فطرت سے جوڑ دے، تکلفات و تعیُّشات و مصنوعیتوں سے ہمیں آزاد کرے اور اپنے مخلص و خالص، پسندیدہ بندے اور غلام بنائے، اللہ شیطان کی جدید و پرکشش شریعت سے ہمیں ہر طرح بچائے رکھے۔ (آمین)