طاقت کی حقیقت - بشارت حمید

ایک انٹرنیشنل میگزین ہر سال دنیا کے طاقتور اور بااثر ترین افراد کی فہرست شائع کرتا ہے جس میں مختلف ممالک کے سربراہان فوجی افسران اور اثر رسوخ رکھنے والے سول افراد شامل ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کسی انسان کو طاقتور ترین کیسے کہا جا سکتا ہے جبکہ یہ بظاہر نظر آنے والی طاقت اس کی ذاتی نہیں بلکہ خالق کائنات کی عطا کردہ ہے اور ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔

دنیا کے سارے انسان ایک ہی طریقے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ یا بچی پیدائش کے بعد کئی سالوں تک اپنی بنیادی ضروریات کے لیے والدین اور دیگر رشتہ داروں کا محتاج رہتا ہے۔ بچپن میں وہ خود سے نہ کھا پی سکتا ہے نہ قضائے حاجت کے قابل ہوتا ہے۔ نہ خود چل پھر سکتا ہے اور نہ اچھے برے کی پہچان کر سکتا ہے۔ لڑکپن میں بھی دوسروں کے سہارے کی ضرورت جاری رہتی ہے۔ جوانی کا دور وہ ہوتا ہے جب اس کے جسم میں قوت اپنے عروج پر ہوتی ہے اور پھر بڑھاپا کہ جس دور میں ضعف اور محتاجی اسی طرح واپس آ جاتی ہے جیسے بچپن میں تھی۔

معاشرے میں کوئی انسان کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ پہنچ جائے چاہے وہ عہدہ کسی بڑے ملک کی وزارت عظمیٰ کا ہو صدارت کا ہو یا فوج کی سربراہی کا، وہ ہر آن دوسروں کا محتاج رہتا ہے جو اس کے عہدے کو تسلیم کرتے رہیں۔ جب تک اللہ تعالیٰ یہ تسلیم ماتحتوں کے دل میں ڈالے رکھے گا وہ اس عہدے پر برقرار رہے گا جب یہ احساس ختم ہو گا تو پھر وہی ماتحت جو ہر وقت اس کے سامنے کورنش بجا لانے کو بے تاب نظر آتے تھے اس کو ہتھکڑیاں لگا کر جیل میں ڈال دیں گے۔

کوئی دنیا میں انسانوں کے بنائے ہوئے اعلیٰ ترین عہدے تک بھی پہنچ جائے اور وہ خود کو طاقتور ترین سمجھنے لگے وہ ہر چند گھنٹوں بعد لگنے والی بھوک پیاس کو روک نہیں سکتا۔ وہ باتھ روم کی حاجت سے استثنیٰ حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ ہر چوبیس گھنٹوں میں چند گھنٹے کی نیند سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ جب خود کو طاقتور سمجھنے والا انسان اپنے ذاتی جسم کے چند افعال کی روٹین پر قابو نہیں پا سکتا تو وہ بزعم خود طاقتور کیسے ہو گیا؟ پھر وہ جسمانی طور پر کتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو کیا بڑھاپا اسے چارپائی پر نہیں ڈال دیتا۔ کہاں جاتی ہے اُس کی طاقت اور تکبر؟

یہ بھی پڑھیں:   شعور کے مراحل اور کامیابی کا راستہ - سید قاسم علی شاہ

حقیقت میں یہ ایک بھرم ہے جو خالق کائنات کی مشیت سے قائم رہتا ہے اور جب تک وہ ذات چاہے اسے قائم رکھے۔ جب یہ بھرم ٹوٹتا ہے تو پھر ایک دم بظاہر طاقتور نظر آنے والا انسان بے بس ہو کر رہ جاتا ہے۔ بیسیوں مثالیں ہمارے سامنے ماضی قریب کی موجود ہیں کہ چالیس، چالیس سال سے حکمران لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟

ہمیں بحیثیت انسان اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قبرستان ان لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو اپنے آپ کو خدا کہلواتے تھے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.