عرب اور فصاحتِ عربی - الصبغہ ابن قاسم

فصاحت و بلاغت عربی زبان کا حسن ہے۔جو فصاحت و بلاغت میں نے عربی میں پائی، وہ کسی اور زبان میں نہیں ملی۔ الفاظ کا ایک خوبصورت اسلوب، مختصر لفظوں میں بات کا سمانا، بولتے وقت یوں محسوس ہوتا، الفاظ گویا اک لہر میں ہوں۔ قرآن مجید کی تلاوت سنتے وقت کان جس لذت سے آشنا ہوتے، وہی لذت عربی بولتے اور سنتے وقت حاصل ہوتی۔ بولنے والے کی عربی میں اگر جملےاور محاورے قرآنی ہوں اس کا اپنا مزہ۔ کئی ایسے واقعات زیر مطالعہ آئے جن میں متکلّم بس آیاتِ قرآنی سے ہی سامع کو اپنا مفہوم سمجھا دیتا۔ میں اسے اہلِ عرب کی خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔تین چیزوں میں انہوں نے موافقت پائی۔ رسول اللہﷺ کی زبان مبارک عربی، قرآن مجید عربی میں، اہلِ جنت کی زبان عربی اور اہلِ عرب سے محبت کا مدار بھی یہی تین چیزیں۔ اہلِ عرب سے محبت بارے حدیث مبارکہ کا مفہوم بھی یہی۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اہلِ عرب سے محبت کرو ان تین وجہوں سے۔

المقامات الحریریہ پڑھنے والا طالب علم عربی کی فصاحت و حسن ِ بیان میں دنگ رہ جاتا ہے ایسے الفاظ و جملوں کا استعمال کہ دو لفظ ایک جیسے لیکن معنیٰ میں تفاوت۔ فصاحت کا عالم یہ کہ محض زبر، زیر، پیش کے فرق سے آپ کو معنیٰ بدلا نظر آئے گا اور الفاظ کے ہیر پھیر میں آپ کو سر گھومتا محسوس ہو گا۔ "ض "کے ساتھ یہ لفظ آیا تو اس کا معنیٰ یہ۔ "ذ"، "ز"، "ظ" کے ساتھ بدلنے سے معنیٰ بھی بدل جاتا۔ اسی وجہ سے قرآن مجید کو تجوید اور مخارج کے پڑھنا واجب ہے اور بغیر تجوید کے گناہ۔ شاید اس طرح ہمارے دیہاتی لہجے کو سن کر حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی انکار کر دیں کہ یہ وہ قرآن نہیں جو میں لوح ِ محفوظ سے لایا تھا۔ محض ایک لفظ اور حرکات کے فرق سے معنیٰ و مفہوم میں فرق آ جاتا۔

ہمارے یہاں پبلک مقامات پر لکھے الفاظ کی "فصاحت" اور سعودی عرب کے پبلک مقامات کی فصاحت و بلاغت کا آپ خود مشاہدہ کرسکتے ہیں: ہمارے یہاں لکھا ہوتا ہے: "سگریٹ نوشی ممنوع ہے"۔ وہاں آپ کو لکھا نظر آئے گا: "ممنوع التدخین فی بلد الامین

جملے کی فصاحت الفاظ سے ہی ظاہر ہو رہی ہے: "التدخین"۔۔۔"الامین" اور جملے میں رعایت بھی کس بات کی رکھی گئی ہے، امن والے شہر میں سگریٹ نوشی ممنوع ہے۔ اسٹیشن ہو یا ہوائی اڈہ و لاری اڈہ۔ انتظار گاہ میں مختلف بے مقصد عبارتیں دیواروں پہ لکھی نظر آتی ہے۔ فیس بکی دانشوروں کی وال پر فضول وال چاکنگ کی طرح۔ لکھیں وہاں آپ کو انتظار کے ان گزرتے لمحوں کو کام میں لانے کی تلقین کی جارہی ہوگی۔ "دقائق الانتظار اِملا ھا بالاستغفار" ایک تو الفاظ کی فصاحت دیکھیں دوسرا حسنِ تلقین کہ انتظار کی ان گھڑیوں کو استغفار سے بھر دو۔

ہمارا دین ِفطرت اسلام ہے، کتاب ِ ہدایت و راہنما قرآن ہے۔ اس کے بغیر جہالت و اندھیرا۔ ہمیں اسکول و یونیورسٹیوں میں صرف نام کی نہیں، عربی کی اتنی تعلیم تو ضروری دینی چاہیے، جس سے قرآنی تعلیمات کا فہم اور عربیت کا ذوق ہمارے دلوں سے پیدا ہو اور ہماری نسلوں کے دلوں میں عربیت کی محبت و اہمیت اجاگر ہو۔ انگلش کی اہمیت سے زیادہ!

ٹیگز