تقویٰ کیا ہے؟ - عزیر امین

اک دن ایک شخص نے شیخ عبد القادر جیلانی رح سے سوال کیا کہ تقویٰ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: " اگر ایک انسان اپنے دل کو (یعنی اپنے جذبات اور خواہشات) کسی تھال میں رکھ کر بھرے بازار میں لے جائے اور اسے شرمندگی نہ ہو تو یہ تقویٰ ہے۔"

شیخ رحمہ اللہ علیہ کے اس قول سے ہمارے سامنے تین نکات آتے ہیں

1۔ انسان کا دل اس حد تک پاک ہو کہ اسے اپنے دل کو کھول کر رکھ دینے میں کوئی شرم محسوس نہ ہو

2- اسے یہ غم نہ ہو کہ لوگ کیا کہیں گے۔

3- اس کے ظاہر اور باطن میں تضاد نہ ہو۔

تو وہ شخص مُتَّقی ہے۔

تو آئیے کہ ہم بھی اپنے دل میں جھانکیں کہ ہماری خواہشات کا محور اور محرّک کیا ہے؟ کیا یہ فنا ہو جانے والی دنیا ہے یا اللہ کی رضا جو کہ جنت کی ضمانت ہے۔ہمیں اللہ سے چھوٹ جانے کا ڈر ہے یا کسی انسان کی خفگی کا احساس۔ ہمارے دلوں میں دوسروں کے لیے نفرت، حسد اور بغض کتنا ہے؟ اور محبت، بھائی چارہ اور اور بھلائی کے احساس کے لیے ہمارے دل میں کتنی جگہ ہے۔ہمیں خوشی ہوتی ہے تو کس بات پر؟ ہمارا دل کب نادم ہوتا ہے؟ ہم اللہ کے دین کے معاملے میں زیادہ حسَّاس ہیں یا اپنے کاروبار اور اپنی اہمیت کے لیے؟ آپ کسی سے محبت کرتے ہیں تو کس لیے اور نفرت کرتے ہیں تو کس لیے؟

یہ سوال ہم اپنے ضمیر سے پوچھیں اور اپنے دل کو ہر دم تیار رکھیں کہ کسی صورت اس میں کوئی برائی نہ رکنے پائے اور بار بار یہ سوال پوچھتے رہیں۔ کیا معلوم کس وقت دل تھال میں رکھے اپنے رب کے سامنے پیش ہونا ہو۔ کیونکہ سب نے اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے!

ٹیگز