عصری ادارے اور ترقی کا سراب - محمد آصف سالارزئی

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ادب نہ ہو تو علم کا حصول ممکن ہے لیکن اس کا کوئی حقیقی فائدہ کبھی نہیں ملتا۔ حالیہ دور میں اسکول کالج کے اسٹوڈنٹس میں جس طرح کتاب کی بے توقیری کا رجحان بڑھ رہاہے وہ ایک تاریک مستقبل کا پیش خیمہ ہے۔ ہم اِس اہانت کے بَل پر ترقی کے ایک ایسے سراب کے پیچھے گامزن ہیں جہاں کامیابی کے آبِ حیات کا وجود ممکن ہی نہیں۔ آج ہر شخص ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا چاہتا ہے لیکن کامیابی کی فکر کسی کو نہیں۔ ہر تعلیم یافتہ نوجوان کا مطمع نظرصرف اور صرف ملازمت کا حصول ہے تاکہ دولت کی فراوانی ہو تو وہ آرام کی زندگی گزار سکے۔ مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ قوموں کو ترقی کتاب سے لیکن کامیابی کتاب کی عظمت سے ملتی ہے۔

ہمیں تعلیم کے میدان میں اپنا لوہا منوانا ہوگا۔ دن رات ایک کرنا ہوگا۔ مغربی ممالک دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہے ہیں۔ کبھی غور کیا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ صرف اور صرف تعلیم کے میدان میں انتھک محنت ہے۔ اس کی ایک زندہ مثال دیتا ہوں۔ ہمارے ساتھ فرم میں انجینیئرنگ کا ایک جرمن اسٹوڈنٹ جزوقتی ملازم ہے۔ اعلیٰ تعلیم کےساتھ ساتھ جاب بھی کررہاہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اس جیسا محنتی طالبِ علم نہیں دیکھا کہ قضائے حاجت کے وقت بھی وہ ہاتھ میں کتاب لیے مطالعہ کرتارہتاہے۔

یہ واقعہ شاید آپ کو کچھ متعجب کرے لیکن چاروں جانب نظر دوڑانے پر آپ کو اپنے معاشرے میں اس طرح کی سینکڑوں مثالیں مل جائیں گی۔ آپ مشاہدہ کریں، میٹرک سے ماسٹرز تک آج ہمارے ہاں طالبِ علم کم، اسٹوڈنٹ زیادہ نظر آرہے ہیں۔ جنہیں کتاب سے زیادہ مستقبل کے حساب کی فکر گُھن کی طرح چاٹ رہی ہوتی ہے۔ وہ کتاب اور بستے کو بوجھ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ کتاب کی حیثیت اُن کے ہاں ایک ایسے رجسٹر کی ہوتی ہے جس میں سے مطلب کی باتیں نکال کر کتاب ردّی میں پھینک دی جاتی ہے۔ بستہ کمر سے نیچے کولہوں سے لٹک رہاہوتا ہے۔ کتاب پر تکیہ کرکے بیٹھے گپیں ہانکے جارہے ہیں۔ گھرپہنچنے پر بستہ ہوا میں اُچھال کر پھینک دیا جاتاہے۔

ایک ترقی یافتہ فرد کی حیثیت سے ہم اسی کتاب ہی سے تو اپنا مستقبل سنواررہے ہیں۔ ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔ تحت الثریٰ تک پہنچنے کے لیے پُرعزم ہے لیکن افسوس کہ کامیابی کا اصل مفہوم سمجھنے میں کوتاہی کرکے ہم صرف ایسے روبوٹ تیار کررہے ہیں جن پر خواہشات کا پہاڑ سرکرنے کی دُھن سوار ہوتی ہے۔ بقول شاعرِ مشرق ؒ، مشینوں کی ایسی حکومت دل کے لیے موت ثابت ہوتی ہے۔

بحیثیتِ مسلمان ہمارے لیے صرف مادّی ترقی کامیابی کا زینہ نہیں ہوسکتی بلکہ روحانی طور پرکتاب سے مضبوط رشتہ ہی اس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ کتاب اورقلم کی بے توقیری کرکے علم کبھی بھی مفید نہیں ہوسکتا۔ اس سے خیر پھیلنا ممکن ہی نہیں۔

آج مغربی اقوام کی اتنی زیادہ ترقی نے دنیا کو کیا دیا؟ بارود کے ذخیرے، نفسانی خواہشات کا پلندہ اور موت بانٹنے کا سامان پوری دنیا میں اپنا قہر برسارہاہے۔ آسائش اور سہولیات کے نام پر انسانوں کے ہجوم کے ہجوم سستی اور معذوری کی زندگی اختیار کررہے ہیں۔ جس کا پھل فرداً فرداً بڑھتی عمر کے ساتھ ہر کوئی چکھ رہاہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف وہ تعلیم ہے جس میں ادب و احترام کی کوئی آمیزش نہیں۔ نہ والدین کو شعور ہے اور نہ اساتذہ کو فکر ہے۔ ہر شخص اندھی تقلید میں بہہ رہاہے۔ جس کا انجام ہوس، لالچ، ذاتی مفادات کی جنگ، اشتہا اور شہوت پرستی ہے۔

انگریزوں نے برصغیر کے باادب اور باشعور تعلیم یافتہ معاشرے کو ڈیڑھ سو سال تک جہالت کے قبر میں دفن کیے رکھا۔ لاعلمی کی تاریکی میں اتنا عرصہ گزارنے کے بعد یہاں کے باشندوں کی عقل سلب ہوچکی تھی۔آج کئی نسلوں کے بعد بھی ہر شخص احساس کمتری کا اس حد تک شکار ہے کہ بغیر سوچے سمجھےکسی بھی سراب کے پیچھے بھاگم بھاگ دوڑ رہاہے۔ تاکہ ”ترقی“ کا چراغ ہاتھ لگے اور موج مستی کا دور دورا شروع ہو۔

اس کے مقابلے میں آپ مسلمانوں کی ہزار سالہ ترقی ملاحظہ کیجیے۔ ہر شخص قلبی اطمینان سے مالامال خوش وخرم زندگی سےبہرہ مند تھا۔ خلق خدا انسانیت کی عظمت دل میں لیے پوری دنیا کے لیے امن وآشتی کا جیتا جاگتا نمونہ تھا۔کامیابی کے اِس راز کے پیچھے صرف اور صرف وہ اعلیٰ اقدار تھے جو کسی طالب علم کو کتاب کی عظمت سے سرفراز کرتی ہیں۔ آج ہم مغربی ترقی کو مشرقی کامیابی میں تبدیل کرسکتے ہیں لیکن یہ تب ممکن ہے جب تک ہمیں کتاب کے مقام کا ادراک نہ ہوجائے۔افسوس کا مقام ہے آج نفسانفسی کے عذاب نے ہماری بصیرت چھین کر ہمیں کورچشم کردیا ہے۔مگر ہم اپنی کشت ویراں سے ناامید نہیں ہیں۔ اگر ہمارے اساتذہ نئی نسل کی صحیح نہج پر تعلیم کے ساتھ تربیت کریں تو اس کا بخوبی ازالہ ہوسکتاہے۔