وہ خواب جو دیکھا نہ کبھی لے اڑا نیندیں - محمد اقبال دیوان

یہ ہمارے سیٹھ کا Kidon یونٹ ہے۔ محاسبے (Accounts) کا یہ یونٹ ان کے مرکزی دفتر سے تین میل کی مسافت پر ذرا ہٹ کر ان کے ایک نجی بنگلے میں قائم ہے۔ اوپر کی منزل میں ان کے چند غریب رشتہ دار مدتوں سے رہتے ہیں۔ ان دونوں یونٹس کا آپس میں کوئی تال میل نہیں سوائے اس کہ کبھی کبھار کوئی بوڑھی عورت اوپر سے چلا کر کہے کہ’ پانی کھتم (ختم) ہوگیا، بھائی مسین (مشین) چلادو‘۔ بلال صوفی موجود ہو تو پندرہ منٹ مشین چلا کر بند کردیتا ہے۔ ورنہ یہ کام جمیل بھائی کا ہے۔

کڈون جس کا مطلب عبرانی بان میں بھالے کی انّی (نوک) ہے۔ یہ موساد کا وہ قاتل گروپ ہے جس میں اسرائیلی فوج کے کمانڈوز کو رکھا جاتا ہے۔ ان کا حاضر سروس ہونا لازم نہیں۔ پاکستان سے صرف دو افراد ان کی ملازمت کے معیار پر پورا اترتے۔ ایک گرفتار شدہ ٹارگیٹ کلر کامران مادھوری جس کے بارے میں اس کے واقفان ماضی بتاتے ہیں کہ وہ تشدد زدہ لاش کے ارد گرد موبائل پر کھل نائیک کا گیت "چولی کے پیچھے کیا ہے، چنری کے نیچے کیا ہے" لگا کر ناچتا تھا اور دوسرے ہمارے مفرور اور محبوب لیڈر جنرل پرویز مشرف جو بڑے دھانسو کمانڈو تھے۔

ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو جنرل پرویز مشرف پر سبقت لے جانے والے ان کے گرو اور صرفہ پیشہ ورانہ حد تک رول ماڈل ممبئی سے ہجرت کرکے آنے والے ایک اہم میمن تاجر خاندان کے فرد میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا وہ اگر بقید حیات ہوتے تو انہیں اس کا سربراہ بنایا جاسکتا تھا۔

ابوبکر عثمان مٹھا

میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا پاکستانی فوج کے پہلے اور اب تک آخری میمن میجر جنرل تھے۔ ان کا طرّۂ امتیاز یہ ہے کہ ان ہی نے پاکستان میں ایس ایس جی یونٹ (اسپیشل سروسز گروپ) کی بنیاد رکھی۔ وہ جو میمنوں اور گجراتی افراد کو بزدل اور صرف دو پیسے کے فائدے کے پیچھے بھاگنے والا سمجھتے ہیں وہ اپنے تعصبات کو گندھک کے خالص تیزاب سے دھولیں۔

بات اصل موضوع سے دور جارہی مگر دل چسپ ہے اور اردو کے قاری کے لیے پہلی دفعہ کے انکشاف کے طور پر بیان کرنا لازم ہے۔ بھٹو صاحب کو اقتدار کی مسند پر فائز کرانے والے دو فوجیوں میں ایک لیفٹیننٹ جنرل گل حسن نے پاکستان کو دو بڑے نقصان پہنچائے۔

ایک تو جنرل مٹھا کو انہوں نے وقت سے پہلے نوکری سے نکلوادیا۔ ان کی جنرل مٹھا سے نہیں بنتی تھی۔ پیشہ ورانہ مخاصمت سمجھ لیں۔ جنرل مٹھا انہیں عیار، نالائق اور قائدانہ صلاحیتوں سے محروم افسر سمجھتے تھے۔

میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا کی آپ بیتی

جنرل مٹھا اس کے برعکس، پروفیشنل سطح پر بے حد قابل، علم دوست، دلیر اور صاحب ذوق تھے۔ انتظامی صلاحیتوں میں بہت کم افسر اُن کا پاسنگ تھے۔ جنرل مٹھا محض 48 برس کے تھے جب پاکستان کے پہلے سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر صدر ذوالفقار علی بھٹو نے مارشل لا کے ضابطے 114 کے تحت ان سمیت 1425 افسروں کو اقتدار سنبھالتے ہی ملازمت سے فارغ کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو مہاجر افسروں سے شدید نفرت تھی جو انہیں FAKE, PHONY اور چالبا ز سمجھتے تھے۔ سویلین صدر بھٹو کی اس منتقم مزاجی کا فائدہ جنرل گل حسن نے اٹھایا۔ انہیں ڈرایا کہ جنرل مٹھا اور کراچی کے میمن تاجر مل گئے تو پاکستان میں خوف ناک قسم کا فوجی انقلاب لاکر مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے والوں کو چوراہے پر لٹکا دیں گے۔ اس انقلاب کی صورت میں وہ خود یعنی ذولفقار علی بھٹو اور جنرل گل حسن بھی مزنگ چورنگی لاہور پر کسی پرانے ٹینک کی Gun turret سے لٹکے ہوئے پائے جائیں گے۔ یوں ان کا نام زبردستی ان مہاجر افسران کی فہرست میں شامل کردیا گیا جنہیں مارشل لا کے ضابطے کے تحت نکال دیا گیا۔ بھٹو کی اس ناعاقبت اندیشی اور جنرل گل حسن کی اس خباثت کا نتیجہ یہ نکلا کہ میمن فوج میں جانے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تائب ہوگئے۔

ڈیم اسٹیلا ریمنگٹن، برطانوی خفیہ ادارے کی سویلین سربراہ رہ چکی ہیں

فوج کے سربراہ اگر ماضی کی ان غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آئی ایس آئی کا پہلا میمن سویلین سربراہ بنا کر میمنوں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے۔ یہ فوجی بلاوجہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ خفیہ ایجنسیوں کو صرف دو اور تین ستارہ جرنیل چلا سکتے ہیں۔ ان بے چاروں کو یہ نہیں معلوم کہ ڈیم اسٹیلا ریمنگٹن برطانوی خفیہ ایجنسی سربراہ رہ چکی ہے اور جینا ہیسپل کو بھی سی آئی اے کا سربراہ بنانے کا معاملہ چل رہا ہے۔ موساد، را اور فرانس کی DGSE کے سربراہ ہمیشہ سویلین ہوتے ہیں۔ ٹھنڈے دل سے سوچیں ایک تو ہم میمن ہیں، دوسرے ہم پاکستان کی مرکزی اور صوبائی بیوروکریسی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ صاحب مطالعہ ہیں اور اردو صفحہ، مکالمہ، دلیل جیسے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی ٹکر کے اردو ویب میگزین میں فری فنڈ کے کالمز بھی لکھتے ہیں۔

جینا ہیسپل کو سی آئی اے کا سربراہ بنانے کا معاملہ بھی چل رہا ہے

بہرحال، لیفٹیننٹ جنرل گل حسن نے پاکستان کو دوسرا بڑا نقصان یہ پہنچایا کہ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کو فوجی کمانڈ اور جی ایچ کیو کی حکم عدولی کے باوجود کورٹ مارشل سے بچالیا۔ جنرل ضیاء ان دنوں اس فوجی مشن کا حصہ تھے جو اردن میں سن ستّر کے اوائل میں شاہ حسین کی درخواست پر تعینات تھا۔ پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر کی یہ واضح ہدایات تھیں کہ کسی بغاوت کی صورت میں شاہ حسین کی حفاظت کے علاوہ انہوں نے کسی اندرونی حربی خلفشار کا حصہ نہیں بننا۔ اس خانہ جنگی میں فیصلہ ہوا کہ فلسطینیوں کے کیمپ پر حملہ کرنا ہے۔ بریگیڈیئر ضیاء جو وہاں اردنی فوج کی تربیت کے لیے بھیجے گئے تھے، اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو یکسر نظر انداز کرکے عمان اور اربد کے فلسطینی کیمپوں پر ٹینک کے دستے لے کر چڑھ دوڑے۔ اس حملے میں پچیس ہزار فلسطینی مارے گئے تھے۔ آپ کی دل چسپی کے لیے یہ عرض کردیں کہ تب وہ بریگیڈیئر تھے۔ انہوں نے امریکہ کے قریب آنے کے لیے اپنے جی ایچ کیو کی بجائے شاہ حسین کا احکامات کو ماننا بہتر سمجھا۔ پاکستانی فوجی مشن کے سربراہ جنرل نوازش نے اس حکم عدولی پر جنرل یحییٰ خان کو بریگیڈیئر ضیاء الحق کا کورٹ مارشل کرنے کا لکھا۔ فلسطینی اس حرکت سے چراغ پا تھے۔ عربوں میں ہماری فوج کے خلاف نفرت پھیل رہی تھی۔ اس آپریشن کا نام ائیلول الاسود یعنی Operation Black September تھا۔ جنرل گل حسن کی مداخلت سے جنرل یحییٰ خان اس اقدام سے باز رہے۔ امریکہ میں ہمارے استاد جو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پاکستانی امور کے پالیسی سازوں میں شمار ہوتے تھے وہ کہتے تھے کہ اسرائیلی فوج نے آج تک پچیس ہزار فلسطینی نہیں مارے مگر جنرل ضیاء الحق نے تنہا یہ غیر انسانی، مسلم دشمن اور گھناؤنا کارنامہ سرانجام دے دیا۔

جنرل گل حسن پاکستانی فوج کے بطور کمانڈر انچیف آخری سربراہ تھے۔ ان کے فارغ ہوجانے کے بعد سے یہ عہد ہ چیف آرمی اسٹاف کہلانے لگا۔ وہ یوں بھی بہت منفرد ہیں کہ وہ 20 دسمبر 1971 سے 3 مارچ 1972ء یعنی یہی ڈیڑھ ماہ کے مختصر ترین عرصے کے لیے سربراہ رہے۔ حمود الرحمان کمیشن نے انہیں سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ دار افسران میں شامل کیا۔ وہ یوں بھی بہت نمایاں ہیں کہ فوج کے وہ پہلے سربراہ ہیں جن کا کورٹ مارشل ہوا۔ انہیں زبردستی ریٹائر کرکے تمام مراعات سے محروم کردیا گیا۔ وہ بھٹو جن کی آستیون میں چھپ کر انہوں نے سازشیں برپا کیں وہ ان کی ذلت اور رسوائی کے ذمہ دار ٹہرے۔ بریگیڈیئر ضیاء الحق جن کی ان جنرل صاحب نے یحییٰ خان سے گلو خلاصی کراکے کورٹ مارشل ہونے سے بچایا تھا، انہیں بعد میں وزیر اعظم بھٹو نے سات جرنیلوں پر ترجیح دی اور چیف آف اسٹاف بنا دیا۔ مقرر کیے جانے کے ایک سال چار ماہ بعد جنرل ضیاء الحق اپنے وزیر اعظم کو آپریشن فیئر پلے کی طاقت کے سہارے گھسیٹ کر تختۂ دار تک لے گئے۔

ہم نے کہا تھا نا کہ یہ ہماری بے راہ رو بیوروکریسی کی کم بخت اپچ ہی ایسی ہے کہ اس سے مختصر پیرائے میں سیدھی بات نہیں ہوتی۔ ٹو دا پوائنٹ تو اس نے اور نواز شریف نے سوچنا سیکھا ہی نہیں۔ اس بیوروکریسی سے اگر آپ ملکہ نورجہاں کے کیریکٹر سر ٹیفکیٹ کی درخواست دیں گے تو وہ علاء الدین خلجی اور پدماوتی کا نکاح نامہ بطور ثبوت مانگ لیں گے۔ یہ نکاح نامہ چونکہ موجود نہ تھا لہٰذا اس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہندوستان کے راجپوتوں نے فلم پدماوتی کے ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی کی واٹ لگا دی۔ اس تکا فضیحتی کی وجہ سے بے چاری فلم کی ہیروئین دیپکا پڈکون تو ایسی ہراساں ہوئی کہ کئی دفعہ ریڈ کارپیٹ پر سامنے سے گاؤن کے ہک لگانا بھول گئی اور اس دید بانی کے طفیل ہمارے جیسے او لیول کی اردو سے مضروب ناپختہ کاروں کو بھی ا صغر گونڈوی اس شعر کا خلاصہ سمجھ میں آگیا

آئیے سیٹھ کے کڈون چلتے ہیں۔

یہ سیٹھ کا مرکز محاسبہ یعنی اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ ہے۔ یہاں اس کے کسی عزیز کو بھی آنے کی اجازت نہیں۔ ایسے رشتہ دار جو چوہدراہٹ یا اپنا پٹیل پنا دکھانے کے لیے اس طرف قدم رنجہ فرمائیں تو سیکورٹی گارڈز کو ان مفت خوروں کو شوٹ آن سائٹ کا آرڈر ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے یہ سیکورٹی گارڈ بھی لیاری کا مکرانی ہے۔ کوئی بگٹی، مری یا محسود نہیں کہ دماغ اپنے آبائی علاقے میں چھوڑ کر کراچی آگیا ہو۔ یہاں متعین گارڈ کا نام تو محمد الیاس ہے مگر اسے سب حاجی گرینگو کہتے ہیں (گرینگو ہسپانوی زبان میں مہاجر کو کہتے ہیں)۔

ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ ایم کیو ایم بہادر آباد والے فاروق ستار کی ایم کیو ایم پی آئی بی سے مطالبہ کررہے تھے کہ وہ اپنے ویرانے کا کوئی اچھا سا نام رکھنا ہی چاہتے ہیں تو اس کا نام گرینگو قومی موومنٹ رکھ لیں اور انتخابی نشان بھی بل فائٹر رکھ لیں۔ وہ نہ مانے تو مہاجر راندہۂ درگاہ ہوگئے۔ غریب، عید، بقر عید پر نئے کپڑے پہنے والے چند ممبر صاحبان نے اپنے سینیٹ کے ووٹ کروڑوں کے بیچے اور پہلی دفعہ کسی اچھے ہوٹل میں بل دے کر کھانا بھی کھایا اور دبئی سفاری بھی دیکھی۔

اب تو ایم کیو ایم بے چاری کا معاملہ ایسا ہوگیا ہے کہ اپنے جلسوں میں جوہی چاؤلہ کی طرح ناچ ناچ کر، بل کھا کر، لہرا لہرا کر گاتی بھی ہے کہ ٹوٹ گئی، ٹوٹ کے میں چُور ہوگئی، تیری جھوٹی ضد سے مجبور ہوگئی مگر پھر بھی لالو کھیت کے ٹینکی گراؤنڈ میں اتنے بھی غم گسار اور عزا دار نہیں آتے جتنے کسی روہینگیا بیوہ کے سوئم میں آجاتے ہیں۔

دفتر کے سیکورٹی چیف حاجی گرینگو کو دکھائی بھی کم دیتا ہے۔ یہ پہلے سیٹھ کا ڈرائیور ہوتا تھا۔ کم نظر آنے کی وجہ سے سیٹھ کی دو گاڑیاں ٹوٹل کردیں تو اسے نوکری سے فارغ کرنے کی بجائے ہمارے نیک دل اور انسان دوست سیٹھ نے چوکیداری کے لیے بٹھا دیا ہے۔

آخری دفعہ سیٹھ کی ٹویوٹا کیمری کار ٹوٹل کرنے کی وجہ سے اس کو کراچی کے ڈمپر لوڈرز کی ایسوسی ایشن نے اپنا صدر بنادیا تھا کیوں کہ اس نے کار ان کی دو عدد ڈائننگ ٹیبل کے طور پر استعمال ہونے والی چارپائیوں پر ایسے چڑھا دی تھی کہ ان کی یونین کے چھ ممبر ہلاک ہوگئے تھے۔ علاقہ ایس پی صاحب کی پوسٹنگ چونکہ سیٹھ نے کرائی تھی۔ ایس ایچ او بھی اپنا ہی بچہ تھا لہٰذا انہوں نے ڈمپر لوڈر والوں کو سمجھایا کہ تم لوگ تو روز کراچی والوں کو اپنے ٹینکروں اور ڈمپروں کے نیچے ٹپکا دیتے ہو، ایک دن اگر حاجی گرینگو نے غلطی سے تم لوگ کے آدمی ماردیے تو اتنی پنچائت کس بات کی؟ چلو آج کے بعد یہ سیٹھ کی کار نہیں چلائے گا، چھٹی دن والے تم لوگ کا ریت کا لوڈر چلائے گا۔ سیٹھ نے اگلے دن اس کی پوسٹنگ کڈون پر کردی۔

ڈیوٹی پر حاجی گرینگو جو ہاتھ میں جو کلاشن (سندھی کلاشنکوف کو کلاشن کہتے ہیں) تھام کر بیٹھا ہوتا ہے، اس کے اسپرنگ سیٹھ نے نکلوا دیے ہیں۔ اس لیے اس سے فائر نہیں ہوتا۔ اس کا چہرہ، کالا چشمہ، بھاری آواز کوئلے کے منجن سے سفید کیے ہوئے دانت اور چھ فیٹ تین انچ کا قد بت دیکھ کر لوگ ویسے ہی ڈر جاتے ہیں۔ اس نے محلے میں یہ بھی مشہور کررکھا ہے کو وہ رشتے میں عزیر بلوچ کا ماموں لگتا ہے۔ سیٹھ کی پالیسی ہے کہ جو رشتہ دار بھی وہ اس سے گھر پر آن کر ملے۔ داماد، بیٹے، ماموں زاد بھائی، ممانی کی بہنیں کسی کی ہمت نہیں جو جمشید روڈ کی اس گلی میں قدم رکھ سکے۔

یہ تو آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ہر کامیاب آدمی کے ناکام رشتہ دار بہت ہوتے ہیں۔ آپ نے جنگلی بھینسے کے اوپر کئی پرندے بیٹھے اپنا مفت کا زرق حلال کرتے دیکھے ہوں گے۔ سندھ اور پنجاب میں ایسے ناکام رشتہ داروں کو روئی کے عطر والے پھائے کی طرح کان میں اڑس کر رکھا جاتا ہے۔ کسی کو کراچی پولیس تو کسی کو کسٹمز اور سب سے دور پرے کے نہلے دہلے سسرالی رشتے دار کوبیس ہزار روپے کے ڈومیسائل خرید کر سیکرٹریٹ میں ڈرائیور رکھوادیا جاتا ہے۔

مہاجر بھی پہلے ایسے تھے۔ اپنے ناکام رشتہ داروں کو سینت سینت کر رکھتے تھے مگر جب کراچی میں پٹھانوں سے واسطہ پڑا تو پٹھانوں سے اخپل بندوبست کی اصطلاح سیکھ لی۔ اب اسی پر عمل کرتے ہیں۔ بالخصوص جب سے امریکہ گئے ہیں، بدل گئے ہیں اور بھی زیادہ تنگ دل اور Suicidal ہوگئے ہیں۔ ہیوسٹن میں دعوت پر آئی بہن کے بچے اگر باہر کسی جوائنٹ پر برگر کے ساتھ ہیگن ڈاز کی آئسکریم کھانا چاہیں تو وہ بہن کو آئس کریم کا بل ڈالر میں پکڑا دیتے ہیں۔

ہم نے یہ قصہ بلال صوفی کے خواب سے شروع کرنے کا سوچا تھا۔ سو اجازت دیجیے کہ لوٹ چلیں۔

ہمیں مرکزی دفتر میں اکثر حکم ملتا ہے کہ جمشید روڈ پر کڈون کا جائزہ لے کر آئیں۔ کبھی کبھار وہاں اہم میٹنگز بھی ہوتی ہیں۔ تاجروں سے فائدہ سمیٹنے کے خواہشمند بہت سے نادان ہوس میں اندھے سرکاری افسر ہوتے ہیں۔ وہ Human Identification کی اس ٹیکنالوجی کے دور میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی حرکات و سکنات اور گفتگو کا مکمل ریکارڈ وہاں جمع ہورہا ہوتا ہے جسے وقت آنے پر ان کے خلاف استعمال بھی کیا جاسکتاہے۔ گو ہمارے دفتر میں ابھی ایسی ٹیکنالوجی نہیں آئی کہ کرسی کی سیٹ کولہوں کے دباؤ سے ڈی این اے پروفائلنگ کریں مگر اپنا حاجی گرینگو کے پاس کون رک کر لیاری کے حالات پوچھ رہا ہے، یہ ہمارے قاسم کیڈبری اور بانو آنٹی کے کمرے میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔

یہاں پر بلال صوفی، جمیل بھائی، ابا حسین، قاسم کیڈبری، حمید ٹینڈولکر (حضرت ٹینڈولکر کی بیٹنگ کے دیوانے تھے اس لیے پاکستان کے حامیوں نے ان کا نام ہی ٹینڈولکر رکھ دیا)، کمانڈر وکی بھائی ہیں۔ وکی بھائی کا نام وقار الحسن ہے، فوج سے دور پرے کا بھی تعلق نہیں، مگر چونکہ مزاج میں مہاجر برتری کوٹ کوٹ کر سمائی ہے، سیٹھ کے قریب بھی بہت ہیں، ایمانداری اور دین داری میں بہت آگے ہیں اس لیے سب انہیں کمانڈر وکی بھائی ہی پکارتے ہیں۔ ساری عمر ایک نوکری، ایک عورت، ایک گھر اور ایک خدا کے علاوہ کچھ نہیں چاہا اور دیکھا۔ اسی لیے جسے چاہا، جسے دیکھا، خوب دیکھا، ٹوٹ کر چاہا اور اسی پر شاداں و نازاں بھی ہیں۔ اپنے اس وصف کو ہمیں اپنے مہاجر تفاخر کے حساب سے یوں جتاتے ہیں کہ ہر ملاقات پر سلام دعا کے بعد ہماری دل پھینک اور حسن فریفتہ طبیعت کی روشنی میں ا ن کا پہلا اور آخری شعر میرؔ کا یہ شعر ہوتا ہے کہ

اپنی تو جہاں آنکھ پڑی بس وہیں دیکھو

آئینے کو تو لپکا ہے پریشاں نظری کا

(لپکا بمعنی مزہ، چسکا، لت)

ہم بھی علیک سلیک کے بعد یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ کون بچائے گا پاکستان، کون کرے گا رہنمائی؟ قاسم کیڈبری، حمید ٹینڈولکر، بانو آنٹی اور وکی بھائی۔

بلال صوفی کو اعتراض ہوتا ہے کہ اس کا نام ہمارے بیانیے میں کیوں شامل نہیں ہوتا؟ اسے چپ کرانے کے لیے اس کا جواب وکی بھائی اپنی مہاجر برتری اور دفتر انچارج کے طور پر یہ کہہ کر دیتے ہیں۔ یو آر ویری جونیئر، ڈو ایز ڈایئریکٹڈ!

یہ سب ہمارا بہت لحاظ اور احترام کرتے ہیں۔ بلال صوفی یہاں Errand Boy ہے۔ کبھی اس کے والدین بہت مالدار ہوتے تھے مگر باپ مرگیا، رشتہ دار دولت پر قابض ہوگئے۔ یہ لفنگا نکلا، شادی بھی محلے کی ماسی نما عورت کی لڑکی سے کرلی، باپ سیٹھ کا اسکول کے زمانے کا دوست تھا۔ اس لیے سیٹھ نے اس گھرانے کی آج تک کفالت بھی جاری رکھی ہے اور اس کو ملازمت بھی دے رکھی ہے۔ گو ہیڈ آفس کے لوگ اکثر ہمیں شکایتاً کہتے ہیں کہ بلال کے دماغ کا مدر بورڈ خراب ہے۔

کل ہم جب گئے تو یہ سب اسٹوڈنٹ بریانی زردے کا لنچ کرکے بیٹھے تھے۔ سب کے منہ میں ٹوتھ پک باجماعت گشت کررہے تھے۔ سرشاری اور نکتہ آفرینی کا عجب عالم تھا۔ سب بلال صوفی کے خواب پر بحث فرمارہے تھے۔ وہ صوفی کو اس کی مجذوب طبیعت کی وجہ سے معرفانہ اور روحانی اہمیت دیتے ہیں۔ اس کی بین الاقوامی حوالوں اور اہم عدالتی معاملات میں اس پیش گوئیاں بالکل درست نکلتی ہیں۔ اس نے داعش کے برباد ہونے، ٹرمپ کے جیتنے، ترکی میں ناکام فوجی انقلاب، خواجہ آصف کے نااہل ہونے، ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کی بربادی اور خادم حسین رضوی کو کچھ بھی نہ ہونے کی پیش گوئی بہت پہلے کردی تھی۔ کامران خان اور مہر بخاری، عارف نظامی اور عامر لیاقت یہ سب ٹی وی اینکر باقاعدگی سے اس سے رابطے میں رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عوام بھی زندہ ہے؟ - جہانزیب راضی

یہ سب ہمیں دیکھ کر خوش ہوئے۔ وکی بھائی نے بانو آنٹی کو کہا ’’سیٹھ کے کھاس لوگ آئے ہیں، بانو ڑی (ڑی میمنی زبان میں پیار کا لاحقہ ہے) آج سب کو اپنے ناجک (نازک) ہاتوں سے مسالہ چائے ٹھوک نا۔ "چالیس برس کی شوہر کی گردن پر گھٹنا رکھ کر پٹاخوں جیسی آواز والی دو سو پاؤنڈ کی عورت کے ہاتھ کتنے نازک ہوں گے یہ آپ خود اندازہ کرلیں۔

حمید ٹینڈولکر جو پرائز بانڈ کی ہیرا پھیری کا علم اسٹیٹ بنک سے زیادہ رکھتا ہے، اسے ابا حسین نے ٹھوکا دیا تو بلال صوفی کو کہا گیا کہ وہ اپنا خواب پھر سے سنائے۔ سیٹھ نے ہمیں خاص طور پر یہ خواب سننے کو بھیجا ہے۔ مولاناطارق جمیل سیٹھ کے پاس آنے والے ہیں رات کو تو ان سے تعبیر پوچھی جائے گی۔ بلال صوفی کو اتنی اہمیت پہلے کب ملتی تھی؟ یوں بھی وہ ان سب میں چھوٹا تھا۔ بانو آنٹی نے کہا صوپھی رک میں آتی ہوں پھر سنانا۔ اس پر حمید ٹینڈولکر نے کہا بانو گھیلی (پاگل) ایک کھاب تو صبح سے پانچ دفعہ سن چکی ہے۔ تیرے کو اس کھاب کا میٹرک کا پرچہ دینا ہے۔

بانو چائے کی ٹرے لے کر آئی تو حمید کو کہنے لگی جیسے تیرے کو ٹنگو ٹینڈولکر کے میچ اچھے لگتے ہیں ایسے میرے کو قطرینہ کیف اچھی لگتی ہے۔ اس پر ابا حسین جو بہت کم بولتا تھا کہنے لگا بچپن میں یہ اپن کی بانوڑی بھی نوا لین (لیاری کا میمن علاقہ) کی زینت امان کہلاتی تھی۔

خواب یہ تھا کہ بلال صوفی راشن والے اسماعیل سیٹھ کی دکان پر پانچ کلو آٹا لینے گیا تو اسماعیل سیٹھ اس کو دکان کے اوپر اپنے فلیٹ لے گیا۔ یہاں جہانگیر صدیقی اور سراج قاسم تیلی سمیت چیمبر آف ٹریڈ اینڈ کامرس کے سارے ٹاپ کے سیٹھ بیٹھے تھے سوائے اپنے سیٹھ کے۔ ادھر اعلان ہوا کہ قطرینہ کیف آگئی ہے۔ برابر کے روم میں کپڑے بدل کر آرہی ہے تو کیا ہوا کہ قطرینہ سیدھی میرے پاس آئی اور ایک دم میرے کندھے سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔ اس نے نیلے رنگ کا بیلے ڈانسر والا لباس پہنا ہے۔ پاس آئی تو ایسا لگا جیسے میمن مسجد والے اپنے امام صاحب آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ ایمان سے کیا عطر، پرفیوم کی خوشبو کیا نور، کیسی معصومیت تھی۔ خوشبو ایک دم ایسی جیسی امام صاحب میں سے آتی ہے۔ اپن تو آدھے خوشبو سے کلٹی ہوگئے۔ (کلٹی لیاری کی زبان میں الٹ جانے کو کہتے ہیں۔ )

شروع میں میرے پاس سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ پھر چکنی چمبیلی والا ڈانس شروع ہوا تو دھمال مچ گئی۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ہر سیٹھ اٹھتا ہے۔ میرے سے ہاتھ ملاتا ہے۔ پانچ پانچ ہزار کی گڈی سے نوے نوے (نئے نئے) نوٹ نکالتا ہے۔ کوئی میرے سر پر تو کوئی میرے منہ میں نوٹ دے رہا کہ قطرینہ آئے اور نوٹ لے لے۔ اتنے میں اپنے کامران ٹیسوری بھائی میرے اوپر تین ہجار (ہزار) کے نوٹ رکھتے ہیں۔ اب کیا ہے کہ قطرینہ کا سالی کا بھاؤ چڑھیلا ہے۔ اس پر بانو آنٹی نے پوچھا وہ موا کامران کھڑا ہوا پیئسے دینے کو تو کون سا گانا چل رہا تھا۔ اس پر حمید ٹینڈولکر جھلا کر کہنے لگا کیوں بانو گھیلی تیرے کو ناچنا ہے؟ بیچ میں مت بول۔ کھاب چلنے دے۔ بلال صوفی نے البتہ جواب دیا کہ اس وقت ریس کا گانا ذرا ذرا ٹچ می چل رہا تھا، کامران بھائی کی طرف آتی ج نہی ہے۔ کامران بھائی ویری اینگری، میرے کو کان میں بولے سالے یہ بہادر آباد والے مان جائیں تو میں اس بے عجتی کا بدلہ لوں گا، قطرینہ کو اشرفی برانڈ آٹے کی تھیلی میں بند کرکے مروادوں گا پوری بوری بھی استعمال نہیں کروں گا۔ یہ تو کیا ہوا کہ اپنے فیصل واوڈا بھائی کو رحم آگیا انہوں نے دو ہجار دیے تو سہی مگر میرے کو بولا صوفی یہ میرے تیرے پر ادھار ہیں میں تیرے کو جانتا ہوں، میرے کو دھندے میں چنیوٹیوں اور مہاجروں پر بھروسہ نہیں۔

صبح کو میں خواب میں ہی دوبارہ اسماعیل بھائی کے پاس آٹا لینے گیا تو وہ کہنے لگے کہ واوڈابھائی کے دو ہزار روپے کے لیے تین فون آچکے ہیں اور تیرے پچھلے مہینے کے تیل کے ڈبے کے سات سو چالیس روپے بھی باقی ہیں۔ پرانا ادھار دے گا تو آٹا ملے گا۔

صوفی بلال کے خواب کو یہاں روک کر آپ کو ایک بزرگ کا قصہ سناتے ہیں۔ ایک بڑے بزرگ تھے جن کا نام محمد بن سیرینؒ تھا۔ خوابوں کی تعبیر بتانے میں حضرت یوسف ؑ کے بعد انہیں کا شہرہ ہے۔ ان کی کتاب ’’تعبیر ال رویا‘‘ہمارے ایک جاننے والے بے حد دلچسپ عامل صاحب جو گندی فلموں، دولت کے دیوانے اور چرب زبانی اور ریاکاری میں اپنی مثال آپ ہیں، کی بیڈ سائیڈ بک ہے۔ انہوں نے ہی ہمیں اس کتاب سے متعارف کرایا تھا۔

پہلے ان سے بیان کیے گئے تین خوابوں کی تعبیر سن لیں پھر ہم بلال صوفی کے خواب کی تعبیر تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اہل معرفت کے نزدیک سچے خواب، نبوت کا چالیسواں یا چھیالیسواں حصہ ہیں۔

امام سیرین ؒکی خدمت میں امام ابو حنیفہؒ حاضر ہوئے۔ آپ نے خواب دیکھا تھا کہ "آپ رسول اکرم ﷺ کی لحد کی تزئین و توسیع فرماتے ہیں"۔ اس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ وہ دین میں تدوین کا کام کریں گے اور سنت نبوی کی توضیح یوں فرمائیں گے کہ ایک زمانہ ان کی خدمات کا معترف ہوگا۔

اسی طرح ایک شخص اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے حاضر ہوا وہ کہنے لگا کہ وہ دیکھتا ہے کہ "وہ تلوں میں سے بہت سا تیل نکال کر ان میں وہی تیل واپس ڈالنے کی کوشش کررہا ہے"۔ آپ نے پوچھا "تمہاری بیوی کی عمر تم سے بڑی ہے؟" تووہ کہنے لگا "جی ہاں اٹھارہ سے بیس برس بڑی ہے"۔ آپ نے پوچھا" اور ماں زندہ ہے" تو وہ کہنے لگا کہ "بچپن میں وہ ایک قافلے کے ساتھ جارہے تھے کہ وہ بچھڑ گئی"۔ امام سیرینؒ فرمانے لگے کہ "تحقیق کرو وہ بیوی تمہاری اپنی ماں تو نہیں"۔

اب تیسرا اور آخری خواب۔ ایک شخص آپ کی مجلس میں آیا اور کہنے لگا کہ "وہ دیکھتا ہے کہ خواب میں وہ کئی برہنہ خواتین کو کھانے کی خالی رکابیوں (پلیٹوں) سے ڈھانپ رہا ہے"۔ امام صاحب نے تعبیر بتانے سے پہلے پوچھا "وہ کہیں کسی مسجد کا موذن تو نہیں؟"۔ جب اس نے کہا "بالکل ایسا ہی ہے" تو آپ نے فرمایا کہ "فجر کی اذان وقت پر دیا کرو۔ تم بہت جلد اذان دیتے ہو۔ لوگوں کے شبینہ معاملات میں بلاوجہ خلل ڈالتے ہو"۔

صوفی بلال کے خواب کی تعبیر سے پہلے اس کا غصہ سیٹھوں اور اشرافیہ پر ظاہر ہوا۔ جھنجلا کر کہنے لگا سالے قطرینہ کیف کو تو پانچ پانچ ہزار کی گڈیوں سے نوٹ نکال کر دے رہے تھے میرے کو تیل کے سات سو چالیس روپے اسماعیل بھائی معاف کرنے کو تیار نہیں۔ اس پر قاسم کیڈبیری بولے کہ ان کو دبئی میں کسی نے شاہد مسعود کے پروگرام کا بولا تھا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے زمانے میں ایشوریا رائے آئی تھی۔ اپنے آئٹم پر ناچنے کے دس کروڑ روپے لیے تھے۔ وہاں دبئی میں ملو لوگ (کیرالہ کے ملباری) بولتے تھے کہ سائیڈ میں اس نے الامارات ایئرلائن کے لاہور کے لینڈنگ رائیٹس بھی پکڑے تھے۔ She has good nose for money۔

حمید ٹینڈولکر جو پرائز بانڈز کا چیمپئن تھا کہنے لگا میرا آئیڈیا ہے کہ تیرے کو بلال بونڈ لگنے والا ہے۔ یہ بتا تیرے پاس کوئی بونڈ ہے کہ نہیں؟

بلال کہنے لگا کہ میری بیوی کے پاس دو سو روپے والا ایک بونڈ ہے، ہمارا بیٹا ایک سال کا ہوا تو اس کی نانی نے تحفے میں دیا تھا۔ حمید کہنے لگا کہ دو سو والے پر تو انعام بھی چھوٹا ہے۔ سالا فرسٹ پرائز بھی ساڑھے سات لاکھ روپے ہے اس پر بلال کہنے لگا کہ اور سیکنڈ؟ تو جواب ملا ڈھائی لاکھ روپے کا ہے۔

بلال جو ہماری عدم دل چسپی، قطرینہ کی دوری اسماعیل بھائی کی کمینگی سے بے لطف ہوچکا تھا۔ کہنے لگا ٹینڈولکر ’’سیٹھ اپن ڈھائی لاکھ سے بھی خوش ہوجائے گا۔ کوئی تگڈم لڑاؤ‘‘۔

Comments

اقبال دیوان

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان صوبائی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے اور سندھ سول سروسز اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آپ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کے افسانے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ مطالعہ، مصوری اور سفر کے شوقین ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں