روزہ دار کے دو پر، توکل اور اسباب – ڈاکٹر احمد عیسیٰ

ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ

پچھلی قسط

میں بھی دوسرے پرندوں کی مانند ایک پرندہ ہوں، جو صبح بھوکے پیٹ گھونسلے سے نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس لوٹتے ہیں۔ اور یہ(مادہ) حرکت کرتی ہے، پھر اڑ جاتی ہے، اور گھونسلے سے چلی جاتی ہے، اور گھونسلے میں کوئی بھی باقی نہیں رہتا، اور اسباب اختیار کرتی ہے اور توکل کرتی ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: ’’اگر تم اللہ پر اسی طرح توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اسی طرح رزق عطا فرمائے جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ گھر سے نکلتے ہیں اور رات کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں‘‘ (ترمذی)۔

اور توکل کا تعلق دل سے ہے، اور دل جانتا ہے کہ رب بندے کو کفایت کرتا ہے، اور وہ رب کے سامنے دل کو بچھا دیتا ہے، اور اختیار اور حجت بازی کو تقدیر کے فیصلے کے سامنے چھوڑ دیتا ہے۔ اور مقدر پر راضی ہو جاتا ہے۔

توکل کی انتہائی صورت یہ ہے کہ اسباب پر تکیہ نہ کیا جائے۔ پھر دل کا حال ایسا ہو جائے گا کے وہ اللہ پر توکل کیے ہوئے ہو گا، اور بدن کا حال یہ ہوگا کہ وہ اسباب کے مطابق عمل کرتا رہے گا، دعائے استخارہ توکل اور اعتماد پر مشتمل ہے، اور تقدیر کے وقوع پزیر ہونے سے پہلے دعا اور اس کے وقوع پزیر ہونے کے بعد رضامندی۔

اس کی ابتدا رب کی پہچان سے ہوتی ہے، اور اس کی صفات، اس کی قدرت، کفایت، اس کے قیوم ہونے اور تمام معاملات کی انتہا کا اسے علم ہونے پر، اور یہ کہ ہر چیز کا صدور اسی کی مشیت اور قدرت سے ہوتا ہے۔ یہ ایک ’’پر‘‘ ہے، اور دوسرا ’’پر‘‘ اسباب ہیں!

اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کھانا کھانے کے بعد سیری کا احساس پیدا کرنا ہے، اور پانی پینے کے بعد پیاس کے زائل ہونے کا، اگر وہ ایسا نہ کرے تو نہ کوئی سیر ہو نہ تروتازگی محسوس کرے۔

اور جب حج کا ارادہ ہو تو بندہ مکہ جانے کے لیے سفر کرتا ہے، رسل ورسائل کے ذرائع سے مدد لیتا ہے، اگر وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے تو کبھی مکہ نہ پہنچ پائے۔

کامل توکل:

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا کامل توکل سے مراد اسباب کے سہارے کو ترک کر دینا ہے؟ اور دل سے اس کا تعلق ختم کرنا ہے، کیونکہ دل تو اللہ کے ساتھ لگا ہوگا نہ کہ اسباب کے ساتھ، اور بدن اسباب کے قیام میں لگا ہوگا۔

ابن القیم ’’مدارج السالکین‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: اسباب اللہ کی حکمت کے مقام پر ہیں، اور اس کا حکم اور اس کا دین ہیں، اور توکل اس کی ربوبیت، اس کی قضا اور قدر سے متعلق ہے، اور توکل کی پنڈلی عبودیت (بندگی) کے قدم کے بغیر نہیں چل سکتی۔

رسول اللہ ﷺ نے اسباب میں سے کسی چیز کو کبھی نہیں چھوڑا؛ اس کے باوجود کہ اللہ نے انہیں بندوں سے ’’محفوظ‘‘ کر دیا تھا، آپ نے ’’احد‘‘ میں ’’لامۃ الحرب‘‘ (جنگ میں ضرب سے بچاؤ کا لباس، زرہ وغیرہ) پہنی، اور معرکے کے اختتام پر آپ کے پاس دو ڈھالیں تھیں، اور مدینہ ہجرت کرتے ہوئے ایک مشرک کو اجرت دے کر راستے کی معلومات حاصل کیں۔(یہ نہ سوچا کہ اللہ پر توکل کرتے ہیں وہ خود ہی راستہ سجھا دے گا اور مدینہ پہنچا دے گا۔)

متوکلوں کے سردار:

اور بخاری شریف میں ہے، یہ کہ نبی اکرم ﷺ بنو نضیر کو کجھوریں فروخت کیاکرتے تھے، اور اپنے گھر والوں کے لیے ایک سال کا کھانا رکھ لیتے تھے‘‘، اور وہ متوکلوں کے سردار تھے۔

اور آپ جہاد، حج یا عمرہ کا سفر کرتے، تو زاد ِ راہ اور تجارت کا سامان ہمراہ رکھ لیتے، اور اسی طرح آپ کے اصحاب بھی کرتے، حالانکہ وہ حقیقی متوکل تھے۔

اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: وعلی اللہ فلیتوکلوا ان کنتم مؤمنین (المائدہ، ۲۳)﴿اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو۔﴾

اور عزوجل نے فرمایا: اللہ لا الہ الا ھو وعلی اللہ فلیتوکل المومنون (التغابن، ۱۳)﴿اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔﴾

اور اللہ نے فرمایا: الیس اللہ بکاف عبدہ (الزمر، ۳۶) ﴿کیا اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔﴾

پس کفایت طلب کرنے والا اس میں شامل نہیں، اور توکل کو چھوڑ دینے والا اس آیت کو جھٹلاتا ہے۔

بڑی کامیابی:

اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے: فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ان اللہ یحب المتوکلین (آل عمران، ۱۵۹) ﴿جب تم عزم باندھ لو تو اللہ پر توکل کرو، بلاشبہ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے﴾

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک اور قرآن مجید (6) - یوسف ثانی

اور یہ اللہ کی محبت کو موسوم کرنے کا سب سے بڑا مقام ہے، کہ اللہ توکل کرنے والے سے محبت رکھتا ہے، پس جسے اللہ کافی ہو جائے، اور اس کی کفایت کرے، اس سے محبت رکھے، اور اس کا دھیان رکھے؛ تو اسے بہت بڑی کامیابی مل گئی، کیونکہ محبوب نہ عذاب دیتا ہے، نہ دور رکھتا ہے، اور نہ اس سے چھپا رہتا ہے۔

اور ایسا ہی معاملہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے اصحاب سے مشاورت کے معاملے میں تھا، تاکہ انہیں جو حکم بھی دیا جائے، ان کے دل اس سے خوش ہو جائیں؛ تاکہ وہ جو کچھ کر رہے ہوں اس پر زیادہ خوشی اور سرور محسوس کریں، جیسا کہ آپ ﷺ نے ’’یوم ِ بدر‘‘ کے موقع پر جنگ کے معاملے میں ان سے مشورہ کیا، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ، آپ اگر ہمیں ساتھ لیکر سمندر میں اتر جائیں تو ہم اسے آپ کے ساتھ پار کریں گے، اور آپ ہمیں لیکر کسی تنگ کھوہ میں داخل ہوں گے تو بھی ہم آپ کے ساتھ داخل ہوں گے۔

آپ نے ان سے یہ بھی مشورہ کیا کہ پڑاؤ کہاں ڈالا جائے؟ حتیٰ کہ منذر بن عمرو نے پیش قدمی کرنے اور دشمن کے سامنے پڑاؤ کا مشورہ دیا۔

اور آپ ﷺ نے ’’احد‘‘ میں بھی مشورہ کیا کہ مدینہ میں رہا جائے یا باہر نکل کر دشمن سے لڑائی کی جائے، جمہور نے باہر نکلنے کا مشورہ دیا تو آپ باہر نکل کر لڑے۔

اور ’’خندق‘‘ کے روز آپ نے قبیلہ ’’غطفان‘‘ کو اس سال مدینہ کے پھلوں کا ثلث دینے کا مشورہ کیا، تاکہ احزاب میں پھوٹ ڈالی جا سکے، اور غطفان اپنے حلیفوں سے باہر نکل آئیں؛ تو سعدان (دونوں سعد، سعدؓ بن معاذ اور سعدؓ بن عبادہ) نے اس سے انکار کر دیا، تو آپ نے بھی اسے چھوڑ دیا، اور ان سب معاملات میں آخری فیصلہ اسباب کی بنا پر کیا گیا۔ فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم ولو کنت فظاً غلیظ القلب لانفظوا من حولک فاعف عنھم واستغفر لھم وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ان اللہ یحب المتوکلین (آل عمران، ۱۵۹) ﴿اے پیغمبرؐ، یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر تم کہیں تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے۔ ان کے قصور معاف کر دو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھوپھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہی لوگ پسند ہیں جو اس کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔﴾

استخارہ اور توکل:

وہ دعائیں جن میں توکل کے معنی پیش کیے گئے ہیں، ان میں دعائے استخارہ ہے: ’’اے اللہ میں تیرے علم کے ساتھ خیر کا مطالبہ کرتا ہوں، اور تیری قدرت کے ساتھ بہترین تقدیر کا مطالبہ کرتا ہوں، اور میں تجھ سے تیرے فضل ِ عظیم کا سوال کرتا ہو‘‘ یہی توکل اور سپردگی ہے۔ پھر کہتا ہے: ’’پس بے شک تو طاقت رکھتا ہے اور میں طاقت نہیں رکھتا، اور تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا، اور تو ہی غیب کا علم رکھنے والا ہے‘‘ تو یہ اللہ کے علم، طاقت، قوت، اور اس کی صفات کے توسل کو خالص کرنے کا نام ہے کیونکہ توسل کرنے والے سب سے بڑھ کر اسی کی صفات کے واسطے سے سوال کرنا پسند کرتے ہیں۔

پھر وہ اللہ سے مانگتا ہے کہ اس کام کو اس کے حق میں پورا کر دے، جب اس کی فوری اور تادیر مصلحت اس کے حق ہو، اور یہ اس کی حاجت ہے، جو اس نے مانگی ہے، اور وہ اس کے فیصلے میں اس کی رضا کے سوا کچھ نہیں چاہتا، پس وہ کہتا ہے، ’’اور میرے نصیب میں خیر لکھ دے، وہ جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر خوش کر دے‘‘۔

اس دعا میں معارف الالہیہ اور ایمانی حقائق دونوں شامل ہیں، جن میں توکل، اور کسی امر کے واقع ہونے سے پہلے اسے اللہ کے سپرد کرنا ہے، اور اس کے بعد اس پر راضی رہنا، یہی توکل کا پھل ہے، اور سپردگی صحت کی علامت ہے، پھر اگر وہ قضا کے فیصلے پر خوش اور مطمئن نہیں ہوتا تو اس کا اس معاملے کو اللہ کے سپرد کرنا برا سبب ہے۔

فعل اور سبب:

اور بھول نہ جائیں کہ خیر طلب کرنے والے نے ایک فعل اور سبب کا عزم کیا ہے، وہ نہ اسے ترک کرے گا نہ یونہی چھوڑ دے گا۔ بلکہ خیر کا طالب دونوں پروں سے پرواز کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   استقبالِ رمضان - مفتی منیب الرحمٰن

یوسف بن اسباط کا قول ہے:’’ کہا جاتا ہے: اس شخص کی مانند عمل کرو جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کا عمل ہی اسے نجات دلائے گا، اور اس شخص کا سا توکل کرو جو یہ سمجھتا ہے کہ اسے وہی ملے گا جو اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے‘‘۔

اور ہاں قرآن بھی توکل کے حکم کے ساتھ اسباب اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے، پس اعضاء کو اطاعت کا پابند بنانے کے لیے سعی بھی اسباب میں سے ہے، اور توکل دل کے ساتھ اس پر ایمان ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یا ایھا الذین آمنوا خذوا حذرکم (النساء، ۷۱)﴿اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو۔﴾

واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ (الانفال، ۶۰)﴿اور تم لوگوں سے جہاں تک ہو سکے زیادہ سے زیادہ طاقت مہیا رکھو۔﴾

فاذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ واذکروا اللہ کثیراً لعلکم تفلحون (الجمعۃ، ۱۰) ﴿پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔﴾

وتزودوا فان خیر الزاد التقوی واتقون یا اولی الالباب (البقرۃ، ۱۹۷)﴿سفر ِ حج کے لیے زاد ِ راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد ِ راہ پرہیز گاری ہے۔پس اے ہوشمندو! میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔﴾

اللہ کی کفایت:

یہ کرب سے کشادگی اور تنگی سے آسانی کا نادر راز ہے: کیونکہ کرب جب بڑھ جاتا ہے، اور شدت اختیار کرتا ہے، اور بندے کو اس کی خبر ملتی ہے، اور وہ اسے ہٹانے کی اپنی سی کوشش کرتا ہے، اور اسے دور کرنے کے لیے بندوں کی طرف سے مایوس ہونے لگتا ہے، اس کا صرف اللہ کے توکل پر قائم رہتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً ویرزقہ من حیث لا یحتسب ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ﴾ (الطلاق، ۲، ۳) ﴿جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے۔﴾

تقویٰ اور توکل:

ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے میرے سامنے یہ آیت پڑھی، اور جب پوری پڑھ چکے تو مجھ سے پوچھا: ’’اے ابو ذر، اگر تمام لوگ اسے تھام لیں تو یہ انہیں کافی ہو جائے‘‘، انہوں نے کہا: اور پھر آپ ﷺ مسلسل اسی آیت کو دہراتے رہے حتیٰ کہ مجھے اونگھ آگئی۔ (اسے احمد نے روایت کیا ہے)۔ یعنی اگر وہ حقیقی تقویٰ اور توکل اختیار کر لیں، تو یہ ان کے دینی و دنیاوی مصالح کے لیے کافی ہو جائے۔

اور نبی اکرم ﷺ خود مسلسل روزہ رکھا کرتے تھے، اور صحابہ کو اس سے منع فرماتے تھے، اور آپ فرمایا کرتے تھے: ’’مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے‘‘۔ (بخاری) اور اس سے آ پکی مراد یہی تھی، جو (جامع العلوم والحکم) میں آیا ہے، کہ اللہ مجھے قوت اور غذا دیتا رہتا ہے، جو ان کے دل پر فتوحات اور عطیۂ الہی اور معارف ِ ربانی سے وارد ہوتا ہے،جو آپ کو ایک عرصے تک کھانے اور پینے سے بے پروا کر دیتے ہیں۔ اور یہ آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔

جیسا کہ پرندے کے جب دونوں پر سلامت ہوتے ہیں تو وہ رزق کے لیے اونچی پرواز کرتا ہے، پھر کچھ ایسا ہو جائے جو اس کے پر بھاری کر دے، یا اس کی اڑان کو معطل کر دے۔ جیسے کوئی گناہ جو اس سے صادر ہو، ’’بندہ اس گناہ کے سبب جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے، رزق سے محروم ہو جاتا ہے‘‘(احمد، حسن اسناد کے ساتھ)۔

یا رزق کی طلب میں بوجھ اٹھانا ’’اور کوئی انسان اس وقت تک نہ مرے گاحتیٰ کہ اپنا رزق مکمل کر لے؛ پس اللہ سے ڈرو اوررزق کی طلب میں دوڑ دھوپ کرو، جو حلال ہے اسے لے لو، اور جو حرام ہے اسے چھوڑ دو‘‘۔(ابن ِ ماجہ، اور اسے درست کیا ابن ِ حبان نے)۔

یا عدم قناعت اور عدم رضا، عمرؓ نے فرمایا: ’’بندے اور اس کے رزق کے درمیان پردہ ہے؛ پھر اگر اس نے قناعت اختیار کی، اور اپنے نفس کو راضی کر لیا، اسے اس کا رزق دیا جائے گا، اور اگر اس نے زبردستی کی، اور اس پردہ کو چیر دیا، اس کے رزق میں اضافہ نہ ہوگا۔

Comments

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں