اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ سیاست - شاہ حسین آفریدی

پاکستان کی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو مشکل سے ہی کوئی ایسی سیاسی پارٹی ملے گی جس کے اسٹیبلشمنٹ سے گہرے یا کمزور مراسم نہ ہوں۔ سیاسی بلوغت کے بعد جب سیاسی جماعت کو حالات کا ادراک ہوتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کا اصل چہرہ نظر آجاتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور جمہوریت کا ناقابل تلافی نقصان ہو جاتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو سے شروع کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ موصوف ایوب آمریت میں وفاقی وزیر تھے۔ اس زمانے میں شیخ مجیب سیاسی لیڈر ہوا کرتے تھے، اسٹیبلشمنٹ نے کمال ہوشیاری سے پیپلز پارٹی کی بنیاد بنگلہ دیشی رہنماء کے اثر کو زائل کرنے یا مقابلہ کرنے کے لیے رکھی، لیکن بظاہر وہی بھٹو اسٹیبلشمنٹ سے تاشقند معاہدے پر ناراضگی ظاہر کر رہے تھے۔ 1970 کے انتخابات ہوئے، اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں جیت جمہوریت کو تو ہوئی لیکن بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ نے اس کو انا کا مسئلہ بنا لیا اور اقتدار عوامی نمائندے کو منتقل کرنے کی بجائے عوام کو سبق سکھانے پر اتر آئے۔ پاکستان سے یا پاکستانی عوام سے بدلہ لیا گیا اور یوں قائد کا پاکستان ٹوٹ گیا۔ سزا کے طور پر پاکستانیوں کو بنگلا دیشی بنا دیا گیا۔ بھٹو کو ملک بھر میں جتوایا گیا، بمقابلہ مذہبی جماعتیں۔

لیکن پھر کیا ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ کو امریکی آقا سے حکم ملا کہ بھٹو کے پر نکل آئے ہیں اب یہ جمہوری بن رہے ہیں، اس کی مخالفت میں سارے ملک کو اکھٹا کیا گیا خصوصاً مذہبی جماعتیں اور اس انارکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک اور آمر جنرل ضیاء الحق آ گئے۔ مذہبی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ نے کمال ہوشیاری سے استعمال کیا افغان جنگ میں بھی اور پارلیمنٹ میں بھی، اس امید پر کہ ضیاء ملک میں اسلام نافذ کررہا ہے۔ یوں مولوی دھوکا کھا گئے، نہ اسلام نافذ ہوا، نہ جمہوریت بلکہ ایک لمبے عرصے کے لیے وہ چھٹی پر چلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا عمران خان وعدے پورے کر سکیں گے؟ سید معظم معین

پیپلز پارٹی کو بے نظیر بھٹو نے منظم کیا، اسٹیبلشمنٹ نے اس کو کاؤنٹر کرنے کے لیے نواز شریف تیار کیا اور یوں قائد کی مسلم لیگ دوبارہ اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے جمع ہوگئی۔ آئی جے آئی بنائی گئی، جس میں ایک بار پھر ساری جماعتیں شامل رہیں سوائے چند قوم پرستوں کے۔ پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو چرایا گیا۔ 1996 میں جماعت اسلامی نے دھرنا دیکر بے نظیر بھٹو کی حکومت گرا دی، یوں جمہوریت کمزور اور آمر جنرل ضیاء کی گود میں پلا بڑھا نواز شریف اقتدار پر بیٹھ گیا۔ جب نواز نے اسٹیبلشمنٹ کی اصل چہرے کو پہچانا تو اختلافات مشرف کے ٹیک اوور تک پہنچے۔ جب پہلے سے موجود ساری جماعتیں سیاسی طور پر بالغ ہوگئیں تو انہوں میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔

لیکن اسٹیبلشمنٹ کو یہ ڈیل پسند نہیں آئی کیونکہ اس سے ان کے اقتدار کو خطرہ تھا۔ یوں ایک سیٹ جیتنے والی پی ٹی آئی کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی بنا دیا گیا انہی شرائط پر جن پر کبھی نواز اور بھٹو آئے تھے۔ پی ٹی آئی اگر اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت پر اتر آتی ہے تو ان کے مقابلے کے لیے تحریک لبیک اور ملّی مسلم لیگ تیار بیٹھے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے الیکشن میں پی ٹی آئی کو جتوانے کی بھر پور کوشش کی جائے گی لیکن اگر خدانحواستہ اسٹیبلشمنٹ اپنے منصوبے میں ناکام رہی تو بدلہ پاکستان سے لیا جائے گا۔ یوں پاکستان 1971 کے خطرناک موڑ پر پھر سے آ کھڑا ہوا ہے۔