جناح کا بہانہ مسلمانوں پر نشانہ - منصورالدین فریدی

لیجیے! اب جے این یو کے بعد اے ایم یو پر ”بھگوا بد روحوں“ کا سایہ پڑ رہا ہے۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے تعلیمی مرکز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک بار پھر غیر ضروری مگر سیاسی تنازع کا ہدف بن گئی ہے۔ بات تعلیم کی نہیں، بات اساتذہ کی نہیں اور بات طلبہ وطالبات کی نہیں، یہ بات ہے ”جناح“ کی۔ یہ بحث ہے اے ایم یو میں آویزاں پاکستان کے ”قائد اعظم“ کی ایک تصویر کی ہے، جس پر بھگوا ذہنیت کے اعتراض اور ہنگامہ کے بعد ایک نئی سازش پر سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ تعلیمی درسگاہ سے سیا ست کے افق پر ایک نیا تنازع نمودار ہوگیا ہے، ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ملک پر ایک بار پھر ”جناح کے جن“ نے کہرام مچا دیا ہے۔ ہر کسی پر ”دیش بھکتی“ک ا دورہ پڑ گیا ہے۔ جناح کی ایک تصویر پر ایسی سیاست بھڑکائی گئی ہے گویا کوئی انوکھی یا حیرت انگیز بات ہوگئی ہے۔ بظاہر تو یہ تنازع علی گڑھ کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ممبر پارلیمنٹ ستیش گوتم کی جانب سے یونیورسٹی کے طلبہ یونین ہال میں لگی بانی پاکستان جناح کی تصویر پر اعتراض کے سبب ابھرا جنہوں نے ملک کی تقسیم کے ذمہ دار کی تصویر کو ہٹانے کا زور دیا تھا۔ مگر یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا، سب طے شدہ تھا۔ حملہ مسلم یونیورسٹی پر نہیں ہوا، حملہ جناح پر نہیں تھا بلکہ حملہ مسلمانوں پر تھا۔ یہ مسلمانوں کے وجود پر سوالیہ نشان سے کم نہیں۔ یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مسلمان جناح نواز ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جناح کبھی مسلمانوں کے لیڈر ہی نہیں رہے، اب انہیں مسلمانوں پر تھوپا جارہا ہے۔ ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں کہ اگر جناح کی تصویر ہٹائی جاتی ہے تو مسلمان ذلیل ہوں۔ یہ پیغام جائے کہ مسلمان ڈر گئے۔ نہیں ہٹائیں گے تو جناح نواز بن جائیں گے۔ یہ مسلمانوں کے لیے آگے کنواں پیچھے کھائی کے حالات ہیں، اس وقت ہندوستانی مسلمان دو دھاری تلوار پر چل رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر جناح کی تصویر قابل اعتراض ہے تو ملک کے صدر جمہوریہ جو کہ تمام مرکزی یونیورسٹیوں کے چانسلر ہوتے ہیں دو جملوں کا نوٹس جاری کردیں کہ اس کو دیوار سے اتار دیا جائے۔ کوئی اس کی مخالفت نہیں کرے گا، وزارت ترقیات امور انسانی کوئی قدم اٹھا لے۔ مگر ایسا اس لیے نہیں ہوگا کہ جس بات پر تنازع ہے وہ دراصل صرف سیاست ہے۔ مسئلہ جناح کی تصویر کے مسلم یونیورسٹی میں آویزاں ہونے کا نہیں بلکہ 2019ء عام چناﺅ کا ہے۔ مودی حکومت کے لیے اتر پردیش میں نئے سیاسی اتحاد کا امکان پریشان کن بن گیا ہے اس لیے اب بی جے پی ایسے موضوعات کو ابھار کر ماحول گرم کرے گی تاکہ حکومت کے کاموں اور کارناموں کے بارے میں سوال کرنے کے بجائے فرقہ وارانہ بنیاد پر ووٹ ڈال دیے جائیں۔

70 سال بعد نظر آیا جناح کا بھوت؟

حیرت کی بات یہ ہے کہ جناح کی یہ تصویر 1938سے لگی ہوئی ہے یعنی کہ بی جے پی کو یہ تصویر آزادی کے 70 سال بعد نظر آئی ہے۔ جس کا سبب دیش پریم نہیں بلکہ 2019 عام چناﺅ ہیں۔ یہ جناح سے نفرت نہیں بلکہ چناﺅ کے لیے ماحول سازی ہے، ایک منظم سازش۔ پاکستان کے نام پر سیاست چمکانے کا کھیل، پاکستان کے نام پر نفرت کو ابھارنے کی تیاری۔ جس میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے کیونکہ اس تنازع کی کوکھ سے تشدد نے جنم لیا اور اے ایم یو سرخیوں میں آگیا، وہ بھی ”جناح نوازی“ کے الزام کے ساتھ۔ حالانکہ اس میں پاکستان نوازی ہے نہ جناح نوازی۔ یہ ایک روایت کا حصہ ہے جس کو نظر انداز کرکے بس ایک تنازع کھڑا کردیا گیا۔ سیاست کی ہانڈی تیار کردی گئی، اس کھچڑی کو اب ملک بھر میں بانٹنے کام ہوگا۔ اس کا یہ پہلا نمونہ علی گڑھ ہے جب اس اعتراض کے بعد معاملہ نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا۔ تصویر کے خلاف ہندو شدت پسند تنظیموں ہندو جاگرن منچ، ہندو یووا واہنی اور بی جے پی کی طلبہ شاخ اے بی وی پی کے کارکنوں نے مسلم یونیورسٹی میں گھسنے کی کوشش کی۔ باب سرسید پر ہنگامہ برپا کردیا، جب یونیورسٹی کے طلبہ نے واقعہ کے خلاف احتجاج کیا تو مبینہ طور پر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کی جس سے طلبہ یونین کے صدر اور سیکریٹری اور دو سابق صدور سمیت تقریباً ایک درجن طلبہ زخمی ہوگئے۔ یہ سب اس وقت ہورہا تھا جب سابق نائب صدر حامد انصاری یونیورسٹی کے دورے پر تھے۔ ایک تیر سے کئی نشانہ لگائے گئے تھے۔

یونیورسٹی انتظامیہ ”ماشااللہ“

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دوران وائس چانسلر طارق منصور اپنی بھگوا وفاداری نبھانے کے لیے غائب رہے۔ سوشل میڈیا پر اپیل کی جانے لگی کہ کہاں ہیں ”سرپرست اعلی“؟۔ جہاں بھی ہیں یونیورسٹی واپس آجائیں، ان کی ضرورت ہے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ وائس چانسلر کے ساتھ ساتھ جناح کی تصویر بھی غائب ہوگئی۔ جس پر طلبہ نے بہت ہنگامہ کیا تو یونیورسٹی انتظامیہ نے مضحکہ خیز وضاحت کر دی کہ تصویر کو صاف کرنے کے لیے ہٹایا گیا تھا۔ جس نے اس بات کا اشارہ دیدیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ”مدعی سست گواہ چست“ ثابت ہوا ہے۔ حکومت نے اس معاملہ میں کچھ نہیں کہا مگر یونیورسٹی نے بڑی تیزی کے ساتھ جناح کی تصویر اتار لی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ کا جھکاﺅ کس جانب ہے اور کیوں ہے؟ بہرحال بی جے پی کے ایک طبقہ نے جس تنازع کو ہوا دینے کی کوشش کی تھی وہ کسی حد تک کامیاب رہا ہے۔ مگر ایک بڑی بات یہ سامنے آئی ہے کہ جناح کی تصویر کے بہانے مسلم یونیورسٹی کو ہدف بنانے کی کوشش کی مذمت بھی کی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ اتر پردیش کی ریاستی حکومت میں بی جے پی کے ایک وزیر سوامی پرساد موریہ نے بھی اس مطالبے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے ایک گھٹیا اقدام قرار دیا ہے۔

پاکستان۔۔ پاکستان۔۔ پاکستان

آخر کیا بات ہے کہ ہندوستان میں پاکستان کا نام لیے بغیر سیاست ممکن نہیں؟ پاکستان کے نام پر شور برپا کیے بغیر کھانا ہضم ہونا مشکل ہوتا؟ کیا وجہ ہے کہ جب تک پاکستان کے نام پر ایک نفرت کا طوفان نہیں کھڑا کیا جاتا سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوتا؟ پاکستان کے نام پر سب کچھ ہوتا ہے، نیوز چینل پر ہیجان پیدا کیا جاتا ہے اور سیاستداں انگارے اگلنے لگتے ہیں، اس دوڑ میں سب ایک دوسرے سا آگے نکلنے کے لیے پاگل ہوجاتے ہیں۔ لیکن پاکستان سے جنگ نہیں ہوتی ہے، بس یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ منہ توڑ جواب دیدیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ”آسان نشانہ “ تلاش کیا جاتا ہے، اس پر زور آزمائی کی جاتی ہے۔ پاکستان سے نہیں بلکہ خیالی پاکستان بناکر جنگ لڑی جاتی ہے، دیش بھکتی کے نعروں سے فضا کو گرم کیا جاتا ہے۔ اس بار بھی وہی کیا جارہا ہے، نام جناح کا ہے اور نشانہ مسلمان ہیں۔ بات جناح کی تصویر کی نہیں بلکہ چناﺅ کی ہے۔

اس ماحول میں سب فائدہ اٹھانے کے لیے زہر افشانی کرتے ہیں جس کی ایک مثال بی جے پی کے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی ہیں جنہوں نے اس تنازع کے بعد بیان دیا تھا کہ ”کون ہے جو سبق سکھائے گا، کوئی ہے جو اے ایم یو کو سبق سکھائے گا؟" سوامی نے اکسایا اور علی گڑھ میں ہنگامہ برپا ہوگیا مگر کوئی ان کے خلاف کارروائی تو دور کی بات تنقید کرنے کو تیار نہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس میں پاکستان سے نفرت شامل تھی اس لیے سب معاف ہوگیا۔

جناح کی تصویر کیوں؟

اب بات کر لیں جناح کی تصویر کی۔ جو اچانک 70 سال بعد بی جے پی کی آنکھوں میں کھٹکنے لگی۔ ستیش گوتم نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور کو ایک خط لکھ کر دریافت کیا تھا کہ جناح کی تصویر مسلم یونیورسٹی میں آج تک کیوں ہے؟ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے تفصیلی وضاحت طلب کی تھی کہ یونیورسٹی میں جناح کی تصویر آویزاں رکھنے کی کیا ضرورت ہے کہ جب وہ ہندوستان کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں اور پاکستان ہمیشہ ہندوستان کے لیے پریشانیاں پیدا کرتا رہتا ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے 'برائے مہربانی مجھے مکمل جانکاری دینے کی تکلیف کریں اور ان وجوہات کا بھی ذکر کریں جن کی وجہ سے یہ تصویر مسلم یونیورسٹی میں لگانے کی مجبوری ہے کیونکہ یہ ساری دنیا جانتی ہے کہ جنا ح ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے روح رواں تھے۔

جناح کی تصویر کوئی مسئلہ اس لیے نہیں کہ مسلم یونیورسٹی کی ا سٹوڈنٹ یونین نے اس سلسلے میں سب سے پہلے مہاتما گاندھی کو 1920 میں مدعو کیا تھا اور انہیں لائف ممبرشپ عطا کی تھی۔ اس سے قبل جب یہ اینگلو محمڈن کالج ہوتا تھا تو بھی اس طرح کی روایت تھی۔ 1938 میں یونین نے جناح کو مدعو کیا تھا اور ان کو بھی لائف ممبر شپ دی گئی تھی اور اسٹوڈنٹ یونین ہی یہ فیصلہ لیتی ہے کہ کس کی تصویر لگنی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ علی گڑھ کے علاوہ شملہ میں جو ایڈوانس اسٹڈی سینٹر ہے جو کہ پہلے وائسرائے کی رہائش گاہ تھا، وہاں بھی جناح کی تصویر ہے۔ کہیں بھی ایسا قانونی فریم ورک نہیں ہے جس میں یہ ہدایت دی گئی ہو کہ ان کی تصویر کو ہٹانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یونین نے اب تک 35 بڑے رہنماؤں کو لائف ممبرشپ دی ہے جن مہاتما گاندھی، دلائی لاما، خان عبدالغفار خان، سروجنی نائیڈو، کماری امرت کور، برطانوی مصنف ای ایم فاسٹر، مولانا آزاد، سی وی رمن، وی وی گری، سی راج گوپالاچاریہ، جواہر لعل نہرو، جمال عبدالناصر، بدرالدین طیب جی، جے پرکاش ناراین، کلدیپ نیر، مدر ٹریسا وغیرہ شامل ہیں۔ سید حامد انصاری 36 ویں ایسی شخصیت ہیں جنھیں یہ رکنیت دی گئی ہے۔

کہانی کیا تھی؟

اس تنازع کے دو اہم پہلو پہ اول تو ایک ہفتے قبل آر ایس ایس کے کارکن محمد عامر راشید نے یونیورسٹی میں شاکھا لگانے کے لیے رجوع کیا تھا جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ جس دن یہ ہنگامہ ہوا اس وقت سابق نائب صدر حامد انصاری کو اے ایم یو کی لائف ممبر شپ سے نوازنے کا پروگرام تھا۔ حامد انصاری کی آمد سے قبل ہندو یوا واہنی کے تقریباً تین درجن افراد یونیورسٹی گیٹ باب سرسید پر جمع ہو گئے اور مختلف قسم کے 'اشتعال انگیز' نعرے لگانے لگے جن میں 'اے ایم یو ک غداروں کو، جوتے مارو'، بھارت میں جناح کا یہ سمّان (احترام)، نہیں چلے گا نہیں چلے گا،' اور 'بھارت میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہے' جیسے نعرے شامل تھے۔

یاد رہے کہ ہندو تنظیمیں اس سے قبل دلّی کی جے این یو، حیدرآباد یونیورسٹی اور دہلی کے رام جس کالج کو نشانہ بنا چکی ہیں جبکہ علی گڑھ ان کے نشانے پر ایک عرصے سے رہا ہے۔

وردی پوش بھگوا رضاکار بن گئے

سوال یہ تھا کہ جب سابق نائب صدر کا یونیورسٹی میں پروگرام تھا تو سیکیورٹی کیا انتظام تھا؟ کس طرح مظاہرین باب سر سید تک پہنچ گئے؟ یہ سب اس لیے ہوا کہ مظاہرین کے ساتھ پولیس والے چل نہیں رہے تھے بلکہ دوڑ رہے تھے۔ جب چند شرپسند یونیورسٹی اور محمد علی جناح کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مسلم یونیورسٹی کی طرف بڑھ رہے تھے تو پولیس نے ان کو یونیورسٹی کے صدر دروازے 'بابِ سید' تک پہنچنے کیسے دیا؟ یونیورسٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ شرپسند وہاں تک پولیس تحفظ میں پہنچے تھے۔ اس پورے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ ناکام ترین وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کی لکھنؤ واپسی ہوگئی ہے مگر وہ آگ بجھانے میں نہیں بلکہ اس کو بھڑکانے کے ماہر ہیں، اس لیے مسلم یونیو رسٹی کے طلبہ کو بہت ہوشیاری اور سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔ یہ ایک سیاسی کھیل ہے اور مسلمانوں کے تعلیمی ادارے کے نام پر ملک کے مسلمانوں پر نشانہ ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */