ڈبل سٹینڈرڈ - طلحہ زبیر بن ضیا

پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر ایک کو اپنی سوچ کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہے اگر آپ کسی زندگی کے کسی بھی موڑ پر اپنے آپ کو بدلنا چاہیں تو آپ کو کوئی نہیں روکے گا سوائے آپ کی اپنی ذاتی سوچ کے۔

مجھے ایک دوست ملے جو کہ ماڈرن ازم کی جانب رغبت رکھتے تھے اور اکثر و بیشتر مولوی حضرات کے ساتھ خواتین کی آزادی پر بھی بات کرتے تھے۔ ایک دن ان سے سے یونہی سر راہ ملاقات ہو گئی ہم تھکے ہوئے تھے، دماغ کی بتی گل تھی، سو ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ وہ اپنی مخصوص باتوں میں ہمیں سمجھانے لگے کہ ہم نے اگر اپنی دقیانوسی کو نہ چھوڑا تو ہمارا نام دنیا سے مٹ جائے گا۔ ہمیں دنیا میں کوئی نہیں پوچھے گا۔ بات ان کی سولہ آنے درست تھی لیکن ان سے پوچھ بیٹھے کہ دقیانوسی میں کن عناصر کو شامل فرمایا گیا ہے؟ تو فوری بولے حجاب کو! میں نے ان کی جانب دیکھا اور خاموش ہو گیا کیونکہ بولنے کا من نہ تھا۔ وہ کہنے لگے کہ جب ہم نقاب کر کے دوسرے ممالک میں جاتے ہیں تو ہمیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہمیں پتھر کے دور کا کہا جاتا ہے۔ اسی حجاب کی وجہ سے یہ پابندی کی زنجیر ہمیں توڑنی ہوگی۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ پابندی کی زنجیر کس نے لگائی؟ تو کہنے لگے کہ مرد حضرات نے! کسی حد تک ان کی بات کو مانا جا سکتا ہے کہ قبائلی روایات میں خواتین پر یہ پابندی اسلام سے زیادہ غیرت کے تقاضے پر مبنی ہوتی ہیں لیکن پٹھان خواتین خود سے پردہ کرنا چاہتی ہیں اور پورے پاکستان میں بھی بہت سی خواتین مذہبی فریضہ سمجھ کر خود سے پردہ کرتی ہیں۔ خیر ان سے کہ بیٹھا کہ اگر وہ خواتین خود پردہ کرنا چاہیں تو؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے وقوف ہوں گی۔ ان کے مطابق اگر پاکستان میں اگر کوئی عورت جمہوری آزادی کا استعمال کر کے فیشن کی جانب آتی ہے تو وہ صحیح لیکن اپنی جمہوری آزادی استعمال کر کے حجاب کی جانب جانا چاہے تو وہ غلط ہے۔ جبکہ پردہ دار خواتین کے مطابق یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے اور اس لیے بھی کہ مکمل نہیں تو بہت سے ہراسانی کے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔ اب یہاں ایک نقطہ نظر جو پورے مضمون کا خلاصہ بنانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ "ہمیں جو پسند آئے وہ صحیح اور جو پسند نہ آئے وہ غلط ہے "

یہ بھی پڑھیں:   اس نے مجھے گمراہ پایا، پھر مجھے ہدایت دی - صبیح احمد

چونکہ ہم منطق پڑھنا چھوڑ چکے ہیں اس لیے ہمارے تمام معیار خود ساختہ اصولوں کی جانب بڑھ چکے ہیں جس کے سبب معاشرے میں دوغلا پن یا ڈبل سٹینڈرڈ بہت بڑھ چکا ہے۔ اسی خبط نے ہمیں شخصیت پرستی و قوم پرستی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ ہم جانتے بوجھتے ہوئے کہ ہم غلط کہ رہے ہیں ہم ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں کہ ہم صحیح ہیں۔ اوپر بیان کیا گیا یہ قصہ اسی ڈبل سٹینڈرڈ کی ایک مثال ہے۔ ہمارے بہت سے حضرات نہیں چاہتے کہ خواتین پردہ کریں اس لیے انہیں غلط لگتا ہے۔ ہمارے مذہبی حضرات چونکہ چاہتے ہیں کہ خواتین پردہ کریں اس لیے ان کو صحیح لگتا ہے۔

پاکستان میں موجود واقعات پر ایک نظر ڈالیں تو وہ خواتین جو کام کے سلسلے میں گھر سے نکلتی ہیں۔ ہم نے ان کو ہر جگہ ہراساں ہوتے دیکھا ہے۔ چند ایک مقامات ایسے بھی ہیں جہاں یہ کام بالکل نہیں اور وہ اس ادارے کی انتہائی سختی کے سبب ہے۔ اسی سلسلے میں ایک واقعہ نظروں کے سامنے سے گزرا کہ ایک خاتون کو طلاق ہو گئی اور کچھ عرصہ میں ان کے والد چل بسے۔ گھر میں 7 بہنیں تھیں اور ان کا اپنا ایک بچہ تھا۔ گھر کی ذمہ داری ان پر آئی تو انہوں نے جاب شروع کر دی جب مینیجر کو علم ہوا تو وہ ان کو تنہا سمجھ کر ہراساں کرنے لگا ان کو کہنے لگا کہ میرے سے دوستی کر لو گی تو مزے میں رہو گی۔ ان خاتون کا کہنا تھا کہ میں اس لباس میں اچھا محسوس نہیں کرتی۔ مجھے دوسرے لباس کی اجازت دی جائے تو ان کے مینیجر نے ان کی ہنسی اڑائی اور اس کی اجازت نہیں دی۔ یہاں جمہوریت کو نظر انداز کیا گیا ایک خوبصورت دلیل کے ساتھ کہ ہماری پالیسی نہیں جبکہ بزنس میں وہ دیکھا جاتا ہے جو عوامی میجورٹی چاہتی ہے اور اس سٹور پر بیشتر لڑکیاں مجبوری کے سبب نوکری کر رہی تھیں۔ اگر کوئی لڑکی اپنی مرضی سے کوئی لباس پسند کرتی ہے تو وہ اس کی اپنی مرضی ہے لیکن اگر کوئی لڑکی اپنی مرضی سے حجاب پسند کرتی ہے تب بھی اس کی اپنی مرضی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اس نے مجھے گمراہ پایا، پھر مجھے ہدایت دی - صبیح احمد

یہاں ایک اور بات سامنے آتی ہے کہ مردوں کا خواتین کو گھورنا اور اس میں حجاب کا کردار۔ یہ کانسپٹ بہت حد تک درست ہے کہ مسئلہ ہمارے ذہنوں میں ہے کسی لباس میں نہیں۔ کیونکہ مرد حضرات برقعہ ہو یا عام لباس کسی کو نہیں بخشتے۔ ہمارے ہاں خواتین کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ تم گھر کی عزت ہو، تم نے یہ پابندی لاگو کرنی ہے جبکہ لڑکوں کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں انجوائے کریں اور جب وہ کسی خاتون کو چھیڑتے ہیں تو ان کے والدین تک کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ بچے انجوائے کر رہے تھے۔ مطلب آپ انجوائمنٹ کے نام پر کسی کی بھی ماں بہن کو زچ کر دیں اس کی عزت نفس پر ہاتھ ڈالیں وہ صحیح ہے لیکن اگر آپ کی ماں بہن کے ساتھ یہ ہو تو غیرت الگ سے جاگ اٹھتی ہے۔ یہاں پر دوبارہ ڈبل سٹینڈرڈ آتا ہے کہ کوئی کرے تو غلط ہم کریں تو صحیح۔ ہمیں تربیت میں یہ سکھایا جائے کہ خواتین کی عزت کرنی ہے تو ہمیں خواتین کے حقوق مانگنے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ عزت دی جائے تو تمام معاملات بہت حد تک خودبخود حل ہونے لگتے ہیں۔

ہر وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے جہاں ظلم و نا انصافی اس حد تک بڑھ جائے کہ معاشرے کے تمام پہلو متاثر ہونے لگیں اور ضروری نہیں کہ یہ ظلم حاکم وقت کی جانب سے ہی ہو ہمیں خود کو بدلنا ہے اور ایک قدم آگے چلنا ہے تاکہ ظلم کو جڑ سے اکھاڑ بھی سکیں۔