قضیہ پانچ ارب ڈالر کا - کامران ریاض اختر

پچھلے دو دن سے ملک بھر میں اس اعلامیہ کا غلغلہ ہے جس کے ذریعے عوام الناس کو آگاہ کیا گیا کہ نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف غیر قانونی طور پر پانچ ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوانے کے الزام کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ پانچ ارب ڈالر بھارت منتقل ہونے کا الزام پہلی دفعہ 2016 میں ایک مقامی چینل کے ٹی وی پروگرام میں لگایا گیا تھا اور ثبوت کے طور پر عالمی بینک کی کسی رپورٹ کا ذکر کیا گیا تھا۔ کیونکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے ہمارا ایک طویل عرصے سے تعلق رہا ہے اس لیے کچھ دوستوں کے اصرار پر اس معاملے کو ہم نے تفصیل سے دیکھا تھا۔ اب نیب کی موجودہ تحقیقات میں ایک اخباری کالم اور ورلڈ بینک کی اسی رپورٹ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ یہ رپورٹ اصل میں ایک علمی مقالہ ہے۔ چونکہ اس مقالے کو پڑھنا اور سمجھنا شاید ہر شخص کے لیے آسان نہیں ہوگا لہٰذا اس پورے معاملے کو ہم آسان الفاظ میں بیان کیے دیتے ہیں۔

چند چیزیں آغاز میں ہی واضح کر دینا ضروری ہے:

١۔ یہ مقالہ چند مفروضات پر مشتمل ایک علمی و نظریاتی کاوش ہے، عالمی بینک اس کے حقیقی صورتحال کا عکاس ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔

٢۔ ان مفروضات کی ذریعے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مختلف ممالک میں مقیم تارکین وطن اپنی آمدنی میں سے اپنے اپنے آبائی ملک میں کتنی رقم بھیجتے ہوں گے؟

٣۔ یہ فرض کیا گیا ہے کہ تارکین وطن بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جا کر روزی کماتے ہیں اور اہل خانہ کی گزر اوقات کے لیے رقم بھجواتے رہتے ہیں۔

٤۔ 1947 میں اور اس کے بعد بھارت سے پاکستان ہجرت کر کے آنے والوں کو روزگار کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن تصور کر کے اور ان کی کل آمدنی کا اندازہ لگا کر یہ فرض کیا گیا ہے کہ انہوں نے سال میں پانچ ارب ڈالر بھارت بھجوائے ہوں گے۔

٥۔ نہ تو اس مقالے میں مفروضہ رقم بھجوانے والے کسی شخص کا نام لکھا گیا ہے اور نہ ہی منی لانڈرنگ کا کوئی الزام لگایا گیا ہے۔ ظاہر ہے جب پوری دستاویز چند مفروضوں کی بنیاد پر محض ایک تخمینہ لگا رہی ہو تو ایسا الزام لگ بھی نہیں سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام کے ساتھ ہمارارویہ - مفتی منیب الرحمن

دراصل، عالمی بینک مختلف ممالک کو تعمیر ترقی کے لیے صرف قرض ہی نہیں دیتا بلکہ اس کے کئی ایسے ذیلی ادارے ہیں جو عالمی معیشت کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کرتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ادارہ تارکین وطن کے عالمی معیشت پر اثرات کے بارے میں بھی تحقیق کرتا ہے اور اس ادارے کی ایک ٹیم نے ہی 2016 میں یہ مقالہ شائع کیا جس میں اس موضوع پر تحقیق کی گئی کہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں ترسیلات زر کتنی ہوتی ہیں۔ اس موضوع پر بحث کے لیے ایک نظریہ قائم کیا گیا کہ ہر ملک میں کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھنے والے افراد کتنی تعداد میں ہیں، ان کی اوسط آمدنی کتنی ہے اور وہ اپنی آمدن کا کتنا حصہ اپنے آبائی ملک کو بھجواتے ہیں۔ اس بنیاد پر بین الاقوامی ترسیلات زر کا ایک اندازہ لگایا گیا۔ پاکستان کے ضمن میں یہ مفروضہ استعمال کیا گیا کہ قیام پاکستان کے بعد بھارت سے پاکستان ہجرت کر کے آنے والے لوگ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اپنے آبائی ملک بھارت میں اہل خانہ کو بھجواتے ہوں گے۔ اس طریقہ کار سے یہ تخمینہ لگایا گیا کہ پاکستان سے بھارت میں سالانہ رقم کی منتقلی تقریباً 5 ارب ڈالر ہو سکتی ہے جبکہ بھارت سے پاکستان میں آنے والی رقم تقریباً 2 ارب ڈالر بنتی ہیں-

خود اس مقالے میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ یہ طریقہ کار پاکستان اور بھارت کے ضمن میں شاید درست نہ ہو کیونکہ جن لوگوں نے 1947 میں ترک وطن کی وہ معاشی وجوہات کی بنا پر نہیں گئے تھا بلکہ یہ لوگ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مستقل اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں آباد ہوگئے۔ ستّر سال پہلے جو لوگ پاکستان میں آئے ان کا تو شاید بھارت میں ایسا کوئی قریبی رشتہ دار بھی اب موجود نہیں جسے وہ کوئی رقم بھجوائیں۔

اس قسم کے مقالہ جات کی اشاعت کا مقصد ایک علمی بحث کا آغاز ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوا۔ مختلف تحقیق کاروں نے ترسیلات زر کا تخمینہ لگانے کے اس طریقہ کار کے حسن و قبح پر بحث کی۔ لیکن اسی دوران لطیفہ یہ ہوا کہ اس مقالے کی تلخیص ہمارے میڈیا والوں کے ہتھے چڑھ گئی۔ انہوں نے بس مقالے میں دیے گئے ترسیلات زر کے تخمینے کے جدول کو دیکھا اور پورا مقالہ پڑھنے کی تکلیف کیے بغیر اسے حقیقی رقم سمجھ کر بریکنگ نیوز چلا دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   این آر او نہیں دونگا ڈرامے کا انجام ، دے دیا - حبیب الرحمن

سب سے پہلے ایک اینکر جو خود کو ڈاکٹر بھی کہلواتے ہیں، انہوں نے اس پر پورا پروگرام کر ڈالا۔ ایک اور اینکر جن کی وجہ شہرت کروڑوں کے منصوبوں میں اربوں کی کرپشن پکڑنا ہے، وہ بھی میدان میں کود پڑے اور اس "سکینڈل" پر کہرام مچا دیا۔ اس پر سٹیٹ بینک کو وضاحت جاری کرنا پڑی کہ بھائی لوگو! کچھ عقل کو ہاتھ مارو۔ پاکستان سے پانچ ارب ڈالر کی کوئی منتقلی بھارت کو نہیں ہوئی۔ ورلڈ بینک کی جس رپورٹ کا حوالہ دے رہے ہو، تبصرے کرنے سے پہلے اسے پڑھ لیتے تو معلوم ہو جاتا کہ یہ سب فرضی رقوم کے تخمینے ہیں۔ اس وضاحت کے بعد ان اینکر حضرات کو شرمندگی تو نجانے ہوئی یا نہیں، لیکن انہوں نے اس معاملے کا ذکر بند کر دیا۔

اب نیب کے نوٹس سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ فروری میں ایک صاحب نے کسی غیر معروف اخبار میں کالم لکھتے ہوئے عالمی بینک کے اس مقالے کے حوالے سے نہ صرف پانچ ارب ڈالر بھارت منتقل کرنے کے الزام کو دہرایا بلکہ اس میں منی لانڈرنگ کا اضافہ کرتے ہوئے نواز شریف صاحب کو اس میں ملوث کر دیا۔ بات یہاں تک رہتی تو غنیمت تھی کیونکہ ہمارے اخبارات اور میڈیا پر ایسی بہت سی اوٹ پٹانگ باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن معاملہ سرخیوں میں تب آیا جب نیب نے اس پر تحقیقات کے آغاز کا اعلان کر دیا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ عالمی مالیاتی حلقوں میں نیب کی اس حماقت کے بعد پاکستان کا خوب تمسخر اڑایا جا رہا ہے اور ہمیں طعنے سننا پڑ رہے ہیں کہ آپ ہمیں ایسے ملک میں سرمایہ کاری کا کہتے ہیں جہاں کے اداروں کی اتنی استعداد بھی نہیں ہے کہ حقیقت اور مفروضے کا فرق سمجھ سکیں۔ اس احمقانہ حرکت نے نہ صرف پاکستان کو ایک "بنانا ریپبلک" بنا کر عالمی برادری کے سامنے پیش کیا ہے بلکہ نیب کی دیگر تحقیقات پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے-