خواب ِ غفلت - ایمن طارق

وہ کیا ہے کہ ایسی باتوں کی فکر تو آپ ہی کریں، ہم تو پاکستان میں رہتے ہیں یہاں ایسی خرافات کی ٹینشن لینے کی ضرورت ہمیں ہے ہی نہیں۔ توبہ توبہ اتنی کم عمری میں بچے کیا کیا نہ کچھ سیکھ لیتے ہیں آپ کے ہاں، ہمارے تو بچے معصوم ہی ہیں ۱۴/۱۵ سال کی عمر میں بھی۔

تو دوستوں اس سے قطع نظر کہ ہماری ان عزیزہ نے مزید کن سنہری خیالات کا اظہار کیا اور ہم اُن سے agree کرتے ہیں یا نہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ چاہے آپ دنیا میں کہیں پر بھی رہیں بہت سے over confident والدین سے آپ کا آمنا سامنا ہوتا رہے گا جن کے نزدیک اُن کے گھر کے باہر پائے جانے والے بچے انتہائی گمراہ اور بگڑے ہوئے اور تباہی کے آخری کنارے پر جا پہنچے ہیں لیکن اُن کے اپنے بچے ہر طرح کے بگاڑ سے محفوظ ایک ایسے انڈر گراؤنڈ بنکر میں ہیں جہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔

ہماری کچھ قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ اتنی لمبی پوسٹ کی بجائے اپنا مدعا پہلی دس لائنوں میں کہہ دیا کرو اور غیر ضروری باتیں آخر میں۔ اُن کا یہ مشورہ ایک آنکھ نہ بھانے کے باوجود اس اہم نکتہ کو جلد ہی بیان کرنا مناسب ہے۔ بچے کہیں بھی پالیں کسی بھی ملک اور کسی بھی خاندان اور کسی بھی محلّے میں لیکن کبھی اندھا اعتماد محض اس لیے نہ کریں کہ آپ کے بچے ہیں یا آپ کے خاندان میں تو برسوں سے بچوں کی اُٹھان سیدھی لکڑی کی طرح ہی رہی ہے۔ زمانہ بہت خراب ہے اور جن برائیوں کا پہلے صرف سنا تھا آج وہ مجسم حقیقت بن کر سامنے کھڑی ہیں۔ ان سے نئی نسل کو بچانا تبھی ممکن ہے جب ہم آنکھیں پوری طرح کھول کر خطرے کا احساس کریں، خود awareness حاصل کریں، بچوں سے بے تکلف ڈسکس کریں اور دعا کریں۔ ان کے علاوہ کوئی "میجک" ممکن نہیں۔

ڈپریشن سے خود کشی، ڈرگز اور addictions، شادی سے قبل جسمانی تعلقات، ہم جنس پرستی اور دوسروں کے ساتھ فراڈ اور زیادتیاں، محض نوجوانی کے ایڈوینچر میں چھری چاقوؤں سے حملے، موبائل چھیننے اور والٹ چرانے کی مستیاں صرف دوسروں کے بچے نہیں کر رہے، آپ کے اپنے بچے بھی ان برائیوں میں انوالو ہو سکتے ہیں اگر آپ نے آنکھیں بند کرکے چین کی بانسری بجانا بند نہ کی۔

اولاد نعمت ہے لیکن امانت بھی ہے، اس کی حفاظت اور اس پر نظر رکھنا آپ کا فرض ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری اولاد دوسروں کے لیے یا اپنی ذات کے لیے مصیبت بن جائے اور ہم اسی غفلت کا شکار رہیں کہ ہم سے زیادہ اچھے اور نیک تو کسی کے بچے نہیں۔ محض الگ بیڈروم، الگ موبائل اور الگ گاڑی لے کر نہ دیں بلکہ الگ سے اُن کے لیے ٹائم بھی نکالیں اور سو باتوں کی ایک بات کہ کھلائیں سونے کا نوالہ اور دیکھیں شیر کی نگاہ سے۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */