رمضان المبارک اور قرآن مجید (5) - یوسف ثانی

قرآن مجید میں موجود جملہ اوامر و نواہی پر مبنی احکامات کی موضوعاتی درجہ بندی کی اگلی قسط پیش خدمت ہے۔ پچھلی قسط اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔

34۔ ظلم، بدلہ اور صلح

ظلم:

نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے (البقرة:279) ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلقِ خدا میں سے عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں۔ اُن کو دردناک سزا کی خوشخبری سنا دو(آلِ عمران:21) اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے (الانعام:144) وہ سرکشی کیے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے(الاعراف:133) بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا(الاعراف:142) تم سے پہلے کی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا، جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی (یونس:13) اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جُھوٹا قرار دے(سورة یونس:17) جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں انہوںنے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے (الاحزاب:58) ملامت کے مستحق وہ ہیں جو ظلم کرتے ہیں اور ناحق زیادتیاں کرتے ہیں (الشوریٰ:42)۔

خود پر ظلم:

اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں(سورة یونس:44) اے میرے رب، میںنے اپنے نفس پر ظلم کرڈالا، میری مغفرت فرمادے؟ (القصص:16) کوئی تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی اللہ کے اِذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے (فاطر:32)اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجا ؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے (الزُمر:53) وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آ جاتا ہے۔وہ اس سے اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں اور وہ کبھی دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے(اٰلِ عمران:135) اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہوگیا ہو اسے معاف کر دے(آلِ عمران:147) اگر کوئی شخص بُرا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا (النساء:110)۔

ظالم:

خدا کی لعنت ہے ظالموں پر۔ اُن ظالموںپر جو خدا کے راستے سے لوگوںکو روکتے ہیں۔اُس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت سے انکار کرتے ہیں (ھود:19) وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے اُن کو دھرلیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے (ھود:68) ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے(ھود:116) اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ (سورة الکھف:15) اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سُنا کر نصیحت کی جائے اور وہ ان سے منہ پھیرے اور اُس بُرے انجام کو بھول جائے (الکھف:57) ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مددگار (الشوریٰ:8) خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے (الشوری:45) جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حصے کا بھی عذاب تیار ہے (الذاریات:59) ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بداعمال ہے، جفاکار ہے(القلم :13) ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے (القصص:59)۔

مظلوم:

مظلوم جنہوں نے صبر کیا ہے اورجو اپنے رب کے بھروسے پر کام کررہے ہیں (سورة النحل:42) اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اُسی قدر لے لو جس قدر تم پرزیادتی کی گئی ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے(سورة النحل:126)۔

بدلہ:

بدلہ ویسا ہی لو جیسا تمہارے ساتھ کیاگیاہو۔ زیادتی ہوئی ہو تو اللہ ضرور مددکرے گا (الحج:60) اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے نیک مومنین پر جب ظلم کیاگیا تو صرف بدلہ لے لیا (الشعرائ:227) جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بُرائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی ہے۔ پھر جو کوئی معاف کر دے تو اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے(سورة الشوریٰ:39-40) جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کی ملامت نہیں کی جاسکتی(الشوریٰ:41)۔

صلح:

اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کرا ؤ(الحجرات:9) پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو (الحجرات:9)۔

35۔ عبادت:

اللہ کی بندگی عبادت، مقصد حیات:

جنوں اور انسانوں کو اللہ کی بندگی کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا (الذاریات:56) آخر کیوںنہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے (یٰسین:22)

عبادت زیب و زینت کے ساتھ:

ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ ہو اور کھا ؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو(الاعراف:31)۔

مشغولیت اور فراغت میں عبادت:

ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰة سے غافل نہیں کردیتی ہے(النور:37) جو اپنے رب کے حضور سجدے اورقیام میں راتیں گزارتے ہیں(الفرقان :64) اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو (الفتح:8) اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو (الدہر:25)رات کو اس کے حضور سجدہ ریز ہواس کی تسبیح کرتے رہو(الدہر:26) جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جا ؤ۔ اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو (الشّرح: 7-8)۔

صرف اللہ کی بندگی:

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں(فاتحہ:5) بندگی اختیار کرو اپنے اس رب کی جو تم سب کا خالق ہے (البقرة:21) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا(البقرة:83) ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی کریںگے نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرائیں گے(آلِ عمران:64) تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا ؤ(النساء:36) تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیزکا کفیل ہے (الانعام:102) کہو! میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ کے لیے ہے (الانعام:162) اللہ کی بندگی کرو،اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔(ھود:61) اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لا ؤ اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے (الحِجر: 98-99) اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، پس تم اُسی کی بندگی کرو،یہی سیدھی راہ ہے (مریم:36) تو میری بندگی کر اورمیری یاد کے لیے نماز قائم کر (سورة طٰہٰ:14) تم لوگ میری ہی بندگی کرو (سورة الانبیاء:25) اُس اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو(الفرقان:58)جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے (الفرقان:68) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ شہرمکہ کے رب کی بندگی کروں (النمل:91) وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں(القصص:70) اللہ کی بندگی کرو اور اُسی سے ڈرو(سورة العنکبوت:16) تم میری ہی بندگی بجالا ؤ (سورة عنکبوت:56) میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے(سورة یٰسین:61) تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہوجاؤ(سورة الزُمر:66) اپنے ربِ عظیم کے نام کی تسبیح کرو (سورة الواقعہ:74)۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اُسی کے ہورہو (المزمل:8) اللہ کی بندگی کریں۔ا پنے دین کو اُس کے لیے خالص کرکے، بالکل یک سُو ہوکر(البینہ:5) رب کعبہ کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانے کو اور خوف میں امن عطاکیا (القریش:3-4) اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو (سورة النصر:3)۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا ابابیل - راجہ کاشف علی خان

عبادت اور برائیاں:

اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰة دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا (المآئدة:12) اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا(نوح :3-4)

ترک بندگی کی سزا:

جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبُّر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے (النساء۔173)۔

36۔ علم و عقل اور جہالت

ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے(سورة یونس:89) جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اللہ اُن پر گندگی ڈال دیتا ہے (سورة یونس:100) اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی(الرعد:11) نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں (الرعد:19) اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر (طٰہٰ:114) ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیارکرنا نہیں چاہتے۔ (القصص:55) نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جا ؤ اور جاہلوں سے نہ اُلجھو (الاعراف:199)۔

37۔ عہداور امانت

جب عہد کرو تو اُسے وفا کرو(البقرة:177) جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا(آلِ عمران:76)۔ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے(آلِ عمران:77) وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ اُنہیں دو(النساء:33) اور اللہ کے عہد کو پورا کرو (الانعام:152) اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں،اسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے (الرعد:20) وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں (سورة الرعد:25) اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو (النحل:91) اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو (النحل:95) اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں (المومنون:8)۔

38۔ غصہ میں زیادتی کرنا

تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو (المآئدة:2) کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جا ؤ، عدل کرو (المآئدة:8)۔ تم عفو و درگزرسے کام لو۔ (البقرة:109) جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں (آلِ عمران:134)۔

39۔ غیبت اور تہمت

کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کون ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا (الحجرات:12) طعنے دیتا ہے، چُغلیاں کھاتا پھرتا ہے، بھلائی سے روکتا ہے(القلم:11-12) جو منہ در منہ لوگوں پر طعن اورپیٹھ پیچھے برائیاں کرنے کا خوگر ہے(الہمزہ:1) پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگا نے والوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی (النور:23) اللہ پر جھوٹی تہمتیںنہ باندھو ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیا ناس کردے گا۔ (طٰہٰ:61)۔

40۔ فرقہ بندی

سب مل کر اللہ کی ہدایت کی رسی، قرآن کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو(آلِ عمران:103) کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے(آلِ عمران:105) انہوں نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے (سورة الانبیاء:93) قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جا ؤ (سورة الشوریٰ:13) لوگوں میں تفرقہ اس لیے رُونما ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے(الشوریٰ:13)۔

41۔ فسادبرپا کرنا

زمین میں فساد برپا نہ کرو (الاعراف:56) اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہو جا ؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو(الاعراف:74) وزن اور پیمانے پورے کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو (الاعراف:85) جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ لعنت کے مستحق ہیں (سورة الرعد:25) زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو (الشعراء:178) اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔ اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا(القصص:77) اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو(سورة الحجرات:6) جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا(الفجر: 11-12)۔

42۔ قتل اور قصاص

قتل:

آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا (البقرة:84) کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے،ا لّا یہ کہ اُس سے چُوک ہو جائے (النساء:92) کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ(الانعام:151) قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ (سورة بنی اسرائیل:33) اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے(الفرقان:68)۔

اولاد کا قتل:

بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے (الانعام:137) خسارے میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا (الانعام:140) اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے (الانعام:151) اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو(سورة بنی اسرائیل:31)

قتل خطا کا کفارہ:

جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے(النساء:92) جو غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ توبہ کرنے کا طریقہ ہے (النساء:92)۔

قتل کی سزا:

جو کسی مومن کو جان بُوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے (النساء:93) جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی (المآئدة:32)

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا افسوسناک واقعہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آصف لقمان قاضی

قصاص:

قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے(البقرة:178) جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے(المآئدة:45) ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس قتل میں حد سے نہ گزرے(بنی اسرائیل:33)۔

خوں بہا:

قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے(البقرة:178)۔

43۔ قرآن کے حقوق

قرآن:

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے (البقرة:121) وہ قرآن پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں(البقرة:121) سب مل کر اللہ کی ہدایت کی رسی (قرآن) کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو(آلِ عمران:103) جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو (الاعراف:204) یہ اس کتاب کی آیات ہیںجو حکمت و دانش سے لبریز ہے(یونس:1) تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کرلیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے(یونس:57) ہم نے کھلی باتوں کے ساتھ قرآن کو نازل کیا اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے(الحج:16)۔

قرآن پڑھنا اور سننا:

ہم نے بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں (سورة فاتحہ) اور عظمت والا قرآن عطا کیا ہے (الحِجر:87) جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطانِ رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو (سورةالنحل:98) فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآنِ فجر مشہود ہوتا ہے (بنی اسرائیل:78) جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں (فاطر:29) صاف پڑھی جانے والی یہ کتاب ایک نصیحت ہے تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کردے جو زندہ ہو (یٰسین:70) کلام اللہ سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں(سورة الزُمر:23) قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو (المزمل:۵) جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاس کے پڑھ لیا کرو(سورة المزمل:20)۔

قرآن پر شک کرنا، قرآن کوجھٹلانا:

جہاں اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اورمذاق اُڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو(النساء:140) جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جا ؤ (الانعام:68) یہ کتاب حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو(الانعام:115) انہوں نے رب کی آیات کو جھٹلایا تو ہم نے گناہوں کی پاداش میں ا نہیں ہلاک کیا (الانفال:54) شک کرنے والوںمیں سے نہ ہو۔ اور ان لوگوں میں نہ شامل ہو جنہوںنے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ہے ورنہ تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا(سورة یونس:95) جو جُھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائے؟(الاعراف:37) جواللہ کی آیات کو نہیں مانتے اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا (سورةالنحل:104) جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ دوزخ کے یار ہیں (الحج:51) اللہ ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکّی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں (المومن:33-34)۔

قرآن سے فرار:

جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا (الاعراف:175) اور جو میرے ”ذکر“ سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ:124) تم نے اللہ کی آیات کا مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا (الجاثیہ:35)۔

قرآن کی غلط تشریح:

کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں (المآئدة:41) حق کو مشتبہ نہ بنا ؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو(البقرة:42) ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پُشت ڈالا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں (البقرة:101) جو لوگ ہماری آیات کو اُلٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے کچھ چُھپے ہوئے نہیں ہیں (حٰمٓ السجدہ:40)۔

قرآن کو بیچنا:

تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو (البقرة:42) اللہ کے آگے جُھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے (آلِ عمران:199) تم لوگوں سے نہیں بلکہ مجھ سے ڈرو۔ میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو (المآئدة:44) اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کر لی پھر اللہ کے راستے میں سدراہ بن کر کھڑے ہوگئے (التوبہ:9)۔

قرآن میں متشابہات:

اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں۔ ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا(آلِ عمران:7)۔

قرآن کی تبلیغ:

تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا، انہیں پوشیدہ رکھنا نہیں ہوگا(آلِ عمران:187) اس قرآن کے ذریعہ سے ہر اس شخص کو نصیحت کردو جو میری تنبیہہ سے ڈرے (قٓ:45)

قرآن کی پیروی:

یہ ایک برکت والی کتاب ہے۔ تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو (الانعام:155) جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو (الاعراف:3) تم اُس ہدایت کی پیروی کیے جا ؤ جو تمہاری طرف بذریعہ وحی بھیجی جارہی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (یونس:109) جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گانہ بدبختی میں مبتلا ہوگا(طٰہٰ:123) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سرِتسلیم خم کردیتے ہیں (الروم:53) تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے، اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو(المآئدة:48)۔

قرآن راہِ ہدایت و نصیحت:

اُس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا تم اسی پر چلو (الانعام:153) ہماری دی ہوئی کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو (الاعراف:171) ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟ (القمر:17)۔

قرآنی قصوں میں نصیحت:

پیغمبروں کے قصوں کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اورمومنوں کو نصیحت نصیب ہوئی(ھود:120)۔ (قرآن کی نقل ناممکن ہے): اگر انسان اور جن سب مل کر قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے (بنی اسرائیل:88)۔

(جاری ہے)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.